ماہ ربیع الاول میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت نوازی اور ان کی تعلیمات وہدایات کو عام کریں:محمد شبلی القاسمی
پھلواری شریف،26/اگست(پریس ریلیز)
امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ کی آمد نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ دنیا کی ہر مخلوق، حتیٰ کہ پودوں، جانوروں، زمین و آسمان اور ان کے درمیان موجود ہر شے کے لئے رحمت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(ترجمہ)اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا؛ مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر۔(سورۃ الانبیاء، آیت 107)اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود عالمین کے لئے رحمت ہے۔
مولانامحمد شبلی القاسمی نے کہا کہ اس ماہِ مبارک میں علماء کرام، خطباء اور اہلِ علم و دانش کو چاہیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، ہدایات اور پیغامات کو اجاگر کریں۔ مثال کے طور پر کسی جلسہ یا تقریر کا عنوان:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغامِ امن،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغامِ انصاف،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کمزوروں کے حقوق،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خواتین کے حقوق، وغیرہ رکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت، نفرتوں اور صدیوں پرانی جنگ و جدال کا خاتمہ فرمایا۔ برادرانِ وطن کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ذریعہ دور کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے اپنے بڑے سے بڑے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا، حتیٰ کہ جب ایک شخص نے آپ کو تلوار سے قتل کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا تو اس موقع پر بھی آپ نے اسے معاف کردیا۔ ایسے واقعات کو عوام اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کے درمیان پیش کیا جانا چاہیے؛ تاکہ ان کے دلوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو۔
مولانا محمدشبلی القاسمی نے کہا کہ اسکولوں، مدارس، مکاتب اور کالجوں میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پروگرام منعقد کرنے چاہئیں۔ کالج کے طلبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی، محنت کشی، رزقِ حلال کے لئے جدوجہد اور علم و عبادت کے واقعات سے واقف کرایا جائے۔ خواتین کے درمیان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کی قربانیوں، صبر و ایثار اور کردار کو بیان کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی سیرتِ طیبہ سے روشنی حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے،نیز آپ نے فرمایا: مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بعثت کا مقصد تعلیم دینا اور اخلاق و کردار کی بلندی کو ظاہر کرنا تھا؛ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول میں ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں، بستیوں اور باذوق مقامات پر سیرت کے چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کریں۔ ہندی زبان میں پمفلٹ شائع کرکے برادرانِ وطن تک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائیں؛ تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں اور امن و رواداری کو فروغ ملے۔
انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبوں اور مزدوروں کی بڑی قدر کی ہے۔ ایک موقع پر آپ نے ایک مزدور کے گھٹے ہوئے ہاتھ کو چوم لیا اور فرمایا کہ جہنم کی آگ ان ہاتھوں کو نہیں چھو سکتی جو حلال روزی کے لئے محنت کرتے ہیں۔ ایسے واقعات کو اجاگر کرنے سے معاشرے میں محنت، دیانت اور انصاف کے جذبات پیدا ہوں گے۔
مولاناقاسمی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لئے نہیں؛بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو صالح معاشرے کی تشکیل، اعلیٰ اخلاق و کردار کے فروغ اور تعلیمی میدان میں جدوجہد کے لئے وقف کریں۔ اپنے بچوں کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنائیں اور خواتین کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں اور جدوجہد سے روشناس کرائیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ ماہ ہمیں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں؛ بلکہ ان کی سیرت و تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور دنیا تک ان کے پیغامِ رحمت کو پہنچائیں۔
Comments are closed.