او آئی سی، فلسطین اور اُمّتِ مسلمہ :قراردادوں سے مزاحمت تک
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
دنیا کی تاریخ میں بعض تحریکیں اور ادارے محض وقتی حالات کا ردِعمل نہیں ہوتے بلکہ وہ اقوام کے دلوں کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آرزوؤں اور صدیوں پر محیط تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ اُمّتِ مسلمہ کی تاریخ بھی ایسے ہی لمحات سے لبریز ہے جہاں شکست و ریخت کے اندھیروں سے امید و اتحاد کی نئی کرنیں پھوٹی ہیں۔ سقوطِ بغداد سے لے کر برصغیر میں سلطنتِ مغلیہ کے زوال تک، اور پھر خلافتِ عثمانیہ کے انہدام تک مسلمانوں نے اپنی اجتماعی عظمت کا کھو جانا اور یتیمی کا کرب بارہا محسوس کیا۔ مگر ہر زوال نے ایک نئے عزم اور نئی جستجو کو جنم دیا۔ انہی تجربات کی کوکھ سے ایک ایسا ادارہ ابھرا جس نے اُمّتِ مسلمہ کے خوابوں کو ایک مرکز دیا، اور بکھرے ہوئے قافلوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔ یہ ادارہ ہے تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC)، جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلمانوں کی اجتماعی امنگوں کا نمائندہ اور ان کے فکری و تہذیبی وجود کا ترجمان ہے۔
یہ تنظیم اپنے آغاز ہی سے فلسطین اور القدس کے تحفّظ کی عَلَم بردار بنی، کیونکہ اُمّتِ مسلمہ کے دل کی سب سے بڑی دھڑکن یہی مسئلہ ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی شدّت سے اُبھرنے لگا کہ کیا یہ ادارہ صرف قراردادوں اور اجلاسوں تک محدود رہے گا، یا پھر یہ اُمّت کی اجتماعی طاقت کو ایک فعال اور مؤثر مزاحمت میں ڈھالنے کا کردار ادا کرے گا؟ فلسطین کے تناظر میں یہ سوال اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ ایمان، عقیدہ اور عزّت و وقار کا معرکہ برپا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو او آئی سی، فلسطین اور اُمّتِ مسلمہ کے تعلق کو محض ایک تنظیمی یا سفارتی دائرے سے نکال کر ایک ایمانی، تہذیبی اور مزاحمتی دائرے میں لے آتا ہے۔
اسلامی دنیا کی تاریخ میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جو اُمّتِ مسلمہ کے باہمی ربط و تعلق اور اس کے عالمی کردار کو نئی جہت عطا کرتے ہیں۔ انہی میں ایک اہم لمحہ مارچ 1970ء میں آیا، جب مقدّس سر زمین سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ پہلی مرتبہ ایک مشترکہ میز پر جمع ہوئے۔ یہ اجتماع محض سفارتی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس میں اُمّت کی اجتماعی تڑپ اور مشترکہ خواب کی جھلک نمایاں تھی۔ اس موقع پر مسلمانوں نے اپنے زخم خوردہ ماضی اور انتشار کی فضاؤں سے نکل کر ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت کو محسوس کیا جو نہ صرف ان کی سیاسی و معاشی ترجیحات کی ترجمانی کرے بلکہ تہذیبی اور روحانی قدروں کا بھی محافظ بنے۔
اسی شعور نے 1972ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام رکھا گیا "تنظیمِ موتمر اسلامی” (Organisation of the Islamic Conference)۔ اس تنظیم کی ساخت پانچ بنیادی ستونوں پر قائم کی گئی۔ سب سے بالا رکنیت اسلامی سربراہی اجلاس کو حاصل تھی، جو مسلم حکمرانوں اور رہنماؤں کو ایک وحدت کی لڑی میں پروتا تھا۔ اس کے بعد وزرائے خارجہ کی کونسل قرار دی گئی، جو عملی فیصلوں اور حکمتِ عملی کے خاکے مرتب کرتی۔ تیسری حیثیت قائمہ کمیٹیوں کو ملی، جو مختلف شعبوں میں مسلم ممالک کی اجتماعی ضرورتوں کا احاطہ کرتی تھیں۔ چوتھی سطح پر ایگزیکٹو کمیٹی تھی جو فوری نوعیت کے مسائل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی، اور پانچواں رکن بین الاقوامی اسلامی عدالتِ انصاف تھا، جس کا مقصد اُمّت کے درمیان تنازعات کو عدل و انصاف کی بنیاد پر حل کرنا تھا۔
یہی وہ تنظیم تھی جس نے اپنی ترجیحات میں سب سے پہلے فلسطین اور القدس کو جگہ دی کیونکہ قبلۂ اول کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفّظ اُمّت کی اجتماعی روح کا حصّہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی، غربت کے خاتمے، انسدادِ دہشت گردی، سرمایہ کاری و مالیات کے فروغ، خوراک کی حفاظت، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نبرد آزما ہونے، اور پائیداری کے اصولوں پر مبنی ترقی کو بھی بنیادی مقاصد میں شامل کیا گیا۔ مزید یہ کہ اعتدال، ثقافت، بین المذاہب ہم آہنگی، اسلامی انسانی حقوق کے تحفّظ، معیاری مسلم حکمرانی اور خصوصاً خواتین کو بااختیار بنانے جیسے اہم امور بھی او آئی سی کے نصب العین کا حصّہ بنے۔
تاہم وقت کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ اُمّت کو ایک ایسے نام کی ضرورت ہے جو صرف ایک "کانفرنس” کی نہیں بلکہ مستقل اور متحرک تعاون کی عکاسی کرے۔ چنانچہ 28؍ جون 2011ء کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں اس کا تاریخی فیصلہ ہوا، اور تنظیم کا نام بدل کر "تنظیمِ تعاونِ اسلامی” (Organisation of Islamic Cooperation) رکھ دیا گیا۔ یہ محض ایک رسمی تبدیلی نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے اُمّت کی وسعتِ فکر، بین الاقوامی کردار اور عالمی ذمّہ داریوں کا احساس کارفرما تھا۔
او آئی سی نے صرف ریاستی سطح پر ہی نہیں بلکہ پارلیمانی سطح پر بھی اُمّت کے اشتراک کو ممکن بنایا۔ اسی مقصد کے تحت 17؍ جون 1999ء کو "ممبر ممالک کی پارلیمانی یونین” (Parliamentary Union of the OIC Member States) قائم کی گئی، تاکہ عوامی نمائندوں کے ذریعے اُمّت کے مسائل کو مزید گہرائی اور مؤثریت کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ یوں او آئی سی ایک ایسی تنظیم ہے جو نہ صرف سیاسی اور معاشی پلیٹ فارم ہے بلکہ تہذیبی و فکری ہم آہنگی کی امین بھی ہے۔ یہ اُمّتِ مسلمہ کے خوابوں، امنگوں اور دردِ مشترک کی تعبیر ہے، جو آج کی دنیا میں مسلمانوں کو عالمی سطح پر اپنی وحدت، وقار اور مؤثریت کے ساتھ نمایاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عصرِ حاضر کی دنیا میں جب ہم بین الاقوامی اداروں کی فہرست پر نظر ڈالتے ہیں تو سب سے نمایاں حیثیت بلاشبہ اقوامِ متحدہ کو حاصل ہے، لیکن اس کے بعد جو دوسرا سب سے بڑا اور بااثر ادارہ اُبھر کر سامنے آتا ہے وہ ہے تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC)۔ یہ محض ایک سیاسی یا اقتصادی اتحاد نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی خانوادہ ہے جو عقیدہ، تاریخ، تہذیب اور روحانی رشتوں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ موجودہ وقت میں او آئی سی کے ارکان ممالک کی تعداد 57؍ ہے، جو دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ممبر ممالک نہ صرف اپنے اپنے خطے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اجتماعی طور پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی آواز اور ترجمان ہیں۔ اس لحاظ سے او آئی سی دنیا کی اُس کثیر القومی و کثیر الثقافتی وحدت کا مظہر ہے جو اُمّتِ مسلمہ کے تنوع اور وسعت کی علامت ہے۔
مزید برآں، او آئی سی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف رکن ممالک ہی نہیں بلکہ بعض وہ ریاستیں بھی اس تنظیم میں مبصر (Observer States) کی حیثیت سے شامل ہیں جہاں مسلمانوں کی معتبر اور قابلِ لحاظ آبادی موجود ہے۔ ان مبصر ممالک میں یورپ کا زخم خوردہ مگر باہمت ملک بوسنیا و ہرزیگووینا شامل ہے، جس نے اپنی تاریخ میں نسل کشی کے المیے کو جھیلا مگر آج بھی اپنی مسلم شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی طرح جمہوریہ ترک قبرص ہے، جو مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں مسلم آبادی کی نمائندہ حیثیت رکھتا ہے۔
افریقہ کے قلب میں واقع وسطی افریقی جمہوریہ بھی او آئی سی کی مبصر فہرست میں شامل ہے، جہاں مسلمانوں کی خاصی بڑی آبادی ایک عرصے سے داخلی تنازعات کے باوجود اپنی شناخت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایشیا کی سر زمین پر تھائی لینڈ ہے، جہاں بالخصوص جنوبی حصّے میں مسلمان بستے ہیں اور اپنی ثقافت، زبان اور مذہب کے ذریعے اُمّت کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہیں۔ اور پھر وہ عظیم اور وسیع سر زمین روس ہے، جس کی گہرائیوں میں مسلم تاریخ کے متعدد ابواب محفوظ ہیں، اور آج بھی کروڑوں مسلمان وہاں ایک بڑی اقلیت کی صورت میں موجود ہیں۔ یوں او آئی سی اپنی وسعت اور تنوع کے اعتبار سے نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ ادارہ اُمّتِ مسلمہ کی اجتماعی امنگوں، خوابوں اور مقاصد کا آئینہ دار ہے۔ اس کی رکنیت اور مبصر ممالک کا پھیلاؤ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام کی وحدتِ فکر اور روحانی پیغام نے جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔
تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) درحقیقت مسلم دنیا کے لیے ایک عظیم امید، ایک روحانی مرکزیت اور ایک عالمی ڈھانچہ ہے۔ اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے بکھری ہوئی مٹی کے ذرات کو کوئی بارش ایک لڑی میں پرو دے، یا جیسے اجڑے ہوئے قافلے کو کوئی نیا کارواں پھر سے راستہ دکھا دے۔ جب یہ ادارہ قائم ہوا تو اُمّت کے دل میں ایک نئی اُمنگ جاگ اٹھی۔ مسلمانوں نے اپنے مسائل کا حل، اپنے دکھوں کا مداوا اور اپنی محرومیوں کا مداوا اسی ادارے سے وابستہ کر لیا۔ یہ کوئی غیر فطری رجحان نہ تھا بلکہ سراسر دینی بنیادوں پر استوار ایک فطری جذبہ تھا کیونکہ اسلام نے ہمیشہ اُمّت کو اتحاد اور اجتماعیت کا درس دیا ہے۔
یہ پس منظر ہمیں اُس عظیم تاریخی حادثے تک لے جاتا ہے جو صدیوں پر محیط مسلمانوں کی سیاسی عظمت کے بعد نمودار ہوا۔ اٹھارہویں صدی وہ زمانہ تھا جب مسلم دنیا کے سیاسی زوال نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کیے۔ برصغیر میں صدیوں تک مسلمانوں کی عزّت و وقار کا نشان رہی سلطنتِ مغلیہ کو بالآخر زمین بوس کر دیا گیا۔ مغلیہ تاج و تخت کے گرنے کے ساتھ برصغیر کا مسلمان گویا یتیم ہو گیا۔ اسی دوران عالمِ اسلام کا دوسرا عظیم ستون، یعنی سلطنتِ عثمانیہ، بھی اندرونی سازشوں اور بیرونی دباؤ کے شکنجے میں آ گیا۔
یوں بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں وہ شجرِ سایہ دار جو تین براعظموں پر پھیلا ہوا تھا یعنی سلطنتِ عثمانیہ کاٹ دیا گیا۔ یہی وہ شجر تھا جس کے سائے تلے اُمّتِ مسلمہ نے قرونِ وسطیٰ میں امن، عدل اور تہذیب و تمدّن کا سبزہ زار اُگتے دیکھا تھا۔ اس سلطنت نے صدیوں تک بیت المقدّس کو صہیونی اور صلیبی یلغار سے محفوظ رکھا، لیکن جب یہ شجر کاٹ دیا گیا تو گویا فلسطین سمیت پورے عالمِ اسلام پر زخموں کی بارش ہونے لگی۔
مغلوں کے زوال اور عثمانیوں کے انہدام کے بعد عالمِ اسلام کے سیاسی و جغرافیائی افق پر ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جو ہر دل کو بے چین، ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر ذہن کو محرومی کے احساس سے دوچار کر گیا۔ ایک ایسا خلا جس نے مسلمانوں کے اندر یتیمی، بے سر و سامانی اور بکھراؤ کا شدید احساس پیدا کیا۔ یہی احساس انہیں ایک ایسے عالمی ادارے کی تلاش پر مجبور کر رہا تھا جو انہیں نئی امید دے، ان کی تہذیبی شناخت کا محافظ بنے، اور انہیں سیاسی، علمی، اقتصادی اور روحانی طور پر مضبوط کر سکے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے او آئی سی کے قیام کی راہ ہموار کی۔ یہ تنظیم مسلمانوں کی اجتماعی اُمنگوں اور امیدوں کا مرکز بنی۔ گویا یہ اُمّت کی اس فطری پکار کا جواب تھا جو صدیوں سے ان کے دلوں میں گونج رہی تھی کہ کوئی مرکز ہو، کوئی تحفّظ ہو، کوئی چھتری ہو جو ان کے ایمان و عقیدے، ان کے جغرافیے، ان کی معیشت اور ان کی تہذیب کو سنبھال سکے۔
دنیا کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہونے کے باوجود او آئی سی پر سب سے بڑا اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ اس کی سیاسی و سفارتی اثرپذیری اکثر و بیشتر محض کاغذی بیانات اور رسمی قراردادوں تک محدود رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں اُمّتِ مسلمہ اپنے بنیادی عقائد و مقدسات کے دفاع کی توقع رکھتی تھی، وہاں یہ ادارہ صرف مذمّت اور تشویش کے الفاظ ادا کرنے پر اکتفا کرتا رہا۔ یہی رویّہ وہ زخم ہے جس نے اُمّت کے دل میں اُمیدوں کے بجائے مایوسی کو جنم دیا۔
عالمِ اسلام کے مسائل پر نظر رکھنے والے دانشور اور محققین اس بات پر متفق ہیں کہ او آئی سی کی غیر فعال پالیسی ہی کا نتیجہ ہے کہ چارلی ایبڈو جیسے گستاخانہ واقعات میں دنیا بھر کے مسلمان اذیت اور کرب سے دوچار تو ہوئے، لیکن کسی اجتماعی اور مؤثر ردِ عمل کی جھلک نظر نہ آ سکی۔ یہی حال فلسطین جیسے زندہ مسئلے کا ہے، جہاں دہائیوں سے جاری قبضہ اور مسلسل مظالم کے باوجود او آئی سی کا کردار محض قراردادوں، اجلاسوں اور خطابات تک محدود رہا۔ اس طرزِ عمل نے مسلمانوں کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو غیر محفوظ کر دیا اور رفتہ رفتہ وہ اعتماد، جو او آئی سی کے وجود کے ساتھ وابستہ تھا، کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر اُمّت کا سب سے بڑا عالمی پلیٹ فارم محض زبانی احتجاج اور رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھتا، تو پھر اس سے وابستہ اُمیدیں کس بنیاد پر باقی رکھی جائیں؟ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ او آئی سی نے بعض دوسرے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ، تعلیمی منصوبوں کی تشکیل، اور عالمِ اسلام کی معاشی و سماجی ترقی کے حوالے سے اس کی کئی کاوشیں قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاوشیں اُمّت کے سب سے بڑے زخموں کا مرہم بن سکیں؟ کیا فلسطین، چیچنیا، اراکان اور دیگر مقبوضہ خطوں کے دکھوں کو یہ منصوبے کم کر سکے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک تاریخی حقیقت نہیں بلکہ ایک زندہ تلخ تجربہ ہے کہ جب بھی مسلم دنیا کو کسی بڑے اور فوری ردِ عمل کی ضرورت پیش آئی، او آئی سی نے مذمت پر اکتفا کیا۔ حالانکہ دنیا کے طاقتور بلاکس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جارحیت کا علاج صرف مذمت نہیں بلکہ مرمت ہے۔ یعنی جارح کو اس سطح پر جواب دینا جہاں وہ دوبارہ جارحیت کی جرأت نہ کر سکے۔ اُمّتِ مسلمہ کی اُمنگیں یہ تھیں کہ او آئی سی عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف نظریاتی محاذ پر بھی اور مسلم سرزمینوں کے تحفّظ کے لیے عملی میدان میں بھی سب سے بڑی طاقت کے طور پر سامنے آتی۔ مگر جب ایسا نہ ہوا تو وہ فطری اعتماد، جو کبھی اس کے قیام پر تھا، آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ او آئی سی آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ محض ایک رسمی و نمائشی ادارہ رہے گی یا اُمّت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے اپنی پالیسی اور حکمتِ عملی کو بدل کر ایک فعال، مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
فلسطین کا مسئلہ دراصل محض ایک جغرافیائی تنازع یا سر زمین کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایمان و عقیدے، حق و باطل اور مظلوم و ظالم کی آویزش کا ابدی عنوان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے حل کے لیے محض قراردادوں یا مذاکرات کی نازک سی ڈوری پر تکیہ کرنا کافی نہیں۔ تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ جب بھی اہلِ باطل نے اُمّت کے حقوق غصب کیے، تو وہ کبھی محض گفت و شنید سے واپس نہیں کیے گئے، بلکہ حق اپنی اصل صورت میں صرف قوتِ ایمانی اور جہاد کے بل پر ہی واپس ملا ہے۔ اسی تناظر میں کہا جاتا ہے کہ فلسطین کا بنیادی حل دراصل یہود کی مرمت ہے، اور یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس پر حماس نے عمل شروع کر رکھا ہے۔ ان کے نزدیک یہی جہاد فی سبیل اللّٰہ ہے جو نہ صرف ان کے ایمان کا مظہر ہے بلکہ عملی طور پر بھی وہی راستہ ہے جس نے تاریخ میں بارہا اُمّت کو آزادی اور عزّت بخشی ہے۔
یہی وہ جذبۂ جہاد تھا جس نے ایک وقت میں نہتے اور کمزور مسلمانوں کے افغانستان کو دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں سے آزادی دلوائی۔ سوویت یونین ہو یا امریکا، دونوں طاقتوں نے اپنی عسکری برتری اور تباہ کن ہتھیاروں پر بھروسہ کیا، مگر آخرکار یہ جہاد ہی تھا جس نے ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کفار کی تاریخ کبھی بھی اس بات کی گواہ نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو ان کے حقوق صرف مذاکرات کے ذریعے دے دیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی، مگر یہ اصول تب ہے جب جنگ اپنوں کے درمیان ہو۔ لیکن اگر معرکہ اہلِ ایمان اور اہلِ باطل کے درمیان برپا ہو تو وہاں قرآن اور سیرتِ نبویﷺ کا حکم یہی ہے کہ جہاد ہی ایک مؤثر اور فیصلہ کن راستہ ہے۔
غزوۂ بدر سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب باطل اپنی پوری طاقت کے ساتھ مقابل پر آئے تو اہلِ ایمان کا سہارا تلوار، عزم اور اللّٰہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ اور یہی سبق تاریخ کے ہر دور میں اپنی معنویت کے ساتھ زندہ رہا ہے۔ طالبان نے اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف افغانستان سے بیرونی جارح کو نکالا بلکہ اپنی سر زمین پر امارتِ اسلامیہ قائم کی۔ یہ جہادی مزاحمت ہی کی طاقت تھی جس نے امریکا جیسے ملک کو، جو ابتداء میں 45؍ سے زائد ممالک کے عسکری اتحاد کو افغانستان پر مسلّط کر کے آیا تھا، بالآخر مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ اگر یہ جہادی مزاحمت نہ ہوتی تو شاید وہی رویّہ باقی رہتا جس کا مظاہرہ صدر جارج بش نے کیا تھا، جب امیر المؤمنین ملا محمد عمرؒ نے مذاکرات کی دعوت دی تو اس نے تکبرانہ انداز میں کہا تھا: "عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ناممکن ہیں!”
مگر یہ تاریخ کا المیہ اور ساتھ ہی عبرت ہے کہ وہی طاقت بعد ازاں خود مذاکرات کی دہائی دیتی نظر آئی۔ آج بھی یہی مزاحمت کی حقیقت ہے جس نے اسرائیل کو اس مقام تک پہنچایا کہ وہ حماس کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہو۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے جہاد محض ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں، بلکہ یہ ان کا وقار، بقاء اور آزادی ہے۔ جب بھی وہ اس ہتھیار کو ایمان کے جذبے کے ساتھ اپناتے ہیں، اللّٰہ کی نصرت ان کے ساتھ ہوتی ہے اور تاریخ کے دھارے بدل جاتے ہیں.
Comments are closed.