امر بالمعروف و النہی عن المنکر علماء کی ذمہ داری ہے

 

محمد انعام الحق قاسمی

 

الحمدُ للہِ ربِ العالمینَ، والصلاةُ والسلامُ علی سیدِ الأنبیاءِ والمرسلینَ، نبینا محمدٍ ﷺ، وعلی آلہِ وأصحابہِ أجمعین.

 

منکر پر نکیر کرنا (برائی سے روکنا) اور معروف کا امر کرنا (نیکی کا حکم دینا) دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے، اور یہ خاص طور پر علمائے کرام کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

"وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ”] سورۃ آل عمران: 104[

 

ترجمہ: "اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔”

 

علماء چونکہ دین کا علم رکھتے ہیں، اس لیے اُن پر یہ فرض اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اصلاح کی کوشش کریں، لوگوں کو نیکی کی طرف راغب کریں اور برائی سے روکیں ، چاہے وہ برائی اخلاقی ہو، سماجی ہو یا عقیدے سے متعلق ہو ۔

 

احایث نبویہ ﷺ

 

"من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانهِ، فإن لم يستطع فبقلبهِ، وذلك أضعف الإيمان.” (صحیح مسلم: حدیث 49)

 

ترجمہ: "تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔”

 

"إن الناس إذا رأوا الظالمَ فلم يأخذوا على يديهِ أوشك أن يعمهم اللهُ بعقابٍ منه.” (سنن ترمذی: حدیث 2168)

 

ترجمہ: "جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی اسے ظلم سے نہ روکیں) ، تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔”

 

"الدين النصيحة (صحیح مسلم: حدیث 55).”

 

دین خیر خواہی ہے۔صحابہ نے عرض کیا: "کس کے لیے یا رسول اللہ؟”

 

فرمایا: "اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔”

 

یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دین میں خیر خواہی اور اصلاح کی کوشش ایک بنیادی فریضہ ہے۔

 

"أفضل الجهادِ كلمةُ حقٍ عندَ سلطانٍ جائرٍ.” (سنن ابی داود: حدیث 4344)

 

ترجمہ: "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔”

 

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرت، اخلاق، اور سماجی ذمہ داریوں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔ ان میں سے ایک عظیم فریضہ:”امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہے، یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

 

یہ فریضہ ہر مسلمان پر ہے، لیکن علمائے کرام پر اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، کیونکہ وہ دین کا علم رکھتے ہیں، اور ان کی بات لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 

علمائے کرام کی خصوصی ذمہ داری

 

علماء دین کے وارث ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "العلماء ورثة الأنبياء.”

 

(سنن ابی داود)

 

علماء کو چاہیے کہ:

 

وہ معاشرے میں نیکی کو فروغ دیں۔

برائیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں۔

نوجوانوں کی تربیت کریں، اور عوام کو دین کی صحیح تعلیم دیں

نرمی، حکمت ، علم اور بصیرت کے ساتھ اصلاح کریں۔

نوجوانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان میں دینی شعور پیدا کریں۔

معاشرتی اصلاح کی ضرورت

 

آج کے دور میں:

 

سوشل میڈیا پر فحاشی عام ہے

جھوٹ، دھوکہ، سود، رشوت، اور ظلم بڑھ رہے ہیں

دین سے دوری اور بے عملی عام ہو چکی ہے

ایسے حالات میں علمائے کرام کی خاموشی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر وہ اصلاح نہیں کریں گے تو معاشرہ مزید بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔

 

حکمت اور نرمی کی اہمیت

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ” (النحل: 125)

 

"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو۔”

 

یہ آیت ہمیں دعوتِ دین کے تین اہم اصول سکھاتی ہے:

 

1. حکمت کے ساتھ دعوت:یعنی عقل، فہم، اور حالات کے مطابق بات کرنا۔

 

2. اچھی نصیحت: نرم لہجے میں دل کو لگنے والی باتیں کرنا۔

 

3. بہترین انداز میں بحث: اگر اختلاف ہو تو عزت اور نرمی سے بات کرنا، نہ کہ سختی یا توہین سے۔

 

برادرانِ گرامی علمائے کرام:

 

آج ہمیں اس فریضے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے، تو معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جائے گا، اورہم سب پر اللہ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے کی توفیق دے، اور علمائے کرام کو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

 

اختتامی دعا:

 

الحمدللہ، تمام تعریفیں اس ربِّ کائنات کے لیے ہیں جس نے ہمیں یہ موقع عطا فرمایا کہ ہم علم و فہم کی باتیں کریں۔اے اللہ! جو کچھ ہم نے کہا، اسے اپنی رضا کے لیے قبول فرما۔

 

ہماری نیتوں میں اخلاص عطا فرما، ہمارے الفاظ میں اثر پیدا فرما، اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرما۔اے ربِّ کریم! ہمیں حق بات کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں اس پر عمل کرنے والا بنا۔

 

ہمارے دلوں کو نورِ ایمان اور باہمی محبت سے منور فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرما۔

 

اے اللہ! ہمارے اس اجتماع کو بابرکت بنا، اور ہمیں دوبارہ خیر و عافیت کے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرما۔

 

اللهم اجعلنا من الآمرين بالمعروف والناهين عن المنكر، ووفّقْ علمائَنا لما تحبُ وترضى، واجعلهم سبباً في إصلاح الأمةِ.

 

وآخرُ دعوانا أنِ الحمد للهِ ربِّ العالمينَ، والصلاةُ والسلامُ على سيدِنا محمدٍ وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين۔

Comments are closed.