ووٹ چور، گدی چھوڑ

محمد ہاشم القاسمی

( خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال )

موبائل 9933598528

ووٹ چور گدی چھوڑ” نعرے کے ساتھ راہل گاندھی کی قیادت میں 17 اگست کو بہار کے تاریخی شہر سہسرام سے "انڈیا” اتحاد کی "ووٹر ادھیکار ریلی” کا دھماکے دار آغاز ہوا، اس سے پہلے کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے یاترا کا تفصیلی روڈ میپ پیش کیا تھا۔ اس میں انہوں نے بتایا تھاکہ” یاترا کی شروعات 17 اگست کو بہار کے سہسرام سے ہوگی اور 16دنوں میں 1300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ یاترا میں راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے علاوہ انڈیا اتحاد کے دیگر لیڈران بھی شامل ہوں گے، پون کھیڑا نے بتایا تھا کہ یاترا 17 اگست کو سہسرام، روہتاس۔18 اگست کو دیو روڈ، امبا کنڈمبا 19اگست کو ہنومان مندر، پُناما، وزیر گنج؛ 21 اگست کو تین موہنی درگا مندر شیخ پورہ؛ 22 اگست کو چندر باغ چوک، مونگیر؛ 23 اگست کو کُرسیلا چوک، براری، کٹیہار؛ 24 اگست کو خشکی باغ، کٹیہار سے پورنیہ؛ 26 اگست کو حسین چوک، سوپول؛ 27 اگست کو گنگوارا مہاویر استھان، دربھنگہ؛ 28 اگست کو ریگا روڈ، سیتا مڑھی؛ 29 اگست کو ہری واٹیکا گاندھی چوک، بتیا اور 30 اگست کو ایکما چوک، ایکما حلقۂ اسمبلی، چھپرہ میں پہنچے گی۔ یکم ستمبر کو پٹنہ میں عظیم ریلی کے ساتھ یاترا کا اختتام ہوگا۔ 20، 25 اور 31 اگست کو یاترا کا وقفہ ہوگا۔ پروگرام کے مطابق مقررہ تاریخ میں اس یاترا کو کانگریس پارٹی کے ملکارجن کھرگے، دیپانکر بھٹاچاریہ، سبھاشنی، مکیش سہنی، عبدالباری صدیقی اور انڈیا اتحاد کے دیگر لیڈروں نے یاترا کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس ریلی میں ہزاروں شرکاء کے ساتھ اسٹیج پر انڈیا اتحاد کے کم وبیش بہار کے تمام لیڈران موجود تھے۔ ریلی میں شرکت کیلئے پورے بہار سے انڈیا اتحاد کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ اس موقع پر ووٹ چوری” کے حوالے سے تنقید کرنے کے ساتھ کانگریس صدر ملکا ارجن کھرگے نے لال قلعہ سے آر ایس ایس کی تعریف کرنے پر وزیراعظم سے سوال کیا کہ” آر ایس ایس کے کتنے لوگ آزادی کی لڑائی میں جیل گئے؟ کتنے لوگوں نے قربانی دی؟ یہ وہ لوگ ہیں جو انگریزوں سے نوکری مانگنے کیلئے خط لکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کی وزیر اعظم لال قلعے سے تعریف کرتے ہیں! بہار میں ایس آئی آر پر انہوں نے کہا کہ بہار میں65 لاکھ غریب مزدوروں کے ووٹ کاٹ دیئےگئے۔ یہ لوگ ووٹ کاٹ کاٹ کر اپنی جیت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ آئین نے ایک ووٹ کا حق سب کو دیا ہے۔ اس حق کو ہمیں چھیننے نہیں دینا ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ بہار جمہوریت کی جائے پیدائش ہے۔ یہ سرزمین رام بابو جگجیون رام کی کرم بھومی رہی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سب کو ووٹ کا حق ملا لیکن آج اس کی چوری کی جا رہی ہے۔ جب تک آپ انہیں اقتدار سے نہیں ہٹاتے، آپ کا ووٹ، آپ کی آزادی اور ملک کا آئین محفوظ نہیں ہو گا۔ "چوروں کو ہٹایئے، بی جے پی کو بھگایئے” راہل گاندھی اپنی مختصر تقریر میں ووٹ چوری کے اپنے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ "مہاراشٹر میں تمام انتخابی سروے "انڈیا” اتحاد کی فتح کی پیش گوئی کر رہے تھے مگر نتائج میں بی جے پی کی قیادت والا اتحاد جیت گیا۔ بی جے پی ان ایک لاکھ نئے ووٹرس کے ووٹوں سے جیتی جو غلط طریقے سے پارلیمانی الیکشن کے بعد ووٹر لسٹ میں شامل کئے گئے تھے۔” انہوں نے متنبہ کیا کہ "پورے ملک میں ووٹ چوری ہو رہی ہے، بہار میں بھی وہ ایس آئی آر (ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی ) کے بہانے نئے ووٹرس شامل کر کے ووٹ چرانا چاہتے ہیں۔” انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا کہ ” سازش رچی جا رہی ہے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ لڑائی ووٹ کے حق اور آئین کے تحفظ کے لیے ہے۔” آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن میں سانٹھ گانٹھ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "جو کام بی جے پی اکیلے نہیں کر پارہی ہے اس کیلئے وہ الیکشن کمیشن کی مدد لے رہی ہے اور حقیقی ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ووٹوں کی چوری نہیں بلکہ "ڈکیتی” قرار دیا اور کہا کہ ” آپ کے ووٹ کا اختیار ہی نہیں چھینا جارہا ہے بلکہ آپ کے وجود کو ہی ختم کرنے کی سازش ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، آر جے ڈی لیڈر نےطنزیہ انداز میں کہا کہ” وزیراعظم مودی بہار کے عوام کو چونا لگانا چاہتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ چونا کھینی میں استعمال ہوتا ہے جسے بہار کے لوگ رگڑ رگڑ کے کھا جاتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے ان لوگوں کو اکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی جو ووٹوں کی ڈکیتی کرنا چاہتے ہیں۔” سی ایم ایل لیڈر دیپانکر بھٹاچاریہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ووٹ چوروں نے اب بہار میں ڈکیتی کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 65 لاکھ ووٹرس کے نام نکال دیئے ہیں۔ 22 لاکھ کو مردہ قرار دیا ہے مگر ان میں سے ہزاروں زندہ ہیں ۔ ہم ووٹ دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے اس حکومت کو اکھاڑ پھینکیں گے ۔” مکیش سہنی نے بھی عوام سے اپیل کی کہ "ہم ووٹنگ کے ذریعہ حکومت بدل سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی اپوزیشن کے خلاف لڑ رہاہے۔ الیکشن کمیشن اس وقت مودی حکومت کی جیب میں ہے”۔شدید علالت کے باوجود 78 سالہ لالو پرساد یادو نے ریلی میں شرکت کی۔انہوں نے مختصر مگر اپنے مخصوص انداز میں کی گئی تقریر میں کہا کہ "بی جے پی جو چوری کرتی ہے، اس کو کسی بھی قیمت پر اقتدار میں آنے نہیں دینا ہے۔” انہوں نے بہار کے عوام کو نصیحت کی کہ ’’سب لوگ ایک ہوجایئے، بی جے پی کو اکھاڑ پھینکئے۔” انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز "چوروں کو ہٹایئے، بی جے پی کو بھگایئے اور ہمارے اتحاد کو کامیاب بنایئے” کہہ کر کیا۔ راہل گاندھی اور تجیسوی یادو کا یہ یاترا محض ایک سیاسی سفر نہیں بلکہ عوام کے درمیان جا کر اس بنیادی اور اہم سوال کو زندہ کرنے کی کوشش ہے کہ کیا آج ہمارا ووٹ واقعی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی ہمارے آئین نے ہمیں دیا ہے؟ نیز یہ یاترا جمہوری شعور کو بیدار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جو عام شہریوں کو یہ باورکراتی ہے کہ اس کا ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ ایک طاقت ہے۔ اگر ووٹنگ کے عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھیں گے، تو پورے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت بلکہ ہر ادارہ اس حق کے تحفظ کے لیے بیدار اور مستعد رہے۔ ایک زندہ جمہوریت کی بنیاد عوام کے اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اور جب یہ اعتماد کمزور پڑتا ہے تو پورا نظام خطرے میں آ جاتا ہے۔ اس یاترا میں سبھی مقامات پر سڑک کے دونوں کنارے لوگوں کے ہجوم کا امنڈتا ہوا سیلاب دکھائی دے رہا ہے، جبکہ منعقد جلسوں میں لوگوں کا غیر معمولی اژدہام دیکھ کر جہاں ایک طرف راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بہار اور مرکز میں برسر اقتدار این ڈی اے سرکار کو اپنے پاؤں تلے کی زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ انڈیا بلاک، یعنی عظیم اتحاد کی عوامی مقبولیت میں بے تحاشہ اضافہ دیکھ کر کے ایک طرح سے برسراقتدار پارٹی کا ہوش اڑ گیا ہے۔ لوگوں میں بے پناہ جوش و خروش نظر آرہا ہے اور عوام و خواص سبھی لوگوں کی زبان پر راہل گاندھی کا نیا نعرہ "ووٹ چور گدی چھوڑ ” گونجنے لگے ہیں۔ یہ یاترا بہار کی زمین پر ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب بہار میں ووٹر لسٹ کے حوالے سے سب سے بڑا تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ بہار میں الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے نام پر ایک ایسی دھاندلی شروع کی ہے جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ ووٹر لسٹ کی صفائی اور اسے درست بنایا جائے گا، لیکن اس کے اعداد و شمار نے عوام کو چونکا دیا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل کے دوران تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی بات سامنے آئی۔ جسے سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندوں نے اسے ایک بڑے پیمانے پر ووٹ چوری اور کچھ مخصوص طبقات کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ بہار جیسی ریاست جہاں غریب، مزدور، پسماندہ طبقات کی بڑی تعداد آباد ہے، وہاں یہ اقدام سیدھے سیدھے ان طبقات کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر اپوزیشن نے انتخابی کمیشن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ دراصل مودی حکومت کے اشارے پر ہوا ہے تاکہ کمزور طبقے کے ووٹ دبائے جا سکیں۔ راہل گاندھی نے اسی پس منظر میں بہار میں قدم رکھا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ محض ووٹر لسٹ کی صفائی نہیں بلکہ آپ کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنے کی سازش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے غائب کرنا محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ جمہوری حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس سے پہلے راہل گاندھی نے 7 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر بڑے پیمانے پر ووٹ چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کی مہادیو پورہ اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں سنگین دھاندلی کی گئی ہے، جس کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا تھا۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے عنوان سے پریس کانفرنس میں مہادیو پورہ اسمبلی حلقے کے ووٹر ڈیٹا کو پروجیکٹر پر سیکڑوں نامہ نگاروں کے سامنے ایک ٹیچر کی طرح ایک ایک نقطہ پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے ضابطگیاں اور دھاندلیاں الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھاندلی کے ثبوت جمع کرنے میں ہماری ٹیم کو چھ ماہ کا وقت لگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کا "مشین ریڈ ایبل ڈیٹا” فراہم نہیں کرتا تاکہ اندھاندلیوں کو چھپایا جا سکے۔ راہل گاندھی کے مطابق ان کی ٹیم نے بنگلورو سنٹرل لوک سبھا حلقے کی سات اسمبلی سیٹوں میں سے ایک، مہادیو پورہ کے ووٹر ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جہاں بی جے پی کو غیر معمولی فائدہ ہوا، جبکہ باقی چھ سیٹوں پر وہ پیچھے رہی۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مہادیو پورہ میں ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کی چوری ہوئی۔” ایک ہی پتے پر 50-50 ووٹر درج تھے، کئی جگہ ایک ہی نام کے ساتھ مختلف تصاویر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہر شہری کو صرف ایک ووٹ کا حق حاصل ہے، لیکن اب یہ بنیادی تصور بھی خطرے میں ہے۔ عوام میں طویل عرصے سے شکوک و شبہات موجود تھے کہ بی جے پی مخالف لہر کے باوجود، بی جے پی ہی اقتدار میں آتی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سروے کچھ اور دکھاتے ہیں، جبکہ نتائج مختلف ہوتے ہیں راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے بعد محض پانچ مہینے میں اتنے ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے، جو اس سے پہلے پانچ سال میں نہیں کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ہم نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی، لیکن ہمیں مشین ریڈایبل ووٹر لسٹ فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں 40 لاکھ ووٹ پراسرار طریقے سے شامل کیے گئے ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں متعدد نشستوں پر ووٹ چوری کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان نشستوں پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی شکست محض چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ہوئی اور یہ وہی جگہیں ہیں جہاں منظم انداز میں ووٹوں میں گھپلا کیا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ حلقوں میں ایک ہی شخص کے نام پر ڈپلیکٹ ووٹ ڈالے گئے، کہیں ہزاروں ووٹرز ایک ہی پتے پر رجسٹرڈ کر دیے گئے، کہیں فارم 6 کے غلط استعمال سے ہزاروں جعلی ووٹرز فہرست میں شامل ہوئے، اور کئی جگہ مردہ افراد کے نام بھی برقرار رکھے گئے تاکہ جعلی ووٹ ڈالے جا سکیں۔ ان کے مطابق ایک تفصیلی تجزیے میں سامنے آیا کہ 11,965 ڈپلیکٹ ووٹرز، 40,009 جعلی پتے، 10,452 ایک ہی پتے پر رجسٹرڈ ووٹرز، 4,132 غلط فوٹو اور 33,692 فارم 6 کے تحت جھوٹے اندراج پائے گئے۔ اگرچہ یہ تمام مثالیں ملک کے مختلف حصوں سے دی گئیں لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ یہ مسئلہ بہار یا کسی ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستانی جمہوریت پر حملہ ہے۔” اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے غائب ہو جائیں یا انہیں کسی بھی طریقے سے ووٹ ڈالنے سے روکا جائے، تو اس کے سیاسی اور سماجی اثرات کیا ہوں گے؟ سب سے پہلا اور فوری اثر یہ ہوگا کہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد اٹھ جائے گا۔ ایک عام شہری، جس نے ببرسوں سے یہ یقین رکھا کہ اس کا ووٹ تبدیلی لا سکتا ہے، مگر جب پتہ چلا کہ اس کا نام ہی ووٹر لسٹ میں موجود نہیں، تو وہ خود کو نہ صرف بے بس ٹھگا ہوا بلکہ جمہوریت سے کٹا ہوا محسوس کرے گا۔دوسرا بڑا اثر ان سماجی طبقات پر پڑے گا جو پہلے ہی سے حاشیے پر ہیں جیسے غریب، دلت، پسماندہ طبقات، اقلیتیں اور مہاجر (مائگرینٹ) مزدور، جو مسلسل سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر یہ طبقات ووٹ کے عمل سے محروم کر دیے گئے، تو ان کی آواز سیاسی منظرنامے سے غائب ہو جائے گی۔ اس کا مطلب صرف انتخابی خاموشی نہیں بلکہ سماجی نمائندگی کا فقدان ہوگا۔اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ جمہوریت ایک نمائندہ نظام ہونے کے بجائے چند طبقات تک محدود ہو کر رہ جائے گی، جہاں طاقتور کی آواز تو سنی جائے گی لیکن کمزور طبقہ مسلسل دبایا جائے گا۔ یہ صرف انتخابی عمل کا نقصان نہیں، بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کی روح کو چوٹ پہنچانے کے مترادف ہوگا۔بہار میں راہل گاندھی کی یاترا کا مقصد صرف یہ نہیں کہ وہ جلسے جلوس کریں، بلکہ وہ ایک نقشہ بنا کر ریاست کے 20 سے زیادہ اضلاع میں عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقاریر میں بارہا یہ نکتہ اٹھایا کہ ” اگر ووٹ ہی محفوظ نہیں تو جمہوریت کا کیا مطلب ہے؟ حکومتیں عوام کے ووٹ سے بننی چاہئے نہ کہ طاقت اور سرکاری مشینری کے کھیل سے یہ ملک بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے، اور اس کے آئین نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ ہم آزادانہ طور پر اپنی پسند کی حکومت منتخب کریں۔ لیکن اگر یہی بنیادی حق ہم سے چھین لیا جائے یا اس میں خلل ڈالا جائے، تو یہ نہ صرف آئین سے غداری ہے بلکہ اُن لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی توہین بھی ہے جنہوں نے آزادی اور عوامی خود مختاری کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ بہار کی سرزمین ہمیشہ سے بڑی سیاسی تحریکوں کا مرکز رہی ہے۔ جے پرکاش نارائن کی تحریک نے پورے ملک کو بدل ڈالا تھا، اور آج پھر اسی بہار کی دھرتی سے ایک نئی تحریک چل رہی ہے۔ ووٹر ادھیکار یاترا "عوام کو یہ احساس دلا رہی ہے کہ ان کا ووٹ ہی ان کی طاقت ہے۔

موجودہ حالات میں جب انتخابی اصلاحات کے نام پر لاکھوں لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے محروم کرنے کی بات ہو رہی ہے، جب بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہیں، تب یہ یاترا ایک عوامی بیداری کی مہم بن کر ابھری ہے۔ یہ عوام کو جھنجھوڑ رہی ہے کہ اگر آج آپ نے اپنی خاموشی برقرار رکھی تو کل آپ کی آواز ہمیشہ کے لیے دب سکتی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ بہار کی یہ یاترا محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ جمہوریت کی بقا کی جدوجہد ہے۔ یہ عوام کو یاد دلا رہی ہے کہ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ہمارے آئین کا بنیادی اصول ہے۔ راہل گاندھی اور ان کی یاترا یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس حق کی حفاظت کے لیے سب کو ایک ساتھ آنا ہوگا، کیونکہ اگر ووٹ چوری ہو گیا تو جمہوریت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ لگتا ہے کہ یہ بات لوگوں کو سمجھ میں آ گئی ہے یہی وجہ ہے کہ بہار سے لے کر پارلیمنٹ تک یہ آواز گونجنے لگی ہے "ووٹ چور گدی چھوڑ۔

Comments are closed.