مشرق وسطی کی بدلتی ڈپلومیسی اورجغرافیائی تصویر
مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
دنیاکے نقشے پر صہیونی ریاست کا ابھرنا اورپھر پئے بہ پئے عرب ملکوں سے جنگ اورامریکہ وبرطانیہ کا ایک مضبوط صہیونی ریاست کا قیام اورخلافت عثمانیہ کاخاتمہ یہ محض اتفاق نہیں تھا۔بلکہ یہ پانچ سوسالہ صہیونی منصوبہ اورایک دیرینہ خواب تھا جو ١٩٤٨ میں برطانیہ کے ہاتھوں شرمندہ تعبیرہورہاتھا۔مصر وہ پہلی حکومت تھی جس نے خلافت عثمانیہ سے بغاوت کی اورعلاحدگی اختیار کی۔اورپھرعرب کی تمام ریاستوں کو عربوں پر عجمیوں کے حکومت کرنے کاطعنہ دیکر ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔عربوں سے وہ سیاسی گناہ عظیم ہواتھا۔ جس کی سزاکے طورپر اللہ نے ان پر صہیونیوں کو مسلط کیا۔ عرب بہت خوش اورانگریزوں نے عربوں کے ساتھ ملکر ۔الیوم الوطنی“ کےخوب ترانے گائے کہ اب عرب قوم عجمیوں کی غلامی سے آزاد ہوگئی۔اوراب چھ سوسال بعد عربوں کو اصلی حق ملاہے کہ چھوٹے چھوٹے محلے دولہ اورمملکہ بن گئے اوراس کے حکمراں بادشاہ۔ اس وقت عرب اتنے بودے اوراندھے ہوگئے تھے کہ اسلام کی آفاقی حکمرانی کاتصور بھی ان کے دل ودماغ سے محو ہوچکاتھا۔ مغرب ۔یعنی یہودونصاری اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے تھے۔اورمسلمانوں کے ہاتھوں سے کبوتر اڑچکاتھا۔اتاترک کو مسلمانوں کی پشت پر مسلط کردیاگیاتھا۔ اورمغرب نے یہ اعلان کردیاتھاکہ اب ”دنیاسے خلافت کاخاتمہ ہوگیا۔دوبارہ خلافت قائم نہیں ہوسکتی۔۔عرب کے سلفی مفکرین نے مضامین لکھنے شروع کردئے کہ کتاب وسنت میں خلافت نام کی کوئی چیز واجب الاتباع نہیں۔۔پھررفتہ رفتہ لوگ ملوکیت میں جینے اوراسی کے دفاع کے عادی ہوگئے۔”ان الحکم الاللہ“ کی معنویت جاتی رہی ۔اس کی جگہ شاہ کے فرمان نے لے لیا۔اور تمام عرب ریاستیں امریکہ کے رحم وکرم پہ آگئیں۔ بلکہ اپنی منشا کے مطابق بٹھائے گئے حکمرانوں کے ذریعہ لائی گئیں۔اورکسی مسلم ملک کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں رہی۔اوریورپ وامریکہ عربوں کی دولت الگ لوٹتارہا۔اوراپنے دھونس میں الگ رکھتارہا۔اورفکری اورتعلیمی میدان میں مغرب پرستی کی برین واشنگ الگ کرتارہا۔ آج نوبت یہ ہے کہ کوئی بھی منسٹری۔ اور۔ڈپارٹمنٹ ہو۔چونکہ سب کاقبلہ مغرب اورامریکہ ہے۔ اورانھیں کے نہج پرکام کرناہے ۔اس لئے ان کے اعلی عہدہ داروں کی سکریٹیز مغربی یامغرب زدہ دوشیزائیں آپ کو ملیں گی۔اورجوبچی کچی عربوں کی آبروتھی ۔وہ تو ابھی ٹرمپ کی آمد پر نیلام ہوتے دنیانے دیکھ ہی لیا۔”حمیت نام ہے جس کا گئی تیمورکے گھرسے“۔
اب جب ہرطرح سے صہیونی مطمئن ہوگئے ہیں ۔اپنے پرانے عزم کا اعادہ شروع کردیاہے۔اردن۔مصر۔شام۔لبنان۔اورسعودیہ تک کے وہ تمام جغرافیائی حدود جواسرائیل کو ایک مضبوط طاقتور۔اورعظیم {گریٹر }ملک بناسکے اس راہ پہ چلناشروع کردیاہے۔ اس دوسالہ حماس مجاہدین کے ساتھ جنگ میں اس ن بھانپ لیا کہ اب کسی میں ہمارامقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اگرہمت ہوتی تو یو این میں جاکر کسی مفلس ولاچارکی طرح اپنے دفاع کی بھیک نہ مانگ رہے ہوتے۔ غرض یہ کہ مسلم ملکوں کے حکمراں اب تو امت کو آگے کنواں اورپیچھے کھائی کے مخمصے تک لاکھڑاکیاہے۔پوری عرب دنیا کو امریکہ نے اپنے دام فریب میں لےرکھاہے۔ ترکی ناٹوکاحصہ ہونے کی خوشی میں امت کے کام نہیں آسکتا۔پڑوسی ملک پاکستان کو موسادنے بھارت کے ساتھ جنگ کے ماحول میں الجھارکھاہے۔ باقی مسلم ممالک دراز ہونے کابہانہ کرکے آگے آنہیں سکتے۔ اب ان حالات میں اسرائیل کو اپنے عزائم کی تکمیل میں بظاہر کوئی مزاحمت نظر نہیں آرہی ہے۔اسلئے اس نے اپنی دیرینہ خواہش کا راگ الپناشروع کردیاہے۔ ۔اب دیکھناہے یہ ہے کہ نئے دور اورپیچیدہ صورت حال میں امت کیسے قدم رکھتی ہے۔”الجھاد ماض الی یوم القیامۃ“۔مشرق وسطی کی موجودہ صورت حال کا ماضی اورحال کے تناظر میں تجزیہ۔
Comments are closed.