خادم القرآن حضرت قاری اسماعیل بسم اللہؒ کے انتقال پر دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں تعزیتی نشست

 

کولکاتہ (پریس ریلیز) دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں خادم القرآن و المدارس حضرت قاری اسماعیل بسم اللہؒ کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مہتممِ مدرسہ مولانا نوشیر احمد نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ حضرت قاری صاحب کا وصال نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ آپ کی ذات امت کے لیے سائبان کی مانند تھی، جس نے اپنی پوری حیات قرآن و سنت کی خدمت اور مدارس و مساجد کی آبیاری کے لیے وقف کر دی۔

مولانا نوشیر نے کہا کہ حضرتؒ نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ گجرات میں قائم کردہ عظیم ادارہ "جامعۃ القراءت کفلیتہ” کی صورت میں امت کو دیا، جو آج ایک مثالی نشانِ راہ ہے۔ اس ادارے کے فیض یافتہ طلبہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں دینِ متین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ کولکاتہ میں بھی حفظ و تجوید کے معروف ادارے دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور کے اساتذہ، بالخصوص قاری شریف احمد، قاری محمد علی اور قاری مظفر، اسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مدرسہ بھی اس اعتبار سے خوش نصیب ہے کہ حضرت قاری اسماعیل بسم اللہؒ وقتاً فوقتاً یہاں کے تعلیمی معیار کا جائزہ لینے تشریف لاتے اور اساتذہ کی رہنمائی فرماتے۔ ایک موقع پر آپؒ نے فرمایا تھا کہ "مغربی بنگال میں قرآن کریم کو صحت و تجوید کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے، اور دارالعلوم اسراریہ اس میدان میں امید کی ایک روشن کرن ہے۔”

حضرتؒ کی خدمات کا دائرہ مدارس تک محدود نہیں رہا۔ آپ نے عصری تعلیم کے فروغ اور فلاحی میدان میں بھی گراں قدر کارنامے انجام دیے۔ ڈابھیل میں آپ کے قائم کردہ انگریزی میڈیم ادارے "امن اسکول” سے ہزاروں طلبہ آج اپنے مستقبل کو روشن کر رہے ہیں، جبکہ "گارڈی ہاسپیٹل” کے ذریعے ہر طبقے کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت مستفید ہو رہے ہیں۔ قرآنِ کریم کی ترویج کے لیے آپ دور دراز کے پسماندہ علاقوں تک تشریف لے جاتے، قراء کو وہاں بھیجتے اور خود بھی اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے۔

حضرت قاری اسماعیل بسم اللہؒ کی ذاتی زندگی سادگی، وقت کی پابندی اور عبادت گزاری کا عملی نمونہ تھی۔ اخیر دم تک آپ تراویح اور قیام اللیل کی امامت فرماتے رہے، گویا قرآن سے رشتہ آخری لمحے تک برقرار رہا۔ آپ نے اپنی اولاد کی تربیت پر بھی خاص توجہ دی اور انہیں قیمتی ہیروں کی مانند تیار کیا۔ پسماندگان میں اہلیہ، ایک صاحبزادی اور چار صاحبزادے شامل ہیں۔ بڑے فرزند مفتی یوسف بسم اللہ کفلیتہ میں نائب مہتمم و استاذِ حدیث ہیں، دوسرے بیٹے مولانا عبدالرحمن جامعہ ازہر (مصر) سے فارغ التحصیل ہیں اور کفلیتہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ تیسرے صاحبزادے اسجد امن اسکول کی نگرانی کر رہے ہیں۔

تعزیتی اجلاس میں قاری منصار، مولانا منیر الدین،قاری زبیر، مفتی ہارون، قاری سرفراز، مولانا فیاض، قاری انیس اشاعتی، مولانا قطب الدین، قاری اسامہ اور ماسٹر قاسم سمیت متعدد علما و قراء نے اظہارِ افسوس کیا۔ آخر میں اساتذہ و طلبہ نے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کی۔

Comments are closed.