اپوزیشن اور الیکشن کمیشن آمنے سامنے

مکرمی!

یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری اور سیکیولر ملک میں جمہوریت اور سیکیولرازم ایک مذاق اور تماشہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ قانون و دستور کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور خوب استحصال ہورہاہے ۔ انتہائی اہم اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز حضرات غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کرکے جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ ملک کے کروڑوں لوگ ووٹ چوری کو ایک حقیقت اور سنگین جرم مانتے ہوئے اسکے لئے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کا ساتھی اور سازشی قرار دے رہے ہیں ۔ ووٹ چوری کے انکشاف اور بین ثبوتوں کے پیش کرنے کے باوجود الیکشن کمشنر الٹا راہول گاندھی اور اپوزیشن کو دھمکا کر بی جے پی کے ترجمان جیسا افسوسناک رویہ اپنا رہے ہیں، اسی طرح کا جانبدارانہ رویہ اسپیکر لوک سبھا کو اپناتے ہوئے عوام دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کو کچھ بولنے ہی نہیں دیتے اور نہ اہمیت دیتے ہیں جو دستور و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جب کبھی اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتے ہیں تو اسپیکر صاحب تلملاجاتے ہیں، یہی حال، جارحانہ اور جانبدارانہ رویہ راجیہ سبھا کے اسپیکر دھنگڑ صاحب کا بھی تھا مگر وہ بے چارے تو اپنی سیاسی موت آپ مرچکے ہیں۔

 

زکریا سلطان

حیدرآباد

Comments are closed.