4 ماہ کی حاملہ بہو کو سسرالیوں نے موت کے گھاٹ اتارا، لاش جلا ڈالی ، سر غائب
جالے(محمد رفیع ساگر) سکت پور تھانہ علاقے کے شیروپور گاؤں میں جمعرات کو ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں چار ماہ کی حاملہ بہو کی گلا کاٹ کر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور شواہد مٹانے کے لیے اس کی لاش کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ مقتولہ کی شناخت جھنجھارپور (مدھوبنی) کی رہائشی چندا کماری (23) کے طور پر ہوئی ہے، جس کی شادی منیش کمار منڈل سے ہوئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی وجے منڈل نے تھانے میں تحریری شکایت درج کرا کر الزام عائد کیا کہ بہن کے شوہر، دیور، ساس، نند اور دیگر سسرالی افراد نے مل کر اسے قتل کیا اور ثبوت چھپانے کے لیے لاش جلا دی۔ شکایت کنندہ کے مطابق قتل سے قبل دیور راج کمار منڈل نے فون پر دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے معاملات میں مداخلت کی گئی تو پورے خاندان کو جان سے مار دیا جائے گا۔
گاؤں کے لوگوں کے مطابق جب مقتولہ کے لواحقین جائے وقوعہ پر پہنچے تو لاش کا تقریباً 70 فیصد حصہ جل چکا تھا اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ لاش کا سر غائب تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چندا کو سسرالی ہمیشہ جہیز کے لیے ستاتے اور اذیتیں دیتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد سسرالی گھر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا۔ دو افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
گاؤں میں یہ واردات سنسنی اور خوف کی لہر دوڑا گئی ہے، لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر چار ماہ کی حاملہ بہو کو اس قدر سفاکی کے ساتھ کیوں مارا گیا؟
Comments are closed.