لیڈر ، لیڈرتیار کرتاہے چمچے نہیں !!!
از قلم : مدثر احمد شیموگہ
بھارت کی تاریخ میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی ایک ایسا باب ہے جو قربانیوں، جدوجہد اور دور اندیشی کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس ملک میں جہاں تعلیم کو ہمیشہ سے ہی معاشرتی تبدیلی کا سب سے طاقتور ہتھیار سمجھا گیا ہے، وہاں مسلمان قائدین نے متعدد ادارے قائم کیے جو آج بھی قوم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ لیکن ان اداروں کی کامیابی کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا یہ صرف بانیوں کی محنت اور قربانیاں ہیں، یا اس سے آگے کچھ اور بھی ہے؟ آئیے اس موضوع پر تفصیل سے غور کرتے ہیں، جہاں ہم دیکھیں گے کہ کامیاب اداروں کی بنیاد میں جانشینی کا ایک مضبوط نظام اور مخلص قائدین کی تیاری شامل ہے۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی، جو آج بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا ایک روشن مینار ہے۔ اس ادارے کی بنیاد سر سید احمد خان نے رکھی، جو انگریزوں کے دور میں مسلمانوں کی پسماندگی کو دیکھ کر بے چین تھے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر سر سید نے فیصلہ کیا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر سکتی ہے۔ انہوں نے اینگلو انڈین اسکول اور کالج کی بنیاد رکھی، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنی۔سر سید کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے پائی پائی جمع کی، اپنی جائیداد بیچی، اور حتیٰ کہ اپنی صحت کو داؤ پر لگا دیا۔ وہ انگلینڈ تک گئے تاکہ وہاں کی تعلیمی نظام کو سمجھ سکیں اور اسے ہندوستان میں نافذ کر سکیں۔ لیکن سر سید کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے صرف ادارہ نہیں بنایا، بلکہ اسے چلانے کے لیے ایک پوری نسل تیار کی۔ جب ادارہ ترقی کرنے لگا تو انہوں نے مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسے قائدین کو اس کا سرپرست بنایا۔ یہ لوگ نہ صرف ادارے کی نگرانی کرتے رہے بلکہ اسے مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔سر سید کے بعد نواب محسن الملک اور سر یعقوب حسین کی نگرانی میں یہ ادارہ یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا۔ نواب محسن الملک نے مالی وسائل جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سر یعقوب حسین نے تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر توجہ دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ علی گڑھ آج بھی ہزاروں طلبہ کو تعلیم دے رہا ہے اور قوم کے لیے قائدین تیار کر رہا ہے۔ یہ کامیابی اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ سر سید نے اپنے بعد ایک ایسا نظام چھوڑا جو خودکار طور پر چل سکے۔ انہوں نے قائدین تیار کیے، نہ کہ محض پیروکار یا چمچے۔اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد بھی آزادی کی جدوجہد میں رکھی گئی۔ مولانا محمد علی جوہر اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسے قائدین نے اسے قائم کیا، جو علی گڑھ سے متاثر تھے۔ یہ ادارہ 1920 میں علی گڑھ سے الگ ہو کر دہلی منتقل ہوا، اور اس کا مقصد تھا کہ مسلمانوں کو ایسی تعلیم دی جائے جو انہیں آزادی کی تحریک میں شامل کر سکے۔ مولانا جوہر نے اس ادارے کو اپنی زندگی وقف کر دی، اور ڈاکٹر انصاری نے مالی اور طبی مدد فراہم کی۔لیکن جامعہ کی اصل ترقی ڈاکٹر ذاکر حسین کے دور میں ہوئی۔ ڈاکٹر حسین، جو خود ایک عظیم معلم تھے، نے ادارے کو نئی جہت دی۔ انہوں نے نصاب کو جدید بنایا، طلبہ کو قومی جذبے سے سرشار کیا، اور ادارے کو مالی طور پر مستحکم کیا۔ ڈاکٹر حسین کی دور اندیشی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے ساتھ ایک ٹیم تیار کی جو ادارے کو آگے بڑھا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہاں بھی کامیابی کی وجہ وہی ہے: بانیوں نے جانشین تیار کیے جو مخلص اور اہل تھے۔اب بات جنوب بھارت کے مشہور اسلامی اسکالر ڈاکٹر اے پی ابوبککر مصلیار کی۔ انہوں نے مرکز ثقافتی اور نالج سٹی جیسے ادارے قائم کیے جو آج وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر مصلیار نے نہ صرف ان اداروں کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں اپنی نگرانی میں چلانے کی پہل کی۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت درجنوں افراد کی ایک ٹیم تیار کی جو ان کی غیر موجودگی میں بھی اداروں کو کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔ یہ ٹیم تعلیم، انتظام اور مالیات کے شعبوں میں ماہر ہے، اور ان کا مقصد صرف ادارے کی ترقی ہے، نہ کہ ذاتی مفادات۔ڈاکٹر مصلیار کی یہ حکمت عملی جدید دور کی ایک بہترین مثال ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک فرد کی زندگی محدود ہے، لیکن ادارہ ابدی ہو سکتا ہے اگر اسے صحیح ہاتھوں میں دیا جائے۔ ان کے ادارے آج کیرالہ اور جنوب کے دیگر علاقوں میں تعلیم، ثقافت اور سماجی خدمات فراہم کر رہے ہیں، اور یہ سب اس لیے ممکن ہے کیونکہ انہوں نے قائدین تیار کیے، نہ کہ محض ملازمین۔علی گڑھ، جامعہ اور مرکز ثقافتی کے علاوہ بھارت میں کئی دیگر مسلمانوں کے ادارے ہیں جو کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مثلاً، دار العلوم دیوبند، جو مولانا قاسم نانوتوی نے قائم کیا، آج بھی دینی تعلیم کا مرکز ہے۔ اس کی کامیابی بھی اسی لیے ہے کہ بانیوں نے ایک نظام قائم کیا جو نسل در نسل چلتا رہے۔ اسی طرح، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جامعہ دار السلام عمر آباد جیسے ادارے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ قوم کو اخلاقی اور سماجی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔ان سب کی کامیابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ بانیوں نے اپنے بعد اداروں کو چلانے کے لیے ایسے لوگوں کو تیار کیا جو کسی مفاد، بے ایمانی یا لالچ کے بغیر کام کر سکیں۔ سر سید احمد خان اور مولانا محمد علی جوہر جیسے لوگ ایسے قائدین تھے جنہوں نے قوم کے لیے مزید قائدین تیار کیے۔ ایک قائد کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور بھی قائدین تیار کرتا ہے، نہ کہ چمچے۔ اگر قائد قائدین کو تیار کر لے تو اس کا مشن، مقصد اور منزل آسانی سے مل جاتی ہے، ورنہ تحریکیں اور انقلابات قائد کے ساتھ ہی دفن ہو جاتی ہیں۔اب ذرا ان اداروں کی بات کرتے ہیں جہاں یہ حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔ مثلاً، مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی جو اعظم خان نے قائم کی۔ یہ ادارہ اچھی نیت سے شروع ہوا، عمارتیں بنیں، طلبہ آئے، لیکن اعظم خان کے بعد اس کی نگرانی کے لیے ایسے لیڈر تیار نہیں کیے گئے جو مخلص ہو کر کام کر سکیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ادارہ تنازعات اور مالی مسائل کا شکار ہے۔اسی طرح، الامین تحریک کے بانی ممتاز احمد خان نے بھی ادارے بنائے، نام کمایا، لیکن جانشینوں کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارے آج اپنی پرانی شان کھو چکے ہیں۔ یہی حال کئی علاقائی تعلیمی اداروں کا ہے، جہاں بانیوں نے عمارتیں تو کھڑی کیں لیکن نظام کو مستحکم نہیں کیا۔ یہ بات صرف بڑے اداروں کے لیے نہیں، بلکہ درمیانی اور چھوٹے اداروں کے لیے بھی ہے۔ ایک چھوٹا مدرسہ یا اسکول بھی اگر جانشینی کا نظام نہ رکھے تو بانی کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، تحریکوں اور انقلابات کی کامیابی صرف پیسے یا عمارتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ بانی اپنے بعد ایک ٹیم تیار کرے جو ادارے کے مقصد کو زندہ رکھے۔ سر سید، مولانا جوہر اور ڈاکٹر مصلیار جیسے قائدین نے یہی کیا، اور ان کے ادارے آج بھی پھل پھول رہے ہیں۔ قائد وہ نہیں جو اپنے ماتحت چمچے تیار کر ے بلکہ قائد وہ ہے جو قائدین پیدا کرے ، مسلمان قوم کو چاہیے کہ وہ اپنے جانشینی کا نظام قائم کرے، تاکہ انکی تحریکوں کی روشنی نسل در نسل پھیلتی رہے۔ یہ نہ صرف قوم کی ترقی کا راز ہے بلکہ ایک عظیم قائد کی اصل میراث بھی۔ اگر ہم یہ سبق سیکھ لیں تو بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی انقلاب مزید مضبوط ہو جائے گا۔
Comments are closed.