ممبئی سے دہلی آنے والے نوجوان محمد شعیب بہرائچی پر ٹرین میں سفاکانہ حملہ
جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی کی قیادت میں ایک وفد نے زخمی نوجوان کی ہسپتال جاکر عیادت کی، مالی تعاون بھی فراہم کیا
نئی دہلی، 17 اگست(پریس ریلیز)
14 اگست کی رات جب کہ ملک آزادی کے جشن میں ڈوبا ہوا تھا اس وقت کچھ شر پسند عناصر ملک اور وطن کو رسوا کر رہے تھے۔
ممبئی سے دہلی آرہے محمد شعیب نامی نوجوان پر ٹرین کے باہر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ رات تقریباً ایک بجے جب ٹرین سورت اسٹیشن سے ایک کلومیٹر پہلے رکی تو وہ وہاں اتر کر باہر گھوم ہر تھے ۔ اسی دوران کچھ افراد نے انہیں پکڑ کر مارنا پیٹنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔ حملہ آوروں نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرم گاہ میں پائپ تک ٹھونس دیا۔
بعد ازاں شدید زخمی حالت میں انہیں دہلی جانے والی ٹرین میں سوار کرایا گیا۔ 15 اگست کو دہلی پہنچنے پر رشتہ داروں نے محمد شعیب کو غازی آباد کے یشودا اسپتال میں داخل کرایا، جہاں وہ اس وقت آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔ اور حالت نازک ہے۔ یہ بہت ہی حوصلہ کی بات تھی کہ وہ نوجوان شدید زخمی حالت میں دہلی پہنچ گیا ۔
محمد شعیب بہرائچ کا رہنے والا نوجوان ہے ۔ والد کا انتقال ہوچکا ہے اور اس وقت ان کی تیمارداری ان کے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی کر رہے ہیں۔ ممبئی میں ملازمت نہ ملی تو دہلی اپنے رشتہ داروں کے پاس ملازمت کی تلاش میں آرہا تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ،اس وقت ہسپتال میں موت و حیات کی زندگی کے درمیان ہے اور درد ایک کا انجکشن 40 40 ہزار روپے کا اسے لگایا جا رہا ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب مع رفقاء اسپتال پہنچے، انہوں نے زخمی نوجوان کی عیادت کی اور صحتیابی کے لیے دعا فرمائئ۔ اس موقع پر مولانا محمد اسجد قاسمی ناظم جمعیۃ علماء ضلع غازی آباد اور مولانا وحید الزماں دفتر جمعیۃ علماء ہند بھی ہمراہ تھے۔
Comments are closed.