اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے آپ کو اخلاق مصطفوی سے متصف کریں: مولانا انیس الرحمن قاسمی
ربیع الاول کے موقع پرقومی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل مد ظلہ العالی کا پیغام
پھلواری شریف: 25 اگست (پریس ریلیز)
ربیع الاول کا مہینہ اسلامی تاریخ ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک پاکیزہ اور مقدس انقلاب کی علامت ہے، یہ وہ مہینہ ہے، جس میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، پیغمبر اسلام، خاتم النبیین،سیدالانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اور دنیامیں ایک مقدس و پاکیزہ انقلاب کی بنیاد رکھی،جو دنیا کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اعلیٰ اخلاق، انسانی اقدار، محبت، شرافت، انسانی ہمدردی، غمخواری، کمزوروں، ضعیفوں، یتیموں، بیواو?ں کی خبرگیری، رحمد لی، صداقت و امانت اور عدل وانصاف کی اعلیٰ ترین مثال اور نمونہ ہے، ایک بہترین اور آئڈیل انسان کے اندر جتنی بھی خوبیاں اور کمالات ہو سکتے ہیں وہ سب آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانے سے لے کر آج تک ہر وہ آدمی جو حق و صداقت کا معترف ہے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ ان کے سامنے اپنی جبین عقیدت کو خم کیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپ کی تعلیمات کو اپنا کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی۔ ہم تمام مسلمانوں کے لیے یہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت اور اس کا خاص فضل ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا ہے، ہم اس نعمت اور فضل پر اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے، اور شکر کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی سنتوں کے مطابق ڈھال لیں۔
یہ باتیں آل انڈیا ملی کونسل کے قومی کارگزارصدرامیرشریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے اپنے پیغام میں کہیں۔
مولانا نے مزید کہا کہ ربیع الاول کا مہینہ ہر سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام پوری دنیا کے سامنے پیش کیا اور جن اخلاق و صفات کی تعلیم دی،ہم پہلے ان خوبیوں اور اخلاق و صفات کو اپنے اندر پیدا کریں اور دنیا کے سامنے عملی طور پر ان کو پیش کریں۔یہی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اور ان سے حقیقی محبت و عقیدت کی علامت ہے۔ ربیع الاول کا یہ مہینہ ہم مسلمانوں کو ہماری ذمہ داری کا احساس کراتا ہے کہ اللہ نے جس مشن کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا یعنی پوری دنیا میں اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور خدائے وحدہ لاشریک کے پسندیدہ دین کو قائم کرنے کے لیے اور جو مشن آپ کے بعد رہتی دنیا تک کے لیے امت کے علماء اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ذمہ کر دیا گیا ہے، کیا ہم اس ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں؟
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے ہماری حقیقی محبت و عقیدت تب ثابت ہوگی جب ہمارا ہر عمل اور ہماری پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کی تعلیمات کے مطابق گذرے گی،ا ور ہماری اجتماعی و انفرادی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کی تعلیمات کا عملی نمونہ بنے گی۔ربیع الاول کا یہ مہینہ ہمیں اپنی زندگی کے اندر تبدیلی لانے کی بھی دعوت دیتا ہے۔
یقینا ربیع الاول کا مہینہ تمام مسلمانوں کے لیے بے انتہا خوشی کا مہینہ ہے، لیکن ساتھ ہی یاد رکھنا چاہئے کہ اسی مہینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال بھی ہوا، جو کہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری کائنات کے لیے ایک عظیم سانحہ اور غم و رنج کا موقع ہے۔ اس لیے جہاں ہمیں ولادت نبی کی خوشی نصیب ہوئی تو دوسری طرف رحلت نبی کا غم بھی اس مہینہ میں ہمارے حصہ میں آیا، اور خوشی و رنج دونوں صورتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کریں، ایسے با برکت موقع سے بعض غیر شرعی رسوم و رواج کا چلن ہو گیا ہے، ہم سبھوں کو ایسی کارروائیوں سے پورے طور پر بچنا چاہئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو خوشی کے موقع پر شور و شغب اور ہنگامہ آرائی کو پسند کیا ہے اور نہ رنج و الم کے موقع پر نوحہ و گریہ اور ماتم و سینہ کوبی کی تعلیم دی ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کا مطالعہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت کریں، توبہ و استغفار کی کثرت کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور پیغام امن کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کی جائے، اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنی زندگی میں سنت نبوی کو داخل کرنے کی محنت اور عزم کیا جائے۔
اس ربیع الاول اگر مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کیا جائے تو سیرت نبوی کے پیغام کو عام کرنے اور اس بارے میں غلط فہمیوں کے ازالہ میں بڑی کامیابی ملے گی۔
ہندوستان کی قومی اورعلاقائی زبانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر مختصر لٹریچر شائع کر کے برادران وطن میں تقسیم کیا جائے،تاکہ آپ کی تعلیمات سے پوری انسانیت فائدہ اٹھا سکے۔
اخبارات کے ذمہ داروں اورصحافیوں کو چاہئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ہر انسان تک پہنچانے کے لیے آگے قدم بڑھائیں سیرت رسول کے مختلف گوشوں پرمضامین شائع کرتے رہیں نیزاصحاب ثروت سے گزارش کی جاتی ہے،کہ وہ سیرت رسول اوردینی کتابوں ورسالوں کی اشاعت میں بھرپور تعاون پیش کریں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، اب نہ کوئی نبی آئے گا،نہ کوئی کتاب اتاری جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے،ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔اس عقیدہ پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا ہے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی پیشین گوئی فرمادی تھی،کہ میرے بعد تیس(30) جھوٹے آئیں گے، ان میں سے ہر کوئی اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔حالاں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ان ہی جھوٹے دجالوں میں ایک شکیل ابن حنیف ہے۔ شکیلیت کافتنہ پھیل رہا ہے اوراس کے ایجنٹ بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسارہے ہیں،اس لیے تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مسلسل کوشاں رہیں، نیز علماء اورائمہ مساجد پر خاص طورپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فتنہ شکیلیت کا تعاقب کریں،اس کے خلاف ہندی اوراردوزبانوں میں لٹریچر تیار کریں،جمعہ میں ختم نبوت کو اپنی تقریر کا لگاتار موضوع بنائیں۔
مدارس،اسکولوں اورکالجز اورتمام چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں،انتظامیہ، صدرمدرسین سے گزارش ہے کہ وہ سیرت طیبہ کو اپنے نصاب کا لازمی جز بنائیں اورابتدائی درجات میں کم از کم ایک گھنٹہ سیرت پاک کار کھیں،تاکہ نئی نسل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس وسیرت سے واقفیت بھی ہو اورمحبت بھی۔اسی طرح یہ بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے یہاں وقتاً فوقتاً سیرت کے پروگرام،مثلاً سیرت کوئیز،سیرت پر تقریری وتحریری مقابلے وغیرہ منعقد کرائیں اور ائمہ مساجد سیرت کے مختلف گوشوں کواپنے خطاب کاموضوع بنائیں،تاکہ عوام وخواص سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقف ہوں۔
نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھیں اوراس کو اپنی زندگی میں بھی اتاریں، نیز دین کے داعی بن کر معاشرہ میں زندگی گزارنے کی کو شش کریں،اس موقع پر ڈیجیٹل ذرائع کابھی استعمال کریں،ڈیجیٹل ذرائع کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں تحقیق کے نئے نتائج اور مواد کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے، جس سے لوگوں کو مستند اور جدید معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ڈیجیٹل سیرت نبوی کے ذریعے فراہم کی جانے والے مواد کوکئی طریقوں سے عام انسانوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
(۱) ای-کتابیں اور مضامین:سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی مستند کتابوں جیسے:”سیرت بن اسحاق“،”الرحیق المختوم“،”سیرت ابن ہشام“،”سیرت النبی“،”سیرت المصطفیٰ“، ”رحمۃللعالمین“وغیرہ کو ای-کتابوں کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے، جو قارئین کو آسانی سے دستیاب ہوں۔
(۲) ویب سائٹس اور بلاگز:ویب سائٹس اور بلاگز پر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوعات کو تفصیل سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر محققین اور علماء کے آرٹیکلز اور تحقیقی مضامین فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
(۳)ویڈیو ڈاکومنٹریز اور لیکچرز:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اہم واقعات، غزوات اور تعلیمات کو ویڈیوز اور ڈاکومنٹریز کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے، جو دیکھنے والوں کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
(۴) پوڈکاسٹس اور آڈیو ریکارڈنگز:پوڈکاسٹس اور آڈیو ریکارڈنگز کے ذریعے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوؤں کو آسانی سے سننے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہ خاص طور پر سفر اور مصروف اوقات کے دوران مفید ہوتے ہیں۔
(۵) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز:سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب، اور انسٹاگرام پر مختصر ویڈیوز، تصاویر اور پوسٹس کے ذریعے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کیا جاسکتا ہے، جس سے لاکھوں افراد تک رسائی ممکن ہے۔
ڈیجیٹل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کے لیے مندرجہ ذیل ضروری اقدامات بھی لازمی ہیں:
(۱) مستند مواد کی تیاری:ڈیجیٹل مواد کو قرآن و سنت کی روشنی میں تیار کرنا ضروری ہے؛تاکہ معلومات کی صداقت اور افادیت برقرار رہے۔
(۲) جدید ٹیکنالوجی کا استعمال:ویڈیو اینیمیشنز،3Dگرافکس اور ورچوئل ریالٹی کا استعمال سیرت کو مزید دلچسپ اور جامع بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
(۳) یوزر فرینڈلی انٹرفیس:ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جائے کہ ہر عمر اور تعلیمی پس منظر کے لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔
(۴) مختلف زبانوں میں مواد کی دستیابی:سیرت کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
(۵) مستقل اپ ڈیٹس اور تحقیق:مواد کو مستقل طور پر اپ ڈیٹ کرنا اور نئی تحقیق کو شامل کرنا ڈیجیٹل سیرت کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
ڈیجیٹل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا جدید اور مؤثر ذریعہ ہے، جس کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اخلاقیات کو دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد صرف علم کا فروغ نہیں؛ بلکہ انسانوں کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب پیدا کرنا ہے؛ تاکہ ایک پرامن، عادل اور متوازن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
آئیے اس ربیع الاول میں ہم عہد کریں کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں گے اور کم از کم ہر شخص ایک آدمی کو ضرور سیرت نبوی کے مطالعہ کی ترغیب دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنت کے مطابق چلنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
Comments are closed.