مسلمان اور عصر حاضر کے تقاضے
مکرمی!
علم اس دور کی سب سے بڑی طاقت
ہے۔ اسلامی تعلیمات علم کے حصول کی ترغیب دیتی ہیں، جیسا کہ قرآن پاک کا پہلا لفظ "اقرأ” (پڑھو) اس کی واضح مثال ہے۔ آج کے دور میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ مسلم نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جدید تعلیمی اداروں سے استفادہ کریں اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم سائنسدانوں جیسے ابن سینا اور البیرونی نے علم کے میدان میں عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ آج پھر سے اسی جذبے کی ضرورت ہے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو دینی و دنیاوی تعلیم کی ترویج، سماجی بہبود، اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ مثال کے طور پر، آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دینی کورسز، ویبینارز، اور تعلیمی مواد پھیلایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات اور منفی پروپیگنڈے سے بچنا بھی ضروری ہے۔
عالمگیریت نے مختلف ثقافتوں اور مذاہب کو قریب لا دیا ہے۔ اسلام رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ آج کے متنوع معاشرے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دینی شناخت کو مضبوط رکھتے ہوئے دیگر کمیونٹیز کے ساتھ تعاون اور احترام کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ” (تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین)۔ یہ آیت بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
عالمی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اس میں مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوں۔ کاروبار، انٹرپرینیورشپ، اور ہنرمندی کے پروگراموں میں حصہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام، جیسے کہ سکوک اور اسلامی بینکنگ، نہ صرف شریعت کے مطابق ہیں بلکہ عالمی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مسلم ممالک اور افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل کو بہتر طور پر استعمال کریں اور معاشی ترقی کے مواقع تلاش کریں۔
جدیدیت کے ساتھ مغربی ثقافت کا اثر بڑھ رہا ہے، جو بعض اوقات اسلامی اقدار سے متصادم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اخلاقی اقدار، جیسے ایمانداری، عزت نفس، اور خاندانی نظام، کو مضبوط رکھیں۔ یہ اقدار نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ سماجی ڈھانچے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ جدید حالات کے مطابق ان اقدار کو پیش کرنے کے لیے تعلیمی اور سماجی پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیاں آج کے دور کا ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اسلام زمین اور اس کے وسائل کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ انسان زمین پر خلیفہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کا خیال رکھے۔ مسلمانوں کو پائیدار ترقی کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں، جیسے کہ قابل تجدید توانائی کا استعمال، پانی کے ضیاع کو روکنا، اور آلودگی کو کم کرنا۔
عصر حاضر میں سیاسی و سماجی شعور بہت اہم ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ممالک میں فعال کردار ادا کریں۔ ووٹنگ، پالیسی سازی میں حصہ داری، اور سماجی انصاف کے لیے آواز اٹھانا وقت کا تقاضہ ہے۔ اسلامی اصولوں کی روشنی میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ خاص طور پر مسلم ممالک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
معز انور ،کشن گنج
Comments are closed.