سوانسی سے حرمین تک

 

محمد علم اللہ، سوانسی، برطانیہ

 

رات کے پچھلے پہرسوانسی؛جو ویلز (برطانیہ) کے جنوب مغرب میں، بحیرۂ آئرش کے نیلگوں ساحل سے لپٹا ایک پُرسکون اور دلکش بندرگاہی شہر ہے،خاموشی کی چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ سمندر کی لہریں بھی کسی انجانے احترام میں سر جھکائے بہہ رہی تھیں۔میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا، آسمان کی طرف نظریں اٹھائے تھا۔ چاند بادلوں کے پردے سے جھانک رہا تھا، جیسے خود گواہ بننا چاہتا ہو ایک گناہ گار کے حرمِ پاک کی طرف رختِ سفر باندھنے کا۔ دل کی گہرائیوں میں بچپن کے ترانے بازگشت بن کر ابھرنے لگے۔

 

بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حرم لے چل٭ اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

 

میں نے آنکھیں بند کر لیں… اور لمحوں میں دہائیوں پیچھے چلا گیا۔ اسکول کے صحن میں ہم سب بچے قطار میں کھڑے ہیں۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہیں اور آنکھوں میں ایک عجب سی روشنی ہے جو شاید معصوم دلوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ماسٹر صاحب چھڑی سے قطاریں درست کر رہے ہیں اور سب بچے بآواز بلند گا رہے ہیں:

 

یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے٭ جو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے

 

تب کوئی نہیں جانتا تھا کہ وقت کے سینے میں محفوظ کیے گئے وہ کلمات، برسوں بعد ایک صبح کہیں چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے یا سفر شروع ہو جانے کے بعد کسی ٹرین کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے آنکھوں میں نمی بن کر اُبھریں گے۔

 

جب سعودی عرب کے ہمارے ایک دوست سعید العامری کے ذریعے عمرہ کی منظوری ملی ، اور ٹکٹ ہاتھ میں آیا تو دل کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا۔ جیسے طویل قید کے بعد کوئی رہائی کا پروانہ لے آیا ہو۔ کام کاج، یونیورسٹی، دوست احباب سب دھند میں ڈھل گئے۔ نگاہیں اب صرف ایک منزل دیکھتی تھیں: مدینہ، مکہ، کعبہ، روضہ۔

 

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب میں ایک ٹوٹا پھوٹا سا مسافر، ندامت اور شکر کے جذبات میں بھیگا ہوا، سوانسی سے لندن کی طرف بذریعہ ٹرین روانہ ہوا۔ ہر منظر اجنبی تھا، لیکن دل میں ایک عجیب سی آشنائی تھی۔ جیسے کوئی مجھ سے پہلے ہی وہاں میرا منتظر ہو اور برسوں اور صدیوں سے میرا انتظار کر رہا ہو۔

 

مگر جب لندن ہیتھرو ایئر پورٹ پر پہنچا تو ایک جھٹکا میرا منتظر تھا۔ ایئرپورٹ پر اطلاع ملی کہ فلائٹ کسی وجہ سے کینسل ہوگئی ہے اور اب روانگی کل ہوگی۔ مشیت ایزدی کو کون جانتا ہے، اللہ تعالیٰ کو شاید شدت اور تڑپ زیادہ پسند ہے۔ ہوٹل میں یہ لمحے بڑی بے چینی میں گزرے۔ نیند کسے آنی تھی۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ کبھی خانہ کعبہ، کبھی روضہ مبارک، کبھی مسجد نبوی، کبھی احد کی پہاڑی تو کبھی صفا و مروہ میں سعی… سب کچھ ذہن کی اسکرین پر چلتا رہا۔

 

غم اس بات کا تھا کہ ایک دن برباد ہوگیا، کیوں کہ جہاز کے عام مسافروں کی طرح ہم نے بھی واپسی کا ٹکٹ پہلے ہی بنوا لیا تھا۔ ہوٹل میں کھانا پینا کچھ بھی اچھا نہ لگا، زبردستی چند نوالے پیٹ میں ڈالے اور کھانا جیسا آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔

 

انتظار کا ایک ایک لمحہ پہاڑ کاٹنے جیسا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے:’الانتظار أشد من الموت ‘۔ (انتظار، موت سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔) عام دنوں میں وقت کیسے گزرتا ہے، اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا، مگر اس خاص دن میں تو وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا۔ صبح بھی کچھ ایسی ہی کیفیت رہی، ناشتے میں انواع و اقسام کا کھانا سجا تھا (جو اکثر یوروپ امریکہ وغیرہ کی ہوٹلوں میں قیام کے ساتھ مفت ہوتا ہے) ۔ جی چاہتا تھا تھوڑا تھوڑا سب کچھ چکھ لیاجائے مگر میرے ساتھی کا کہنا تھا کہ الگ الگ کھانے ایک وقت میں لینا مناسب نہیں، اللہ جانے کون سا کھانا مل کر کیسا ’ری ایکشن‘ کر دے۔ سفر میں یوں بھی ہلکی غذا کھانی چاہیے تاکہ کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس کی بات دل کو لگ گئی، لہٰذا احتیاط برتتے ہوئے میں نے پھلوں اور دلیے پر ہی اکتفا کیا۔

 

احرام ہم نے ہیتھرو ایئر پورٹ پر ہی باندھ لیا۔ یہ دو چادریں اوڑھتے ہی ایک الگ کیفت ہوتی ہے، عام دنوں میں زندگی کیسے بسر ہوتی ہے، اس کا شعور تک نہیں رہتا۔ مگر اس کے پہنتے ہی فقہ کے تمام اصول ذہن و دماغ میں آنے لگتے ہیں، سر نہ کھجایا جائے یا داڑھی میں ہاتھ نہ پھیرا جائے کہ بال ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ خوشبو نہ لگائی جائے، بال یا ناخن نہیں کاٹے جائیں، شکار نہ کیا جائے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی معاونت کی جانی چاہئے، کوئی ازدواجی تعلقات قائم کرنا درست نہیں یہاں تک کہ اس کی طرف رغبت ظاہر کرنا بھی جائز نہیں۔ اسی طرح نکاح کرنا یا کسی کا نکاح کرانا، جھگڑنا، گالی گلوچ اور فحش کلامی کرنا سب حرام ہے۔ بصورت دیگر کفارہ (دم یا صدقہ) لازم آ سکتا ہے۔ مجھے کرنل محمد خان کی ’بجنگ آمد‘ میں لکھی بات یاد آتی ہے جس میں وہ ڈرل کے درمیان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسے موقع پر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کھجانا بھی کتنی بڑی عیاشی ہے۔

 

ایر پورٹ پر اللہ اللہ کر کے چیک ان اور بورڈنگ کا عمل ختم ہوا اور سارے مسافر جہاز میں بیٹھ گئے۔ لوگ کم تھے حالانکہ جہاز بہت بڑا تھا، ہماری بغل والی سیٹ بھی خالی تھی۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور اس سیٹ پر قبضہ جماتے ہوئے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ہمارے دوست عباس تکر احمد نے بتایا کل بھی لوگوں کی تعداد کم ہی رہی ہوگی، اسی لیے دونوں دن کی سواریوں کو ملا کر ایک ہی فلائٹ کا نظم کر دیا ہے، اس کے باوجود اب بھی جگہ خالی تھی۔ عباس تکر احمد کا تعلق نائجیریا سے ہے۔ انہوں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے اسلامی شریعت میں ڈگری حاصل کی ہے اور اب سوانسی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

 

ابھی طیارے نے اڑان نہیں بھری تھی، میں چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاز جیسے ہی منزل مقصود کے لیے روانہ ہوا ،میں نے حج اور عمرہ سے متعلق دستاویزی ویڈیو جہاز کی اسکرین پر آن کر دی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مدینۃ النبیﷺ پہنچ چکے ہیں، آنکھوں سے قطرے رواں ہو گئے، دل سے دعا نکلی خدایا! اس سفر کو کام یاب بنا دے، میری تمام دعاؤں کو قبول فرمانا اور خیر و سلامتی کے ساتھ واپس لانا۔ سعودیہ ایئر لائن میں اڑان سے قبل دعا اور سفر کے اسلامی آداب کا پائلٹ کی جانب سے بیان کیا جانا مجھے بہت اچھا لگا۔ تقریبا ساڑھے دس بجے صبح اڑا ۔

 

سعودی ایر لائنز اور کچھ دیگر مسلم ممالک کی ایئرلائنوں میں جہاز میں نماز کے لیے ایک الگ سے جگہ بنی ہوتی ہے۔ یہاں بھی ایک جگہ بنی ہوئی تھی۔ ہر طرف خوشبو کا بسیرا تھا۔ مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ عربوں کی سلیقہ مندی اور ثروت مندی بھی جھلک رہی تھی۔ اس سے قبل لندن آتے وقت ایئر انڈیا سے سفر کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ نہ بھی چاہو تو ذہن خود بخود موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایئر انڈیا میں مسافروں کے لیے سامنے لگے ہوئے ٹیلی ویژن نما اسکرین کام نہیں کرر ہے تھے اور لوگ خاموش غلاموں کی طرح دیکھ رہے تھے۔ یہاں بالکل ویسا نہیں تھا، ساری چیزیں بالکل فٹ اور نئی تھیں، جس سے ایک عجب سا خوشگوار احساس ابھر رہا تھا۔

 

تقریبا ساڑھے چھے گھنٹے کے سفر کے بعد مغرب کے قریب ہم لوگ جدہ ایئر پورٹ پہنچے، چونکہ عمرہ کا ویزہ بنا ہوا نہیں تھا؛ تو اندازہ یہی تھا کہ ہمارے ملک کی طرح لمبی قطار ہو گی اور لوگوں کا اژدہام ازدحام ہوگا، مگر ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ اگر میں مبالغہ نہیں کر رہا ہوں تو مشکل سے تین منٹ لگے ہوں گے اور کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون نے ضروری کاغذی کارروائی کر کے واپس پاسپورٹ ہمیں تھما دیا۔

 

ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو وہی پرانی دلّی کی طرح ٹیکسی والے آواز لگا رہے تھے، ’’حرم شریف…‘‘، ’’حرم …حرم…‘‘ ایک ٹیکسی والے سے بیس درہم میں بات طے ہوئی اور وہ ہمیں ہمارے ٹھکانے تک پہنچا گیا۔ جدہ ایئرپورٹ سے مکہ مکرمہ کا فاصلہ تقریباً 95 کلومیٹر ہے۔ کرایہ 180 سعودی ریال بنا، اور سفر میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔چونکہ صلہ البیت ہوٹل پہلے سے ہی بک تھا تو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ سامان رکھا، غسل کیا اور عشا کی نماز یہیں ادا کر کے حرم شریف کے لیے پیدل ہی نکل پڑا۔

 

دائیں بائیں آگے پیچھے، فلک بوس ہوٹلوں کی عالیشان عمارتیں نظر آ رہی تھیں۔ ابھی تھوڑی دور ہی چلے ہوں گے کہ ایک ٹیکسی والا پیچھے سے آواز دینے لگا کہ، ’’بیٹھ جاؤ! حرم تک ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔‘‘ ہم نے منع کیا لیکن وہ بضد رہا۔ آخر کار ہمیں اس کی گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔ ہم نےٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتا ہے ، اس نے بتایا کہ وہ پاکستان کے گجرانوالہ سے ہے۔ اس نے ہمیں حرم شریف سے تھوڑا پہلے اتار دیا۔ ہم نے کرایہ ادا کرنا چاہا تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر عطا فرمائے۔

 

حرم شریف کا منظر اور پہلی مرتبہ اس دربار میں حاضری کے لئے آنے والے ہم جیسے خطا کاروں کی کیفیت بیان کرنا بھلا کس کے بس کی بات ہے! آنکھوں سے جاری ندامت کے آنسوؤں نیز خشیت اور خوشی کے ساتھ احترام اور بے ادبی کے خوف کے ملے جلے جذبات میں انسان کو کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ کہتے ہیں کہ کعبے پر جب پہلی نظر پڑے … اللہ تعالیٰ اس وقت کی دعا رد نہیں کرتا… میری زبان سے بس اتنا نکلا کہ اللہ مستجاب الدعوات بنا دے۔ پھر سب کے لیے دعائیں نکلتی رہیں اور آنکھیں آنسوؤں کے سیلاب میں بہہ نکلیں ۔

 

یہاں آنے سے قبل کیا کچھ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ مانگوں گا، وہ مانگوں گا، مگر جب اُس نے اپنے گھر بلایا تو کیا مانگا اور کیا بھولا یہ کسے یاد رہنا تھا! طواف کیا، صفا و مروہ میں دوڑ لگائی اور زم زم پیا۔ زمزم پینے کے بعد حرم شریف کے ایک کونے میں بیٹھ کر جی بھر کر رویا۔ میرے آنسو تو یوں بھی جلدی ہی نکل آتے ہیں، آج تو جیسے جھڑی لگ گئی تھی۔ مجھے پوری امید ہے جو مالک حقیقی آج تک میری اتنی خواہشیں پوری کرتا رہا ہے ؛وہ اُس کے دربار میں میرے محسنوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے مانگی گئی دعائیں رد نہیں کرے گا۔

 

یہاں پوری رات بیت گئی، وقت کیسے گزرا، اندازہ ہی نہیں ہوا۔ زوروں کی بھوک لگی تھی، فجر کی نماز کے بعد باہر ایک پاکستانی ہوٹل سے تیس ریال کی مندی لی، جو بالکل سادہ طریقے سے پکائی گئی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے نمک مرچ کا نام و نشان تک نہ ہو۔ میں مشکل سے چند لقمے کھا کر واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔

 

سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں جو کچھ پڑھا تھا اس کی رمق یہاں کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی ہے، ہر جگہ پیسے اور جدیدیت کی ریل پیل ہے۔ میں پیدل چلا جا رہا ہوں۔ فلک بوس عمارتوں، ہوٹلوں، شاپنگ سینٹروں اور کھانے پینے کی دکانوں کے اس جنگل میں وہ کیفیت بالکل بھی طاری نہیں ہوتی جو اس تاریخی بستی میں ہونی چاہیے۔ تصویروں میں جس شہر کی علامت کعبہ ہوا کرتا تھا ، اب اس کی جگہ مکہ کلاک ٹاور نے لے لی ہے۔ صرف حرم اور کعبہ کا نظارہ ایسا ہے جو آپ پر وہ کیفیت طاری کرتا ہے جس کا تجربہ کیے بغیر نہ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر خیال آ تا ہے کہ یہ سرمایہ داری کی چمک … شاید ہماری روحانیت کو دھندلا رہی ہے۔ اگر ہم اسی طرح … اپنے ورثے کو جدیدیت کی دوڑ میں بھولتے گئے … تو کیا ہم اپنی اصل شناخت کھو دیں گے؟

 

انسانوں کے سمندر میں، میں تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا چل رہا ہوں۔ چمچماتی سڑک پر جدید گاڑیاں تیزی سے دوڑ رہی ہیں، ہمارے ملک کی طرح یہاں کوئی ٹریفک کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی گاڑیوں کا بے ہنگم شور ہے۔ لندن کی مصروف شاہراہوں پر بھی یہ نظم و ضبط نظر آتا ہے، اور سوانسی کی پُرسکون گلیوں میں تو یہ اور بھی نمایاں ہوتا ہے۔ میرے دل میں بے اختیار یہ خیال ابھرتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنے ملک میں نظم و ضبط، صفائی اور قانون کو اتنی ہی سنجیدگی سے اپنالیں تو ہماری زندگی بھی اسی طرح خوشگوار اور سکون بخش ہو سکتا ہے۔

 

سڑکوں کے کنارے ہمارے یہاں کی طرح لوگ فٹ پاتھ پر سامان، کپڑے، جوتے، چپل، ٹوپی، کھلونے وغیرہ فروخت کر رہےتھے، میں نے رک کر ان کی زبان، لہجے اور بات چیت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اندازہ ہوا کہ یہ زیادہ تر افریقی ممالک کے لوگ ہیں، جو اس قدر دھوپ اور تپش میں رزقِ حلال کی کوشش میں لگے تھے۔ انہیں دیکھ کر آن کی آن میں حضرت بلال حبشیؓ کی شخصیت سے لے کر نیلسن منڈیلا تک کتنی ہی شخصیتوں کے چہرے نظروں کے سامنے آگئے۔ مجھے ایک افریقی لیڈر کی تقریر یاد آگئی جس میں وہ کہتا ہے ’’سارے وسائل اور معدنیات ہماری سرزمین سے حاصل کیے جاتے ہیں اور اس کا عشر عشیر بھی ہمیں نہیں دیاجاتا۔‘‘

 

یوں جدیدکاری کے نقاب میں ظلم، استحصال اور لوٹ کھسوٹ کی ایک پوری تاریخ میرے سامنے گھوم گئی، جہاں ترقی تو ہوئی مگر انسانیت مر گئی۔ جن کے پاس وسائل آئے ؛انہوں نے خوب مزے کیے اور اپنی سہولیات کی خاطر ایسے قوانین اور حدود و قیود نافذ کئے جن سے خود کو فکری اور معاشی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ یہاں صاف صفائی کرنے والوں میں بھی بر صغیر کے علاوہ زیادہ تر افریقہ کے باشندے خدمات انجام دیتے دکھائی دیے۔

 

مکے میں جتنے بھی دن قیام رہا میرے دوست عباس کے بھی رفقاء ان سے ملنے آتے رہے، اس میں عرب بھی تھے اور ان کے اپنے ملک کے افراد بھی۔ ایک دن ان کا ایک دوست اویس ملنے آیا۔ وہ ریاض میں ایک چڑیا گھر میں کام کرتا ہے، جہاں اس کے ذمے خطرناک جانوروں کی دیکھ بھال ہے، شیر، ریچھ، چیتا، مگر مچھ سب سے اس کی دوستی ہے۔ وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے بتا رہا تھا کہ اس کی ملازمت میں پیسے تو ٹھیک ٹھاک ہیں لیکن اس کے گھر والے کہتے ہیں، اسے چھوڑ دو، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس نے بھی جامعہ اسلامیہ مدینہ سے ہی تعلیم حاصل کی ہے اور عباس کی طرح اس کی بھی عربی اور انگریزی بہت اچھی ہیں۔ مگر وہ بتا رہا تھا وہائٹ کالر جاب کا حصول یہاں بھی اتنا آسان نہیں۔ اس لیے مجبوراً اسے چڑیا گھر میں ملازمت کرنی پڑرہی ہے۔ وہ ہم سے رات کے کھانے کے لیے ضد کرنے لگا اور زبردستی البیک ریستوراں لے گیا، جہاں چکن فرائی، پائو روٹی اور مختلف قسم کے مشروبات لیے گئے۔ میں نے دیکھا کہ کیا عرب اور کیا عجم ہر جگہ ایسے ان کھانوں کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگی تھی۔

 

مجھے یاد آیا، پہلے دن جب میں جدہ سے ٹرین کے ذریعے مکہ کے لیے جارہا تھا تو ایک عرب خاتون جو میری بغل والی سیٹ پر بیٹھی تھی ، البیک کے کھانوں کے بارے میں بتا رہی تھی۔ وہ عامیہ لہجے میں بات کررہی تھی۔ اس لیے اس کی کچھ باتیں تو سمجھ میں نہیں آرہی تھیں تاہم اس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس ریستوران میں کھانا کھائے بغیر یہاں کا سفر مکمل نہیں ہوگا۔اس نے منہ بناتے ہوئے کہا یہاں آؤ اور البیک کا کھانا نہ کھاؤ تو گویا کچھ نہیں کھایا۔ اس نے کہا یہ لازم ہے …لازم … میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔

 

حرم کے بالکل سامنے ساری مغربی کمپنیوں کی دوکانیں ہیں، میں سوچتا ہوں، یہ کیسا تضاد ہے لوگ حرم میں عبادت کرتے ہیں اور مغربی کمپنیوں کنتاکی فرائیڈ چکن، میکڈونلڈز، برگر کنگ، پِزا ہٹ، ڈومینوز پیزا، اور سٹار بکس وغیرہ میں جو مغرب کے برانڈ ہیں اور جن میں سے بعض راست طور پر اسرائیل کو تعاون دیتی ہیں، پیٹ بھرنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔

 

یہاں چار دن قیام رہا مگر یہ ایام یاد گار رہے ۔ بھانت بھانت کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں۔ حرم پاک کی خوبی یہ ہے کہ یہاں آپ کو پوری دنیا دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ ایسی ایسی سرزمین سے لوگ یہاں آتے ہیں کہ ان کا نام بھی نہ سنا ہوگا، مڈغاسکر، موزمبیق، سورینام، تووالو، گیانا، مشرقی تیمور، بیسن، کیریبن، ری یونین وغیرہ وغیرہ۔

 

ایک دن حرم شریف کے صحن میں فجر کی نماز کے بعد، میری ملاقات ایک زائر سے ہوئی جن کا تعلق مڈغاسکر سے تھا۔ ان کا نام عبدالرحمٰن تھا، اور وہ اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ عمرہ کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں صرف چند خاندان مسلمان ہیں، اور وہ برسوں سے اس سفر کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔ اُن کی والدہ نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں مجھے دعا دی، ’’اللہ تمہیں جنت نصیب کرے۔‘‘ ان کی عقیدت اور قربانی نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ماں بیٹے کی خوشی دیدنی تھی، اور بیٹے کی خدمت قابل رشک۔ میں وہاں بیٹھا بیٹھا سوچ رہا تھا، کاش ! میں بھی اماں کے لیے ایسا کچھ کر سکتا۔ سوچیں تو سہی ،ایک تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حکم دے دیا کہ بوڑھے والدین پر اف تک نہ کرو ، اوپر سے اس کے رسول ﷺ نے ماں کے پیروں کے نیچے جنت بتادی ، پھر کسی کو والدین میں سے دونوں ، یا ان میں سے کسی ایک کو حج یا عمرہ کروانے کی سعادت نصیب ہوجائے ایسا خوش نصیب قابل رشک ہے یا نہیں!۔

 

یہاں دنیا کےکونے کونے سے آئے ہوئے لوگ اپنے ملک کا نشان لگائے انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔ واقعی یہ منظر قابل دید تھا، جہاں سارے بھید بھاؤ، عربی عجمی کا تصور ختم کرکے لوگ ایک خدا کے حضور لبیک اللہم لبیک، لا شریک لک لبیک کا ورد کر رہے تھے۔ لیکن یہ ہماری بدنصیبی ہی ہے کہ رسول کریمﷺ کے آخری خطبہ کہ: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَىٰ أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَىٰ عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَىٰ أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَىٰ أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَىٰ “[مسند احمد- 23489] ترجمہ: (اے لوگو! سن لو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدمؑ) بھی ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔) کی مثال ہم حرم یا اپنے اپنے ممالک کی مساجد میں تو الحمد للہ پیش کر دیتے ہیں مگر انسانی مساوات کے سب سے پہلے عالمی منشور کو اپنی روز مرہ کی زندگی سے بہت دور رکھتے ہیں۔

 

حرم شریف کافی وسیع ہے۔ کہتے ہیں سولہ لاکھ افراد بیک وقت اس میں سما سکتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑی جگہ کا انتظام و انصرام کیسے کیاجاتا ہے کہ کہیں سے کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی اور ہر چیز معمول کے مطابق روزانہ چلتی رہتی ہے۔ بغیر تھکے، تازہ دم۔ صفائی کرنے والا عملہ، سیکوریٹی، پوچھ تاچھ کے لیے افراد، معمار، مزدور سب مستعدی سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں، چوبیس گھنٹے کام چلتا رہتا ہے جیسے اس شہر کو نیند نہ آتی ہو اور نہ ہی اس پر اندھیرا چھاتا ہے۔

 

پورے حرم اور آس پاس کا علاقہ رات بھر جگ مگ کرتا رہتا ہے۔ ہر جگہ لوگ دعاؤں اور عبادت میں غرق نظر آتے ہیں۔ کچھ تصویر کشی میں بھی مصروف ہوتے ہیں تو کچھ بات چیت کرتے اور دنیا داری میں بھی مست دکھائی دیتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ طواف کرتے وقت بھی باتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور کچھ تو اس حد تک زیادتی کرتے ہیں کہ اسی حالت میں اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو لائیو دکھاتے ہیں اور دعا کا یہ قیمتی وقت ضائع کرڈالتے ہیں۔ ان کے بارے میں خیال آتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو اللہ کے حضور حاضر ہوکر بھی فضول کاموں میں کھوئے ہوئے ہیں۔

 

مجھے میرے دوست عمر فاروق کی بات یاد آتی ہے ’’علم اللہ بھائی! وہاں شیطان بہت بہکاتا ہے، خود کو بچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دنیا جہاں کی حسین ترین دوشیزائیں ہوں گی، نظریں نیچی کر لیجیے گا۔‘‘ اور میری آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ مجھے اللہ کے رسول ﷺ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ میلہ دیکھنے جا رہے تھے اور انھیں رستے میں نیند آ جاتی ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

 

مجھے میرے ابو کی بات بھی یاد آتی ہے کہ وہاں جاکر عبادات اور دعاؤں میں خود کو لگانا، تصویرکشی وغیرہ نہ کرنا۔ میں کوئی فوٹو نہیں کھینچتا مگر سوچتا ہوں یہ اتنی بری چیز بھی تو نہیں ہے۔ یہ بھی تو دین کو پھیلانے کا ایک ذریعے ہے۔ یہاں ہر طرف بسی روحانیت، اسلامی روایات اور دنیا بھر کی اسلامی ثقافت کو اگر قید کرلیا جائے اور عام کیاجائے تو یہ بھی کسی کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن میں ان تمام خیالات کو جھٹک دیتا ہوں اور ایک مرتبہ پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔

 

یہاں آنے سے قبل بھیونڈی سے تعلق رکھنے والے لندن میں غالباً پچاس سال سے مقیم معروف عالم دین مفتی برکت اللہ صاحب کی بھی نصیحت یاد آئی کہ وہاں جاکر آخرت کی کامیابی کی بھی دعا مانگیے گا۔ عام طور پر ہم دنیا میں اس قدر کھوئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ ہمارے ذہن و دماغ پر اس قدر حاوی ہوتی ہے کہ ہم اس فانی جہان میں ہی اپنی کامیابی اور سرخ روئی کےلیے دعا کرتے ہیں اور آخرت کو فراموش کردیتے ہیں یا اخیر میں چند جملے جنت کی دعا کرکے نمٹا دیتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ تو بخشے بخشائے تھے لیکن وہ بھی آخرت کے بارے میں دعا کرتے وقت لرز جاتے تھے اور پھر میں اپنی دعا ’’وقنا عذاب النار‘‘ سے ہی شروع کرتا ہوں۔

 

مکہ میں کئی چاہنے والے لوگ ملے خاص طو پر ابو بکر ملین اور عامر مجیبی جیسے احباب کی رفاقت بڑی یاد گار رہی، لیکن میرے پاس وقت ہی اتنا کم تھا کہ ان کے سا تھ کہیں بھی گھومنے پھرنے نہ جاسکا۔ ایک دن ہمارے فیس بک کے دوست ارشد ہمدم والا ہوٹل پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ ملاقات بڑی بابرکت رہی۔ انہوں نے دوبارہ عمرہ کے لیے ہمت دلائی ۔ہم نے فورا احرام باندھا اور ٹیکسی لے کر مسجد عائشہ پہنچ گئے۔ دو رکعت نماز پڑھی اور پھر طواف کعبہ کے لیے روانہ ہوگئے۔

 

مکہ کی روداد لکھتے ہوئے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ یہ میرے سفر کے ان لمحوں میں سے ہے جو نہ صرف یاد رہ جاتے ہیں بلکہ کئی مرتبہ لبوں پر مسکراہٹ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ایک دن، طواف سے ذرا قبل، ہندوستان سے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ خوشی خوشی گلے ملے، سلام دعا کے بعد رازدارانہ لہجے میں بولے: ’’اگر آپ میرے ساتھ چلیں تو پورے ساتوں چکر بیس منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جائیں گے!‘‘

 

میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ دل ہی دل میں سوچا، بھئی سات چکر تو سات ہی ہوتے ہیں، ان کی تعداد تو گھٹا نہیں سکتے۔ لیکن یہ کس جادوئی نسخے کی بات کر رہے ہیں؟ وہ بڑے فخر سے کہنے لگے: ’’عام طور پر سات چکر میں پینتالیس منٹ لگتے ہیں، مگر اگر آپ مجھے فالو کریں تو بہت کم وقت میں ساتوں چکر مکمل ہو جائیں گے۔‘‘

 

اب میرا کوئی حساب کتاب نہیں تھا۔ میں عبادت کو نہ گھڑی کی سوئیوں سے ناپتا ہوں اور نہ ریاضی کے اصولوں میں تولتا ہوں۔ مگر ان کی پیشکش سن کر دل میں ہلکی سی ہنسی بھی آئی اور تجسس بھی جاگا۔ وہ آگے بڑھے اور طواف شروع کیا۔ عجب منظر تھا! کبھی دائیں سے نکلتے، کبھی بائیں مڑتے، کبھی سیدھے، کبھی کونے سے کٹ لگا کر آگے۔ یوں لگتا تھا جیسے کعبہ کا طواف نہیں کر رہے ہیں بلکہ کسی پیچیدہ بھول بھلیوں میں چل رہے ہوں۔

 

وہ بار بار مڑ کر اشارہ کرتے: ’’ارے بھائی! آئیے، پیچھے رہ جائیں گے تو وقت بڑھ جائے گا!‘‘ میں نے دل ہی دل میں کہا: ’’بھائی، یہ عبادت ہے، دوڑ کا مقابلہ نہیں۔‘‘ جب ساتوں چکر مکمل ہوئے تو وہ فخر سے بولے: ’’دیکھا؟ پچیس عمرے کر چکا ہوں، اور برسوں سے یہی شارٹ کٹ اپناتا ہوں!‘‘

 

میں بس مسکرا کر رہ گیا۔ ان سے کہا، ’’آپ بڑھیے، بعد میں ملتا ہوں۔‘‘ لیکن ایک طرف ہنسی بھی آ رہی تھی اور دوسری طرف افسوس بھی ہو رہا تھا کہ کچھ لوگ عبادت میں بھی گھڑی اور فارمولے لے کر آتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں عبادت کا حسن تب ہی ہے جب اسے وقت کی قید سے آزاد، دل کی پوری توجہ اور سکون کے ساتھ کیا جائے۔

 

ایک اور واقعہ سنیے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیرُ ماءٍ علی وجہِ الأرضِ ماءُ زمزمَ، فیهِ طعامٌ من الطُّعْمِ، وشفاءٌ من السُّقْمِ“ [صحیح الجامع] ترجمہ: (زمین پر سب سے بہترین پانی زمزم ہے، اس میں کھانے کی تاثیر بھی ہے اور شفا بھی۔) یہاں حرمِ پاک کے آس پاس ہر جگہ زمزم کا پانی آسانی سے دستیاب ہے، اس کے باوجود میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت سے مسلمان کولڈ ڈرنکس لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ کوئی چپس کھا رہا ہے، کوئی برگر میں مصروف ہے اور ساتھ میں پی رہا ہے کوکا کولا، پیپسی، سیون اپ، مرنڈا یا فینٹا۔ میں سوچتا ہوں: یہ کیسے لوگ ہیں؟ ایک تو صہیونی یا صہیونی نواز اشیا اور تجارت کی دنیا بھر میں بھرپور مخالفت کے باوجود ان تینوں مشروبات کی مکہ میں دستیابی یوں ہی قابل افسوس ہے، اس پر مستزاد عمرہ کے لیے آئے ہوئے مومنین کے ہاتھوں میں اسے دیکھ کر مزید تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے، شفا والا پانی، نبیﷺ کا پسندیدہ پانی… اور ہم اسے چھوڑ کر اپنے جسم میں مصنوعی ذائقے، چینی اور زہریلے کیمیکلز بھر رہے ہیں اور وہ بھی غزہ میں اپنے معصوم دینی بھائیوں کے ظالموں کی تجارت کو فائدہ پہنچا کر!

 

٭٭٭

 

ہمیں دوسرے دن مدینہ منورہ کے لیے نکلنا تھا اور میں بری طرح تھکا ہوا تھا۔ لیکن خدا جانے کہاں سے اتنی انرجی آگئی تھی کہ رات بھر نہ سونے کے باوجود کسی قسم کی کوئی تکان محسوس نہیں ہو رہی تھی اور پورے ارکان بحسن و خوبی انجام پائے۔ یہ رات حرم ِ پاک میں ہی گذری۔ میں فجر کے بعد ہوٹل آیا، ڈٹ کر ناشتہ کیا ہوٹل والے نے اس کے لیے پچیس درہم الگ سے لیے تھے سو پیٹ بھر کے کھانا بنتا تھا۔ بہرحال ناشتے کے بعد اطمینان کی نیند سویا۔ جب آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت ہو رہا تھا۔ حرم شریف کے لیے گاڑی کھڑی تھی۔ نہا دھوکر نیچے اترا اور بیت اللہ کے لیے پھر روانہ ہو گیا۔ فرض و سنت سے فارغ ہو کر دو رکعت الوداعی نفل پڑھی اور نم آنکھوں کے ساتھ مکہ سے رخصت ہوا۔

 

ہم یہاں سے مدینہ کے لیے بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے سعودی ہائی اسپیڈ ٹرین (حرمین ایکسپریس) کا انتخاب کیا۔ ٹرین 3:00 بجے مکہ اسٹیشن سے روانہ ہوئی اور تقریباً 3 گھنٹے 20 منٹ بعد، شام 5:20 بجے مدینہ پہنچی۔ ٹکٹ ہم نے آن لائن بک کیا تھا، فی کس کرایہ 172 سعودی ریال آیا (اکانومی کلاس)۔یہاں کا ٹرین سسٹم بڑا ہی پیارا ہے۔ ہمارے یہاں ہندستان کی طرح گندگی اور شوروغل کا تصور تک نہیں، ایک پرسکون اور پرامن ماحول، ہرجگہ سلیقہ مندی اور صاف صفائی واضح دکھائی دیتی ہے، اور دل عش عش کرتا ہے کہ واقعی ان لوگوں نے ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کی مثال قائم کر رکھی ہے۔ یہاں بیٹھے بیٹھے اپنے یہاں کی بدبو، تعفن اور بے ترتیبی کا سوچ کر بدن میں جھرجھری طاری ہوجاتی ہے۔

 

مدینہ واقعی بڑا پرسکون شہر ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر جگہ نور برس رہا ہو۔ مدینہ جانے سے قبل مکہ کی حالت دیکھ کر بڑا مایوس تھا کہ کہیں بھی قدیم آثار مکے میں باقی نہیں چھوڑے گئے جنہیں دیکھ کر انسان رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی زندگیوں کا تصور کرنے کی کوشش کرسکے۔ تمام جدید عمارتیں، بادشاہت کی گواہی دیتی ہیں۔ مگر میرے دوست عباس کا کہنا تھا کہ مدینہ جاکر تمہیں کوئی شکایت نہیں رہے گی۔ مکہ سے مدینہ تقریباً450 کلو میٹر کی دوری پر ہے اورٹرین تقریباً تین سو کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ راستے میں صحرا، پہاڑ، باغات کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔

 

حرمین ایکسپریس میں آرام دہ سیٹیں، ارد گرد خاموشی اور فقط رفتار کی ہلکی سی سرگوشی سنائی دیتی ہے ۔ میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور میرا دل ایک دوسرے زمانے میں اتر جاتا ہے ۔ وقت کی گرد ہٹتی ہے اور میں خود کو ایک عظیم اور مقدس قافلے کے عقب میں محسوس کرتا ہوں ، ’’ہجرت نبویﷺ۔‘‘

 

مکہ، وہی مکہ جہاں نبی کریمﷺ کی پیدائش ہوئی، جہاں وحی نازل ہوئی، جہاں سے اسلام کی کرنیں پھوٹیں، مگر وہی مکہ جہاں ظلم وستم حد سے بڑھ گیا، صحابہ کرامؓ کو مارا پیٹا گیا، اذیتیں دی گئیں اور کفار قریش نبی کریم ﷺ کی جان کے درپے ہوگئے۔ جب قریش نے دارالندوہ میں ان کے قتل کی سازش کی تو وحی نازل ہوئی، تب نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنی جگہ سلا کر دشمنوں کی سازش کو ناکام کر دیا اور رات کی تاریکی میں ہی حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ ان کے پاس نہ کوئی فوج ، نہ ساز وسامان۔ صرف اللہ پر بھروسہ تھا۔ حضرت ابوبکرؓ بار بار پیچھے اور آگے دیکھتے تھے، کسی نے وجہ پوچھی ؟ فرمایا: ’’میں صرف ایک دوست کے ساتھ نہیں ہوں بلکہ میں تو اللہ کے نبی کے ساتھ ہوں، دشمن صرف مجھے نہیں دیکھ رہا، اس ہستی کو بھی دیکھ رہا جس پر ساری دنیا کا دارومدار ہے۔‘‘

 

آنکھیں بند ہیں ، مگر دیکھ رہا ہوں، پہلا پڑاؤ غار ثور ہے …تنگ، پرانا، سنگلاخ پہاڑوں کا ایک کونا، یہاں تین دن قیام رہا، حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے عبداللہؓ رات کی خبریں لاتے ہیں ، بیٹی اسماء ؓکھانا پہنچاتی ہیں اور غلام عامر بن فہیرہ ؓبکریاں چرارہے ہیں کہ قدموں کے نشانات مٹ جائیں۔ دل دھک دھک کر رہا ہے، دشمن اتنے قریب آگئے کہ حضرت ابوبکرؓ نے آہستہ سے کہا ’’یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی نیچے جھانک لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔‘‘

 

نبی کریمﷺ نے مسکرا کر فرمایا: ’’اے ابو بکر ہم دو ہیں اور تیسرا اللہ ہے۔‘‘ تین دن گذر گئے نبی کریمﷺ اور حضرت ابوبکر نے سفر جاری رکھا۔ گائیڈ تھے عبداللہ بن اریقط اللیثی جو گرچہ مسلمان نہ تھے مگر راستوں سے خوب واقف تھے۔ وہ راستہ عام قافلوں والا نہ تھا، بلکہ پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان ایک غیر معروف راستہ تھا۔

 

گرمی کی شدت، ننگے پاؤں، دھوپ میں جھلستی زمین اور کبھی کبھی سخت چٹانیں۔ سفر آسان نہیں ، کبھی نبی کریم ﷺ پیدل چلتے ہیں ، کبھی حضرت ابو بکرصدیقؓ اونٹ سے اترتے اور نبیﷺ کو سوار کرتے ہیں ۔ محبت اور ادب کا یہ عالم کہ حضرت ابوبکر ؓبار بار راستہ بدل کر نبی کے آگے پیچھے دائیں بائیں چلتے ہیں تاکہ اگر دشمن کا کوئی وار آئے تو پہلے ان پر پڑے۔

 

عباس نے ٹہوکا دیا (اور مجھے تصورات کی دنیا سے واپس لے آیا)، ’’محمد یہ دیکھو مسجد قباء‘‘ اور میں آن کی آن میں دوبارہ تصورات کی دنیا میں ہزاروں سال پیچھے چلا گیا، میں سیرت رسول ﷺ کے اس دور کے تصور میں ڈوب گیا جب ، مدینے کے مضافات میں اس مقام پر رسول کریم ﷺ کا پہلا پڑاؤ ہوا تھا، جہاں آپﷺ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی تھی ۔ یہ آج بھی موجود ہے… پوری آن بان اور شان کے ساتھ ۔

 

میں عالم تصور میں دیکھتا ہوں کہ آقا کریمﷺ مدینہ میں داخل ہو رہے ہیں اور لوگ چھتوں پر چڑھ کر کہہ رہے ہیں ’’جاء النبی! جاء الرسول (نبی آگئے، اللہ کے رسول آگئے) فضا نعرۂ تکبیر سے گونج اُٹھی ہے اور ننھی بچیاں خوشی سے ترانے پڑھ رہی ہیں ’’طلع البدر علینا *من ثنیات الوداع۔‘‘

 

انصار نے اپنے گھروں کے دروازے کھولے دیے ہیں لیکن نبی کریمﷺ فرماتے ہیں ’’میری اونٹنی کو چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے جہاں رکے گی میرا قیام وہیں ہوگا۔ اور اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے دروازے پر رک جاتی ہے اور نبی کریمﷺ وہیں قیام فرماتے ہیں ۔

 

ٹرین اب مدینے کے اسٹیشن پر سست ہورہی ہے ، اسکرین پر ’’مدینہ پہنچ گئے۔‘‘: نمودار ہوگیا۔ ، لیکن میری روح اس سفر سے لوٹنے کو تیار نہیں، حالانکہ آنکھیں دیار نبیﷺ اور ان کے قدموں کے نشانات کو دیکھنے کے لیے بے قرار ہیں۔

 

میں دیار نبیﷺ میں چپل پہن کر نہیں چلنا چاہتا تھا کہ مبادا کہیں نبیﷺ کے مبارک قدم پڑے ہوں، مگر مجھے ڈاکٹر خورشید منگرو (گذشتہ تیس سال سے برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر ، جن کا تعلق سندھ سے ہے اور انتہائی شفیق اور ملنسار شخصیت ہیں )کی بات یاد آتی ہے کہ ’’آپ کی خواہش اچھی ہے مگر یہ حماقت نہ کیجیے گا، اب آب و ہوا سب کچھ بدل چکا ہے، کچھ چبھ گیا یا انفیکشن ہوگیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔‘‘ وادی یثرب میں قدم ٹھٹھک جاتے ہیں اور میں دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہوں، دل سے دعا نکلتی ہے، یا اللہ! اس دور کے مسلمانوں کی ہجرت کے جذبے کا ایک ذرہ عطا کردے …اور ان کےیقین، ان کی استقامت اور ان کے ادب کا کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرما۔

 

جیسے ہی ہم اسٹیشن سے باہر نکلے، ایک عجیب سا سکون دل و جاں پر طاری ہو گیا ۔ شہر کے در و دیوار سے ایک روحانی خاموشی جھانک رہی تھی۔ باہر نکلتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے حرمِ نبوی کی طرف پکارنے والی صدائیں ہمیں اپنی طرف بلا رہی ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے یہاں ریلوے اسٹیشنوں پر شور و غل ہوتا ہے، یہاں بھی ڈرائیور حضرات اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بلاتے دکھائی دیے، لیکن چیختے چلاتے ، شور کرتے نہیں، دھیمی آواز میں۔ ہم نے پہلے ہی اپنی سواری بک کروالی تھی، چنانچہ ہم سیدھے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے۔

 

مدینہ میں گرمی بے حد شدید تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان آگ برسا رہا ہو۔ مگر گاڑی میں بیٹھتے ہی ایک سکون کا جھونکا سا آیا۔ میں خاموشی سے بیٹھا، باہر جھانکتے ہوئے سوچنے لگا کہ جب سرورِ کائناتﷺ یہاں تشریف لائے ہوں گے تو اُس وقت کی سختیاں کیسی ہوں گی؟ آج تو ہمیں جدید سہولیات حاصل ہیں، مگر اُس وقت نہ کوئی ائرکنڈیشنڈ گاڑی تھی، نہ ٹھنڈا پانی۔ ہمیں شاید اندازہ بھی نہیں کہ اللہ کے رسولﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ نے ہمارے لیے کیسی کیسی قربانیاں دیں۔

 

مدینہ میں ہمارا قیام مدینہ ڈیلکس ہوٹل میں تھا، جو مسجدِ نبوی کے گیٹ نمبر 326 سے صرف پانچ منٹ کے پیدل فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں ہمیں دو بیڈ کا کمرہ 230 سعودی ریال فی رات کے حساب سے ملا، جس میں روزانہ ہاؤس کیپنگ، ایئر کنڈیشننگ اور مفت وائی فائی جیسی سہولیات شامل تھیں۔ سامان رکھا، خود کو تازہ دم کیا اور پھر دل میں شوق کی ایک لہر لیے مسجدِ نبوی کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب نگاہ پہلی بار مسجدِ نبوی پر پڑی، تو دل کی دھڑکنیں تھم سی گئیں۔ قدم جیسے شل ہو گئے۔ ایسا محسوس ہوا گویا وقت تھم سا گیا ہو۔ دل ایک عجیب جذباتی کیفیت میں ڈوب گیا۔ زبان سے الفاظ نکلنے بند ہو گئے، اور آنکھوں سے زاروقطار آنسو رواں ہو گئے۔ مسجد کی خوب صورتی، اُس کی پاکیزگی، ہر شے گوشہ دل کو کھینچ رہی تھی۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ، ایک ہی رب کے حضور سجدہ ریز۔ یہ منظر ہی کچھ اور تھا۔ میں گناہ گار سوچ رہا تھا، اگر حضور ﷺ اکرم نے کچھ پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا۔ کئی مرتبہ خیال آتا تھا پیچھے پلٹ جاؤں ۔ ڈرتے ڈرتے، ہمت کرکے قدم آگے بڑھایا۔

 

ہم عشا کی نماز تک حرم نبوی میں ہی رہے۔ دل کو ایسا سکون اور تسلی حاصل ہوا کہ بیان کرنا مشکل ہے ۔ تھکن بہت زیادہ تھی،اس لیے زیادہ دیر یہاں رکے نہیں ، قیام گاہ واپس آ گئے ۔ تھوڑی دیر آرام کیا، غسل سے فارغ ہو کر فجر کی اذان سے پہلے ہی دوبارہ مسجدِ نبوی کی طرف روانہ ہو گئے۔ فجر کی نماز کے بعد دیر تک تلاوت کی، دل کھول کر روئے، اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ دن میں قریب تین بجے ہماری ریاض الجنۃ کی بُکنگ تھی۔ جیسے ہی اُس مقدس مقام پر قدم رکھے، تو یوں لگا جیسے ہم اس دنیا سے کہیں آگے، کسی نورانی وادی میں آ گئے ہوں۔’جنت کا ٹکڑا‘میں نے وہاں دل سے مانگا، آنکھوں سے مانگا، ہر کیفیت میں اللہ سے قرب مانگا۔ میرے الفاظ، میری سوچ، سب وہیں کے ہو کر رہ گئے ۔

 

ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر دو نفل ادا کیے، یہاں سچ مچ یوں لگا جیسے واقعی میں جنت کے کسی باغ میں ہوں۔ روضۂ رسولﷺ کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کیا، تو دل کانپ رہا تھا۔ پھر بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں حضورﷺ کو نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور کہا :

 

یا رسول اللہ ﷺ

 

ہندوستان کی دھرتی سے

 

ایک بد نصیب، گناہوں میں ڈوبا،

 

آپ ﷺ کے در پر حاضر ہوا ہے

 

ہاتھ خالی ہیں، دامن بھی خالی ہے

 

بس ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کا سلام

 

اور ان کی محبتوں کا نذرانہ

 

اپنے ناتواں کندھوں پر رکھ کر

 

آپ کے در پر لایا ہوں

 

یا رسول اللہ ﷺ…

 

ہم سب کی طرف سے

 

السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ!

 

السلام علیک یا حبیب اللہ!

 

السلام علیک یا نبی اللہ!

 

مجھے محسوس ہوا میرے پاگل پن پر نبی کریم مسکرا دیے۔ نظر اٹھا کر دیکھا، یہیں اس باغِ جناں کے پہلوئے نبیﷺ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی قبریں بھی ہیں۔ یعنی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین ہستی اور ازل سے ابد تک دنیا کی عظیم ترین شخصیت اور اس کے ایسے دو جاں نثار دوست جو تاریخ انسانیت میں وفاداری کی اپنی مثال آپ ہیں، آرام فرما ہیں۔

 

ابو نے کہا تھا: ”جو ایک بار جنت میں داخل ہو جائے، اُسے نکالا نہیں جاتا۔“ تو بس وہی خیال دل میں بسا رہا۔ یہاں سب سے خوب صورت، سب سے مبارک بات یہ رہی کہ اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے ہمیں ریاض الجنہ میں طویل وقت گزارنے کا موقع ملا۔ الحمد للہ! یہ وہ مقام ہے جہاں نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔“ ۔یہاں کا سکون،یہاں کی خوشبو، یہاں کی روشنی … جیسے دل پر کوئی الٰہی اثر پڑ رہا ہو اور رب کائنات خود قریب ہو کر سن رہا ہو۔

 

عموماً یہاں سکیورٹی والے دعا کے فوراً بعد اٹھا دیتے ہیں، جیسے کلیاں چُن لی جاتی ہوں، مگرشاید ان کی نظر ہم پر نہیں پڑی۔ یہ اللہ کی رحمت تھی، وہی مہربان، وہی عطا کرنے والا۔ یہاں نماز کے بعد دعا میں ہم نے کیا کیا مانگا؟ یاد نہیں۔ دل بھرا ہوا تھا، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، ہچکی بندھی رہی … یا اللہ! سب کے لیے مانگا: اپنی ماں کے لیے، ابو کے لیے، اپنے اساتذہ، چاہنے والوں، خیر خواہوں اور تمام محبین کے لیے۔ امتِ محمدﷺ کے لیے، ایمان پر رہنے والی ہر روح کے لیے۔ یا رب! ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرما۔ یا رب! ہندوستان کے مسلمانوں پر کرم فرما۔ یوگی، مودی جیسے ظالموں کو ہدایت دے، یا انہیں اور ان جیسی ذہنیت والے تمام عناصر کو تباہ ہ برباد کردے۔

 

روضۂ مبارک سے باہر آتے ہوئے ایک منظر میرے ذہن سے چپک گیا۔ ایک بزرگ کو دیکھا غالباً وہ تھائی لینڈ سے تھے۔ وہ بارگاہِ رسولﷺ کے قریب سے گزر رہے تھے، اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ ان کا چہرہ عقیدت و محبت سے چمک رہا تھا، لیکن ساتھ ہی ایک عجیب سی بے قراری بھی جھلک رہی تھی۔ ان کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے، اور ہونٹ خاموشی سے کچھ بڑبڑا رہے تھے، جیسے وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز و نیاز کی باتیں کر رہے ہوں۔

 

میرے دل میں خیال آیا کہ یا رسول اللہ! آپؐ نے دنیا کے کونے کونے میں کیسی تاثیر چھوڑی ہے کہ آپ کے امتی ایسی سرزمینوں سے آتے ہیں، جن کا نام ہم شاید ہی کبھی سنتے ہوں۔ یہ بزرگ، جو شاید ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اس مقدس جگہ پر پہنچے تھے، اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے گویا اپنی پوری زندگی کی عقیدت پیش کر رہے تھے۔ جب وہ باہر نکلے تو ان کے قریب گیا اور پوچھا، ”بابا، آپ کہاں سے آئے ہیں؟“ انہوں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جواب دیا، ”تھائی لینڈ… بہت دور… لیکن دل یہاں ہمیشہ تھا۔“

 

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے گاؤں کے واحد مسلمان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ برسوں سے انہوں نے اس سفر کے لیے پیسے جمع کیے، اور یہ ان کا پہلا موقع تھا کہ وہ آستانہ رسول ﷺپر سلام پیش کرنے آئے۔ ان کی آواز میں لرزش تھی جب انہوں نے کہا، ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھی، ان کی محبت نے مجھے بدھ مت کے ماحول میں بھی مسلمان بنائے رکھا۔ آج یہاں آ کر لگتا ہے میری زندگی پوری ہو گئی۔“

 

میں نے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹی سی تسبیح ہاتھ میں لیے ورد میں مصروف ہیں۔ ان کے چہرے پر سکون تھا، لیکن آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا کاغذ نکالا، جس پر تھائی زبان میں کچھ دعائیں لکھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے گاؤں کے چند مسلمانوں کی دعائیں ہیں، جو اپنے اپنے ساتھ لائے ہیں تاکہ روضہ رسول پر پیش کریں۔ اللہ رب العزت کی قسم اس بزرگ کی عقیدت نے میرے اوپر جو تاثر چھوڑا میں اس کو رقم نہیں کر سکتا۔

 

یہاں سے نکل کر مسجد نبوی کے صحن میں آ بیٹھا۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ چاروں طرف سکون کی ایسی چادر تنی ہوئی ہے کہ جیسے زمین نے سانس روک لی ہو، اور آسمان جھک آیا ہو، بندوں کی آہ و زاری سننے کے لیے۔ یہاں ہر چہرے پر عبادت کا نور ہے… ہر آنکھ کسی اور ہی دنیا میں کھوئی ہوئی ہے۔ کوئی سجدے میں جھکا ہوا ہے… کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا ہے… کوئی تسبیح کے دانے گن رہا ہے… کوئی دعا میں لبوں کو جنبش دے رہا ہے… اور کوئی اپنی بندگی کے خالی دامن کو اشکوں سے بھرتا جا رہا ہے۔ ایسی روحانیت… ایسی پاکیزگی… میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو خیالوں میں وہ لمحے ابھرتے ہیں، جب اسی صحن میں نبی پاک ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان جلوہ گر ہوتے ہوں گے۔ کیا لمحہ ہوتا ہوگا … جب اللہ کے رسولﷺ حجرۂ مبارک سے نکل کر صحن میں جلوہ افروز ہوتے ہوں گے… جب صحابہ کرامؓ کے حلقے جمے ہوتے ہوں گے… کسی گوشے میں قرآن کا درس جاری ہوگا… کسی جانب حدیث کی روشنی بکھر رہی ہوگی… کوئی جنگوں کی حکمتِ عملی پر گفت و شنید کر رہا ہوگا… کوئی دعوتِ اسلام کی راہوں پر غور کر رہا ہوگا… کیا وجد آور مناظر ہوں گے وہ! کیسی خشیتِ الٰہی، کیسا ادب، کیسی انسیت، کیسا نور ہوگا ان مجالس میں اور پھر ایک دن سکون و اطمینان سے پُر اس ماحول میں وہ قیامت خیز لمحہ جب تاجدار انبیا کے جاں نثاروں پر واقعتاً قیامت گزری ہوگی… جب پورے جہان میں ہر چیز سے عزیز ان کا رہبر، دوست، غمگسار اس دنیا سے رخصت ہوگیا اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان براہ راست رابطہ منقطع ہوگیا… میں حضرت عمرؓ کے ہوش گنوا دینے کا تصور اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی انہیں اور دوسرے صحابہ کو جھنجوڑ کر رکھ دینے والی تقریر کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں… دل بے اختیار ہو جاتا ہے… جذبات کی ایک لہر دل سے اٹھتی ہے جو لفظوں میں سمٹ نہیں پا رہی۔

 

اس اندوہ ناک واقعے نے مجھے اس مقدس جگہ کا وہ دور بھی یاد دلا دیا … جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں یہ مسلمانوں کی پارلیمنٹ اور عالمی سیاست کے مرکز کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی … یہیں تو رسول خداﷺ نے دنیا سے آئے ہوئے وفود سے ملاقاتیں کی تھیں اور انہیں دعوت حق دی تھی… اسی مقام پر تو ساٹھ افراد پر مشتمل نجران سے آئے ہوئے عیسائیوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو خوش آمدید کہا تھا … اور اسلام سے متعلق ان کے سوالوں کے جواب دیے تھے اور جب ان کی عبادت کا وقت ہوا تو ان کو مسجد نبوی میں ہی عبادت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہی تو وہ مقام ہے جہاں سے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں ایک فوجی دستہ روم کی سرحد کی طرف بھیجتے ہوئے حکم دیا تھا کہ: عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا (2) عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو نہ چھیڑنا (3)درختوں کو نہ کاٹنا اور نہ ہی پھل دار درختوں کو نقصان پہنچانا (4) جانوروں کو بغیر ضرورت نہ مارنا (5) فصلوں کو تباہ نہ کرنا اور (6) بستیوں کو آگ نہ لگانا۔

 

میں سوچ رہا ہوں کہ آج بھی جب دنیا جنگ و جدل میں گھری ہوئی ہے، اِن اصولوں کی کتنی ضرورت ہے۔ وہ ہدایات، جو صدیوں پہلے دی گئیں، آج بھی اگر دھیان میں رکھی جائیں تو شاید بہت کچھ بدل جائے۔ عورتوں، بچوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کا جو حکم تھا، وہ آج بھی انسانیت کی پہچان ہے۔ درختوں اور فصلوں کا خیال رکھنے کی تاکید، جانوروں کو بلاوجہ نقصان نہ پہنچانے کا پیغام، یہ سب باتیں آج بھی کہیں زیادہ معنویت رکھتی ہیں جب فطرت اور زندگی خود خطرے میں ہے۔ میں حیران ہوں کہ کیسے اتنی روشن ہدایات کے باوجود، انسان آج بھی تباہی کے راستے پر چل رہا ہے۔

 

سوچتا ہوں کہ چاروں طرف جدید عمارات ہیں، جگمگاتی روشنیاں ہیں، دنیا کے ہر کونے سے آئے ہوئے لاکھوں چہرے ہیں اور اس کے باوجود… اس سب کے باوجود… دل میں جو سکون ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ یہی مسجد، یہی صحن، یہی منبر و محراب… لیکن تصور کریں! … اُس وقت کا جب نہ یہ روشنیاں تھیں، نہ بلند و بالا عمارات… صرف نبیِ رحمتﷺ کی سادہ زندگی تھی، لباس، خوشبو میں بسی باتیں، اور صداقت کا وہ نور جوقلوب کو منور کرتا تھا۔ کیسے خوش نصیب تھے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے نبیﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپﷺ کی زبان سے قرآن کو سنا، ان کے دل سے محبت کا سچا مفہوم پایا۔ میری نظریں جب مسجد کی وسعتوں پر دوڑتی ہیں تو حیرت کا عالم طاری ہو جاتا ہے… یہ کیسا انتظام ہے؟ لاکھوں لوگوں کی موجودگی کے باوجود کوئی شور نہیں، کوئی افراتفری نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جنت کا کوئی حصہ زمین پر اتر آیا ہو۔ ہر گوشہ، ہر زاویہ نور سے لبریز ہے۔

 

یہاں ہوا کے جھونکے جیسے رحمت کا پیغام لاتے ہیں۔ گرمی کا موسم ہے، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے فرشتوں نے اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہو۔ دل کا ہر دکھ، ہر بوجھ، ہر اداسی جیسے دھل گئی ہو۔ یہاں آ کر سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ دنیا کے غم، اپنی خواہشیں، الجھنیں… سب مٹ جاتے ہیں۔ صرف ایک احساس باقی رہتا ہے… قربِ مصطفیٰﷺ کا احساس… جی چاہتا ہے بس یہیں بیٹھا رہوں۔ اسی کی مٹی میں گم ہو جاؤں، اسی ہوا میں تحلیل ہو جاؤں۔ یہ لمحہ ٹھہر سا جائے…بس ایک ہی دعا لبوں پر رہتی ہے: یا اللہ! اس سکون کو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں بسا دے۔

 

ایک دن ہمیں اُن تمام تاریخی مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، جن سے رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کی یادیں جُڑی ہوئی ہیں۔ اس میں خاص طور پر دو دوستوں محمد وسیم بکر قاسمی اور محمد سلام قاسمی صاحبان کا بڑا اہم کردار رہا کہ انھوں نے اپنی مصروفیات کے باجود میرے لیے وقت نکالا اور چپے چپے کی سیر کرائی۔

 

سب سے پہلے ہم اُحد کی پہاڑی کی طرف گئے اور وہ مقام دیکھا جہاں رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے عظیم قربانیاں دیں۔ اس مقام پر تھوڑی سے لاپروائی کے نتیجے میں مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدلنے، آپﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ سمیت کئی بڑے صحابہ کی شہادت اور رسول کریمﷺ کے دندان مبارک شہید ہونے کے مناظر نظروں میں گھوم گئے۔ کتنا بڑا سبق اس جنگ میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا مگر افسوس کہ آج ہم تاریخ کے تمام اہم اسباق بھول چکے اور خود غرضی، نفاق اور مادہ پرستی کے باعث اپنی بے بسی اور دنیا میں شرم ناک ذلت کا سامنا کررہے ہیں۔ ہم اُس چشمے پر بھی پہنچے جس کا پانی رسول اللہﷺ کو محبوب تھا، اور اُسی سے آپ کی میت مبارک کو غسل بھی دیا گیا تھا۔

 

ہم نے مسجد قبا کی زیارت کی، یہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ پھر ہم مسجد قبلتین گئے، جہاں قبلہ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منتقل ہوا تھا۔ ہر مسجد، ہر دیوار، ہر درخت، ہر سایہ…۔ سب کچھ گویا ہمیں ماضی میں لے جا رہا تھا۔ مسجد نبوی میں واپس آکر اس سے متصل جنت البقیع کی طرف گئے۔ دیوار کے اُس پار خاموشی تھی، مگر دل پر ہنگامہ برپا تھا۔ یہاں امہات المومنین، اہلِ بیتؓ، صحابہؓ، اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔ دل نے بےاختیار کہا: اے زمینِ بقیع! تُو کتنی خوش نصیب ہے۔

 

پھر خندق کے مقام پر گئے جہاں ایک خاص روحانی کیفیت دل پر چھا گئی۔ میں ان مناظر کا تصور کرنے لگا جب حضرت سلمان فارسیؓ نے آپﷺ اور صحابہ کے سامنے خندق کی تجویز رکھی ہوگی۔ خندق کا اب محض کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے مگر اصل خندق کا جو رقبہ بتایا جاتا ہے اس کا تصور کرکے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ناقابل تصور عزم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس تاریخی جنگ میں دس ہزار کفار کے مقابلے میں مسلمان مجاہدین کی کل تعداد محض تین ہزار تھی۔ دشمن قریب تھا مگر سخت دباؤ، بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والی جسمانی کمزوری اور سردی کے باوجود چند دنوں میں اس خشک مٹی میں اتنی بڑی خندق کھودنا مسلمانوں کے اتحاد، عزم اور ایثار کا منہ بولتا ثبوت اور تاریخ کے حیرت ناک کارناموں میں سے ایک ہے۔

 

بھلا جنگ بدر میں بہترین ہتھیاروں اور وقت کے تمام عسکری سازو سامان سے لیس ایک ہزار کفار کے مقابلے میں جنگ کا رخ بدلنے والے ناقص ہتھیاروں والے تین سو تیرہ جاں بازوں کے لیے یہ خندق کھودنا کون سا بڑا کام تھا۔ درود و سلام ہو اس نبی پاک ﷺ پر جس کی بے پنا ہ قربانیوں کے باعث آج ہم دین حق کے ماننے والوں میں شامل ہیں ۔سلام ہو اس کے جاں نثار صحابہ پر جنہوں نے نبی رحمت ﷺ کا پیغام دنیا بھر میں پھیلا نے کے لئے قربانیوں کی حیران کن مثالیں رقم کردیں۔ ۔ یا اللہ ہمیں بھی ان ہستیوں کی سنت کی اتباع اور اپنے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ دین حق پر ہی ہمارا اور ہماری نسلوں کا خاتمہ کرنا اور قیامت کے دن دین حق کے پیروکاروں میں ہمارا شمار کرنا۔

 

یہاں موجود مساجدِ سبعہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ سات چھوٹی چھوٹی مگر روحانی فضا میں ڈوبی ہوئی مسجدیں، جن کے وجود سے آج بھی تاریخ بولتی ہے۔ ان میں مسجد الفتح، مسجد علیؓ، مسجد ابو بکرؓ، مسجد عمرؓ، مسجد فاطمہؓ، مسجد سہل بن حنیفؓ اور مسجد خندق شامل ہیں۔ ہر مسجد ایک صحابی کے قیام یا عمل سے منسوب ہے، اور ان کی چھتوں، دیواروں، محرابوں سے جیسے اذانوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان مساجد کے آس پاس وہ مقام بھی دکھایا گیا جہاں خندق کھودی گئی تھی، اور آج بھی کچھ آثار باقی ہیں جو ایمان کو تازہ کر دیتے ہیں۔

 

ایک دن جبل اُحد کی زیارت کے لیے نکلا۔ سامنے شہدا کا قبرستان تھا، جن میں سب سے عظیم شہید، حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب آرام فرما ہیں۔ اُحد کی پہاڑیاں دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں، جبل رمات پر کھڑے ہو کر غزوہ اُحد کے واقعات دل میں تازہ ہو گئے۔

 

مدینہ کی ہر گلی، ہر اینٹ، ہر دیوار ایک کہانی سناتی ہے، ایسی کہانیاں جو صرف تاریخ نہیں، بلکہ ایمان، عشق اور وفا کی روشن مثالیں ہیں۔ اسی تلاش میں، میں بئر رؤمہ کی زیارت کے لیے گیا، وہ کنواں جو حضرت عثمان غنیؓ نے ایک بخیل یہودی سے ذاتی مال ادا کرکے خریدا اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ یہ کنواں آج بھی موجود ہے اور عثمانؓ کی سخاوت کی گواہی دے رہا ہے۔ پھر میں بئر بضاعہ پہنچا، وہی کنواں جس کا پانی نبی کریم ﷺ وضو کے لیے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ اس مقام پر کھڑے ہو کر محسوس ہوا جیسے نبی پاکﷺ کا لمس اب بھی پانی میں موجود ہو۔

 

اس کے بعد ہم نے جبل سلع کا رخ کیا، وہ پہاڑی جس کے دامن میں غزوہ خندق کے دوران نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔ یہاں آ کر لگتا ہے جیسے پہاڑ بھی نبیﷺ کی رفاقت کی داستان سناتے ہوں۔ پھر میں وادی العقیق گیا، وہی وادی جس سے نبی کریمﷺ کو خاص محبت تھی۔ اس کی فضا میں ایک عجیب سی لطافت اور روحانیت محسوس ہوتی ہے، جیسے یہ زمین اب بھی نبیﷺ کی قدموں کے لمس کو سنبھالے بیٹھی ہے۔

 

بعد ازاں ہم نے مدینہ کے چند اہم عجائب گھروں کی زیارت کی، جو تاریخ کے انمول خزانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ دار المدینہ میوزیم میں داخل ہوا تو نبیﷺ کی ہجرت کا مکمل ماڈل، مسجد نبویﷺ کی ابتدائی شکل، صحابہ کرامؓ کے استعمال شدہ ہتھیار، اور نبی کریمﷺ کے مبارک گھر کی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں۔ ہر چیز گویا بول رہی تھی اور دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ صرف عجائب گھر نہیں، ایمان کا خزانہ ہے۔ پھر قرآن میوزیم میں گیا جہاں قدیم قرآنی نسخے، خطاطی کے نایاب نمونے اور تفاسیر کی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں۔ وہاں سے نکل کر سلام میوزیم کی زیارت کی، جو مسجد نبوی کے پہلو میں قائم ہے اور اس میں مسجد کے پرانے ستون، دروازے اور تعمیرات کی تاریخ محفوظ کی گئی ہے۔

 

یہاں سے حجاز ریلوے میوزیم پہنچا، جہاں خلافتِ عثمانیہ کے زمانے کی بنائی گئی تاریخی ریلوے اور اس سے متعلق نایاب اشیا موجود تھیں۔ اس عجائب گھر میں کھڑے ہو کر محسوس ہوا کہ مدینہ صرف روحانی مرکز نہیں، اسلامی تاریخ کا زندہ دستاویز بھی ہے۔ مدینہ کی کھجوریں بھی خاص ہوتی ہیں۔ سوق التمور سے عجوہ، صفاوی، عنبر کھجوریں خریدیں، جو مدینہ کی مٹی کا ذائقہ رکھتی ہیں۔ مدینہ… لفظ نہیں، احساس ہے۔ مدینہ… منظر نہیں، جلوہ ہے۔ مدینہ… منزل نہیں، عشق کی ابتدا ہے۔ ایک دن ہمارے دوست برادر محمد وسیم بکر قاسمی اپنے دوست کے ایک باغ میں لے گئے اور وہیں سے تازہ کھجوریں میرے لیے زبردستی خرید لیں، میں انھیں منع کرتا رہا لیکن ا نھوں نے مان کے نہ دیا، مجبوراً مجھے ان کے احترام میں بات ماننی پڑی۔ کھجور واقعی تازہ اور ذائقہ دار تھے۔

 

مدینہ میں سیر کا بھی اپنا ایک الگ ہی لطف ہے۔ جگہ جگہ تفریخ اور عجائبات بکھرے پڑے ہیں۔ میں نے دنیا کے کئی شہر دیکھے، لیکن مدینہ جیسا کوئی شہر نہیں۔ حالانکہ مکہ کی طرح یہاں بھی جدید عمارتیں جگہ جگہ تعمیر ہو چکی ہیں اور پرانے آثار تلاش کرنے پڑتے ہیں مگر اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو پناہ دینے والے اس شہر میں ایک خاص سکون رکھا ہے۔ یہاں جو نور ہے، وہ صرف آنکھوں سے نہیں، دل سے دکھائی دیتا ہے۔

 

مدینہ میں ہم نے ایک یمنی ریسٹورنٹ سے مٹن مندی کھائی، جس کی پلیٹ 45 ریال کی تھی (دو افراد آسانی سے کھا سکتے تھے)۔ ایک اور دن شاورما رول 8 ریال میں ملا، اور بریانی کی پلیٹ 18 ریال کی تھی۔ عام چائے 2 ریال اور قہوہ 3 ریال میں دستیاب تھا۔

 

اپنی زندگی کے ان خوبصورت ترین ایام میں ایک رات نہ جانے کون سی روشنی دل میں اتری کہ میں مدینے کی گلیوں میں بے خودی کے عالم میں گھومتا رہا۔ قدم تھے مگر کسی اور کے لگتے تھے، سانسیں تھیں مگر خوشبو کسی اور جہان کی تھی۔ مدینہ… ہاں، مدینہ! بھائی، مدینہ تو مدینہ ہے… اسے بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ مدینہ… اسے زبان سے بیان نہیں کیا جا سکتا، یہ تو دل میں اُترتا ہے، آنکھ سے بہتا ہے، اور روح میں جاگتا ہے۔ مدینہ… کیا کہوں؟ مدینہ… بس مدینہ ہے! روح میں بسا ہوا مقدس شہر…!

 

مدینہ واقعی کوئی عام شہر نہیں، یہ جادو نگری ہے، یہ سحر انگیز مقام ہے …جہاں روحانیت، عشق، سکون، اور جلوہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ قدم قدم پر دل لرزتا ہے… آنکھیں بھیگ جاتی ہیں… اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ یہاں لفظ کم پڑ جاتے ہیں، سوچیں ٹھہر جاتی ہیں۔یہاں کبھی ریاض الجنہ کی خامشی بولتی ہے، کبھی مسجد قبا کی دیواروں سے تاریخ جھانکتی ہے۔ کبھی احد کی پہاڑیاں شہدا کی گواہی دیتی ہیں، اور کبھی بقیع کی خاموشی میں درد کی سرگوشی سنائی دیتی ہے۔

 

مدینہ منورہ میں قیام کے دوران جس محبت، خلوص اور خادمانہ مزاج کا مشاہدہ نصیب ہوا وہ ایسا ناقابل بیان احساس ہے جو صرف ذاتی تجربے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس احساس کی نعمت سے نوازے ۔

 

مجھے خاص طور پر برادرِ محترم محمد وسیم بکر قاسمی اور برادرم محمد سلام قاسمی صاحبان کی بے لوث مہمانی اور رہنمائی نے دل کو بے حد متاثر کیا۔ بلکہ یوں کہوں تو بجا ہوگا کہ ان کی محبت نے لاجواب ہی کر دیا۔ دونوں حضرات نے الگ الگ دنوں میں انتہائی شفقت کے ساتھ مدینہ کا چپہ چپہ دکھایا۔ وہ عام رہنما نہیں تھے، بلکہ ایسے میزبان تھے جنہوں نے نہ صرف جگہیں دکھائیں بلکہ ہر مقام کے ساتھ ایک روحانی رشتہ قائم کر دیا۔ ان کی شخصیت کا سب سے خاص پہلو یہ ہے کہ وہ دونوں ہی برسوں سے مدینہ میں زیارت و سیاحت سے جڑے ہوئے ہیں، اور اسی نسبت سے ان کی تاریخی، دینی اور تہذیبی معلومات نہایت معتبر اور بہت وسیع ہیں۔

 

ایک دن انھی دوستوں کے ساتھ ہم مسجد نبوی کے اردگرد موجود قدیمی مساجد کی طرف چل دیے۔ ہر مسجد جیسے ایک تاریخی کہانی لیےکھڑی تھی۔ مسجد عمرؓ، مسجد ابوبکرؓ، مسجد علیؓ۔ یہ سب ایسی جگہیں تھیں جیسے ہیروں میں نگینے جڑے ہوں۔ ہر مسجد کا الگ طرزِ تعمیر تھا، الگ انداز، الگ روحانی منظر۔ کہیں ایسا محسوس ہوتا کہ حضرت عمرؓ اپنی جلالت کے ساتھ گزر رہے ہوں، کہیں حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت برس رہی ہو، کہیں حضرت علیؓ کی شجاعت کی جھلک دکھائی دیتی ہو۔ آنکھیں نم ہو جاتیں، دل میں ایک گداز کیفیت جنم لیتی۔ یہ وہ لمحے تھے جہاں ماضی حال سے آن ملتا تھا۔

 

ہم جب بھی کسی تاریخی یا مذہبی مقام پر پہنچتے، تو محض نشان دہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ اس جگہ کی مکمل تاریخ، اہمیت اور متعلقہ احادیث و آثار بھی بیان کرتے۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے واقعات اور روایات، وہی باتیں جو کبھی ہم نے درسی کتابوں یا قرآن و حدیث کی شرحوں میں پڑھی تھیں، اب حقیقت کا آئینہ بن کر سامنے آتی گئیں۔ گویا مطالعہ کردہ الفاظ مناظر میں ڈھل گئے، اور ہم ایک ایک لمحہ مدینہ کی تاریخ میں سانس لیتے ہوئے محسوس کرتے رہے۔ مدینہ منورہ کو موجودہ دور میں نئی طرز پر سجایا، سنوارا اور چمکایا گیا ہے، اس میں شک نہیں۔ خوبصورت سڑکیں، وسیع گلیاں، جدید عمارتیں اور زائرین کی سہولت کے لیے کئی انتظامات آج کی دنیا کا تقاضا بھی ہیں اور ایک طرح سے قابلِ ستائش بھی۔ ان ترقیاتی کاموں کا سہرا بہت سے افراد اور حکومتوں کو جاتا ہے، خاص طور پر سعودی حکومت نے شہر کو جدید طرز پر ڈھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

 

لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سجاوٹ اور تزئین و آرائش کی چکاچوند میں مدینہ کا اصل تاریخی اور تہذیبی حسن کہیں نہ کہیں دب سا گیا ہے۔ بہت سی وہ نشانیاں، عمارتیں، دروازے، گلیاں اور دیگر آثار جن کا تعلق صدرِ اول، تابعین، خلافت راشدہ یا عثمانیہ سلطنت سے تھا، اب یا تو مٹ چکے ہیں یا انہیں پسِ پردہ کر دیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل میں ملال اور اداسی کا احساس جنم لیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مدینہ کا روحانی ورثہ آہستہ آہستہ جدت طرازی کی چادر تلے گم ہوتا جا رہا ہے۔

 

خاص طور پر عثمانی عہد میں کیے گئے کاموں کو آلِ سعود کی حکومت نے کم اہمیت دی ہے، بلکہ بعض پہلوؤں کو تو جان بوجھ کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر، اس کے باوجود جب مدینہ کی پرانی گلیوں میں عثمانی دور کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ چاہے وہ کسی دیوار کی محراب ہو، کوئی پتھر کا دروازہ ہو، یا عثمانی طرز تعمیر گاتھا سناتا کوئی گنبد۔ تو آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ’’واہ عثمانیو! تم نے اس شہر کی حفاظت کے لیے کس قدر اخلاص، وقار اور فن سے کام لیا تھا!‘‘ ان آثار کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عثمانی سلطنت نے مدینہ کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک امانت سمجھا، جس کی حفاظت، تزئین، اور احترام ان کا ایمانی فریضہ تھا۔ یہ نقوش آج بھی، وقت کی گرد کے باوجود، ہمیں ماضی کی عظمت اور موجودہ تغافل دونوں کا آئینہ دکھاتے ہیں۔

 

مکہ و مدینہ میں عبادات، عشق و احترام، اور روحانی عبادتوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے مشاہدات بھی سامنے آئے جو دل کو کھٹکے۔ مثلاً: مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اطراف بلند و بالا ہوٹلوں اور شاپنگ پلازاؤں کی بھرمار۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ عبادت کے مرکز کو سرمایہ داری کی چمک نے گھیر لیا ہے۔ بلند عمارتیں، جگمگاتی دکانیں، اور بڑے بڑے اشتہارات، یہ سب روحانی سکون کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ جہاں پہلے خانہ کعبہ کو دیکھ کر دل پر سکون اترتا تھا، اب وہاں تجارتی سرگرمیوں کا شور و غل خلل کا سبب بن رہا ہے۔ مدینہ منورہ میں کئی تاریخی مقامات یا تو مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، یا جدید تعمیرات نے ان کی اصل شکل بدل دی ہے۔ صحابہ کرامؓ کے گھروں، غزوات کے میدانوں، اور دیگر مقدس نشانات کو محفوظ رکھنے کے بجائے اکثر انہیں نظر انداز کیا گیا۔ تاریخ سے جڑنے کے جو مواقع زائرین کے لیے ہو سکتے تھے، وہ ایک ایک کر کے مٹتے جا رہے ہیں۔

 

مکہ اور مدینہ دونوں شہروں میں زائرین کی بڑی تعداد کے باعث بے تحاشا ازدحام دیکھنے کو ملا۔ طواف، صفا و مروہ کی سعی، اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری، سب جگہ لمبی قطاریں، جسمانی تھکن، اور بعض اوقات بدتمیزی تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بوڑھوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے سہولیات کی قلت نے کئی جگہ دل کو دکھی کیا۔ ان مقدس شہروں میں اشیائے ضرورت، کھانے پینے، اور رہائش کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ متوسط یا غریب طبقے کے زائرین کے لیے دشواری پیدا ہو جاتی ہے۔

 

مسجد کے آس پاس موجود ہوٹل اور دکانیں زیادہ تر صرف اہلِ دولت و ثروت کے لیے سازگار ہیں۔ یوں ایک مذہبی سفر بھی طبقاتی فرق کا آئینہ بن جاتا ہے جبکہ اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت نے صفائی اور نظم و نسق کے لیے بڑے انتظامات کیے ہیں، مگر پھر بھی بعض مقامات جیسے ہوٹلوں کے باہر، عام راستوں اور وضو کے مقامات پر صفائی کا فقدان نظر آیا۔ ان شہروں میں ایک مخصوص ثقافتی اور فقہی تشریح کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

 

ان تلخ مشاہدات کے باوجود، دل اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ ان شہروں کی روح کچھ اور ہی ہے۔ یہاں کی فضا میں کچھ ایسا جادو ہے جو تھکن کو عبادت میں بدل دیتا ہے، اور تکلیف کو نعمت محسوس کرواتا ہے۔ مکہ کا جلال دل کو لرزا دیتا ہے، اور مدینہ کی نرمی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔ یہاں ہر سانس میں ایک عجب خوشبو ہے، اور ہر قدم کسی خواب کا تسلسل۔ بھیڑ بھاڑ، مہنگائی، اور دشواریوں کے باوجود ان شہروں سے وابستگی ٹوٹتی نہیں، بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے۔ شاید اسی کو عشق کہتے ہیں۔ ایک ایسا جذبہ جو منطق سے ماورا، مگر دل کے بالکل قریب ہوتا ہے۔

 

شاید اسی وجہ سے، 1 اگست 2025 کو صبح 10 بجے، جب حرمین ایکسپریس ٹرین مدینہ منورہ کے اسٹیشن سے جدہ کی سمت روانہ ہوئی، تو ایسا محسوس ہوا جیسے میرا دل وہیں کہیں، مسجد نبویؐ کی منور چھتوں میں، ریاض الجنۃ کی خوشبوؤں میں، اور ان گلیوں کی خاموش دیواروں میں اٹک گیا ہے جن پر صدیوں سے درود و سلام کی گونج ثبت ہے۔ باہر صحرا کی سنہری ریت ہوا میں بکھر رہی تھی، مگر میری آنکھوں میں مکہ کی جلالت اور مدینہ کی وہ خاموش، بے طلب محبت ایک مدھم مگر زندہ تصویر کی طرح تھرک رہی تھی۔

 

میرے ہاتھ خالی تھے، دل گناہوں کے بوجھ سے لرزاں، مگر آنکھوں میں وہی آنسو تیر رہے تھے جو پہلی بار خانۂ کعبہ کو دیکھتے ہی بے ساختہ چھلک پڑے تھے، اور روضۂ رسول ﷺ کے سامنے سلام پیش کرتے وقت میرے چہرے پر بہہ نکلے تھے۔ دل میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔ اگر مدینہ انسان ہوتا تو شاید میں کہتا: "پلیز مجھے رکھ لو، میں تمہاری غلامی کر لوں گا، بس مجھے یہیں رہنے دو۔” مگر مدینہ انسان نہ تھا، سو کہاں سنتا وہ میری فریاد۔

 

احباب کی وہ باتیں یاد آ رہی تھیں جب وہ اصرار کر رہے تھے، "رک جاؤ، کچھ دن اور گزار لو!” لیکن یونیورسٹی میں تھیسس جمع کرانے کی ذمہ داری اور ملازمت کے مسائل سامنے تھے۔ جیسے جیسے ٹرین کی رفتار بڑھتی گئی، اداسی کی دھند دل پر اترتی گئی۔ ایک درد سا تھا، ایک انجانی جدائی کا احساس، جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے کو رخصت کر رہی ہو۔ دل کے اندر ایک بے آواز دعا ابھری: یا رب! یہ دوری وقتی ہو، یہ جدائی محض ایک امتحان ہو۔ پھر سے بلا لینا۔

 

ٹرین اپنی منزل کو پہنچنے والی تھی، مگر میرے دل کی کوئی ٹرین اب بھی مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا، سفر ختم ہو چکا ہے… یا شاید اب جا کر شروع ہوا ہے؟ یا خدایا! یہ کیسا عشق ہے جس نے جسم کو تو واپسی کی ٹرین میں بٹھا دیا، مگر روح کو ان دو شہروں کی روشنیوں میں قید کر دیا۔

 

یہ سفر، جو 24 جولائی 2025 کو سوانزی سے شروع ہوا تھا، بظاہر آٹھ دن کا تھا، مگر حقیقت میں آٹھ منٹ کی مانند گزر گیا۔ چار دن مکہ میں اور چار دن مدینہ منورہ میں کیسے بیت گئے، پتہ ہی نہ چلا۔ کہتے ہیں، واپسی ہمیشہ دلگیر اور بوجھل ہوتی ہے؛ یہ سفر بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا۔ جی چاہ رہا تھا زور زور سے چیخ کر رو لوں۔

 

رات 11:45 پر ٹرین جدہ کے السلمان اسٹیشن پہنچی۔ وہاں سے سیدھا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ٹیکسی لی، جو تقریباً 150 سعودی ریال میں طے ہوئی۔ ایئرپورٹ سے سعودیہ ایئرلائنز کی پرواز شام 4 بجے لندن ہیتھرو کے لیے روانہ ہوئی۔ چھ گھنٹے پندرہ منٹ کے سفر میں، جہاز کی خاموشی میں بھی دل مدینہ کے روضۂ مبارک اور مکہ کے حرم شریف کے گرد ہی گھومتا رہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں اب بھی وہیں ہوں، دعائیں مانگ رہا ہوں، زمزم کے پانی سے روح کو سیراب کر رہا ہوں، اور احباب کے ساتھ خوش گپیاں کر رہا ہوں۔

 

2 اگست 2025 کی صبح لندن ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترے۔ ٹھنڈی ہوا اور ہلکی بارش نے دل کو اور بھی اداس کر دیا۔ ہیتھرو سے سوانزی کے لیے ٹرین پکڑی، جو رات تقریباً 3 بجے سوانزی پہنچی۔ کمرے میں داخل ہو کر سامان کھولا، احرام کی چادریں، زمزم کا پانی، مدینہ کی عجوہ کھجوریں , ہر چیز رُلا دینے والی تھی۔ بستر پر لیٹا تو آنکھوں کے سامنے اب بھی وہی مناظر چل رہے تھے… مکہ کی گلیاں، مدینہ کی فضائیں، اور دل کی دھڑکنوں میں گونجتے درود و سلام۔

 

ختم شدہ

Comments are closed.