صد سالہ اجلاس کے موقع پر حکومتِ بہار مدارس کا تحفظ یقینی بنائے: امارت شرعیہ

 

پھلواری شریف، 18اگست2025(پریس ریلیز)

مولانا محمد شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر کہا کہ یہ تقریب مدارس کی ایک صدی پر محیط تعلیمی، اصلاحی اور سماجی خدمات کا زندہ اعتراف ہے۔قابل مبارک باد ہیں محترم جناب سلیم پرویز صاحب چیئرمین بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کہ ان کی ہدایات اورنگرانی میں یہ تقریب ہونے جارہاہے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ مدرسہ بورڈ نے اپنے قیام کے بعد ریاست کے ہزاروں مدارس کو مربوط کرنے، نصاب کو یکساں بنانے اور طلبہ کی ہمہ جہت رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ مدارس ہمیشہ سے قوم و ملت کے وقار، اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح کے مراکز رہے ہیں۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے ان اداروں کو ایک منظم ڈھانچے کے تحت لانے میں جو تاریخی خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے فضلاء آج صرف بہار ہی نہیں بلکہ ملک و بیرون ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

مولانا قاسمی نے مزیدکہا کہ یہ اجلاس ہر اعتبار سے کامیاب ہو، اس کی ہم سب کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہیے۔ اس موقع پر حضرت امیر شریعت مولانا انیس الرحمن قاسمی مدظلہ کی صدارت میں اہلِ علم اور قانون داں حضرات کے ساتھ ایک اہم نشست ہوئی، جس میں یہ طے پایا کہ مندرجہ ذیل مطالبات حکومت کے سامنے رکھے جائیں۔ امید ہے کہ حکومتِ بہار ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور جلد مناسب فیصلے کرے گی۔ مطالبات درج ذیل ہیں:

(1) 2022 میں حکومتِ بہار کی طرف سے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس کے منظر عام پر آنے کے بعد اہلِ علم، مدارس کے اساتذہ اور منتظمین میں سخت بے چینی پیدا ہوئی۔ ملی تنظیموں نے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا اور کئی مرحلوں میں اس کے اثرات پر غور و خوض کیا۔ تحریری طور پر محکمہ تعلیم کے ذمہ داران، حکومت کے اعلیٰ افسران اور خود وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا؛ لیکن یقین دہانی کے باوجود اب تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اگر معاملہ یوں ہی رہا تو مدارس کا وجود شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔

(2) 1600 سے زائد مدارس کی بارہا ڈی ای او سے انکوائری کرائی گئی۔ رپورٹ مدرسہ بورڈ میں پہنچی اور وہاں سے تصدیق بھی ہوئی، لیکن اب تک ان مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔ یہ معاملہ 2011 سے چل رہا ہے، حکومت کو فوری توجہ دے کر تنخواہیں جاری کرنی چاہئیں۔

(3) مدارسِ ملحقہ میں پرانے حفاظ کی تنخواہ میں اصلاح کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کی تنخواہ چپراسی سے بھی کم ہے۔

(4) پرانے اساتذہ کا پی ایف کا معاملہ ابھی تک زیر غور ہے، اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

(5) مدارسِ ملحقہ کے اساتذہ کو ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور انکریمنٹ فراہم کیا جائے۔

(6) مدرسہ سدھی کرن یوجنا کے تحت مدرسہ عمارتوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس کے پروسیس و ضابطے کو آسان بنایا جائے تاکہ مدارس میں بھی اسکولوں کی طرح عمارتوں کی تعمیر ہوسکے۔

(7) 609 اور 205 زمرے کے وہ مدارس جن کی جانچ ڈی ای او سے ہوچکی ہے لیکن اب تک ان کی تنخواہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے، ان پر فوری توجہ دی جائے تاکہ اساتذہ کرام کی مشکلات ختم ہوسکیں۔

(8) مدارس کے مالی استحکام کے لیے مستقل بجٹ مختص کیا جائے۔

(9) اساتذہ و عملے کی بروقت تنخواہ کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔.

(10) انفراسٹرکچر کی بہتری اور جدید سہولیات کے لیے خصوصی گرانٹ دی جائے۔

(11) عصری مضامین، سائنس اور کمپیوٹر تعلیم کو مضبوطی سے شامل کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

(12) نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس کے کردار کے تحفظ کی واضح ضمانت دی جائے۔

مولانا محمدشبلی القاسمی نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے کامیاب ہوگا اور اس کے ذریعہ مدارس اور اساتذہ کرام کے مسائل ترجیحی طور پر حل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محترم جناب نتیش کمار کی توجہ سے جس طرح مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھیں اور 2459 مدارس کو منظوری ملی، اسی طرح اگر مدرسہ بورڈ کے چیئرمین جناب سلیم پرویز صاحب وزیراعلیٰ کے سامنے ان مطالبات کو مضبوطی سے پیش کریں تو باقی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔

Comments are closed.