مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے سابق طالبعلم نے دہلی ہائر جوڈیشیئل سروسیز امتحان میں پہلا مقام حاصل کیا

 

علی گڑھ، 22 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف لاء کے سابق طالب علم مسٹر اکبر صدیقی، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ، سپریم کورٹ آف انڈیا، نے دہلی ہائر جوڈیشیئل سروسیز امتحان میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔

 

مسٹر صدیقی 2007 بیچ کے فارغ التحصیل ہیں اور سپریم کورٹ میں اپنی نمایاں پیشہ ورانہ خدمات اور معروف مقدمہ ستندر کمار انٹل کیس میں اپنے کلیدی کردار کے لیے جانے جاتے ہیں، جس نے ضمانت سے متعلق قانون سازی کو اثرانداز کیا۔ ان کی یہ کامیابی اے ایم یو کی فیکلٹی آف لاء کے اعلیٰ معیار کی تصدیق کرتی ہے۔

 

اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے مسٹر صدیقی کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کی یہ کامیابی اے ایم یو اور فیکلٹی آف لا کے لیے باعث فخر ہے۔ علی گڑھ سے سپریم کورٹ اور اب قانونی خدمات تک کا ان کا سفر پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی ایک مثال ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ انصاف کے شعبے میں اسی طرح خدمات انجام دیتے رہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے فزکس کے طالبعلم نے جے ای ایس ٹی 2025 میں کل ہند سطح پر نویں رینک حاصل کی

 

علی گڑھ، 22 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ طبیعیات (فزکس) میں ایم ایس سی (2022–24) کے طالبعلم مسٹر فراز علی نے فزکس کے جوائنٹ انٹرینس اسکریننگ ٹیسٹ (جے ای ایس ٹی-2025) میں کل ہند سطح پر نویں رینک حاصل کر کے یونیورسٹی کا نام روشن کیا ہے۔

 

اس شاندار کامیابی کے ذریعہ انہوں نے ملک کے تین اعلیٰ تحقیقی اداروں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ، ممبئی، ہریش چندر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پریاگ راج اور انسٹی ٹیوٹ آف فزکس، بھوبنیشور میں ریسرچ کرنے کا موقع حاصل کرلیا ہے۔ وہ جلد ہی طبیعیات میں اپنی تحقیق کا آغاز کریں گے، جو اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں اے ایم یو کی روایت کو مزید مستحکم کرے گا۔

 

شعبہ طبیعیات کے چیئرمین پروفیسر انیس العین عثمانی نے مسٹر فراز علی کو اس نمایاں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستیابی ان کی محنت و ذہانت اور شعبے کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی پرورش اور حوصلہ افزائی کے لیے کوشاں ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں نشہ کی لت کے علاج کی جدید سہولت کا افتتاح

 

علی گڑھ، 22 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال(جے این ایم سی ایچ)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سائیکیاٹری نے اپنی او پی ڈی / آئی پی ڈی میں نشہ کے علاج کی سہولت (اے ٹی ایف) کا آغاز کیا ہے،جسے وزارت سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات، حکومت ہند کے تعاون سے نیشنل ایکشن پلان فار ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ یہاں نشہ کی لت سے نجات کے لیے جامع خدمات فراہم کی جائیں گی، جن میں او پی ڈی اور آئی پی ڈی کیئر، اور مفت ادویات شامل ہیں۔ خاص طور پر شراب اور افیون کے استعمال کی بیماریوں پر توجہ دی جائے گی۔

 

افتتاحی تقریب میں پروفیسر محمد حبیب رضا (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن اور پرنسپل، جے این ایم سی) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پروفیسر سید امجد علی رضوی (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جے این ایم سی ایچ) مہمانِ اعزازی کے طور پرموجود تھے۔ دونوں معززین نے شعبے کی بروقت اور مؤثر کوششوں کو سراہتے ہوئے نشے کے علاج کی سہولیات کو عوام کی دسترس میں لانے کی اہمیت پر زور دیا۔

 

مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے شعبہ سائیکیاٹری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض الدین نے سابق چیئرمین، پرنسپل، اور وزارت کا شکریہ ادا کیا، اور خاص طور پر اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا جن کی سرپرستی میں اس سہولت کا آغاز کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل شان نے اے ٹی ایف کی خدمات کی تفصیلات بتائیں، جس میں انھوں نے او پی ڈی اور آئی پی ڈی کیئر اور شراب و افیون کے استعمال کے مفت علاج کا ذکر کیا۔

 

تقریب میں نئے تعینات کئے گئے اے ٹی ایف عملے کی عزت افزائی بھی کی گئی، جن میں پانچ نرسنگ اسٹاف، دو کاؤنسلر، اور ایک ڈیٹا منیجر شامل ہیں۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر شریا اگروال نے کی، جبکہ ڈاکٹر جتیندر کمار نے شکریہ ادا کیا۔ جدید سہولیات سے لیس اے ٹی ایف مرکز شواہد پر مبنی علاج، مشاورت، اور بازآبادکاری کی خدمات فراہم کرے گا۔ یہ سہولیات صبح 8 بجے سے دوپہر 3 بجے تک او پی ڈی نمبر8 پر دستیاب ہوں گی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے 6 طلبہ کو چین اور تائیوان کی اسکالرشپ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 22 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ غیر ملکی السنہ میں چینی زبان کے 6 طلبہ کو چین اور تائیوان کی حکومتوں کی جانب سے ایک سال کی مکمل مالی اعانت والی اسکالرشپ سے نوازا گیا ہے۔

 

پانچ طلبہ کوحکومت چین کی جانب سے گورنمنٹ اسکالرشپ دی گئی ہے، جن میں نازنین حیدر خان (پیکنگ یونیورسٹی)، محمد عظیم (زیجیانگ یونیورسٹی)، انس علی (بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی)، عبد العزیز (ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی) اور ونشیکا رانی (بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سابق طالبعلم احمد فاروقی کو حکومت تائیوان کی جانب سے ہوایو انرچمنٹ اسکالرشپ سے نوازا گیا ہے۔ یہ تمام طلبہ چین اور تائیوان کی معروف جامعات میں چینی زبان کے اعلیٰ درجے کے پروگرامز میں تعلیم حاصل کریں گے، جس سے ان کی لسانی و ثقافتی مہارتوں میں مزید نکھار آئے گا۔

 

شعبہ غیر ملکی السنہ کے چیئرمین پروفیسر آفتاب عالم نے ان طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی نہ صرف اے ایم یو میں فراہم کی جانے والی اعلیٰ تعلیم اور مواقع کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ قدم ان کے ذاتی اور پیشہ ورانہ مستقبل کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی بین الاقوامی ساکھ اور تعاون کو بھی مضبوط کرے گا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی نرس کو تغذیہ کی کمی کے سدّ باب کے لئے شاندار خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 22 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال (جے این ایم سی ایچ)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پیڈیاٹرک ٹراما یونٹ کی سسٹر انچارج محترمہ نثار جہاں کو بچوں میں تغذیہ کی کمی کے خلاف مثالی خدمات پر محکمہ ترقی اطفال و تغذیہ، علی گڑھ کی جانب سے توصیفی سند سے نوازا گیا ہے۔

 

یہ اعزاز اترولی بلاک کے سلیم پور گووردھن گاؤں میں منعقدہ اسپیشل الیجبیلیٹی ڈے پروگرام کے دوران پیش کیا گیا۔ محترمہ نثار جہاں کو غذائی کمی کے شکار بچوں کے علاج اور انھیں بروقت طبی امداد کی فراہمی میں ان کے نمایاں کردار کے لئے سراہا گیا۔

 

محکمہ کے افسران نے محترمہ نثار جہاں اور ان کی ٹیم کے بے مثال صبر و تحمل، دانشمندی اور لگن سے کی گئی خدمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کی بدولت متعدد معصوم جانیں بچائی گئیں۔ ان کی فرض شناسی کا جذبہ معاشرے کے تئیں ان کے ذمہ دارانہ جذبہ کا اظہار ہے۔

 

مقامی نمائندوں اور دیہی عوام نے بھی ان کی کوششوں کی دل کھول کر تعریف کی، اور کہا کہ ان کے محنت و لگن نے نہ صرف بچوں کو نئی زندگی دی بلکہ تغذیہ کی کمی کے خلاف جدوجہد میں نئی امید بھی پیدا کی۔

 

محکمہ کی جانب سے جاری توصیفی سند میں ان کی بے لوث خدمت کو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ خلوص اور فرض شناسی پر مبنی کام سماج میں بہتری لانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

Comments are closed.