غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 60 فلسطینی شہید اور 345 زخمی

 

بصیرت نیوز ڈیسک

قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور گولیوں کا نشانہ بن کر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں مزید 60 فلسطینی شہید اور 345 زخمی ہوگئے، جس کے بعد نسل کشی کے آغاز سے اب تک شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 18 ہزار 637 تک جا پہنچی ہے۔

 

غزہ کی وزارت صحت نے اپنے یومیہ اعدادوشمار میں بتایا کہ ہسپتالوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 60 شہداء کی لاشیں وصول کیں، جن میں سے دو شہیدوں کو ملبے تلے سے نکالا گیا۔ اس کے علاوہ 345 زخمی بھی لائے گئے۔

 

وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سنہ2023ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 62 ہزار 64 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 56 ہزار 573 زخمی ہو چکے ہیں۔

 

مزید بتایا گیا کہ 18 مارچ سنہ2025ء سے اب تک شہداء کی تعداد 10 ہزار 518 اور زخمیوں کی تعداد 44 ہزار 532 تک پہنچ گئی ہے۔

 

وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا کہ "لقمہ عیش” کی تلاش میں جان قربان کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ قابض اسرائیل کی گولیوں کا نشانہ بن کر نام نہاد امدادی مراکز کے قریب مزید 31 شہید اور 197 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے۔ یوں بھوک اور محاصرہ توڑنے کی جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1996 اور زخمیوں کی تعداد 14 ہزار 898 سے زائد ہو گئی ہے۔

 

اسی دوران ہسپتالوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں غذائی قلت اور قابض اسرائیل کی مسلط کردہ بھوک کی پالیسی کے باعث مزید 3 فلسطینیوں کی اموات ریکارڈ کیں، جس کے بعد بھوک سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 266 ہوگئی ہے، جن میں 112 معصوم بچے شامل ہیں۔

 

وزارت صحت نے بتایا کہ اب بھی متعدد شہداء اور زخمی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا سڑکوں پر پڑے ہیں جہاں تک ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں قابض اسرائیل کی بمباری اور رکاوٹوں کی وجہ سے نہیں پہنچ پا رہیں۔

Comments are closed.