راہل گاندھی کی بہار یاترا

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 

بہار کے ساسا رام سے شروع ہوئی ’’ووٹر رائٹس یاترا‘‘ کو عوام کی زبردست حمایت مل رہی ہے۔ بھیڑ کے امڑ نے سے جہاں کانگریس کی امیدوں کو پر لگے ہیں وہیں بی جے پی کے خیمہ میں ہل چل ہے ۔ یہ یاترا تیجسوی راہل دونوں کی ہے ، لیفٹ کے لال جھنڈے بھی بڑی تعداد میں اس میں شامل ہیں ۔ سماجی بنیاد پر بنی مقامی پارٹیاں بھی اس کا حصہ ہیں لیکن طاقت آر جے ڈی کی ہے ۔ بہار میں ہار جیت بھی آر جے ڈی کی ہی ہونی ہے ۔ راہل تیجسوی نے ’’ووٹر رائٹس ‘‘ کو یہاں عوامی ایشو بنا دیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے نام پر ۶۵۶۴۰۰۰ ووٹ کاٹ دیئے ہیں ۔ ان میں سے تقریباً بیس لاکھ کو مرا ہوا بتایا گیا ہے ۔ راہل گاندھی نے یاترا سے ایک دن قبل ان لوگوں کے ساتھ چائے پی جن کا ووٹ مرا ہوا بتا کر کاٹا گیا ہے۔

 

الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی شہری، روزی روٹی کی تلاش میں بہار سے ہجرت کر دوسری جگہ رہنے ، مرنے ،ڈپلی کیٹ ووٹ ہونے یا پھر بی ایل او کے سفارش نہ کرنے کو ووٹ کاٹنے کی وجہ بتایا تھا ۔ لیکن راہل گاندھی نے انتخابی کمیشن کے جھوٹ سے پردہ اٹھا یا تو کمیشن نے گھبرا کر عین اس وقت پریس کانفرنس بلائی جب بہار میں راہل تیجسوی کی یاترا شروع ہونے والی تھی ۔ پریس کانفرنس میں میڈیا کے تمام ہی نمائندے موجود تھے ۔ لیکن پچاس منٹ چلی اس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارنے کسی بھی سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا ۔ وہ سوالوں کو بھٹکاتے رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے ۔میڈیا نے یہ بھی معلوم کیا کہ جو سوال راہل گاندھی نے اٹھائے ہیں وہی سوال بی جے پی کے ترجمان انوراگ ٹھاکر نے بھی اٹھائے ہیں ۔ انہوں نے چھ چھ پارلیمانی حلقوں میں لاکھوں ووٹوں کی ہیرا پھیری کا الزام لگایا ہے ۔ پھر ان کے ساتھ کمیشن کا وہ رویہ کیوں نہیں ہے جو راہل کے ساتھ ہے ۔ اس سے راہل کے شکوک و شبہات اور سوالوں کو تقویت ملی ۔ پیر کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے حکومت سے ووٹ چوری کے مسئلہ پر بحث کرانے کی مانگ کی ۔ جسے حکومت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ مسئلہ عدالت میں سماعت ہے ، پارلیمنٹ کی کاروائی ملتوی ہو گئی ۔ اپوزیشن اپنی مانگ پر اڑا رہا اور اس نے تینوں الیکشن کمشنر کے فوٹو کے ساتھ پارلیمنٹ کے احاطہ میں احتجاج کیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس مسئلہ پر عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے بحث نہیں ہو سکتی، تو پھر اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن نے پریس کانفرنس کیوں کی؟

 

کمیشن اور حکومت نے یہ کہہ کر بھی عام کو گمراہ کیا کہ اس سے قبل بھی ایس آئی آر ہو چکی ہے ۔ جبکہ ووٹر لسٹ کے ریویزن تو ہوئے ہیں لیکن ایس آئی آر کبھی نہیں ہوئی ۔ ۲۰۰۳ ء میں بھی ریویزن ہی ہوا تھا ۔ اس میں نہ کوئی فارم بھروایا تھا اور نہ ہی کوئی دستاویز طلب کیا تھا ۔ ۱۹۶۰ کے رائے دہند ی قانون کے تحت اگر کسی وجہ سے ووٹر لسٹ سے نام کٹ گیا تو دوبارہ جڑوانے کے لئے فارم ۴ بھرا جاتا ہے ۔ لیکن گیانیش کمار نے اپنے قانون بنا رکھے ہیں اس کے مطابق فارم ۶ بھروایا جاتا ہے جبکہ فارم ۶ نئے ووٹر کے لئے ہے ۔ راہل گاندھی نے بنگلورو سینٹر کی مہا دیوپورا سیٹ کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں اس مین ۶۰۔۷۰ سال کے لوگوں کے نام فارم ۶ کے ذریعہ جوڑے گئے ہیں ۔ اسی طرح قانون میں بی ایل او کی سفارش کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ راہل گاندھی نے تو صرف دس سوال پوچھے ہیں مگر ووٹر لسٹ میں اتنی گڑ بڑیاں ہیں کہ سو سوال پوچھے جا سکتے ہیں ۔

 

بہار میں الیکشن کے آس پاس ووٹر لسٹ ریویزن نہ کرنے کی الیکشن کمیشن نے خود اپنے اوپر بندش لگائی تھی ۔ لیکن ایس آئی آر کی کاروائی شروع کرکے نہ صرف اس نے اپنے فیصلہ کو مسترد کیا بلکہ عوام میں زبردست بے چینی بھی پیدا کر دی ۔ بہار ایسی ریاست ہے جہاں مرکزی و ریاستی حکومت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ووٹر لسٹ میں نام کو لوگ اپنی شناخت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔ انہیں لگ رہا ہے کہ اگر نام کٹ گیا تو انہیں اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی امیدیں راہل کے ساتھ جڑ گئی ہیں ۔۱۷ دنوں کی اس یاترا میں راہل گاندھی تقریباً ۱۶۰۰ کلو میٹر پیدل چلیں گے ۔ یاترا ضلع ، قصبہ اور دیہی علاقوں سے گزر کر یکم ستمبر کو پٹنہ پہنچے گی ۔ جہاں گاندھی میدان کی ریلی میں اس کا اختتام ہوگا ۔ اس سے قبل راہل جنوب سے شمال ۴۰۰۰ کلو میٹر اور مغرب سے مشرق ۶۶۰۰ کلو میٹر کی یاترا کر چکے ہیں ۔ اس کا کانگریس کو فائدہ ہوا ۲۰۲۴ ءکے الیکشن میں اسے ۹۹ سیٹیں ملیں ۔راہل نے کانگریس میں دوبارہ جان پھوکی جبکہ ملائی باز کانگریسی لیڈروں نے کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جس طرح کام کیا ہے اس نے مودی کو بیک فوٹ پر پہنچا دیا ہے ۔ وہ اس وقت اپنے پیک پر ہیں ، عوام کا ان میں بھروسہ بنا ہے ۔

 

راہل تیجسوی کی یاترا سے مہا گٹھ بندھن کے حق میں زبر دست ماحول بننے کی توقع ہے ۔ اس کو برقرار رکھنے کے لئے کانگریس کو اپنے بڑ بولے لیڈران کو کنٹرول میں رکھنا ہوگا ۔ یہ مغرور لوگ کانگریس کا کچھ بھلا نہیں کر سکتے خود اپنی سیٹ بھی نہیں نکال سکتے لیکن نقصان ضرور پہنچا سکتے ہیں ۔ پارٹی میں اب بھی کئی رکن ایسے ہیں جو گٹھ نبدھن ، تیجسوی اور لالو کے خلاف بولنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ۔ اس کا بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے اور کانگریس کو نقصان ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کانگریس نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ ٹھیک سے مل کر ۲۰۲۴ء کا الیکشن لڑا تو کانگریس کو چھ سیٹیں آ گئیں ۳۷ سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملی ۔ ۲۰۱۹ء میں ۸۰ میں سے ۶۳ سیٹیں جیتنے والی بی جے پی ۳۳ سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر کی پارٹی بنکر رہ گئی ۔

 

اس وقت کانگریس قیادت کو اپنے کارکنان کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ بہار میں وہ مہا گٹھ بندھن کا حصہ ہیں ۔ انہیں آر جے ڈی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ہے ۔ سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر کسی بھی طرح کے تنازعہ سے بچنا ہے ۔ اگر کوئی بھی گٹھ بندھن کی پالیسی اور پارٹی لائن کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے باہر جانے سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔ یاترا کو مل رہی حمایت کی وجہ سے کانگریسیوں کے کچھ زیادہ ہی پر جوش ہونے کا امکان ہے ۔ ابھی سے ۹۰۔۱۰۰ سیٹوں پر لڑنے کی بات ہونے لگی ہے ۔ یاترا جیسے جیسے آگے بڑھے گی یہ مانگ اور بڑھتی جائے گی ۔ پچھلی مرتبہ کانگریس نے ۷۰ سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا اور صرف ۱۹ سیٹیں جیتی تھیں ۔ جن میں سے اس کے پاس اب ۱۷ سیٹیں ہی ہیں ۔ ۲۰۱۵ء میں کانگریس کے پاس ۲۷ سیٹیں تھیں جن میں سے آدھے سے زیادہ نتیش کمار کے ساتھ چلے گئے تھے۔ اس لئے راہل کو یہاں سختی دکھانی ہوگی اور توازن رکھنا ہوگا ۔ انہیں بتانا ہوگا کہ الیکشن تیجسوی اور لالو کو کمزور کرنے کے لئے نہیں بلکہ نریندر مودی کمزور کرنے کے لئے لڑا جا رہا ہے ۔

 

بی جے پی ووٹ چوری کے معاملہ پر شاید یہ سوچ کر خاموش ہے کہ ووٹ کٹنے اور ووٹ بڑھنے کا فائدہ اسے ملے گا ۔ عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں اسے سمجھ میں آ رہا ہے کہ بی جے پی اپنے فائدہ کے لئے ہمیں پریشان کر رہی ہے ۔ اگر اس نے سوچ لیا کہ چاہے جو ہو جائے ہم بی جے پی کا فائدہ نہیں ہونے دیں گے ۔ ایسے میں بی جے پی کو کوئی نہیں بچا سکتا ۔ لیکن اس کے لئے مہاگٹھ بندھن کے سبھی ساتھیوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ عوام کو یہ بتانا ہوگا کہ ہم مل کر اس کے مسائل کو حل کریں گے ۔ ڈرا کر یا گمراہ کرکے اس کے ووٹ لینے کے لئے نہیں بلکہ اس کی بھلائی اور ترقی کے لئے کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ راہل کی یاترا سے وہاں کے عوام یہی امید کر رہے ہیں ۔

Comments are closed.