ووٹ کی حفاظت، قوم کی امانت — ووٹر لسٹ میں ہر اہل ہندوستانی شہری کا نام لازمی درج ہو: مولانا انیس الرحمن قاسمی

پھلواری شریف (پریس ریلیز) امارتِ شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت اور آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمٰن قاسمی صاحب مدظلہ نے ریاست کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام درج رہنا ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔ یہ حق صرف ایک فرد کی ضرورت نہیں بلکہ جمہوریت کی بقا اور قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، اس لیے ہر شہری کو اس سلسلے میں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں "ایس آئی آر” کے نام پر جو کارروائی کی جا رہی ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کے اشارے پر لاکھوں شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں، یہ نہ صرف ایک خطرناک سازش ہے بلکہ عوام کو بلاوجہ پریشانی میں مبتلا کرنے اور جمہوریت کی جڑوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

 

امیرِ شریعت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ووٹر لسٹ سے شہریوں کے نام حذف کرنا عوام کے بنیادی و جمہوری حق پر کھلا حملہ ہے۔ یہ عمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کچھ طاقتیں ملک کے جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے اور عوام کی بڑی تعداد کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

 

انہوں نے عوام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا نام ان افراد کی فہرست میں ہے جن کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں، تو وہ فوراً اپنے آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی کے ساتھ متعلقہ بی ایل او (BLO) سے ملاقات کرے اور اپنی درخواست جمع کرا کے دوبارہ اپنا نام درج کرائے۔

 

الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ https://voters.eci.gov.in پر بوتھ وائز ان لوگوں کی فہرست اپلوڈ کر دی ہے جن کے نام کسی وجہ سے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ اس فہرست میں نام شامل نہ ہونے کی وجہ بھی درج ہے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ جن کے نام کے تفتیشی فارم (Enumeration Forms) موصول نہیں ہوئے ہیں، وہ افراد اپنے آدھار کارڈ کی ایک نقل کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کر کے جلد از جلد بی ایل او کے ذریعہ اپنا نام درج کرالیں۔

 

اسی طرح اگر کسی شخص کا نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے اور اس کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو گئی ہے تو وہ فوری طور پر فارم نمبر 6 پُر کرے۔ فارم نمبر 6 کے ساتھ Annexure D بھرنا بھی لازمی ہے اور اس کے ساتھ الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ فہرست میں سے گیارہ (11) مستند دستاویزات میں سے کسی ایک کی فوٹو کاپی منسلک کرنا ضروری ہے۔

 

حضرت امیرِ شریعت نے ریاست کے تمام شہریوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے بوتھ کی لسٹ فوراً ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر کسی کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے تو وہ تاخیر کیے بغیر اپنے آدھار کارڈ کے ساتھ متعلقہ بی ایل او سے رابطہ کریں اور اپنا نام دوبارہ درج کرائیں۔ یہ نہ صرف ایک انفرادی ضرورت ہے بلکہ قومی و اجتماعی ذمہ داری بھی ہے کہ ہر اہل شخص کا نام ووٹر لسٹ میں باقی رہے تاکہ آنے والے انتخابات میں وہ اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کر سکے۔

 

امیرِ شریعت نے آخر میں کہا کہ یہ صرف ایک انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے جمہوری نظام کے تحفظ کا سوال ہے۔ اس لیے ہر ذمے دار شہری، سماجی کارکن، دینی و ملی تنظیم اور ائمۂ مساجد کو آگے بڑھ کر عوام کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی شخص اپنے قیمتی حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہونے پائے۔

Comments are closed.