کتاب یادِ ماضی کی شاندار تقریبِ اجرا
پٹنہ، 17 اگست 2025 (پریس ریلیز)
شاہ حمیر فاؤنڈیشن، نسیمہ ہاؤس، گاندھی میدان، پٹنہ میں پروفیسر ڈاکٹر سید شمس الحسین، سابق پرنسپل جئے پرکاش یونیورسٹی، چھپرا کی تالیف یادِ ماضی کے اجراء کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز مفتی محمد جمال الدین قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد افتتاحی کلمات مولانا مفتی محمد نافع عارفی نے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ بہار اردو زبان و ادب کا ایک زرخیز خطہ ہے، جہاں سے شاعری، فکشن، تاریخ کے ساتھ ساتھ خودنوشت نگاری (آٹو بائیوگرافی) کی بھی بھرپور روایت پروان چڑھی ہے۔ اردو کی آٹو بائیوگرافی نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی اور تجربات کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ سماج، تہذیب اور تاریخ کے آئینے کو بھی روشن کرتی ہے۔ بہار کے اہلِ قلم نے اپنی خودنوشت کے ذریعے علمی، ادبی اور سماجی فضا کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں لکھی گئی آٹو بائیوگرافی بہار کی ادبی شناخت اور تہذیبی وراثت کا ایک قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سید شمس الحسین کی خودنوشت یادِ ماضی منظر عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب محض ایک شخص کی سوانح نہیں، بلکہ اپنے عہد کی علمی و ادبی تاریخ کا آئینہ بھی ہے۔ مصنف نے اس میں اپنے تعلیمی و تدریسی سفر، سماجی و ادبی مشاہدات اور زندگی کے تجربات کو نہایت سادہ، رواں اور دلکش اسلوب میں قلم بند کیا ہے۔یادِ ماضی بہار کی اردو دنیا کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعہ نہ صرف ایک اہلِ علم کی زندگی کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں؛ بلکہ بہار کے ادبی و تعلیمی منظرنامے کی جھلکیاں بھی قاری کے سامنے آتی ہیں۔ یہ کتاب اردو آٹو بائیوگرافی کی روایت میں ایک اہم اضافہ ہے اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنفِ کتاب پروفیسر ڈاکٹر سید شمس الحسین نے اپنی خودنوشت یادِ ماضی کی رسمِ اجرا کے موقع پر کتاب کے مقاصد اور اپنی کیفیات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ان کی زندگی کے سفر، تجربات، تعلقات اور مشاہدات کا حاصل ہے، جس میں ان کے والد مرحوم سید نہال حسین کی خدمات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے واضح کیا کہ یہ کتاب خودستائی کے لیے نہیں، بلکہ نئی نسل کی رہنمائی اور ماضی کی امانت کو محفوظ رکھنے کے جذبے سے لکھی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یادِ ماضی نوجوانوں کے لیے تحریک، محققین کے لیے ماخذ اور عام قارئین کے لیے حوصلہ و ترغیب کا ذریعہ بنے گی۔
مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی، صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار، نے اپنے اظہارِ خیال میں کہا کہ پروفیسر سید شمس الحسین بڑے فعال انسان ہیں۔ ملی کونسل بہار کے نائب صدر کے علاوہ وہ عصری تعلیمی کمیٹی کے ذمہ دار بھی ہیں۔ انہوں نے ملی کونسل کے کاموں میں بھرپور دلچسپی لی ہے اور اپنے فرائض کو بڑی ذمہ داری سے انجام دیا ہے۔ سید اجمل حسین، پروفیسر صاحب کے چچازاد بھائی، نے بتایا کہ یادِ ماضی 152 صفحات پر مشتمل ایک دیدہ زیب اور مجلد سوانحی خاکہ ہے۔ کتاب میں مصنف نے اپنے خاندانی پس منظر، تعلیمی و سماجی سرگرمیوں، ملی خدمات، خانقاہی تعلقات اور یادگار تصاویر کو سات حصوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب صرف ذاتی حالات تک محدود نہیں، بلکہ بہار کے تاریخی و ادبی پس منظر اور ملی اداروں کا ایک مستند تذکرہ بھی ہے۔ نقادوں کے مطابق یہ کتاب نوجوان نسل کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ کتاب پر ممتاز علماء اور دانشوروں نے تاثرات بھی قلم بند کیے ہیں، جن میں مولانا ڈاکٹر سید شاہ تقی الدین احمد فردوسی ندوی منیری، پروفیسر شکیل احمد قاسمی، سید نجم الدین احمد، مولانا انیس الرحمن قاسمی اور مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کے نام نمایاں ہیں۔ اہلِ علم نے اسے محض ایک سوانح نہیں، بلکہ یادِ ماضی کو جزوِ عبادت سمجھنے کی عملی مثال قرار دیا ہے۔ جناب حسن امام(انجمن محمدیہ پٹنہ سٹی) نے کہا کہ انجمن محمدیہ 1902ء سے تعلیمی اور رفاہی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ادارے کے بنیادی مقاصد میں سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ اور اس کی اشاعت شامل ہیں۔ ربیع الاول کے موقع پر انجمن کی نگرانی میں سیرتِ نبوی ﷺ سے متعلق مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں اور عوام الناس میں محبتِ رسول ﷺ اور عملِ سنت کی فضا پیدا کرنا ہے۔ جناب تری پراری سنگھ، ڈی ایس پی، مورننگ واکر ایسی سیوشنس، نے کہا کہ سید شمس الحسین صاحب قابلِ مبارک باد ہیں۔ انہوں نے آٹو بائیوگرافی لکھ کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد، سابق ڈائریکٹر، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے اردو میں آٹو بائیوگرافی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جسے پروفیسر سید شمس الحسین نے اپنی خودنوشت یادِ ماضی کے ذریعہ مزید زندہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کے ساتھ ساتھ خدا بخش لائبریری اور محمڈن ایجوکیشن کمیٹی کا بھی ذکر کیا ہے۔محمڈن ایجوکیشن کمیٹی دراصل سر سید احمد خاں کی تعلیمی و سماجی تحریک کا ایک حصہ ہے، جس کے اثرات سے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ پروفیسر سید علی احمد فردوسی نے کہا کہ پروفیسر سید شمس الحسین صاحب نے منیر شریف سے اپنے تعلقات کا اظہار اس کتاب میں کیا ہے۔ میں بھی اسی ادارہ کا ایک فرد ہوں۔ موصوف نے خانقاہ منیر شریف سے اپنے تعلقات کا جس انداز سے اظہار کیا ہے، وہ بہت ہی والہانہ اور منصفانہ ہے۔ پروفیسر رفیق اعظم، سابق پرو وائس چانسلر، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، نے کہا کہ پروفیسر سید شمس الحسین صاحب سے میرے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ان کی کتاب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے ساتھ دین سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ میں دل کی گہرائی سے پروفیسر صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سید احسان احمد، سابق کلکٹر، حکومتِ بہار، نے کہا کہ پروفیسر سید شمس الحسین نیک مزاج، شریف اور خانقاہی انسان ہیں۔ وہ بڑے بے تکلفانہ انداز میں لوگوں سے ملتے ہیں۔ سید اسعد اللہ، ڈائریکٹر، شاہ حمیر فاؤنڈیشن، نے کہا کہ شاہ حمیر فاؤنڈیشن جناب شاہ حمیر احمد مرحوم کی یاد میں ان کے صاحبزادگان پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد اور نیاز احمد نے قائم کیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ ادارہ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تربیت کے لیے سرگرم ہے۔ فاؤنڈیشن میں مختلف کورسز کے ساتھ غریب و نادار بچیوں کو مفت کمپیوٹر ٹریننگ فراہم کی جاتی ہے، جس سے ہزاروں طلبہ و طالبات مستفید ہو چکے ہیں۔ پروفیسر سید شمس الحسین صاحب اس ادارہ کی ترقی میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں۔
مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی،کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل، نے کہا کہ اس علمی مجلس میں حاضر ہو کر اور اہلِ علم و دانش کی باتیں سن کر بڑا فائدہ ہوا۔حضرت امیر شریعت مدظلہ نے فرمایا کہ اس کتاب میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ سماجی اور عوامی تعلقات کو بھی عمدگی سے قلم بند کیا ہے۔ جب وہ امارتِ شرعیہ میں ناظم تھے، اس دور میں پروفیسر صاحب چھپرا سے ریٹائرڈ ہو کر پٹنہ تشریف لائے تھے۔ ان کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے انہیں تعلیمی نگراں کے طور پر امارت شرعیہ میں خدمات انجام دینے کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے قبول کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور اسکولوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پروفیسر صاحب کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل بہار میں بھی ان سے فائدہ اٹھایا گیا،موصوف ملی کونسل بہار کے نائب صدر ہونے کے ساتھ ساتھ عصری تعلیمی شعبہ کے سکریٹری بھی ہیں ۔مولانا قاسمی نے مزید فرمایا کہ پروفیسر صاحب نے یادِ ماضی میں ذاتی تعریف کو مختصر رکھا ہے، لیکن خاندان کے احوال، اداروں اور خانقاہوں سے وابستگی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ پروفیسر صاحب نے تعصب سے بالاتر ہو کر واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ آخر میں انہوں نے پروفیسر صاحب کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ جناب ایس ایم اشرف فرید، چیف ایڈیٹر، روزنامہ قومی تنظیم، نے کہا کہ یادِ ماضی صرف ایک ذاتی داستان نہیں، بلکہ علمی، ادبی اور سماجی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ پروفیسر شمس الحسین نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے حالات، اداروں اور شخصیات کا نہایت غیر جانب دارانہ اور جامع تذکرہ کیا ہے۔ کتاب میں جہاں خاندان کے احوال بڑی تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں، وہیں امارتِ شرعیہ، خدا بخش لائبریری اور انجمن محمدیہ جیسے اداروں کے ذکر نے اس کی معنویت کو اور بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے اپنی تعریف پر زیادہ زور نہیں دیا، بلکہ سماجی، تعلیمی اور تہذیبی حوالوں کو نمایاں کیا ہے۔ ان کا قلم نہایت شائستگی اور متانت کے ساتھ چلتا ہے، جو قاری کو متاثر کرتا ہے۔یادِ ماضی اردو خودنوشت نگاری کے سلسلے میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ کتاب ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔اس یادگار تقریب میں پٹنہ اور بیرون پٹنہ سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد ممتاز علماء، اسکالرز، ادبا، دانشوروں، سماجی کارکنان اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ شرکاء نے کتاب یادِ ماضی کو اردو خودنوشت ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے مصنف پروفیسر ڈاکٹر سید شمس الحسین کی ادبی و علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اختتام پر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے دعا فرمائی، جس کے ساتھ ہی یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔
Comments are closed.