ممبئی کے معروف شاعر اور ترجمہ نگار ڈاکٹر ذاکر خان کی دہلی آمد پر ادبی تنظیم ’’پرواز‘‘ کے زیر اہتمام اعزازی نشست کا انعقاد
نئی دہلی (پریس ریلیز): ممبئی کے معروف شاعر اور ترجمہ نگار ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کی دہلی آمد پر ادبی تنظیم ’’پرواز‘‘ کے زیر اہتمام جسولہ وہار، نئی دہلی میں مشہور شاعر پروفیسر رحمن مصور کی رہائش گاہ پر ایک پرتپاک اعزازی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے معروف ادیب اور صدر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر خان کی شخصیت، شاعری اور ان کے علمی کارنامے نہایت لائق تحسین ہیں۔ ’’پرواز‘‘ کے روح رواں پروفیسر رحمن مصور نے گل پوشی اور شال پوشی سے صاحبِ اعزاز کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر خان نے پانچ مختلف علوم و فنون اور زبانوں میں ایم اے کیا، دو الگ الگ مضامین میں بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری سے بھی سرفراز ہوئے۔ ڈاکٹر خالدمبشر نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر خان کی علمی فضیلت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ این سی ای آر ٹی جیسے موقر نصاب ساز اور تعلیمی پالیسی ساز ادارے میں نہ صرف اردو بلکہ فارسی، تاریخ، تعلیمات اور دیگر ورکشاپس میں ان کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس موقع پر بزرگ شاعر، صحافی اور طنز و مزاح نگار اسد رضا، معروف ماہرِ تعلیمات پروفیسر محمد معظم الدین اور عالمی شہرت یافتہ ناظم مشاعرہ اور شاعر معین شاداب کے علاوہ منتخب شعرا نے شرکت کی۔ ڈاکٹر ذاکر خان کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد بھی عمل میں آیا، جس کی نظامت کے فرائض مشہور طنزیہ و مزاحیہ شاعر انس فیضی نے انجام دیے اور کوثر مظہری، ذاکر خان ذاکر، اسد رضا، معین شاداب، رحمن مصور، خالد مبشر، انس فیضی، محمد زبیر، تسلیم عارفی، علی ساجد، ماجد شاہدی اور سید معراج نے کلام پیش کیا۔ نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:
ربط ہے اس کو زمانے سے بہت سنتا ہوں
کوئی ترکیب کرو میں بھی زمانہ ہو جاؤں
کوثر مظہری
کچھ ہوائیں بھی گرا دیتی ہیں شاخوں سے گلاب
کچھ کنول جھیل کے آنچل ہی پہ مر جاتے ہیں
ذاکر خان ذاکر
پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے
جسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش
اسد رضا
غم دیتی ہے دنیا تو میں آتا ہوں ترے پاس
تو نے بھی دیا غم تو کہیں کا نہ رہوں گا
معین شاداب
زمیں سے کھودا گیا پھر زمیں میں بویا گیا
تو آسمان پہ کیوں کر ہے انتظار مرا
رحمن مصور
میری میراثِ جنوں صحرا میں جب بانٹی گئی
قیس کے حصے میں آئی چاک دامانی مِری
خالدمبشر
اداس ہیں جو حسین چہرے
میں ان کو ہنسنا سکھا رہا ہوں
انس فیضی
اب تو بس کر دے مجھے مارنے والے ظالم
ہو گئے دیکھ مِرے خون سے کالے پتھر
محمد زبیر
میں ہی سب سے عزیز خادم ہوں
میرا ہی حق ہے بادشاہ کے بعد
تسلیم عارفی
غزل شناس ہیں لیکن بدن شناس نہیں
یہ چند لوگ ہمیں اس لیے بھی راس نہیں
علی ساجد
حسن میرے لیے بیتاب سا لگتا ہے مجھے
یہ حقیقت ہے مگر خواب سا لگتا ہے مجھے
ماجد شاہدی
صیاد اس سے بڑھ کے سزا اور کیا مِری
میں ہوں قفس میں اور چمن میں بہار ہے
سید معراج
Comments are closed.