توقعات کا بوجھ اور ناقدری کا احساس
از : عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
زیر اشاعت کتاب
*سکون خانہ*
ازدواجی تنازعات سے رفاقتی ہم آہنگی تک کا سفر
9224599910
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ازدواجی زندگی محض دو افراد کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ یہ دو خاندانوں ، دو سوچوں اور دو دنیاؤں کے ملاپ کا نام ہے ۔ اس رشتے کی کامیابی کا انحصار صرف محبت پر نہیں بلکہ توقعات (Expectations) اور قدر (Appreciation) کے توازن پر ہے۔ جہاں توقعات غیر متوازن ہو جائیں اور قربانیوں کو سراہا نہ جائے ، وہاں محبت کا دریا بھی خشک ہونے لگتا ہے ۔
خصوصاً ہمارے معاشرے کے درمیانہ طبقے میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہے ، کیونکہ یہاں روزمرہ کی جدوجہد ، مالی دباؤ، ملازمت کے تقاضے ، اور خاندانی ذمہ داریاں میاں بیوی دونوں پر بھاری پڑتی ہیں۔ ایسے میں اگر دونوں ایک دوسرے کو سہارا دینے کے بجائے مزید توقعات کا بوجھ ڈال دیں ، تو رشتہ سہارا بننے کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے ۔
توقعات کی نوعیت اور بوجھ
توقعات بنیادی طور پر تین طرح کی ہوتی ہیں :
1. جائز اور حقیقی توقعات : محبت ، عزت ، احترام اور ساتھ ۔ یہ ہر رشتے کا حق ہیں۔
2. غیر حقیقی (Unrealistic Expectations) : یہ سوچ کہ شریکِ حیات ہر وقت ہماری خواہش کو سمجھے ، کبھی انکار نہ کرے ، یا ہر مسئلے کا حل فوراً فراہم کرے ۔
3. معاشرتی توقعات : سسرال ، خاندان یا سماج کی طرف سے لادے گئے مطالبات ، جیسے مخصوص طرزِ زندگی ، آمدنی کا معیار ، یا دکھاوے کی ضرورت ۔
جب یہ توقعات حقیقت سے بڑھ جائیں تو وہ بوجھ بن جاتی ہیں اور ناقدری کے احساس کو جنم دیتی ہیں۔
ناقدری کا احساس اور اس کے نتائج
ناقدری ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ رشتے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے ۔
شوہر دن رات محنت کرتا ہے لیکن بیوی اس کی جدوجہد کو معمولی سمجھتی ہے۔
بیوی گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے مگر شوہر اسے “فرض” کہہ کر نظرانداز کرتا ہے ۔
بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکریہ ادا نہ کرنا ، یا شریکِ حیات کی محنت کو تسلیم نہ کرنا ، دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتا ہے ۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
خاموشی ، شکوے اور فاصلہ بڑھنے لگتا ہے ۔
ایک دوسرے کے جذبات کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ کم ہو جاتا ہے ۔
گھر میں سکون کی فضا بکھرنے لگتی ہے ۔
جدید دور اور درمیانہ طبقے کے مسائل
1. معاشی دباؤ :
متوسط طبقے کے بیشتر افراد مہنگائی ، تعلیم کے اخراجات ، کرایہ ، اور محدود آمدنی کی کشمکش میں ہیں ۔ ایسے حالات میں جب شوہر بیوی سے یا بیوی شوہر سے “زیادہ کمانے” یا “زیادہ سہولتیں دینے” کی توقع کرے ، تو یہ رشتہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔
2. سوشل میڈیا اور تقابلی سوچ :
آج کل فیس بُک ، انسٹاگرام اور یوٹیوب نے لوگوں میں یہ رجحان پیدا کیا ہے کہ دوسرے جو کچھ دکھاتے ہیں ، وہی معیار زندگی ہے ۔ ایک درمیانے طبقے کی بیوی جب دوسری خواتین کو مہنگے زیورات یا پرتعیش سفر کرتے دیکھتی ہے ، تو اس کی توقعات شوہر سے بڑھ جاتی ہیں ۔ یہی تقابلی سوچ مردوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔
3. کام اور وقت کی کمی :
ملازمت پیشہ مرد اور عورت دونوں کے پاس وقت کی کمی ہے ۔ جب ساتھ بیٹھنے ، بات کرنے ، یا ایک دوسرے کو سننے کا موقع نہ ملے تو معمولی باتیں بھی توقعات کے بوجھ میں بدل جاتی ہیں ۔
4. خاندانی و سماجی دباؤ :
والدین یا رشتہ دار بعض اوقات اپنی توقعات بیٹے یا بہو پر تھوپ دیتے ہیں ۔ جیسے “بیوی نے یہ کیوں نہیں کیا ؟ ” یا “شوہر یہ ذمہ داری کیوں نہیں نبھا رہا ؟”۔ یہ دباؤ میاں بیوی کے درمیان خلیج بڑھاتا ہے ۔
قرآن و سنت کی رہنمائی
قرآن کریم میں ارشاد ہے :
"وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”
(اور اللہ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی) [الروم : 21]
→ یعنی رشتہ محبت اور رحمت کے توازن پر قائم رہتا ہے، ناقدری اور بے رحمی پر نہیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا ، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا” (ابو داؤد)
→ شکر گزاری صرف اللہ کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی لازم ہے ، اور ازدواجی زندگی میں یہ سب سے زیادہ ضروری ہے ۔
نفسیاتی و تحقیقی نقطۂ نظر
جدید Marriage Counseling کے ماہرین کے مطابق :
Appreciation (قدردانی) ازدواجی تعلقات میں سب سے بڑی قوت ہے ۔
Unmet Expectations (نامکمل توقعات) رشتوں میں سب سے بڑا زہر ہیں ۔
تحقیق کے مطابق جو جوڑے روزانہ ایک دوسرے کے چھوٹے کاموں کو سراہتے ہیں، ان میں طلاق یا علیحدگی کے امکانات 60٪ کم ہوتے ہیں۔
حل اور عملی حکمتِ عملی
1. شکر گزاری کو عادت بنائیں : ہر چھوٹے کام پر بھی شکریہ کے الفاظ استعمال کریں ۔
2. توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھیں: درمیانے طبقے کی حقیقت کو تسلیم کریں ، فضول تقابل سے بچیں ۔
3. محبت کا اظہار کریں : روزانہ چند جملے یا چھوٹے تحفے بھی دلوں کو جوڑ دیتے ہیں۔
4. مثبت گفتگو کریں : الزام اور شکایت کے بجائے ضرورت کو نرمی سے بیان کریں ۔
5. سماجی دباؤ سے آزاد رہیں : اپنے رشتے کو دوسروں کے معیار پر نہ پرکھیں ۔
Comments are closed.