مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
”عصری درسگاہوں میں اسلامی علوم پر مطالعہ و تحقیق: منہج و مقصد“ کے عنوان پر اے ایم یو میں دو روزہ قومی سیمینار کی تکمیل
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنی دینیات میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ”عصری درس گاہوں میں اسلامی علوم پر مطالعہ و تحقیق –منہج و مقصد“ کی آخری نشست،شعبہ سنی دینیات کے سینٹرل ہال میں منعقد ہوئی۔
پروفیسر کفیل احمد قاسمی، سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ پندرہویں صدی کے اوائل سے عالم اسلام میں عربی تہذیب و تمدن کے تاریخ ساز کارناموں اور اسلامی تاریخ میں ان کے راہ نما کرداروں کو واضح کرنے کی مختلف جہات سے کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔جہاں ایک طرف مستشرقین اور جملہ معاندین کی غلطیوں کی نشان دہی کی جائے وہیں دوسری طرف مسلم فضلاء اور جواں سال محققین کی توجہ معاندین اور مستشرقین کی دسیسہ کاریوں کی طرف مبذول کرائی جائے اور الحمد للہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی، جامعہ ہمدرد اور اس کے مماثل وہ تمام ادارے جہاں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں وہاں کے اساتذہ اور طلبہ اس کام کوبہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔
مہمان خصوصی پروفیسر اختر الواسع، ایمریٹس پروفیسر، شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ محقق کو سیاق و سباق پر بھی توجہ دینی چاہئے،صرف متن پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ورنہ گمراہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔انھوں نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نئے زمانے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے وجود میں آئی،بانی درس گاہ سرسید احمد خاں کی یہی منشا تھی۔
مہمان اعزازی پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے منہج تحقیق پر زور دیتے کہا کہ ریسرچ کے طالب علم کو پورے انہماک کے ساتھ اپنی ریسرچ کو اعلیٰ پیمانے پر لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے، سرسری اور سطحی تحقیق سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ اس کی تحقیق معیاری کہلانے کی مستحق ہو۔ کامیاب محقق وہ ہے جومستقل اپنے موضوع میں منہمک رہے۔
سیمینار کے ڈائرکٹر،فیکلٹی کے ڈین اور صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد حبیب اللہ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سیمینار چھ نشستوں پر مشتمل تھا جس کی افتتاحی اور پہلی علمی نشست آرٹس فیکلٹی کے لاؤنج میں جب کہ باقی تمام نشستیں شعبہ سنی دینیات میں منعقد ہوئیں جن میں ملک کی مختلف جامعات اور علمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 55 محققین نے اپنے مقالات پیش کیے۔ اکثر مقالے اردو میں پڑھے گئے، تاہم انگریزی مقالات کے لئے مستقل ایک نشست منعقد ہوئی، جب کہ ایک مقالہ عربی میں پڑھا گیا۔ اس کثیر لسانی تنوع نے سیمینار کو زیادہ جامع اور ہمہ جہت بنا دیا۔
مقالات میں جن پہلوؤں کو زیرِ بحث لایا گیا ان میں ملک کی مختلف جامعات میں اسلامی علوم کی تدریس اور منہج تحقیق، اسلامی علوم پر لکھے گئے تحقیقی مقالات اور ان کا منہج، عصری اداروں کے نصاب میں اخلاقی تعلیم کی ضرورت واہمیت، اسلامی علوم کی تدریس میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال، شعبہ سنی دینیات میں اسلامی علوم اور مطالعہ مذاہب پر لکھے گئے تحقیقی مقالات کا منہج جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان کے علاوہ متعدد دیگر علمی عنوانات پر مقالات پیش کیے گئے، جو اپنی انفرادی خصوصیات کے باعث نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔
ڈائریکٹر سیمینار نے سیمینار کے موضوع سے متعلق سفارشات و تجاویزپیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کے مقالات، مباحث اور علمی گفتگو کی روشنی میں درج ذیل سفارشات پیش کی جاتی ہیں: تحقیقی مناہج کا عملی انطباق: طلبہ و محققین کو محض مواد جمع کرنے پر اکتفا نہ کرنے دیا جائے بلکہ انہیں تحقیقی طریق ہائے کار کے عملی انطباق کی تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنی تحقیق کو عالمی سطح کے معیار پر پیش کر سکیں۔
عالمی شہرت یافتہ زبانوں میں تحقیق کی ترغیب: اردو کے ساتھ ساتھ عربی اور انگریزی میں بھی تحقیقی کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ہماری تحقیقات بین الاقوامی سطح پر زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچ سکیں۔جدید مسائل پر توجہ: فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر اسلامی علوم کے تحقیقی مقالات میں معاصر معاشرتی، سماجی، سائنسی اور قانونی مسائل پر زیادہ زور دیا جائے تاکہ اسلامی علوم کی عملی افادیت سامنے آئے۔ درسگاہوں اور اساتذہ و طلبہ کاآپسی تعاون: ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں اور وہاں کے اساتذہ و طلبہ کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ طلبہ اور محققین ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ڈیجیٹل وسائل اور جدید ٹکنالوجی کا استعمال: اسلامی علوم کی تدریس و تحقیق میں ڈیجیٹل ٹکنالوجی، آن لائن مخطوطات اور جدید سافٹ ویئر کے استعمال کو عام کیا جائے تاکہ تحقیق زیادہ منظم اور آسان ہو سکے۔تحقیقی رسائل کی اشاعت: اس نوعیت کے سیمینار میں پیش کیے گئے مقالات کو مرتب کر کے تحقیقی رسائل یا کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ یہ افکار وسیع حلقوں تک پہنچیں۔اخلاقی و فکری رہنمائی کا پہلو: عصری درسگاہوں میں اسلامی علوم کو صرف نصابی تقاضا نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے ذریعے طلبہ کو فکری رہنمائی، اخلاقی بصیرت اور سماجی شعور فراہم کرنے پر بھی زور دیا جائے۔
پروگرام کے کنوینر سابق ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر سعود عالم قاسمی نے مہمانوں کی امتیازات بیان کرتے ہوئے کلمات تشکر پیش کئے۔پروگرام کا آغاز قاری محمد اجمل کی تلاوت سے ہوا اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ناصر نے بحسن و خوبی انجام دئے۔
٭٭٭٭٭٭
فیڈریشن آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنئی ایسوسی ایشنز کی نئی قیادت نے ذمہ داریاں سنبھالیں
علی گڑھ، 25 اگست: فیڈریشن آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنئی ایسوسی ایشنز (ایف اے اے اے) نے مسٹر افضل عثمانی کو اپنا نیا صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اے ایم یو کے نمایاں سابق طالب علم اور کمیونٹی رہنما ہیں، اور 2025–2026 کی مدت کے لیے علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ٹیم میں محترمہ نائلہ سعید (ٹورنٹو) بطور سکریٹری اور جناب علی فخرالدین صدیقی (ٹیکساس) بطور خازن شامل ہیں۔ دونوں جولائی 2024 سے ایف اے اے اے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں فعال خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں کے لیے بھرپور تنظیمی تجربہ رکھتے ہیں۔
اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہوئے جناب عثمانی نے کہا ”مجھے فیڈریشن کا صدر بننے پر فخر ہے۔ اے ایم یو نے ہمیں علم اور کردار کی مضبوط بنیاد دی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی مادر علمی کی حمایت کر کے، اپنی کمیونٹی کو بلند کر کے، اور سر سید کی میراث کو شمالی امریکہ میں سابق طلبہ کی مشترکہ کوششوں سے زندہ رکھ کر ادارے کی خدمت کریں“۔ ان کی قیادت میں فیڈریشن کئی نئے اقدامات کا منصوبہ رکھتی ہے، جن میں نوجوانوں کی شمولیت کے پروگرام، رہنمائی کے مواقع، وظیفہ اسکیمیں، ڈیجیٹل روابط، اور اے ایم یو انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہیں۔ ان کا وژن نہ صرف امریکہ اور کینیڈا میں سابق طلبہ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے پر مرکوز ہے بلکہ اے ایم یو کے طلبہ کے لیے وظائف اور تعلیمی اشتراک کے مواقع کو بڑھانے پر بھی ان کی توجہ ہے۔
فیڈریشن نے سبکدوش ہونے والی قیادت کی شاندار خدمات کو بھی سراہا۔ سبکدوش صدر ڈاکٹر نوشاد خان غلزئی (اٹلانٹا) کو فیڈریشن کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سبکدوش سکریٹری ڈاکٹر شعیب احمد (اٹلانٹا) اور سبکدوش خازن جناب کوثر زیدی (اپ اسٹیٹ نیویارک) کا بھی ان کی وابستگی اور خدمت پر شکریہ ادا کیا گیا۔
فیڈریشن نے اپنے حالیہ بورڈ انتخابات کے نتائج کا بھی اعلان کیا، جہاں تمام عہدوں پر متفقہ طور پر انتخاب عمل میں آیا۔ منتخب ہونے والے نئے اراکین میں ڈاکٹر عبدالجبار خان (اے اے اے یو این وائی، البانی، نیویارک) بطور صدر منتخب، جناب شاہ فیصل خان (اے اے اے گریٹر شکاگو) بطور سکریٹری، جناب شاہ شعیب فیضان (اے اے اے نیویارک) بطور خازن، جناب کوثر عثمانی (اے اے اے نیویارک) بطور رکن بورڈ آف ٹرسٹیز شامل ہیں۔
پروفیسر سرتاج تبسم، چیئرمین، اے ایم یو الومنئی افیئرز کمیٹی نے سبھی عہدیداروں اور اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ”جناب عثمانی کی اے ایم یو الومنئی کمیونٹی کے تئیں وابستگی قابل تعریف ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں یہ نیٹ ورک عالمی سطح پر ترقی کرتا رہے گا اور اثر انداز ہوتا رہے گا“۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ فیڈریشن، شمالی امریکہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی الومنئی ایسوسی ایشنز کا اتحاد ہے جس کا مقصد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی میراث کو محفوظ رکھنا، تعلیمی ترقی پر زور اور دنیا بھر میں اے ایم یو کے سابق طلبہ کے درمیان اتحاد و اشتراک کو فروغ دینا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایم بی اے کے نئے طلبہ کے لیے اورینٹیشن پروگرام منعقد
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ایم بی اے کے نووارد طلبہ کے لیے ایک اورینٹیشن پروگرام منعقد کیاجس کا مقصد نئے طلبہ کو خوش آمدید کہنا اور انہیں شعبے کے وژن، نصاب، وسائل، اور دستیاب مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔
صدر شعبہ پروفیسر سلمیٰ احمد نے طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو محنت، لگن اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھیں۔ انہوں نے اساتذہ اور معاون عملے کا تعارف بھی کرایا جو طلبہ کی مکمل رہنمائی کریں گے۔
پروفیسر جمال اے فاروقی نے نصاب اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط سمیت تعلیمی ڈھانچے اور اسسمنٹ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ولید احمد انصاری نے طلبہ کو تعلیمی وسائل اور ’مینٹر-مینٹی‘ اسکیم سے روشناس کرایا اور اساتذہ کی رہنمائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر آصف علی سید نے ”کلاس روم سے آگے — ہم نصابی سرگرمیاں“ موضوع پر گفتگو کی اور طلبہ کو ہمہ جہت ترقی کے تمام مواقع میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی۔ پروفیسر فضا تبسم اعظمی نے صنعتوں میں انٹرن شپ کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر اسد رحمان نے ملازمت کے مواقع اور کریئر کی تیاری کے متعلق تفصیل سے بات کی۔
سینئر طلبہ فاطمہ انتخاب اور امام صدیقی نے اپنے تجربات بیان کیے اور نو وارد طلبہ کو مفید مشورے دیے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر زرین حسین فاروق نے کی، جبکہ ڈاکٹر لمے بن صابر نے شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے دوران ’اینٹی ریگنگ آگہی ہفتہ‘ کے تحت ایک مشترکہ سرگرمی کا اہتمام کیا گیا، جس میں سینئر اور جونیئر طلبہ نے مل کر مختلف آرٹ و کرافٹ پروجیکٹوں پر کام کیا۔ اس کا مقصد ریگنگ کی روک تھام کے سلسلہ میں بیداری پیدا کرنا اور ہم آہنگی و احترام کو فروغ دینا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ کامرس نے انتریپرینیئرشپ کو فروغ دینے کے لیے شیور پروگرام کے پانچویں ایڈیشن کا آغاز کیا
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کامرس نے ”اسٹیمولیٹنگ اربن رنیول تھرو انٹریپرینیئرشپ“ (شیور) پروگرام کے پانچویں ایڈیشن کا آغاز کردیا ہے۔ شہری ترقی میں پائیدار کاروباری اقدامات کو فروغ دینے کے مقصد سے بارہ ہفتوں پر مشتمل یہ ورکشاپ، امریکہ کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے باؤر کالج آف بزنس کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔شعبہ کامرس کی پروفیسر آسیہ چودھری (اے ایم یو) اور پروفیسر صالحہ کھمّاوالہ (یونیورسٹی آف ہیوسٹن) کے مابین یادداشت مفاہمت (ایم او یو) کے تحت یہ ورکشاپ ہورہی ہے۔
افتتاحی تقریب میں اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر اور شیور پروگرام کے چیئرمین پروفیسر محمد محسن خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے جدید شہری مسائل کے حل میں انتریپرینیئرشپ کی اہمیت پر زور دیا اور شرکاء کو وقت کی قدر کرنے اور اپنا کاروباری برانڈ بنانے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
اے ایم یو کے رجسٹرار جناب محمد عمران آئی پی ایس نے کاروباری صلاحیت کو معیشت کی ترقی اور سماجی تبدیلی کا محرک قرار دیا۔ انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ٹکنالوجی میں جدت کو اپنی کاروباری کوششوں کا حصہ بنائیں، اور صارفین کی تسکین اور قدر کی تخلیق پر توجہ دیں۔
پروگرام کی کنوینر، پروفیسر آسیہ چودھری نے شیور پروگرام کا تعارف کرایا اور اس کے مقاصد و دستیابیوں پر روشنی ڈالی۔ 2022 میں آغاز کے بعد سے، اس پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 250 شرکاء کو تربیت دی جا چکی ہے، جن میں سے 45 نے کامیابی کے ساتھ اپنے کاروبار شروع کردئے ہیں۔
افتتاحی تقریب ڈاکٹر محمد صئیم خان کے کلماتِ تشکر پر تکمیل کو پہنچی۔ اس کے بعد تکنیکی سیشن کا سلسلہ شروع ہوا جن میں شرکاء کو کاروباری امور کے مختلف پہلوؤں کی تربیت دی جارہی ہے۔
Comments are closed.