نوجوان عالم دین مفتی عطاء الرحمان انوری کو جمعیۃ علماء ہند مالیگاؤں کی اہم ذمہ داری
گروواروارڈ پربھاگ4 کے صدر کی حیثیت سے تقرری پر نوجوانوں میں مسرت کی لہر، گل پوشی و استقبالیہ تقریب کا انعقاد
مالیگاؤں (پریس ریلیز) ریاستی سطح پر جمعیت العلماء ہند کے تنظیمی ڈھانچے کیلئے عہدداروں کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ گذشتہ دنوں شہر مالیگاؤں کے مسلم پورہ علاقے میں واقع مسجد نورالسلام میں بھی انتخاب کے ذریعے مقامی سطح پر جمعیت العلماء مالیگاؤں کے عہدیداران کا انتخاب بحس و خوبی انجام پایا۔
شہر کے وسیع و عریض علاقے گرووار وارڈپربھاگ 4 کیلئے منعقد انتخاب میں معروف عالم دین،ملی و سماجی شخصیت مفتی عطاء الرحمان انوری کو بلامقابلہ صدر منتخب کیا گیا۔اس دوران چار نائب صدور،سیکریٹری اور چارجوائنٹ سیکریٹری کا بھی انتخاب عمل میں آیا۔ گرووار وارڈ پربھاگ 4 کیلئے مفتی عطاء الرحمان انوری کو بلامقابلہ صدر منتخب کئے جانے پر علاقے کی سرکردہ شخصیات نے مسرت کا اظہار کیا۔ علاقے کے نوجوان اور مکرم مسجد کے مصلیان نے مفتی عطاء الرحمان انوری کو اہم ترین ذمہ داری سے سرفراز کئے جانے پر سلیم منشی نگر میں واقع مکرم مسجدسے وابستہ دارافتاء وارشاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ جس میں علاقے کی معززشخصیات کے ذریعے نومنتخب صدر کی گل پوشی کی گئی اور والہانہ استقبال کیاگیا۔
مکرم مسجد کے چیف ٹرسٹی ظفراللہ پہلوان عرف جفاپہلوان اور ذمہ دارانِ مسجد نے گل پوشی کرکے مفتی عطاءالرحمان انوری کا استقبال کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ استقبالیہ تقریب میں مکرم مسجد کے ٹرسٹی ماسٹر عبدالرؤف نے استقبالیہ کلمات میں کہاکہ مفتی عطاء الرحمان انوری کو اہم ذمہ داری کی تفویض قابل مبارکباد ہے اہم امید کرتے ہیں کہ مفتی صاحب اپنے منصب کا بہترین حق ادا کرینگے اور علاقے میں ناگہانی حالات کے پیشِ نظر اپنی خدمات انجام دینگے۔
اس تقریبِ استقبالیہ میں حاجی حیدر پان والا صاحب، ظفراللہ پہلوان ، عبدالراؤف ماسٹر، حافظ انیس جمالی، حافظ فیصل، عبدالراؤف رکشاوالے، حافظ نہال ملی، اسمٰعیل خان علی یار خان فروٹ والے، عمران حاجی، حنیف بھائی پان والے، آمین مستری، صغیر شیخ، سبحان علی اور عبدالمجید عبدالرشید صاحبان نے شرکت کرتے ہوئے مفتی عطاءالرحمان انوری کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مفتی عطاء الرحمان انوری معروف عالم دین مولانا عبدالحمید جمالی کے فرزندارجمند ہیں۔ مرحوم مولانا عبدالحمید جمالی کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ مولانا ایک نہایت فعال ملی و سماجی شخصیت کے مالک تھے اور جمعیت العلما ء کے کارگذار صدرہونے کے علاوہ مختلف سماجی و ملی تنظیموں سے بھی وابستہ تھے۔مرحوم عبدالحمید جمالی کی ملی و مذہبی خدمات کا دائرہ کافی وسیع تھا۔ ان کا قلب ہمیشہ ملت کیلئے دھڑکتاتھا۔ سماجی و ملی کاموں میں مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔کورونا لہر کے دوران ضرورت مندوں میں ریلیف کی خدمات کاکام انجام دیتے ہوئے خودکورونا وائرس کا شکار ہوگئے اور مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے
مفتی عطاء الرحمان انوری نے ملی و دینی خدمات کا جذبہ اپنے والدمحترم سے وراثت میں پایا۔ مفتی عطاء الرحمان انوری مقامی سطح پر ملکی و ملی مسائل کے حل کے علاوہ شہری سطح پر بھی مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سرگرم عمل رہتے ہیں اصلاح معاشرہ مفتی عطاء الرحمان کا خاص میدان ہے۔ شریعت کی رو سے عوام کی رہنمائی اور اسلامی طرز عمل کے فروغ کے معاملے میں بھی موصوف کی سرگرمی قابل تقلید ہے۔ اصلاح معاشرے کیلئے بیداری مہم میں نہ صرف بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں بلکہ قائدانہ رول بھی اداکرنے کیلئے سرگردہ رہتے ہیں۔مقامی سطح پر اصلاح معاشرے کیلئے سرگرم علماء اکرام میں مفتی عطاء الرحمان انوری کا بھی شمار ہوتا ہے۔
مفتی عطاء الرحمان انوری سلیم منشی نگر میں واقع مکرم مسجد میں امام و خطیب کی خدمت انجام دینے کے ساتھ ساتھ مکرم مسجد میں واقع دارالافتاء و ارشاد کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ جامعہ دارالقرآن و سنہ کے مہتمم کی حیثیت سے بھی مدرسے کی ذمہ دارنبھارہے ہیں جہاں بڑی تعداد میں طالبان علم حفظ اور عالمیت کے درجات میں علم دین کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ نسل نو میں دینی تعلیم کے فروغ اوران کی دینی تربیت کو لیکران کی فکرمندی اور عملی کوشش قابل ستائش ہیں۔
مفتی عطاء الرحمان نے گجرات کے دابھیل میں واقع معروف درسگاہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین سے حفظ و عالمیت کی تعلیم حاصل کی۔ مردم حیزخطے ریاست اترپردیس کے مرادآباد میں واقع معروف درسگاہ جامعہ شاہ ولی اللہ سے عربی ادب و افتاء کی اعلی تعلیم حاصل کی۔
جمعیت العلماء ہند کی جانب سے باقدر عہدے کی تفویض پر نوجوانان آزادنگر،سلیم منشی نگر، گاندھی نگر، مدنی نگر، ایوب نگر اور امن پورہ اور متصلہ علاقوں اور پربھاگ4 کے علاقوں کے نوجوانوں اور سرکردہ شخصیات نے مسرت کے اظہار کے ساتھ موصوف کو مبارکباد پیش کیں۔
Comments are closed.