اسلام میں طہارت:ایک امتیازی شان

 

مفتی محمدفیاض عالم قاسمی

ناگپاڑہ ممبئی

8080697348

اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کی بڑی اہمیت ہے۔صفائی اور نفاست چوں کہ انسان کی فطرت میں شامل ہے اس لئے شریعت نے قدم قدم پر اس کی تعلیم دی ہے۔طہارت حاصل کرکے انسان کے قلب کو سکون ملتاہے،روح کو جلا ملتی ہےاورجسم کو تازگی محسوس ہوتی ہے۔طہارت اورپاکیزگی کو اختیار کرنے سے ایک سلیم الطبع انسا ن کو آسودگی اور اطمینان نصیب ہوتا ہے، غیرمعمولی فرحت وشادمانی حاصل ہوتی ہے، چہرے پر تازگی اور نورانیت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف جب تک آدمی ناپاک رہتاہے ایک قسم کی گھٹن سی محسوس ہوتی ہے، بے چینی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نماز جیسی عظیم الشان عبادت کے لئے طہارت کو لازم قراردیاہے۔ نماز سے قبل نہ یہ کہ صرف نجاست کو دورکرلیاجائے، بلکہ نمازی ہر طرح کی نجاست سے پاک و صاف ہوجائے۔پاک لباس زیب تن کرے،ہاتھ ،منہ،چہرہ ا ور پیروں کو اچھی طرح دھولے، دانتوں کومسواک سے صاف کرے،کلی اور غرغرہ کے ذریعہ منہ کو صاف کرے،ناک میں پانی ڈال کر ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ذریعہ کی آلائشوں کو دورکرے،پورے سر پربھیگے ہوئے ہاتھوں کوپھیرے،گردن پر بھی مسح کرے تاکہ پورے جسم کی رگیں جودماغ تک پہونچ رہی ہیں، تازہ دم ہوجائیں، طبیعت میں بشاشت آجائے؛مکمل ہشاش وبشاش ہوکر یکسوئی کے ساتھ نماز پڑھے۔صبح وشام ، دوپہر اوررات میں روزانہ کم وبیش پانچ اوقات میں وضوکرنے کاحکم دیاگیاہے۔جس سے جہاں ایک طرف پاکی اورصفائی حاصل ہوگی وہیں دوسری طرف ہاتھ، پیر، چہرہ اور پیروں میں لگے ہوئے جراثیم کاخاتمہ ہوگا۔ نیز منہ اور ناک سے داخل ہونے والے بیکٹریاسے بھی نجات ملے گی۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:ترجمہ: اے مسلمانو ! جب نماز کے لئے کھڑے ہوتو چہرے اور کہنیوں سمیت ہاتھوں کو دھوؤ ، اپنے سروں کا مسح کرو اورٹخنوں سمیت اپنے پاؤں دھوؤ ۔(المائدۃ:۶)

آپ ﷺ پر جب دوسری مرتبہ وحی نازل ہوئی تواس میں تیسری ہدایت یہ دی گئی کہ "آپ اپنے کپڑے کو پاک وصاف رکھیے۔‘‘ ( المدثر:۴)اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشادفرمایاکہ طہارت وپاکیزگی اللہ عزوجل کی محبوب اورپسندیدہ چیزوں میں سے ہے۔(البقرۃ :۲۲۲) بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین استنجاء کے بعد ڈھیلا اورپانی دونوں استعمال کرتے تھے، اللہ تبار ک وتعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی، اورقرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ: ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں، اوراللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں سےمحبت کرتے ہیں۔(القرآن، التوبہ:۱۰۸)۔آپ ﷺ نے پاکی کو آدھاایمان قرار دیاہے۔(صحیح مسلم:٢٢٣)۔ اس کے علاوہ صبح اٹھ کر پہلے ہاتھ دھونے کاحکم،کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعددونوں ہاتھ کو دھونا، استنجاء کرنے کے بعد ہاتھ کی صفائی،اجتماع کے موقعہ پر جیسے عیدبقرعیداور جمعہ کے دن غسل کرنا ، اور غسل ٹوٹ جانے کی صورت میں غسل کو واجب اور لازم قراردینا ایسے احکام ہیں، جو صرف اورصرف اسلام ہی کاطرہ امتیاز ہے۔

اسلام سے قبل اور اسلام کے بعدبننے والے مذاہب ان خصوصیات سے خالی ہیں۔چنانچہ واقعہ ہے کہ اسلام سے پہلے پوری دنیا میں بدن اور کپڑے کی صفائی کو معیوب خیال کیا جاتا تھا، غسل کرنے کو جرم سمجھا جاتا تھا۔ بوسیدہ، بدبودار اورگندے کپڑوں میں رہنے کوسعادت، زہد وتقویٰ اورکمال سمجھاجاتاتھا۔ زمانۂ جاہلیت میں بعض عیسائی پنڈت لباس نہیں پہنتے تھے، شرمگاہوں کو ارد گرد کے غیرمعمولی بالوں کے ذریعہ چھپاتے تھے۔ اتھینس نامی راہب کابیان ہے کہ اس نے زندگی بھر اپنے پیر نہیں دھوئے۔ ابراہام نامی راہب کہتاہے کہ: میں نے پچاس سال تک اپنے چہرے اور پیر کو پانی سے ترنہیں کیا۔ اسکندریہ کے ایک راہب نے جب عیسائیوں کو غسل کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھاتو کافی افسوس اوررنج وغم کا اظہارکیا، اورکہا کہ: کچھ عرصہ پہلے ہم چہرے پر پانی ڈالنا حرام خیال کرتے تھے۔ افسوس! آ ج ہم لوگ پورے جسم پر پانی بہارہے ہیں۔ (ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین ،ج:۱،ص:۱۵۱)۔ پاپائے روم نے جرمنی کے بادشاہ فریڈرک پریہ الزام لگاکر کہ وہ روزانہ غسل کرتا ہے، کفر کافتویٰ لگایا۔ پاپائے روم روزانہ غسل کرنے والے عیسائیوں کو کافر قرار دیتاتھا، ایسے کافروں کو سز ادینے کے لیے پاپائے روم نے ۱۴۷۸ء میں ایک مذہبی عدالت قائم کی، اورروزانہ غسل کرنے کی پاداش میں پہلے ہی سال دوہزار افراد کو زندہ جلادیا گیا، اورستر ہزار کو قید وبند کی سزائیں جھیلنی پڑیں۔ میلے کچیلے لباس پہننے کی وجہ سے جوؤں کی یہ کثرت تھی کہ جب برطانیہ کا پادری باہر نکلتاتو اس کی قباء پر سینکڑوں جوئیں پھرتی نظر آتی تھیں۔ جب اندلس میں اسلامی سلطنت ختم ہوئی، اور عیسائیوں نے زمامِ اقتدار سنبھال لی، تو فلب دو م نے تمام حمام بند کرنے کا فرمان جاری کیا، اوراس نے ا شیلبہ کے گورنر کو محض اس لیے معزول کردیا کہ وہ روزانہ ہاتھ منہ دھوتا تھا۔یہی کچھ حال ہمارے دیش کے ہندوؤں بھائیوں کابھی رہاہے۔ہندو مذہب کے پیروکاروں کے یہاں طہارت وصفائی کا کوئی تصور نہیں ہے، ان کی مذہبی کتابوں میں نفاست وپاکیزگی کے طورطریقے بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ ہندو دھرم کے اندر انسان اپنے مزاج ومذاق کے مطابق حیوانوں کی سی زندگی گزارسکتا ہے۔چند سال قبل ہندوستان کے سابق وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کایہ بیان ملک کے مشہورومعروف جرائد اوربڑے بڑے اخبارات میں شائع ہواتھاکہ میں روزانہ صبح اپنا پیشاب پیتا ہوں۔ سکھوں کے یہاں سر،بغل ،اورناف کے نیچے کے بال تراشنے سے انسان مذہب سے خار ج ہوجاتا ہے، ختنہ کرنا ان کے یہاں بڑاجرم سمجھا جاتا ہے۔(مستفاد ازمضمون مولانا عبداللہ صاحب قاسمی، حیدرآباد)

ایسی صورت حال میں اسلام نے طہارت، پاکیزگی ،اور نفاست کاتصورپیش کیا، جس کو پوری دنیاکے لوگوں نے دیر سویر ہی سہی تسلیم کیا۔

شریعت مطہرہ میں نجاست اور طہارت کا باب نہایت ہی وسیع اور تفصیلی ہے۔ حدیث اور فقہ کی کتابوں کی شروعات ہی ان ابواب سے ہوتی ہیں۔ چنانچہ شریعت نے نجاست کی دوقسمیں کی ہیں۔ نجاست ظاہری اور نجاست معنوی۔ نجاست ظاہری کامطلب یہ ہے کہ وہ نجاست جو نظر آئے جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، مَنی، گوبر وغیرہ اور نجاست معنوی کامطلب یہ ہے کہ جو نظر نہ آئے جیسے وضو کاٹوٹ جانا، غسل کاٹوٹ جانا۔ وغیرہ۔

ظاہری نجاست کی پھر دوقسمیں ہیں۔(١) نجاست خفیفہ یعنی ہلکی نجاست جیسے ان جانوروں کا پیشاب، پاخانہ جن کا گوشت حلال ہے۔جیسے اونٹ،گائے، بیل، بھینس، بکرا،مینڈھا، خرگوش ،مرغی،بطخ وغیرہ۔(٢)نجاست غلیظہ یعنی سخت ترین نجاست جیسے انسان کا پیشاب ،پاخانہ، مَنی، بہتاہواخون اورجن جانوروں اورپرندوں کاگوشت حرام ہے، ان کاپیشاب،پاخانہ، جیسے کتا،گدھا،سور،بندر،چوہا، چھچھوندر، چھپکلی،چیل،کوا،چمگاڈروغیرہ۔واضح رہے کہ نجاست خفیفہ اورغلیظہ کی تعریف میں فقہاء کرام کا قدرےاختلاف بھی ہے۔ا س لئے بوقت ضرورت مستند علماء کرام سے رجوع کرناچاہئے۔

نجاست ظاہری خواہ خفیفہ ہو یاغلیظہ اس کو پانی سے دورکیاجاسکتاہے۔خفیفہ میں تو اتنی گنجائش ہے کہ جس عضو میں لگی ہےاگراس کی ایک چوتھائی سےکم ہے تو بغیردھلے بھی نماز ہوجائے گی، لیکن اگر اس سے زیا دہ ہےتو دھونا واجب ہے۔اس کے بغیرنماز نہیں ہوگی۔ جب کہ نجاست غلیظہ میں ایک درہم یعنی ہتھیلی کی بیچ کی گولائی سے زیادہ ہوتو دھونا واجب ہے اس کے بغیرنماز نہیں ہوگی۔ ہاں اگر اس سے کم ہو تو نماز پڑھ لینے کی گنجائش ہے۔

دھونے کی شکل یہ ہوگی کہ اگر نجاست نظر آرہی ہے تو پانی سے اتنا دھویاجائے کہ اصل نجاست ختم ہوجائےاور اگر نجاست نظر نہیں آرہی ہے جیسے پیشا ب لگ کر خشک ہوگیا۔ تو ایسی صورت میں اس کو اتنی بار دھویاجائے کہ دھونے والے کو پاک ہوجانے کا یقین ہوجائے۔تاہم فقہاء متاخرین نے لکھاہے کہ کم سے کم تین بار دھویا اور نچوڑلیاجائے تو پاک ہوجائے گا۔کپڑے کے جس حصہ میں نجاست لگی ہے صرف اسی کو دھوناضروری ہے۔ پورے کو دھوناضروری نہیں۔ اگر فُل آٹومیٹک واشنگ مشین میں ناپاک کپڑے دھوئے جائیں تو تین بار پانی لینے اوراسپِن کردینے سے کپڑے پاک ہوجائیں گے، اوراگر سیمی آٹومیٹک مشین ہے تو نکال کر تین بار دھولیاجائےتو پاک ہوجائیں گے۔ جو چیزیں دھوئی جاسکتی ہیں ان میں یہی حکم ہے۔ البتہ جن چیزوں کو دھوکر نچوڑناممکن نہیں ہے، جیسےتکیہ،صوفہ ، گدہ،لحاف،قالین وغیرہ تو ان میں اس قدر پانی بہادینا کہ پانی اندر تک پہونچ کر نکل جائے،اور دھونے والے کوپاک ہونے کا یقین ہوجائے توکافی ہے۔فلور میں گندگی لگ جائے یابچہ پیشاب پاخانہ کردے تو گندگی کو صاف کرنے کے بعد فلوراچھی طرح پانی بہایاجائے۔زمین پر ناپاکی لگ جائے تونجاست کی صفائی بعد تَری خشک ہوجائےتوزمین پاک ہوجائےگی۔موبائل ،لیپ ٹاپ،گھڑی وغیرہ پر نجاست لگ جائے تو اگر ایسےحصے میں لگی ہے جس کو دھوناممکن ہو تودھوناضروری ہے، مثلاً موبائل کے غلاف پر نجاست لگی ہے تو غلاف کواتارکردھولیاجائے۔ اور اگر ایسی جگہ پر لگی ہے کہ دھوناممکن نہیں ہے، تو ٹیشو پیپروغیرہ سے اچھی طرح سے صاف کرلیاجائےتو پاک ہوجائے گا۔

نجاست معنوی بھی دو طرح کی ہیں۔ایک وہ جس سے وضو ٹوٹ جاتاہے اوردوسری وہ جس سے غسل ٹوٹ جاتاہے۔ہواخارج ہونے، خون نکل کر بہہ جانے ،یا ٹیسٹ کے لئے خون نکالنے،زخم سے پیپ نکلنے،منہ بھر کے قے ہونے،بےہوش ہوجانے، کرسی دیوار وغیرہ سے ٹیک لگاکریا بسترپرسوجانے،رکوع سجدہ والی نماز میں قہقہ لگاکر ہنسنے سے، پیشاب پاخانہ کے راستے سے کچھ بھی نکلے تو وضوٹوٹ جاتاہے، ایسی صورت میں طہارت حاصل کرنے کے لئے دوبارہ وضوکرناضروری ہے۔ البتہ اگر پیشاب کے راستہ سے سفید مادہ شہوت کےساتھ نکلے جسے مَنی کہتے ہیں تواس سے غسل ٹوٹ جاتاہے خواہ نیند کی حالت میں نکلے یا بیداری کی حالت میں۔ اسی طرح اگرانسان کی شرمگاہیں آپس میں صرف مِل جائیں تو بھی غسل ٹوٹ جائے گا چاہے کچھ نکلے یانہ نکلے۔عورت میں حیض یا نفاس کاخون جاری ہونے سے بھی غسل ٹوٹ جاتاہے۔ ایسی صورت میں غسل کرناواجب ہے۔یہ سارے احکام اس لئے ہیں تاکہ آدمی بشاشت کے ساتھ زندگی گزارے، پژمردگی اس پر حاوی نہ ہوجائے۔ وہ چاہے عبادت میں مصروف ہویا تجارت کررہاہو، یا لوگ باگ کے ساتھ میٹنگ کررہاہو۔ پاک صاف رہے،اس کا دل ودماغ ہمیشہ فرحت وسرور سے لبریز رہیں۔اس کا جسم چاق وچوبند رہے۔اس سے بدبونہ آئے،خود بھی ذہنی طورپر پریشان نہ ہو ا وردوسروں کو بھی تکلیف نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ شریعت نے طہارت حاصل کرنے کےساتھ ساتھ خوشبولگانے کی بھی ترغیب دی ہے۔احادیث میں خوشبوکے استعمال کوسنت نبوی ﷺ اورپسندیدہ عمل بتایاگیاہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کا تصورِ طہارت ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ دیگر مذاہب میں طہارت کا فقدان تھا، مگر اسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں صفائی اور پاکیزگی کو داخل کیا۔طہارت اختیار کرنا صرف دینی فریضہ ہی نہیں بلکہ انسانی صحت اور معاشرتی زندگی کے لئے بھی رحمت ہے۔فقط

Comments are closed.