تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تنقید سے بالاتر اور جنتی ہیں: علماء نیپال
کاٹھمانڈو نیپال سے انوار الحق قاسمی کی خصوصی رپورٹ
یقیناً حضرات صحابہ کرام -رضی اللہ عنھم اجمعین – ہی شریعت حقہ کے اولین مخاطبین ہیں اور یہی در اصل شریعت کے اصل محافظین ہیں اور یہی وہ مبارک لوگ ہیں،جنھوں نے نبی پاک -صلی اللہ علیہ وسلم- سے بلا واسطہ اور بالمشافہ کسب فیض کیاہے۔
جماعت صحابہ کی عظمت و بڑائی،قدر و منزلت اور تقدس کے متعلق علماء نیپال نے امت کے نام اپنے پیغامات جاری کیے ہیں۔
چناں چہ ملک نیپال کی معروف اور عظیم سیاسی شخصیات کی جانب سے متعدد اہم اور قابل تکریم ایوارڈز سے سرفراز عبقری عالم دین مولانا محمد ہارون خان المظہری ( صدر جامعہ حفصہ للبنات و دارالعلوم ہدایت الاسلام انروا ومجلس تحفظ ختم نبوت سنسری نیپال و نائب صدر جمعیت علماء نیپال وسرپرست معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال) نے کہا کہ:” جماعت صحابہ ایک ایسی مبارک جماعت کا نام ہے ،جس کے تمام افراد بلا تفریق و استثناء اعلیٰ درجے کے مومن ہیں،عادل و ثقہ ہیں،متقن ہیں،حجت ہیں،معیار حق ہیں،آسمان دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں،تنقید سے بالاتر ہیں،خدائی انتخاب ہے،جن کے متعلق خدائی رضا و خوشنودی کا پروانہ ہے،عمل صالح کے جامع ہیں،امت کےافضل ترین لوگ ہیں،جنتی ہیں،محفوظ عن الخطا ہیں،ان کے دل سب سے پاک اور اعمال سب سے بہتر ہیں،یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں، جنہوں نے ایمان کی حالت میں نبی کریم- صلی اللہ علیہ وسلم- کی زیارت کی اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوا،جن کا کام نیک کاموں کا حکم دینا اور برے کاموں سے روکناہے،کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں،اللہ اور رسول اللہ کے دشمنوں کے دشمن ہیں؛گرچہ وہ باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، انھیں اپنے فیض:یعنی نور سے قوت دی ہے، ان کے ایمان کو مثالی ایمان قرار دیتے ہوئے،لوگوں کو ان کے جیسا ایمان اختیار کرنے کا حکم دیا ہے،ان میں ایمان کی محبت اور اس کی تحصیل کو مرغوب کر دیا ہےاور کفر و فسق:یعنی گناہ کبیرہ و صغیرہ کی نفرت ڈال دی ہے،جن کی خاص خاصیت یہ ہے کہ ان کی آوازیں غایت اکرام میں نبی کریم- صلی اللہ علیہ وسلم- کے سامنے بلند نہیں ہوتی ہیں،جن کے چہروں پر نمازوں اور سجدوں کے مخصوص آثار ہیں،جن سے محبت نبی اکرم- صلی اللہ علیہ وسلم-سے محبت کی دلیل ہے ،ان کی سیرت و کردار کی پیروی کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہدایت کی راہ ہے، اوران سے بغض نبی سے بغض کی علامت ہے،ان کو تکلیف دینا اللہ کے نبی کو تکلیف دینا ہے اور اللہ کے نبی کو تکلیف دینا اللہ کو تکلیف دینا ہے،ان سے عناد نفاق کفرتک پہنچانے والا عمل ہے”۔
جمعیت علماء نیپال کے فعال جنرل سیکرٹری حضرت مولانا قاری محمد حنیف عالم قاسمی مدنی نے کہا کہ حضرت ابو عروہ زبیری – رحمہ اللّٰہ -فرماتے ہیں :” ہم حضرت امام مالک- رحمۃ اللہ علیہ -کی مجلس میں حاضر تھے،ایک شخص نے بعض صحابہ کرام کی تنقیص کے کچھ کلمات کہے،تو امام مالک- رحمۃ اللہ علیہ- یہ آیت’ محمد رسول الله’ الأخ پوری تلاوت کرکے جب ‘ ليغيظ بهم الكفار ‘ پر پہنچے ،تو فرمایا کہ جس شخص کے دل میں صحابہ کرام میں سے کسی کے ساتھ غیظ ہو،تو اس آیت کی وعید اس کو ملے گی۔(قرطبی) حضرت امام- مالک رحمۃ اللہ علیہ-یہ تو نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو جائے گا؛مگر یہ فرمایا کہ یہ وعید اس کو بھی پہنچے گی،مطلب یہ ہے کہ وہ کافروں جیسا کام کرنے والا ہو جائے گا”۔
جمعیت علماء نیپال کے مرکزی رکن اور معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال کے بانی حضرت مولانا محمد عزرائیل مظاہری نے کہاکہ :” ابن عبد البر نے ‘مقدمہ استیعاب’ میں آیت مبارکہ ‘ لقد رضي الله عن المؤمنين اذ يبايعونك’ الأخ نقل کرکے لکھا ہے کہ ‘من رضي الله عنه لم يسخط عليه أبدا ‘ یعنی اللہ جس سے راضی ہوجائے،پھر اس پر کبھی ناراض نہیں ہوتا۔ اور رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ‘لقد رضي الله عن المؤمنين ‘ الأخ کی بنا ارشاد فرمایا کہ بیعت رضوان میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آگ میں نہ جائے گا،تو یہ وعدہ جو اصالة انہی کےلیے کیا گیا ہے،ان میں سے بعض کا مستثنیٰ ہونا قطعاً باطل ہے،اسی لیے امت کا اس پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب عادل و ثقہ ہیں”۔
تحفظ ختم نبوت نیپال کے باوقار صدر، جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر اور دار ارقم کاٹھمانڈو کے بانی مولانا محمد شفیق الرحمن قاسمی نے کہاکہ :سب سے بہتر دور، صحابہ کرام کا دور تھا” کیوں کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا ارشاد گرامی ہے:خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم.(بخاري) یعنی تمام زمانوں میں میرا زمانہ بہتر ہے،اس کے بعد اس زمانے کے لوگ بہتر ہیں،جو میرے زمانے کے متصل ہیں،پھر وہ جو ان کے متصل ہیں۔
جمعیت علماء نیپال کے مرکزی رکن اور مدرسہ اصلاح المسلمین گمہریا روتہٹ نیپال کے سابق مہتمم وناظم تعلیمات مولانا محمد اسعد اللہ مظاہری نے کہا کہ:”صحابہ کرام کو بلندی درجات کی بنا برا بھلا کہنا نہایت ہی بدترین عمل ہے” اس لیے کہ ایک حدیث میں ہے : میرے صحابہ کو برا نہ کہو! کیوں کہ ان کی قوتِ ایمان کی وجہ سے ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اللہ کی راہ میں احد پہاڑ کی برابر سونا خرچ کردے،تو ان کے خرچ کیے ہوئے کے ایک ‘مد’ کی برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ نصف مد کی برابر ۔ ‘مد’ عرب کا ایک پیمانہ ہے،جو تقریباً ہمارے آدھے سیر کی برابر ہوتا ہے۔(بخاری)
جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد خیر الدین مظاہری نے کہا کہ :” صحابہ کرام کو سارے جہاں میں سے پسند فرمایا ہے”۔ حضرت جابر -رضی اللہ عنہ- کی حدیث میں ہے کہ : رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم -نے فرمایاکہ:” اللہ تعالیٰ میرے صحابہ کو سارے جہاں میں سے پسند فرمایا ہے،پھر میرے صحابہ کرام میں میرے لیے چار کو پسند فرمایا ہے:ابو بکر ،عمر،عثمان ،اور علی -رضی اللہ عنہم-(رواہ البزار بسند صحیح)
حضرت مولانا محمد ابواللیث صاحب قاسمی (امام و خطیب ابوبکر جامع مسجد بیرگنج چھکہیانیپال) نے کہا کہ:”صحابہ کرام کو جہنم کی آگ کبھی نہیں چھو سکتی ہے”۔ حدیث پاک میں رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- کا ارشاد ہے کہ:جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی ،جس نے مجھے دیکھا ہےیا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے(ترمذی عن جابر- رضی اللہ عنہ-)
جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے نائب صدر مولانا محمد جواد عالم مظاہری ،جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے نائب سیکرٹری مولانا محمد اسلم جمالی قاسمی،جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے خازن مولانا محمد صابر علی مظاہری،جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے رکن اور معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال کے شیخ الحدیث مولانا وقاری اسرار الحق قاسمی، مولانا وقاری نثار احمد قاسمی ،مفسر قرآن مولانا انعام الحق قاسمی صاحبان نے مشترکہ بیان دیا کہ : ” صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں” محمد بن کعب قرظی- رحمۃ اللہ علیہ- سے کسی نے دریافت کیاکہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم-کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ: صحابہ کرام سب کے سب جنتی ہیں؛اگرچہ وہ لوگ بھی ہوں ،جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں،اس شخص نے کہا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی:یعنی اس کی دلیل کیا ہے؟تو انھوں نے کہا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو!:” السابقون الأولون” اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کے’ رضي الله عنه ‘ارشاد فرمایا ہے؛البتہ تابعین کے بارے میں ‘اتباع باحسان ‘کی شرط لگائی گئی ہے،جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہی سے سرفراز ہیں۔
مولانا انوار الحق قاسمی (ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال) نے کہاکہ : شیخ ابن الہمام نے ’’شرح مسامرہ‘‘ میں فرمایا: ”اہل سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ تمام صحابہ -رضی اللہ عنھم -کو لازمی طور پر پاک صاف مانتے ہیں؛ اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کا تزکیہ فرمایاہے، نیز ان کے بارے میں اعتراضات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور ان سب کی مدح وثنا کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ثنا فرمائی ،رسول کریم صلی- اللہ علیہ وسلم -نے بھی ان کی تعریف فرمائی اور حضرت معاویہ -رضی اللہ عنہ- اور حضرت علی – رضی اللہ عنہ -کے درمیان جو جنگیں ہوئیں، وہ اجتہاد پر مبنی تھیں”۔
مولانا نے مزید یہ کہا کہ مفتی محمد شفیع صاحب- نور اللہ مرقدہ -لکھتے ہیں کہ:” تمام صحابہؓ سے محبت رکھنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئےہیں ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات کی روش کو چھوڑنا، انھیں معذور سمجھنا اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ ایسے جائز اجتہاد کی بنا پر کیا جس سے نہ کفر لازم آتا ہے نہ فسق ثابت ہوتا ہے؛ بلکہ بسا اوقات اس پر انھیں ثواب ہوگا اس لیے کہ یہ ان کا جائز اجتہاد تھا”۔
Comments are closed.