مدارس کے خلاف ظالمانہ کارروائی بند کرے یوپی اوراتراکھنڈ حکومت:آل انڈیاملی کونسل
الہ آباد ہائی کورٹ کاشراوستی کے بند مدارس کوکھولنے کاحکم خوش آئند: مولانا انیس الرحمن قاسمی
پھلواری شریف،پٹنہ(پریس ریلیز)
آل انڈیاملی کونسل،دہلی کے شعبہ تعلیم کی ایک اہم میٹنگ آج گوگل میٹ پر منعقد ہوئی،اس میٹنگ کی صدارت مولاناانیس الرحمن قاسمی کارگزارصدرآل انڈیاملی کونسل نے کی،جب کہ میٹنگ کا آغازمفتی جمال الدین قاسمی کی تلاوت سے ہوا،نظامت کرتے ہوئے شعبہئ تعلیم کے سکریٹری مولاناڈاکٹر محمدعالم قاسمی نے کہا کہ مدارس اسلامیہ اس ملک میں مسلمانوں کی دینی تشخص کی حفاظت کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، یہ مدارس ہی ہیں جن کی وجہ سے اس ملک میں مسلمانوں کا دین وایمان محفوظ ہے،اسی لیے انگریزوں ہی کے زمانہ ہی سے مدرسوں کونشانہ بنایاجارہاہے،آج اس ملک کی فسطائی طاقتیں چاہتی ہیں،کہ ملک سے مختلف بہانوں،حیلوں کے ذریعہ مدرسوں کے نظام کو ختم کیا جائے،یوپی اوراتراکھنڈ کی حالت بد سے بد تر ہے،آسام مدرسہ بورڈ کے ملحق اداروں کو پہلے ہی اسکولوں میں تبدیل کیا جاچکاہے،یوپی اوراتراکھنڈ میں بہت سے مدرسوں کو منہدم کیا جاچکاہے،اس لیے ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،آل انڈیاملی کونسل،بہار کے جنرل سکریٹری مفتی محمدنافع عارفی نے رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں 25,000 مدرسوں کی تعدادہے،جس میں سے 16,513مدرسہ بوڑسے ملحق ہیں،بقیہ 8,449غیر تسلیم شدہ ہے اور25/اپریل 2025کو بھارت،نیپال سرحدکے 350مدارس کے خلاف کارروائی کی گئی اورسیکڑوں مدرسوں کو بند کردیا گیا اورشراوستی،سدھارتھ نگر،بلرام پور،پیلی بھیت،بہرائچ اورلکھیم پورکھیری کے درجنوں مدارس بنداورمنہدم کردیے گئے،کل شراوستی کے ۰۳/مدارس کو الہ آبادہائی کورٹ نے کھولنے حکم دیا ہے، مولاناعارفی نے مزیدکہاکہ یہ تمام معاملہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ ہی حل ہوگا،اس لیے ان معاملات کو لیگل ٹیم کے حوالہ کردیا جائے، سکریٹری لیگل سیل محترمہ افسرجہاں صاحبہ نے کہاکہ آل انڈیاملی کونسل کے لیگل سیل کی ٹیم ان تمام معامالات کو باریکی سے جائزہ لے رہی ہے اوراس بارے میں سینئر وکلاء سے مشورہ لے رہی ہے،آل انڈیاملی کونسل ان مدرسوں کوجس پر جارحانہ کارروائی کی گئی ہے،اس کی قانونی مدد ی جائے گی اورعنقریب لکھنؤ میں ان مدارس کے ساتھ جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اورمدرسہ منہدم کیے گئے ہیں اوربند کیے گئے ہیں،ملی کونسل کی لیگل سیل میٹنگ کرے گی اورہرممکن مدد کرے گی،محترمہ نے کہاکہ مدرسوں کوقانونی پیچیندگی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مدرسوں میں بھی نیوایجوکیشن تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے عصری تعلیم کا نظم کیا جائے،اسسٹنٹ جنرل سکریٹری نظام شیخ نے شعبہئ تعلیم کی کاردرگی کوسراہتے ہوئے کہا کہ شعبہئ دینی تعلیم اورملی کونسل کی لیگل سیل کی آپسی تعاون سے جتنے جلد ممکن ہو لائحہ عمل تیار کریں اورمظلوموں کی دادرسی کریں،مولاناڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ ملی کونسل رابطہئ مدارس،جمعۃ علماء اوردیگرتنظیموں سے مل کر کام کرے تو مفید نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں،کارگزارصدر مولاناانیس الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ یوپی اوراتراکھنڈ نیز آسام میں مدرسوں کے ساتھ جو کچھ ہوااورہورہاہے اس سے مد نظر رکھتے ہوئے بہار،اڑیشہ ا ورجھارکھنڈ اورملک کی دیگر ریاستوں کے ذمہ داران مدارس کو بھی اپنا اپنا جائزہ لے کر آنے والے چیلینجز کے مقابلہ کے لیے خودتیار کرنا چاہیے،جن مدرسوں کارجسٹریشن نہیں ہوا،ان کا رجسٹریشن کرالینا چاہیے،جن اداروں کے پاس ٹرسٹ نہیں ہے وہ ٹرسٹ بنالے،عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ مصیبت آنے سے پہلے خلاصی اورحل تلاش کرلیناچاہیے،انہوں نے مزیدکہاکہ یوپی اوراتراکھنڈ کے سلسلہ میں ملی کونسل کی لیگل ٹیم کام کررہی ہے اورلکھنؤ میں ہونے والی میٹنگ کے بعد ان شا ء اللہ حل تلاش کرلے گی،مولانانجیب ململی جنرل سکریٹری مشرقی یوپی نے اپنی گفتگو میں یوپی میں مدارس کے ساتھ پیش آئے مسائل پر ملی کونسل کی ریاستی یونٹ کی پوری ٹیم کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ساتھ ہی بارہ ربیع الاول کے موقعہ پر ملی کونسل کے شعبہئ خدمت خلق کے تحت تمام ریاستوں میں مختلف اسپتالوں میں مقامی کارکنان کے ذریعہ جنرل وارڈ کے مریضوں کے مابین پھلوں کے تھیلے اور ساتھ میں سیرت کے پیغام پر مشتمل مختصر رسالہ مقامی زبان میں تقسیم کئے جانے کی تجویز پیش کی اور اسی ضمن میں شعبہئ دعوت کے تحت اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں برادران وطن، سماجی کارکنان، آفیسران اور بیروکریٹس کے درمیان بڑے پیمانہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مقامی زبان میں کوئی اچھی کتاب بطور ہدیہ پیش کئے جانے کی تجویز مفتی عمر عابدین صاحب نے پیش کی،مولاناغالب شمس نے بھی اپنے تجزیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کئی اہم مشوروں دیا،ڈاکٹر سلیم احمدقاسمی اورسیددانش صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مفید مشورے دیے اورملی کونسل کے کاموں کوسراہا۔
Comments are closed.