تبلیغی جماعت ماضی تاحال : ایک تجزیہ
بقلم محمد کامل رشید
تبلیغی جماعت بہت اچھی جماعت ہے اس میں کوئی دو راۓ نہیں، اس جماعت کے روحِ رواں حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رح نے جس درد و کڑھن سے اس کام کو شروع کیا تھا وہ واقعی قابلِ تعریف و لائق تقلید ہے، یہ کام اکابرِ تبلیغی جماعت کے اخلاص کی برکت سے آج دنیا کے چپہ چپہ میں جا پہنچا ہے، یہ جماعت پیار و محبت کا استعارہ تھی، نفرت تعصب سے نابلد تھی، اس کا ایک ہی پیغام تھا محبت سے اللہ کے ان بندوں کو جو باوجود مسلمان ہونے کے اللہ کو بھول چکی ہے، اور نفس و شیطان کے دامِ فریب میں آ کر اسلام سے دور ہو چکی ہے، اور قریب تھا کہ اپنی غفلت کی وجہ سے اپنے دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی، اور اپنی دنیا میں مست تھی، جسے اپنے نفع و نقصان کی بھی پرواہ نہیں تھی، دنیا بھر میں ایسے ہزاروں لاکھوں کے گھر گھر دستک دے کر پیار و محبت سے دین کا پیغام پہنچایا ہے، ان کے لئے راتوں میں تہجد میں رو رو کر خوب دعائیں کی ہیں، اور ان کی اصلاح کی امید کبھی نہیں چھوڑی، لگے رہے، پیار و محبت کا پیغام دیتے رہے اور اس طرح لاکھوں غفلت میں ڈوبے بچے، بوڑھے اور نوجوانوں کی زندگی میں زبردست انقلاب آ گیا، کایا ہی پلٹ گئی، واقعی تبلیغی جماعت ماضی قریب سے پہلے پہلے اپنی مثال آپ تھی، یہ دنیا بھر میں ایک خاموش انقلاب برپا کر رہی تھی، گاؤں کے گاؤں، بستی کے بستی اس مبارک جماعت کی محنتوں کے نتیجہ ہدایت سے مالا مال ہو رہی تھی، مجھے خود اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے جب میں نے ہوش سنبھالا اور پہلی بار میرے محلہ میں دوسرے ممالک کی آمد ہونے والے تھی، جماعت کی آمد سے پہلے ہی محلہ کے بچے بڑے بوڑھے سب منتظر تھے اور صرف دیکھنے کے لئے ہی جو لوگ نمازوں کی پابندی نہیں بھی کرتے تھے، سر پر ٹوپی رکھ کر نمازی بن گئے، عجب سماں تھا، جب تک جماعت ہماری مسجد میں ٹھہری رہتی تھی کیا ہی خوشنما منظر ہوتا تھا۔۔۔اس کے بعد رفتہ رفتہ زمانے کی رفتار پکڑی اور ہر چیز ترقی کی جانب تیزی سے رواں دواں ہونے لگی، اداروں اور تنظیموں نے خواہی نہ خواہی خود کو منظم کیا، اپنے افراد کو ماضی کے مقابلے میں خود سے زیادہ مربوط کیا، کئی ادارے اور تنظیمیں اختلاف میں پڑ کر منقسم ہو گئیں، ان تقسیم پر طویل بحث و مباحثہ کے بعد تقسیم شدہ بعض ادارے اور تنظیموں نے خود کو ثابت کیا کہ ہم تقسیم کے بعد امت کے لئے نفع بخش ہی ہیں اور بعض نے ثابت نہیں کر پاۓ جن پر اب بھی شدید تنقید ہوتا رہتا ہے، ایسے ہی شدید اختلاف تبلیغی جماعت میں بھی پڑ گئی، جو کافی شدت اختیار کر گیا، اور بالآخر تبلیغی جماعت بھی امارت اور شوری دو گروپ میں تقسیم ہو کر رہ گیا، اس کے بعد دونوں گروپوں میں آپسی جھڑپ کی ایسی دلدوز ویڈیوز منظر عام پر آئیں کہ جو اس خوبصورت جماعت کے وقار کو دنیا بھر مجروح کر کے رکھ دیا، جس جماعت کے بول یہ ہوتے تھے کہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کوئی ہیں گھر میں؟
کون؟
اللہ کے بندے، اللہ کے گھر سے اللہ کی بات لے کر آۓ ہیں۔۔۔!!!
مرد حضرات گھر آئیں تو مسجد بھیج دیجئے گا۔
آج وہ اپنے اپنے گروپوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں، کوئی امارت سے منسلک ہے تو شوری والے کو دیکھنا نہیں چاہتا، اور جو شوری سے منسلک ہے وہ امارت والے کو۔
اب جس علاقہ میں جس گروپ کا غلبہ ہوتا ہے وہاں اسی گروپ کی جماعت کا عموماً آمد ہوتا ہے اس کے برعکس کی صورت میں ان آنے والے مہمانوں کی اچھی خاطر خواہی بھی نہیں ہوتی الا ماشاءاللہ
یہ خوبصورت جماعت جو اگرچہ صرف مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کا کام کرتی ہے مگر اپنے دلوں میں پورے امت کی فکر رکھتی تھی، سماج میں علماء صلحاء کے بعد لوگ ان سے متاثر ہوتے تھے، ان کے اندر سب کے لیے ادب و احترام تھا، وہ فرشتہ تو نہیں تھے مگر فرشتوں والی صفات کے حامل تھے، ٹوٹے ہوۓ انسانوں کی تبلیغی نہج کی دلجوئی بھی زبردست تھی، مگر۔۔مگر۔۔مگر۔۔پھر کیا ہوا؟؟؟
اس خوبصورت جماعت کو نہ جانے کیسی نظر لگ گئی کہ جو مرکز نظام الدین پوری دنیا کی تبلیغی جماعت کو خود سے مربوط کئے ہوۓ تھی، جہاں سے ایمان و اعمال کی کرنیں پھوٹتی تھیں اور امت کے جوڑ کی صدا لگائی جاتی تھی وہاں سے بعد اختلاف و تقسیم دو گروپ ایسے ایسے بیانات منظر عام پر آنے لگے کہ جس پر ایک ادنی سمجھ بوجھ والے انسان کو حیرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوتا، حضرت جی پر اہل علم علماء کرام کا شدید اعتراض ہوتا، ان کی غلط بیانی کی مذمت کی جاتی، ہو ہنگامہ کے بعد حضرت جی اپنے اس بیان سے رجوع بھی کر لیتے مگر پھر آئندہ کسی بڑے جوڑ یا اجتماع میں انہیں پرانی باتوں کو دہراتے یا پھر کوئی ایسی باتیں کرتے جو قابلِ اعتراض ہوتا ہے، اور حضرت جی کے گروپ سے منسلک نوجوانوں کی ایک جماعت تو ایسی تیار ہوئی جو حضرت جی کے خلاف ایک بات سننا گوارا نہیں کرتی، وہ بزبانِ حال کہہ رہے ہوتے ہیں کہ حضرت جی کبھی غلط بول ہی نہیں سکتے، وہ غلط ہو ہی نہیں سکتے۔۔بھئی! ایسی آنکھ بند تقلید آپ کیا کہیں گے؟ بیانات کی ان کی کچھ غلطیاں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ہر عامی شخص بھی آسانی سمجھ سکتا ہے کہ ہاں بالکل غلط بات ہے! دوسرے یہ کہ یہ جذبہ کہ ہم ہی سہی ہیں، یہی کام سب سے اچھا ہے، کام تو اصل میں ہم ہی لوگ کر رہے ہیں باقی لوگوں کا تو وقت ہی نہیں لگا ہے، وقت کی قربانی کو ان لوگوں نے تبلیغی جماعت میں منحصر کر دیا ہے باقی تمام لوگ معاذ اللہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں، کیا ایسا ماننا درست ہے؟ تبلیغی جماعت کی افضلیت کو بتانے کے لئے کیا دوسرے دینی خدمات ضرب لگانا اور اسے مفضول بتانا ضروری ہے؟ فی نفسہ تبلیغی جماعت ایک اچھی جماعت ہے، بہت اچھا کام کر رہی ہے مگر اس کی اہمیت کو بتانے کے لئے کیا قرآن وحدیث کے معانی و مفاہیم کو اپنے حساب سے تبلیغی جماعت پر منطبق کرنا درست ہے؟ مروجہ تبلیغی جماعت کی قرآن وحدیث سے تائید تو ملتی ہے مگر ہو بہو تطبیق ثابت کرنا کیا یہ غلو نہیں ہے؟ پہلے تبلیغی جماعت سے جڑے احباب اپنے باطنی اصلاح پر زیادہ توجہ دیتے تھے، پہلے بھی مسنون لباس کے پابند تھے، صرف پگڑی نہیں تھی، سادگی تھی، تواضع تھا، عاجزی و انکساری تھا جذبہ ہمدردی و ایثاری تھا، گزشتہ چند سالوں سے نظام الدین سے شاید ہدایت جاری کیا گیا کہ ہر ساتھی عمامہ بھی باندھے، عمامہ باندھنا سنت ہے، بالکل مگر عمامہ باندھنے کے بعد آپ مزید سنت کے نمائندگی کرنے والے بن گئے، آپ کے اندر اب مزید صبر و تحمل، عاجزی، تواضع، نرمی، ہمدردی آنی چاہئے تھی مگر افسوس کہ اب بعض نوجوانوں میں تعلی، ضد،اکڑ،نفرت و تعصب ایسا سرایت کر گیا کہ خدا خیر کرے!
جو نوجوان پورے امت کو جوڑے رکھنے کا مشن، پورے امت کی نجات کی فکر دلوں میں رکھتا تھا، اب سلام بھی انہیں لوگوں کو کرے گا جو ان کے اس کام جڑا ہوا ہے، کمیاں کس میں نہیں ہے؟ ہر فرد اور جماعت کمیاں ہیں مگر اس جماعت کے نمائندے کا اس طرح کوتاہ ظرف ہو جانا کیا اس کام میں نئے لوگوں کے لئے رکاوٹ کا ذریعہ نہیں بنے گی؟
پہلے یہ جماعت اخلاص و للہیت کا استعارہ ہوا کرتی تھی مگر اب عہدہ اور مناصب کے محبت گرفتار ہو چکی ہے، پہلے جماعتوں میں نکلنے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوجوان مدارسِ اسلامیہ کے لئے تشکیل پاتے تھے، مدارس اسلامیہ سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے یہی جماعت دیکھتی تھی، مگر پھر کیا ہوا؟ جہاں جہاں جس جس مساجد میں علماء کرام درس قرآن دیتے تھے ان میں سے کئی جگہوں سے یہ خبر آتی ہے کہ ان کے نزدیک درس قرآن کی بھی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی ان کی اپنی تعلیم کی، یا پھر ایک ایک عامی شخص کے زبانی بیان کی حالانکہ ایک عامی شخص کا مجمع میں بیان محض سیکھنے سکھانے کی غرض سے اکابرِ تبلیغ نے جاری کیا تھا مقرر بنانا مقصود نہ تھا مگر آج بھئی صاحب! تبلیغی نوجوان چلہ چار ماہ لگا تقریریں رٹ رٹا کر آج بہیتیرے مقرر تیار ہو چکے ہیں، آپ سنیں گے تو عس رس کریں گے، بڑے بڑے مقررین سے مقابلہ کرنے لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غیر تبلیغی علماء کرام کی عزت و احترام یہ لوگ نہیں کرتے، ادھر سے روک ٹوک بھی ہو سکتا ہے، بس تبلیغی علماء کرام سے تو یہ نوجوان والہانہ محبت کرتے ہیں، اور دوسرے علماء کرام کو پرکھتے ہیں کہ آیا ان کا سال لگا ہے یا نہیں؟
دو طرح کے لوگ ہیں، ایک تبلیغی علماء، طلباء اور عوام اور دوسرے غیر تبلیغی علماء، طلباء اور عوام
جو غیر تبلیغی(مروجہ) لوگ علماء، طلباء اور عوام ہیں اس میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک محب تبلیغی جماعت دوسرے مخالف تبلیغی جماعت اور ایک تیسرے ہیں جو نفرت تو نہیں کرتے مگر مطلق حمایت بھی نہیں کرتے بلکہ اچھا کرنے پر ان کی سراہنا کرتے ہیں اور غلطیوں پر متنبہ بھی کھل کر کرتے ہیں، آپ کا اس تیسرے قسم کے لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ابھی حالیہ بیان جو مولانا سعد صاحب کا منظر عام پر آیا ہے کیا تمام اہل علم ان سے متفق ہیں؟ حالانکہ شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس بیان کی سخت تردید کی ہے، کیا دعوت و تبلیغ کا اطلاق صرف مروجہ تبلیغی جماعت پر ہی منطبق ہوتا ہے؟ کیا دعوت وتبلیغ کے دوسرے ذرائع بے اثر ہیں؟ کیا اخبار و رسائل سے خط و کتابت سے دعوت نہیں دی جا سکتی؟ کیا حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رح سے پہلے کے زمانے میں دعوت و تبلیغ کا کام نہیں ہوا؟ یقیناً ہوا ہے، ہر زمانے میں دعوت و تبلیغ کا کام ہوا ہے؟ سوالات بہت ہیں؟ جواب نہیں آنے والا۔۔کیا مروجہ تبلیغی جماعت میں نکلنا فرض و واجب کا درجہ رکھتا ہے؟ تبلیغی جماعت کی افادیت کو ہر کوئی مانتا ہے، مگر کیا تبلیغی جماعت اصلاح سے پرے ہے؟ کیا تبلیغی جماعت کے ساتھیوں میں پائی جانے والی کمیوں کو اصلاح کی غرض سے بھی بتانا تبلیغی جماعت کی مخالفت مانا جائے گا؟ اور جواباً یہ کہنا کہ آپ کا ابھی وقت نہیں لگا ہے، آپ کو ابھی سمجھ میں نہیں آۓ گا وغیرہ وغیرہ کیا درست نا درست کے سمجھنے کے لئے بھی خروج لازمی ہے؟ اللہ نے ہر انسان کو اتنی سمجھ ضرور دی ہے کہ وہ کسی ادارہ کسی جماعت سے منسلک ہوۓ بغیر بھی درست نا درست کی ادنی تمیز رکھتا ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جو انسان جس کام سے منسلک ہوتا ہے اس کی نگاہ میں وہ کام سب اعلی اور عزیز ہوتا ہے، مگر دین کے کام کو کسی ایک طریقہ میں مقید کرنا اور دوسرے کاموں پر بزبان قال نہ سہی، بزبان حال ہی ضرب لگانا، کم متاثر بتانا کیا یہ درست ہے؟ دوسری بات کچھ بھی واجبی اعتراض بھی کرو کسی غلطی پر متوجہ کرو تو یہ کہنا کہ دو سو ممالک میں یہ کام پھیل گیا وغیرہ وغیرہ کہنا۔۔ کیا دو سو ممالک تک کام کا پہنچ جانا آپ کی من مانی کو جواز فراہم کرتی ہے؟ اگر کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو ضروری نہیں کہ کہنے والا تبلیغی جماعت کا مخالف ہی ہو وہ محب بھی ہو سکتا ہے، آپ سب کی فکر کرتے ہو؟ کبھی آپ کی کوئی فکر کرتا ہے، آپ کی غلطیوں کو آپ کو بتاتا ہے، متوجہ کراتا ہے، تو کیا اس کا حق نہیں؟ کیا آپ کی کسی غلطی بتانے کی وجہ سے وہ آپ کی نظر میں آپ کی جماعت سے بلکہ امت سے خارج ہو گیا؟ معاذ اللہ
اب مجھے بھی قارئین کرام میں سے کوئی احباب تبلیغی جماعت کا مخالف نہ سمجھ بیٹھیں! الحمدللہ! تبلیغی جماعت اچھی جماعت ہے، مگر تبلیغی جماعت کے ذمہ دار کی طرف سے ایسے ایسے بیانات باربار آنے لگے تو۔۔تو۔۔تو۔۔ فالله خير حافظا
Comments are closed.