مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو میں 79 واں یومِ آزادی،جوش و خروش اور ’نیا بھارت‘ کے لئے تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ملک کا 79 واں یومِ آزادی روایتی جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منایا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ، عملہ کے اراکین اور معزز مہمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی قیادت میں اے ایم یو نے دنیا بھر میں موجود تمام ہندوستانیوں کو یومِ آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی اور ’نیا بھارت‘ کے لیے آزادی کی قدروں کو مضبوطی سے اپنانے کا عہد کیا۔
اسٹریچی ہال کی تاریخی عمارت پر قومی پرچم لہرانے کے بعد اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا ”اس سال کے یومِ آزادی کا موضوع ’نیا بھارت‘ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک وژن ہے، جو ہمیں سستی و غفلت، تقسیم اور محدود سوچ کو ترک کر کے معیار و عمدگی، اتحاد اور عظیم خواب دیکھنے کا جذبہ اپنانے کی دعوت دیتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ تجدید کا مطلب اپنی جڑوں کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ انہیں مضبوط کرتے ہوئے بلندیوں کی طرف بڑھنا ہے۔ انہوں نے نوآبادیاتی دور کے بعد سر سید احمد خاں کے اُس وژن کو یاد کیا، جس کے مطابق انہوں نے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو عقلوں کو بیدار کرے، کردار کی پرورش کرے اور معاشرے کی خدمت کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے ایم یو کی تہذیب یعنی تنوع کا احترام، اختلاف پر مکالمہ، انکساری کے ساتھ علم کا حصول، اور ثقافت و ترقی کا امتزاج،مستقبل کے سفر کے رہنما اصول ہیں۔ ’نیا بھارت‘ کے نظریے کو موجودہ دور سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے لیے اس کا مفہوم ہے کہ وہ اپنی قدروں پر قائم رہتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، بایو ٹکنالوجی، سبز اختراعات اور خلائی تحقیق جیسے عصر حاضر کے ہندوستان کے تقاضوں کے لیے خود کو تیار کرے۔ انہوں نے کہا ”ہمارے لیے آزادی کا مطلب ہے سوچنے، تخلیق کرنے اور خدمت کرنے کی گنجائش اور ذمہ داری کا مطلب ہے اس آزادی کا دیانتداری، لگن اور احترام کے ساتھ استعمال۔ جب آزادی اور ذمہ داری دونوں جمع ہوتے ہیں، تو کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں“۔
وائس چانسلر نے اے ایم یو کی حالیہ دستیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اے ایم یو نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2025 میں 188 واں مقام حاصل کیا، یو ایس نیوز 2025 گلوبل رینکنگ میں ہندوستان کے پانچویں اعلیٰ تعلیمی ادارے کا درجہ ملا، اور انڈیا ٹوڈے 2025 رینکنگ میں سرکاری یونیورسٹیوں میں تیسرا مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کفایتی تعلیم اور لاگت پر حاصل ہونے والے نتائج و فوائد کے اعتبار سے متعدد شعبہ جات کے سرفہرست رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو اپنی اخلاقی سمت کھوئے بغیر جدید ہوسکتا ہے، معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر شمولیتی کردار کا حامل ہو سکتا ہے اور کمیونٹی کی خدمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر مسابقتی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کیمپس میں جاری ترقیاتی کاموں پربھی روشنی ڈالی، جن میں تاریخی عمارات کی بحالی و تزئین، اسمارٹ کلاس رومز اور جدید لیبارٹریز کا اضافہ، ہاسٹل کی تزئین و بہتری، صحت سہولیات میں بہتری، اور پانی کی نکاسی کے پرانے مسئلے کا حل شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ کوئی بھی مستحق طالب علم، مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا ”اے ایم یو ہمیشہ سے امن اور ڈسپلن کی علامت رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ہمارا سرسبز و شاداب کیمپس، دانش و فطرت کے امتزاج کاگہوارہ ہے۔ ہم سبز سفیر ہیں، اور پائیداری کے تئیں پرعزم ہیں، جو ’نیا بھارت‘ کے تئیں اے ایم یو کی خدمات کا حصہ ہے“۔ انہوں نے دنیا بھر میں موجود اے ایم یو کے سابق طلبہ و طالبات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو بطور سائنسداں، جج، سفارت کار، تاجر، استاد، فنکار اور سرکاری ملازم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور یونیورسٹی کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ وہ صرف ذاتی مفادات تک محدود نہ رہیں، بلکہ ’نئے بھارت کے سپاہی‘ بنیں جوٹکنالوجی کو حقیقی مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں، مفاد عامہ کے لیے اختراعات کریں اور اے ایم یو کے نام کو معیار، ایمانداری اور ماحولیاتی ذمہ داری کی علامت بنائیں۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی: گہرائی سے سیکھو، بے خوفی سے سوچو، ایمانداری سے کام کرو اور بے لوث خدمت کرو۔ انہوں نے سبھی کو یہ عہد کرنے کی دعوت دی کہ ہم ان چیزوں کو ترک کردیں جو ہمیں کمزور بناتی ہیں، ان چیزوں کو اپنائیں جو ہمیں مضبوط و طاقتور بناتی ہیں اور اپنی آزادی کو اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مزید بامعنی بنائیں۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس، پراکٹر پروفیسر ایم وسیم علی، اور پرووسٹ ڈاکٹر فاروق احمد ڈار کے ہمراہ سر سید ہال (جنوبی) کے لان میں پودے لگائے اور یونیورسٹی ہیلتھ سروس میں زیر علاج طلبہ میں پھل تقسیم کیے۔
یوم آزادی کے موقع پر یونیورسٹی کی مرکزی عمارات جیسے ایڈمنسٹریٹیو بلاک، مولانا آزاد لائبریری، وکٹوریہ گیٹ، یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم، بابِ سید، سینٹینری گیٹ اور آرٹس فیکلٹی وغیرہ کی عمارت کو قومی پرچم کے رنگوں میں روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے جاری طلبہ کی فیس میں اضافہ کو 20 فیصد تک محدود کیا
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی اکیڈمک کونسل نے طلبہ کے احتجاج کے پیش نظراپنی ایک خصوصی آن لائن میٹنگ میں متفقہ طور پر، جاری طلبہ کے لیے فیس میں اضافہ کو 20 فیصد تک محدود کرنے اور معاون اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں فیس میں اضافے سے متعلق طلبہ کے خدشات پر غور کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ جاری طلبہ کے لیے فیس میں اضافہ گزشتہ تعلیمی سال کی شرح سے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا اور یہ اضافہ مرحلہ وار طور پر نافذ کیا جائے گا تاکہ طلبہ پرمالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
اکیڈمک کونسل نے کمزور معاشی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی رعایتی اقدامات کی بھی سفارش کی ہے، جن میں فیس میں رعایت اور قسطوں میں ادائیگی کی سہولت شامل ہے۔ ان اقدامات کی نگرانی ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے دفتر کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی، متبادل مالی وسائل پیدا کرنے کے امکانات بھی تلاش کرے گی، جن میں یونیورسٹی کے سابق طلبہ سے مالی معاونت، اسپانسرشدہ تحقیقی منصوبے،تعطیل کے ایام میں قومی سطح کے امتحانات کے لیے یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچہ کا استعمال اور تربیتی و تعلیمی پروگراموں کے لیے کیمپس کی سہولیات کا موزوں و معقول استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔
دریں اثناء، وائس چانسلر کے دفتر کی جانب سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کی درخواست پر جلد ہی ڈسپلینری کمیٹی کی میٹنگ بلائی جائے گی۔ اعلامیہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین (اے ایم یو ایس یو) کے انتخابات مناسب وقت پر لنگدوہ کمیٹی کی رہنما ہدایات کے مطابق کرائے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
یوم آزادی کی ماقبل شام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جشن آزادی مشاعرے کا اہتمام
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پولی ٹیکنک، اسمبلی ہال میں یومِ آزادی کی ماقبل شام شعبہ اردو کے زیر اہتمام روایتی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے مشاعرے کی صدارت کی۔ مشاعرے میں حب الوطنی سے بھرپور اشعار پیش کیے گئے جو ذمہ داری، وطن سے محبت اور اتحاد کے جذبات پر مبنی تھے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے انجام دیے۔
شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر قمرالہدی فریدی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ملک کی آزادی بڑی جدوجہد اور جانفشانیوں سے ملی ہے، جس کا احساس اپنے آپ میں ایک بڑی نعمت ہے، اسی احساس کے تحت ہم جشن آزادی مناتے ہیں، اسی لیے یوم جمہوریہ سے ماقبل شام یہاں اس مشاعرے کا اہتمام کیا جاتاہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی یہ روایت رہی ہے کہ جشن آزادی کا آغاز شعبہ اردو کے زیر اہتمام مشاعرے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، نائب شیخ الجامعہ پروفیسرمحمد محسن خان،رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس، فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستھیسن، پروفیسر شہپر رسول، فرحت احساس اور دیگر مہمانوں کا شکریہ بھی اداکیا۔
روایت کے مطابق مشاعرے کا آغاز بی اے سال اول کے طالب علم نظام نظامی کی غزل سے ہوا جس کے بعد مہمان شعراء میں پروفیسر شہپر رسول، فرحت احساس، ڈاکٹر سلمی شاہین اور شفق سوپوری کے ساتھ ہی شعبہ اردو کے استاد شعراء اور مقامی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔
چنندہ اشعار نذر قارئین ہیں:
زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے
میں اس کو آپ پکاروں وہ تو سمجھتا ہے
مجھے بھی لمحہ ہجرت نے کردیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
شہپر رسول
جو بھی خواب آتاہے پہلے سے خراب آتاہے
یہی ہوتاہے جب آنکھوں پہ عذاب اتاہے
ہم محبت کا تیمم ہیں فقط اس کے لیے
خود ہی ہوجاتے ہیں برخاست جب آب آتاہے
فرحت احساس
عشق تھا آخری امید مگر
عشق کرکے بھی کیا ملا ہے مجھے
شفق سوپوری
دشت تنہائی میں تپتے ہوئے پیارے لمحے
ہم نے احساس کے خاروں پہ گزارے لمحے
وقت کے ساتھ بدلتے رہے شکلیں تو ہوئے
کبھی سورج کبھی چندا کبھی تارے لمحے
سلمیٰ شاہین
کرتے تھے سب یہ دل لگی کوہِ گراں ہے زندگی
خوب مزے سے کٹ گئی خوب ہاؤ ہو رہی
مہتاب حیدر نقوی
تاریکی میں نور کا منظر سورج میں شب دیکھوگے
جس دن تم آنکھیں کھولوگے دنیاکو جب دیکھوگے
کھمبے سارے ٹوٹ چکے ہیں، چھپر گرنے والا ہے
بنیادوں پر جینے والوں اوپر تم کب دیکھوگے
غضنفر
ہالہئ نور سرِ دامن صحرا روشن
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا روشن
صبح ہجرت تو سر رہگذر طیبہ اور
شب معراج سرِ عرشِ معلی روشن
سید سراج الدین اجملی
تمام ہوتا نہیں عشق ناتمام کبھی
کسی بھی عمر میں یہ لازوال رہتاہے
وصال جسم کی صورت نکل تو آتی ہے
دلوں میں ہجر کا موسم بحال رہتاہے
عالم خورشید
غم کو پردے میں یوں چھپا دوں گا
دل دکھے گا تو مسکرا دوں گا
سرور ساجد
جس درد نے انسان کو انسان بنایا
اس درد سے نسبت مری آبائی رہی ہے
معید رشید
عشق میں رسوا ہوا تو کیا ہوا
حال دل خستہ ہوا تو کیا ہوا
مشتاق صدف
وہ لفظ جس پہ منحصر تھی گفتگو
لبوں کے درمیاں اٹک کے رہ گیا
سرفراز خالد
کہاں کا سود و زیاں کیسا نفع کیا نقصان
میاں یہ عشق ہے کچھ کاروبار تھوڑی ہے
عارف حسن
ناصر کی ساری عمر کٹی رفتگاں کے ساتھ
دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ تنہا رہا ہوں میں
ناصر شکیب
پیش طوفاں کی سچائی بھی کرنی ہے مجھے
اور نقصان کی بھرپائی بھی کرنی ہے مجھے
راحت حسن
جسم سے جان سے وفا کیجیے
تندرستی کو دیرپا کیجیے
مختلف ہیں امور چارہ گری
یہ ضروری نہیں دوا کیجیے
اشہر قدیر
ہم نے چاہا تھا تاروں کی محفل سجے اور وہاں ایک مسند ہماری بھی ہو
پر ہمیں آسماں نے اجازت نہ دی کتنا ظالم ہے یہ آسماں ساتھیو
نظام نظامی
پہلے اپنی ذات کا دکھ تھا اب ہے اس کی بات کا دکھ
دن کو چٹ کر جاتاہے اکثر اس کی رات کا دکھ
صائن علیگ
اسی لیے تمہارا مجھ سے ربط پیش و پس کا ہے
روح و قلب کا نہیں، معاملہ ہوس کا ہے
فرحین شکیل سحر
لامکانی میں بہت زور مکاں دیکھتے ہیں
کوئی تعمیر خلا ہے کہ جہاں دیکھتے ہیں
ممتاز اقبال
وہ دن بھی تھے کہ یار تھا، میں تھا ملنگ تھا
تینوں میں التفات کا بس ایک رنگ تھا
احمر ندیم
تمہیں بھی کرنی ہے تعمیر اب نئی کشتی
تمہارے سامنے پھر امتحان آیا ہے
محمد افضل خاں
Comments are closed.