وقت بہت کم ہے اس لئےووٹر لسٹ میں اپنا نام لازمی طور پر جلد درج کرالیں : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی

 

پھلواری شریف(پریس ریلیز) امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ جمہوری نظام میں حق رائے دہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے بہار اسمبلی 2025 کے انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمیشن آف انڈیاکے ذریعہ ووٹرلسٹوں پر خصوصی نظر ثانی کا عمل شروع ہوا ،جس کے لئے انہوں نے اپنے پہلے مرحلہ کا کام یکم اگست تک مکمل کرلیا ہے ، اوراس سلسلہ میں ڈرافت ووٹر لسٹ بھی جاری کردی ہے البتہ اس میں ہونے والی خامیوں کو دور کرنے ،دستاویزات جمع کرنے، نام کو شامل کرنے ، درست کرنے یا حذف کرنے کے لئے دوسرے مرحلہ کا کام۳۱؍اگست تک جاری رہے گا ، اسکے لئے الیکشن کمیشن نے بہار کے ویب سائٹ www.electioncommissionbihar.gov.in پر ووٹروں کی انتخابی فہرست کے مسودے کو بوتھ وائز پراپلوڈ کردیاہے تاکہ لو گ اپنے ناموں کی تفتیش کرکے آگے کی کارروائی کرلیں ، لہذا ملک کے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ ہم سب اپنے ووٹر آئی کارڈ لازمی طور پر بنوالیں ،یہ ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے اور مذہبی فریضہ بھی، اگر آپ نے پہلے مرحلہ میں ناموں کا اندار ج کرالیا ہے تو اپنے مو بائل ایپ کے ذریعہ آن لائن چیک کرلیں یا آف لائن درخواست دے کراپنے مستنددستاویزات کے ساتھ اپنے حلقہ کے BLO سے رجوع کریں ،سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق ووٹر لسٹ سے جن کا نام ہٹادیا گیا ہے ان کا نام دو بارہ جڑوانے کے لئے فارم 6 بھر نا ہو گا اور اس کے ساتھ آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی لگانی ہوگی اس کے لئے BLO سے رجوع کریں یا خود آن لائن فارم 6 بھریں اور آدھار کارڈ کی فو ٹو کاپی بھی اپ لوڈ کردیں ، یہ نہایت ہی اہم ضروری کام ہے کیو نکہ جب فائنل ووٹرلسٹ منظر عام پر آئے گی اور خدانخواستہ ہماری غفلت و سستی کے باعث نام شامل نہیں ہوسکا تو ہم رائے دہی کے حق سے محروم رہ جائیں گے اور عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری شہریت بھی مشکوک ہوجائے ، کیونکہ ابھی پہلے مرحلہ کے ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں 65 لاکھ لوگوں کے نام حذف کردیئے گے ہیں جس میں اقلیتی طبقات شیڈول کاسٹ اور مسلمانوں کی تعداد کا تناسب کچھ زیادہ ہے ، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اعتراض و اصلاح کا موقع دیا ہے ، ہم سب اس سےضرور فائدہ اٹھائیں،عدالت عظمیٰ نے ان حذف شدہ ناموں کی فہرست طلب کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ گیارہ دستاویزات کے ساتھ آدھار کارڈ کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ۱۸؍ سال کی عمر تک کے کسی شہری کا نام چھوٹنے نہ پائے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شہریوں کے حقوق سیاسی پارٹیوں پر منحصر نہیں ہونے چاھئیں چنانچہ الیکشن کمیشن نے اپنے پریس کانفرنس میں ان خامیوں کو دور کرنے اور ووٹر لسٹ میں شفافیت لانے کا وعدہ کیا ہے ، ہم سب کو اس پر نظر بھی رکھنی ہے،یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جن لوگوں نے یکم جولائی تک ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کرلی ہے یا اکتوبر تک ۱۸؍سال کی عمر مکمل کرلیں گے وہ بھی فارم 6؍ اورڈیکلریشن فارم جمع کرسکتے ہیں ،لہذ ا وقت رہتے ہوئے ووٹرلسٹ میںنام کا اندراج کرانا نہایت ضروری ہے ،ورنہ بعد میں افسوس کرنا ہوگا اور وہ وقت نکل چکا ہوگا، ویسے بھی الیکشن کمیشن ووٹر وں کو ان کے رائے دہی کے حق سے محروم کرنے اور جعلی ووٹروں کے نام شامل کرنے کی مبینہ کو شش کی ہے جس کو حزب اختلاف نے بے نقاب کردیا ہے ،ایسے نازک حالات میں ہماری قومی اور ملی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہم سب چاک وچوبند ہو کر اپنے نام کو لازمی طور پر ووٹرلسٹ میں شامل کرنے کی جدو جہد کریں ، اس سلسلہ میں ناظم صاحب نے امارت شرعیہ کی تنظیم کےضلعی و بلاک صدور سکریٹریز، نقباء، مخلصین و محبین علماء مدارس اور سماجی و سیاسی خدمتگاروں سے گزارش کی ہے کہ و ہ اس سلسلہ میں متحرک کردار ادا کریں اور جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں اب تک درج نہیں ہو سکے ہیں انہیں توجہ بھی دلائیں اور رہنمائی کرکے ناموں کا اندراج کروائیں ،ائمہ مساجد جمعہ کے خطاب میں اس کو موضوع سخن بنائیںاور لوگوں کو ووٹ کی شرعی حیثیت سے واقف کرائیں اور جن کے پاس ووٹر آئی کارڈ نہیں ہے انہیں ووٹر آئی کارڈ بنوانے پر آمادہ کریں ۔

Comments are closed.