مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈاکٹر شنکر دیال شرما گولڈ میڈل کے لیے طلبہ سے درخواستیں طلب کیں

 

علی گڑھ، 23 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے ریگولر طلبہ سے ڈاکٹر شنکر دیال شرما گولڈ میڈل 2024-25 کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ اس کی تفصیلات اور درخواست فارم ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) کے ویب صفحہ پر دستیاب ہیں، جس کا ویب لنک ہے:

 

https://api.amu.ac.in/storage//file/10062/notice-and-circular/1755929559.pdf.

 

ڈی ایس ڈبلیو دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اے ایم یو سے کم از کم ایک ڈگری بشمول ایم بی بی ایس، بی یو ایم ایس حاصل کرنے والے یا ایم فل / پی ایچ ڈی کرنے والے طالب علم اس گولڈ میڈل کے اہل ہے۔ وہ طلبہ جن کے دو کورسز کے درمیان وقفہ رہا ہو، یا جو سپلیمنٹری یا بیک لاگ کے ساتھ پاس ہوئے ہوں، یا جن کے خلاف تادیبی کارروائی چل رہی ہو، انہیں اس ایوارڈ کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔

 

علمی کارکردگی کا جائزہ دسویں جماعت سے لے کر ماسٹرز سطح تک کے تمام امتحانات کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

 

درخواست کے ساتھ تصدیق شدہ شناختی کارڈ، تمام امتحانات کی اسناد، اے ایم یو سے جاری کیریکٹر سرٹیفیکٹ، ہم نصابی سرگرمیوں /سماجی خدمات کی اسناد کی نقول اورامتحانات، حاصل شدہ نمبرات اور دیگر حصولیابیوں پر مشتمل تفصیلی بایو ڈیٹامنسلک کرنا لازمی ہے۔

 

مکمل طور پر بھری ہوئی درخواستیں ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر، اے ایم یو کے دفتر میں جمع کرنے کی آخری تاریخ 13 ستمبر 2025 ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو سے سبکدوش پروفیسر گلفشاں خان کی کتاب کا تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں منعقدہ کنونشن میں اجراء

 

علی گڑھ، 23 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تاریخ کی سابق چیئرپرسن پروفیسر گلفشاں خان کی کتاب کا حال ہی میں ازبیکستان کی تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں منعقدہ دسویں ”کنونشن آف دی ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف پرشیئنیٹ سوسائٹی“ کے دوران اجرا ء عمل میں آیا۔

 

ان کی تصنیف ”اِنڈو-پرشیئن ایلیٹ اِن دی لیٹ ایٹینتھ ٹو دی ارلی نائنٹینتھ سنچری“ میں پندرہ تحقیقی مقالات شامل ہیں جو مغلیہ سلطنت کے آخری دور اور نوآبادیاتی عہد کے ابتدائی مراحل میں برصغیر کی فارسی داں اشرافیہ کی ادبی و فکری سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ کتاب میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی اشرافیہ نے مشرقی سلطنتوں کے کمزور پڑنے اور سامراجی طاقتوں کے عروج کو کس نظر سے دیکھا، اور اس پر انہوں نے علمی سطح پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے دس طلبہ کا قومی و بین الاقوامی اداروں میں ملازمت کے لئے انتخاب

 

علی گڑھ، 23 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فیکلٹی آف سائنس، مینجمنٹ، انجینئرنگ، سوشل سائنسز، اور یونیورسٹی پولی ٹیکنک کے دس طلبہ نے مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں میں ملازمتیں حاصل کی ہیں۔ یہ تقرریاں ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کی جانب سے منعقدہ پلیسمنٹ مہمات کے توسط سے عمل میں آئیں۔

 

ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) مسٹر سعد حمید نے بتایا کہ ایم سی اے کے فیضان انور خاں، غزالہ ضمیر، انس اے، اور سہیل خان کو پریسیڈنسی یونیورسٹی نے منتخب کیا، جب کہ محمد شہپر (ایم ایس سی) اور اریبہ حسین (بی ایڈ) کو اراؤلی پبلک اسکول کی جانب سے منتخب کیا گیا۔ رائٹیکس رئیل اسٹیٹ نے مصباح قیصر (بی آرک) کو جب کہ سلور اسکلز نے سمیہ لقمان (ایم بی اے) کو ملازمت کے لئے منتخب کیا۔ اسی طرح عامر مصطفیٰ (بی اے) کو ایمیزون نے ملازمت کی پیشکش کی ہے۔ ان کے علاوہ محمد سرفراز (ڈپلوما، سول انجینئرنگ) کو دبئی کی فرم پاور آن کانٹریکٹنگ نے منتخب کیا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے اسکولوں میں قومی یوم خلا کے موقع پر تقریبات کا اہتمام

 

علی گڑھ، 23 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اسکولوں میں قومی یوم خلا پر متاثر کن سرگرمیوں کے ساتھ خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

 

عبداللہ اسکول میں تقریبات کا آغاز درجہ چہارم اور پنجم کے طلبہ کی جانب سے ایک خصوصی اسمبلی سے ہوا، جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ طلبہ نے متعدد زبانوں میں تقریریں کیں۔ عمرہ پرویز نے ہندی، اور حبا اور سیدہ ملیحہ فاطمہ نے انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کیاجب کہ شرجیل محسن کاظمی نے اردو میں اپنی تقریر سے سبھی کو متاثر کیا۔ ان طلبہ نے خلائی تحقیق میں ہندوستان کی ترقیوں اور پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ شافیہ اعجاز نے ’آج کا خیال‘ کے عنوان پر مختصراً گفتگو کی جب کہ نبیہہ نے اعتماد کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔

 

سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیرنے طلبہ کو سائنسی تجسس اور اختراع کو اپنا وطیرہ بنانے اور ملک کے خلائی سائنسدانوں کو بطور رول ماڈل اپنانے کی تلقین کی۔

 

پوسٹر سازی اور ماڈل سازی کے مقابلوں میں بھی طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور مستقبل شناسی کا مظاہرہ کیا۔ پروگرام کو عنبرین ذکی اور صہبا عاصم نے مربوط کیا، جبکہ عرشیہ آفتاب نے معاونت کی۔

 

احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد کی نگرانی میں تقریبات منعقد کی گئیں۔اسمبلی انچارج محترمہ ندرت جہاں نے قومی خلائی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سائنسی تجسس کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریبات میں مضمون نویسی بعنوان ”قومی خلائی دن: نوجوان ذہنوں کو خلائی تحقیق کی جانب راغب کرنا“ اور کوئز مقابلہ شامل تھے۔ صبح کی اسمبلی میں طلبہ نے ہندوستان کی خلائی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ یہ پروگرام محترمہ رضیہ بانو (پی جی ٹی کیمسٹری) اور محترمہ ندرت جہاں (پی جی ٹی فزکس) کی نگرانی میں منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ نے بھرپور شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 

دونوں اسکولوں میں یہ تقریبات اے ایم یو کے اس عزم کی عکاس تھیں کہ وہ اپنے طلبہ میں سائنسی مزاج، تخلیقی سوچ، شمولیت اور قومیت کے جذبات کو پروان چڑھاتا رہے گا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے پروفیسر ایم جے وارثی نے این سی پی یو ایل کے سیمینار میں اردو اور ٹکنالوجی کے موضوع پر خطاب کیا

 

علی گڑھ، 23 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل)، وزارت تعلیم، حکومتِ ہند کے زیرِ اہتمام باپو ٹاور، پٹنہ میں منعقدہ تین روزہ قومی سیمینار بعنوان ”وِکست بھارت@2047 کے تناظر میں اردو زبان کا مستقبل“ میں اردو زبان اور جدید اطلاعاتی ٹکنالوجی کے بڑھتے تعلق پر خطاب کیا۔

 

پروفیسر وارثی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹکنالوجی (آئی سی ٹی) نے رابطے کے طریقوں اور مواد کے حصول کے ذرائع کو یکسر بدل دیا ہے۔ اردو اب موبائل ایپلیکیشنز، ویڈیو گیمز، ویڈیو کانفرنسنگ، اور ملٹی میڈیا پرزنٹیشنز میں استعمال ہو رہی ہے، جو اس کی ڈیجیٹل دنیا میں موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وِکست بھارت@2047 کے تناظر میں اردو زبان کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ سائنسی و تکنیکی علم کو اردو میں دستیاب کرایا جائے، اور زبان و ٹکنالوجی کے امتزاج پر مزید تحقیق اور ڈیجیٹل ٹولز کو فروغ دیا جائے۔

 

پروفیسر وارثی نے این سی پی یو ایل کی چند نمایاں ڈیجیٹل کوششوں جیسے کہ موبائل ایپ ”ای کتاب“ اور اردو ای لائبریری ویب سائٹ کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے ان اقدامات کو اردو کے ڈیجیٹل فروغ کی سمت ایک بروقت اور قابل تحسین کوشش قرار دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں ”عصری درسگاہوں میں اسلامی علوم پر مطالعہ و تحقیق: منہج و مقصد“ موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار کا اہتمام

 

علی گڑھ، 23 اگست:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ دینیات نے اسلامک فقہ اکیڈمی، نئی دہلی کے اشتراک سے ”عصری درسگاہوں میں اسلامی علوم پر مطالعہ و تحقیق: منہج و مقصد“ کے عنوان پر دو روزہ قومی سیمینار منعقد کیا۔

 

آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں سیمینار کی افتتاحی تقریب کی صدارت اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کی۔ انہوں نے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے اعمال سے بچنا چاہیے جو تنقید کا باعث بنیں۔ انہوں نے سر سید احمد خاں کے وژن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جدید سائنسی علوم کو دینی تعلیم کے ساتھ مربوط کرنا، آزاد تحقیق، کشادہ ذہنی اور اخلاقی اقدار کی ترویج وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر، اسلامک فقہ اکیڈمی) نے تحقیقی میدان میں مہارت، گہرائی، اور وسعت نظری پر زور دیا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کام کو خوبصورتی سے انجام دینا چاہیے۔ انھوں نے تحقیق میں تنوعِ فکر اور اجتہادی سوچ کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں بعض روایتوں نے آزاد فکر کو محدود کر دیا تھا تاہم نبی کریم ﷺ نے مختلف آراء پر غور و فکر کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔

 

مہمان اعزازی پروفیسر اقتدار محمد خان نے محققین پر زور دیا کہ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں تاکہ ان کی تحقیق عملی طور پر مفیدثابت ہو۔ دوسرے مہمان اعزازی مفتی عتیق احمد بستوی (جنرل سکریٹری، اسلامک فقہ اکیڈمی) نے سیمینار کو ہندوستان کی جامعات میں اسلامی مطالعات کے تحقیقی جائزے کی پہلی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اے ایم یو کی تہذیبی و علمی وراثت کو سراہا اور طلبہ و اساتذہ سے اس کے تحفظ کی اپیل کی۔

 

اس موقع پر دو کتب ”ہسٹری آف ہنڈریڈ ایئرس آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ (مرتب: پروفیسر ایم سعود عالم قاسمی) اور”الدین“ (مدیران: صالح زاہد علی اور طلحہ) کا اجراء بھی عمل میں آیا۔

 

تقریب کا آغاز پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی (ڈین، فیکلٹی آف تھیالوجی) کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے سر سید کے تعلیمی فلسفہ -تعلیم، تربیت، اور تہذیب – کو متوازن تعلیم کے لیے لازمی قرار دیا۔

 

سیمینار کے موضوع کا تعارف پروفیسر سعود عالم قاسمی (سابق ڈین، فیکلٹی آف تھیالوجی) نے پیش کیا، جنہوں نے دینی تعلیم کو موجودہ چیلنجوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

سیمینار میں پروفیسر عبید اللہ فہد فلاحی، پروفیسر فہیم اختر ندوی، پروفیسر توقیر عالم فلاحی، پروفیسر نسیم احمد خان سمیت ممتاز اسکالرز،مختلف جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔

 

تقریب کی نظامت ڈاکٹر ندیم اشرف نے کی، جبکہ پروفیسر محمد راشد اصلاحی نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

Comments are closed.