راہل گاندھی، کانگریس اور ہندستانی مسلمان

مرشد کمال

وطن عزیز اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی بے ثباتی، سماجی و اخلاقی بحران اور افکار و نظریات کی ایسی زبوں حالی ہندستان کی تاریخ نے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ خوف اور دہشت ہر پل اپنا سایہ دراز کرتا جارہا ہے ۔ بے یقینی اور بد اعتمادی کی فضا نے ملک کے ایک بڑے طبقے میں افسردگی اور مایوسی کا احساس پیدا کردیا ہے۔ ہر آنے والا کل گزرے ہوئے کل سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا نظر آتا ہے۔ انصاف اور حق پسندی کی آوازیں بھی دھیرے دھیرے کمزور ہوتی جاتی ہیں۔ آزاد اور خود مختار آئینی ادارے جن پر جمہوری نظام کی بنیادیں ٹکی ہیں وہ اقتدار کی محکوم ہوچکی ہیں یا جبراً بنا لی گئ ہیں۔کرونی سرمایہ داروں نے ٹی وی چینلوں کے ذریعہ صبح وشام نفرت و عداوت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ آزاد اور سنجیدہ صحافت قصہ پارینہ بن چکی ہے – حزب اختلاف کی اکثر سیاسی پارٹیوں نے بھی رسمی مخالفت کی راہ اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت تلاش کررکھی ہے۔ سرنگ کی دوسری جانب روشنی کی کوئی رمق دکھائی نہیں دیتی ۔ ایسے مایوس کن اور دل برداشتہ کرنے والے حالات میں ان ہوائے مخالف کے خلاف کوئی شخص اگر اکیلا کھڑاہے تو اس مرد آہن کا نام راہل گاندھی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے عزم و عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہوائیں خواہ کتنی ہی مخالف کیوں نہ ہوں اگر آپ کے پاس مادر وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے، آپ کی نیت میں اخلاص ہے اور آپ کے نظریا ت کی جڑیں گہری ہیں تو کوئی وجہ نہیں کی نفرت کی ان سیاہ آندھیوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ راہل گاندھی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کانگریس کے علاوہ ملک میں کوئی ایسی جماعت موجود نہیں ہے جس کی قیادت میں ملک کو خون آشام مستقبل کے خدشات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ذمہ داری کے اسی احساس ، یقین اور عزم مصمم کے ساتھ انھوں نےتاریخی یاتراؤں کی شروعات کر ڈالی۔ عوام کا ریلا شہروں، قصبوں، قریوں سے ان کے پیچھے ہو لیا۔ ایسی پزیرائی جس کی توقع شاید راہل گاندھی کی اپنی پارٹی کے لیڈران کو بھی نہیں تھی ۔

 

راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس اپنے درخشاں ماضی اور عظیم الشان تاریخ سے خود کو جوڑنے کی سعی میں مصروف ہے۔ گاندھی، نہرو اور آزاد کے اس فلسفے پر جس پر ملک کے آئین کی اساس ٹکی ہے، جس میں فکر و نظر کی آزادی کی ضمانت ہے ، جس میں امن، خوشحالی، خود داری،انسانی وقار اور عزت نفس کی پاسداری کی یقین دہانی ہے، جس میں انسانیت ہے، بھائی چارہ ہے، رواداری ہے ۔دوسری جانب وہ نظریہ ہے جو ملک کی روح اور اسکی بنیاد کی مخالف ہے، جہاں نفرت ہے، تشدد ہے ، لا قانونینت ہے۔ جہاں غریبوں کسانوں، معاشرے کے دبے کچلے لوگوں اور ملک کی اقلیتوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے ، جہاں ماورائے آئین اکثریت کی بالادستی قائم کرنے کی مضموم کوشش ہے۔ جہاں آپ کے کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے اور سماجی و معاشرتی طور طریقے اور رسم ورواج سب پابندی کی زد اور شہ زوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔

 

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مجموعی طور پر مسلمانوں نے اپنی تمام تر علاقائی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر کھلے دل سے اس تاریخ ساز مہم کا پر جوش استقبال کیا ہے۔ جنوب سے مشرق تک جن جن مسلمان علاقوں سے راہل گاندھی کا قافلہ گزرا ان علاقوں میں ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے اور مردو خواتین کی بڑی تعداد ان کی راہوں میں محبت کے پھول نچھاور کرتی نظر آئی۔ راہل گاندھی کی جو شببیہ مسلمانو ں کے درمیان قائم ہوئی ہے وہ ایک ایسے بے باک، نڈر اور صاف گو لیڈر کی ہے جو روائتی سیاسی منافقت سے پاک اور سیکولرزم، رواداری اور بھائی چارے کا سچا علمبردار ہے ۔ یہ وہ شبیہ ہے جو کانگریس کے کسی لیڈر کی شاید پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی کے بعد پہلی بار قائم ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو چلا ہے کہ ملک کو اگر گاندھی اور نہرو کے فلسفے پر قائم رکھنا ہے اور اس کی بنیاد کو زمین دوز ہونے سے بچانا ہے تو اسے ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور نظریاتی طور پر مسلمانوں کی سب سے قریب اور ہم خیال جماعت کانگریس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔

 

لیکن مسلمانوں میں ایک طبقہ بعض علاقائی سیاسی پارٹیوں اور اُن کے پرجوش حمایتیوں کا ایسا بھی ہے جو مسلمانوں کے سیاسی ایمپاورمنٹ اور اُن کے علیحدہ شناخت کی وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ گرچہ اُن کے پاس اس سیاسی حصہ داری کے لیے نہ کوئی ٹھوس منصوبہ پایا جاتا ہے اور نہ اس کا کوئی واضح مقصد نظر آتا ہے۔علیحدگی کی اس سیاسی جدو جہد کا حاصل محض پارلیامنٹ یا ریاستی اسمبلیوں میں اپنی پارٹی کے دو چار نمائندوں کا اضافہ ہے ۔ لیکن جس قیمت پر وہ ایسا کرنے چاہتے ہیں اس سے سوا ئے یہ کہ کانگریس یا دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں کی قوت منتشر ہوتی ہے او راس کا کوئی دوسر افائدہ نظر نہیں آتا ، نیز بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کو مزید متحد کر نے کا جواز فراہم ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی ہندو فرقہ پرستی کا مقابلہ مسلمانوں کی سیا سی فرقہ پرستی سے نہیں ہوسکتا۔ یقین جانیے مسلم سیاسی امپاورمنٹ کی اصطلاح محض ایک سراب ہے جس کے پیچھے کوئی منطق یا مستقبل کا منصوبہ نہیں پایا جاتا اور یہ آرایس کی لیبارٹری کی ذہنی اختراع پر مبنی ایک اصطلاح ہے جو مسلمانوں کو سیاسی خوش گمانی میں مبتلا رکھنے اور ہندو فرقہ پرستی کا جواب مسلم فرقہ پرستی سے دینے کے لیے گڑھی گئی ہے ۔ ہندستان میں مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی امپاورمنٹ ہے ہی نہیں ۔ اقتدار میں حصہ داری کی خواہش یا ایوان میں بڑی تعداد میں مسلمان نمائندگان کی موجودگی سیاست دانوں اور ان کی سیاسی پارٹیوں کی اپنی خواہشات کی تکمیل تو ہوسکتی ہے ، اُن کی سیاسی امنگوں کا ازالہ تو ہوسکتا ہے اور نفسیاتی طور پر آپ کو سیاسی شراکت دار ہونے کا احساس تو دلا سکتا ہے لیکن اس سے ہماری مجموعی صورتحال میں کوئی انقلابی تبدیلی واقع ہوجائے اس کا کوئی امکان ماضی کے تجربوں او راعدادو شمار کی بنیاد پر نظر نہیں آتا۔اس لیے ہمار ی تگ و دو سیاسی حصہ داری کے لیے نہیں بلکہ تعلیم کے حصول ، روزگار کے مواقع، انصاف کی فراہمی اور آزادی کے ساتھ اپنی تہذیب، زبان اور عقائد کے بقا کے لیے ہونی چاہیے ۔

 

ہمارے درمیان بعض پرجوش رہنما اور سیاسی مبلغین ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو بی جے پی اور کانگریس کو ایک ہی سکہ کے دو رخ قرار دینے میں اور کانگریس کے 60 سالہ دور اقتدار کا احتساب کرنے میں عجلت اور جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کےپروپگینڈے کا شکار ہوجاتے ہیں اور تاریخ کے حقائق اور سیاست کی نزاکت اور مصلحت سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور اس طرح دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کانگریس ‘مکت بھارت’ یا کانگریس سے پاک سیاست کے دیرینہ سنگھی خواب کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ان سے جب بی جے پی دور حکومت کی ناانصافیوں اور ذیادتیوں پر بحث کی جائے تو یہ اپنے توپ کے دہانے کانگریس کی جانب موڑتے ہوئے یہ سوال کر ڈالتے ہیں کہ کانگریس نے ہمارے ساتھ کون سا انصاف کردیا؟ اور پھر ایک صدی کی کانگریس کی تاریخ کی منٹوں میں بخیہ اُدھیر دیتے ہیں۔ یہ ایک عقلی اور منطقی رویہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ذی ہوش اور باشعور شخص کانگریس اور بی جے پے کی سیاست کا اس طرح موازنہ نہیں کرسکتا۔ کانگریس اور بی جے پی دو متضاد دھاروں کی نظریاتی جماعتیں ہیں ۔ اوّلاذکر تکثیریت میں یقین رکھتی ہے تو ثانی الذکر اکثریت کی بالادستی یعنی کے Majoritarianism کو مسلط کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ایک آپ کی مذہبی شناخت، زبان ، روایات اور تہذیب کی نہ صرف قدر کرتی ہے بلکہ اس کے احترام اور فروغ کو اپنے منشور کا حصہ تسلیم کرتی ہے جبکہ دوسری فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی تصادم کے ذریعہ آپ کے مذہبی عقائد، رسم ورواج، تہذیب و ثقافت سب پر قدغن لگانا چاہتی ہے اور آپ کی تاریخی وراثت اور آثار تک مٹا دینا چاہتی ہے۔ ایک آپ کو برابر کا شہری تسلیم کرتی ہےاور آپکے بنیادی حقوق ، کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے، ہمسفر چننے اور اپنے آزاد افکار و نظریات رکھنے کے حقوق کی پاسدار ہے تو دوسری آپ کو مستقل خوف کے سائے میں دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھنا چاہتی ہے جس میں آپ کے کھانے کا مینیو ، لباس کا رنگ ، ہمسفر کے انتخاب تک کو کو ایک اسکریننگ سے گزار کر آپ کے عزت نفس اور انسانی وقار کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑدینا چاہتی ہے ۔ اس لیے یہ ایک غیر عقلی اور بے معنی بحث ہے ۔

 

جہاں تک کانگریس پارٹی اورمسلمانوں سے اس کے رشتے کا تعلق ہے تو یہ رشتے تاریخی نوعیت کےہیں۔ تقریباً ایک صدی پر محیط اس رشتے کا سرا تحریک آزادی اور خلافت تحریک سے جا ملتا ہے ۔ جہاں کانگریس کی قیادت میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے متحدہ قومیت کی بنیاد ڈالی، جہاں آزادی کی لڑائی مسلمانوں نے جذبہ جہاد سے لڑی تو خلافت تحریک برادران وطن کی اپنی تحریک بن گئی۔اور پھر کانگریس کی قیادت مذہبی آزادی، رواداری، بھائی چارے، سیکولرزم اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کی جدو جہد میں مصروف تھی اس لیے مسلمان کانگریس کے زیر سایہ عاطفیت محسوس کرتے تھے۔

 

آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری اور آئین میں اقلیتوں کو برابری کا حق دلانے میں کانگریس کے دور اندیش اور انصاف پسند قائدین نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکولرزم اور روداری کی ایک مثال قائم کی تھی۔ گرچہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کے وہ خود شاہد تھے ۔اور آپ شاید ان حالات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے جب ‘مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ، وحدت کا ترانہ شوق سے گا’ اور پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الا الللہ جیسے مذہبی نعروں سے ملک کے ہندو مسلم اتحاد کا خواب چکنا چور ہوچکا تھا اور پھر تقسیم ہند کے بعد جلی کٹی انسانی لاشوں کے انبار نے سرحد کی دونوں جانب نفرت کی گہری خلیج قائم کر دی تھی۔سرحد کی دوسری جانب مذہب کے نا م پر ایک ریاست کی تشکیل ہوچکی تھی اور عوام کا ایک بڑا طبقہ فرقہ وارانہ منافر ت کا شکار ہوچکا تھا ۔ کانگریس کے اندر بھی ایک شدت پسند طبقہ ایسا تیار ہوچکا تھا جو گاندھی اور نہرو کے نظریات اور مسلمانوں کے تئیں ان کے ہمدردانہ رویہ کے خلاف برملا اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگا تھا۔ لیکن کانگریس کی اعلی ٰ قیادت کا اعتماد غیر متزلزل تھا۔ ان کے نظریات میں ثابت قدمی تھی اور وہ کسی بھی حالت میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہ تھے ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تمام تر ناگفتہ بہ حالات اور اعصاب شکن مراحل سے گزرنے کے باوجود اگر کانگریس کی عظیم قیادت نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ملک کے نظریاتی وجود کا دفاع نہ کیا ہوتا تو آج ملک میں ہماری حیثیت برابر کے شہری کی نہ رہ گئی ہوتی۔ جب ملک کا آئین مرتب ہورہا تھا تو ملک کے وزیر داخلہ سردار پٹیل، جنھیں مسلمانو ں کے تئیں قدرے سخت گیر موقف کے لیے جانا جاتا ہے اور جن کے بارے میں گاندھی جی کہتے تھے کے ‘سردار تمہاری زبان کانٹوں سے بھری ہوئی ہے’، ان سے جب ہندو راشٹر کے حامی جی ایم برلا نے ہندو راشٹر سے متعلق اُن کا موقف جاننا چاہا تو پٹیل نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ’ ہندستان کو ہندو ریاست بنانا ممکن نہیں ہے کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہییے کہ یہاں دیگر اقلیتیں بھی رہتی ہیں جن کی حفا ظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے’ ۔ یہی نہیں بلکہ سردار پٹیل کا یہ کارنامہ بھی ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کی مخالفت کے باوجود مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے علیحدہ تشخص کو برقرار رکھنے کے حقوق کو دستور میں شامل کروایا۔ مذہب کے تبلیغ کی آزادی، اپنے زبان اور تہذیب کو برقرار رکھنے ، اپنے تعلیمی ادارے کھولنے اور اس کا انتظام چلانے کے حقوق آئین میں کانگریس کے عظیم لیڈران اور خصوصاً سردار پٹیل کے اثرورسوخ کی وجہ سے ہی ممکن ہوپائے۔ آئین میں انھیں مراعات اور سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے کانگریس کے پچاس سالہ دور حکومت میں مسلمانوں نے اپنے مدارس ، مساجد ، خانقاہوں ، درگاہوں اور کسی حد تک تعلیمی ادار وں کا جال بچھا دیا۔ آزادی کی فضا نصیب ہوئی تو ہماری نئی نسل نے بھی ترقی کی رفتار پکڑی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر ملک کے اہم عہدوں پر فائض ہوئی ۔ ہم نے ملک کے طول و عرض میں آزادی سے اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کیں اور بڑے چھوٹے شہروں کے صنعتی علاقوں میں اپنی منڈیا ں قائم کردیں۔ اس لیے آزاد ہندستان میں ہماری آزادی کی سات دہائیاں اگر بے مثال نہیں ہیں تو یہ ناامیدی اور مایوسی کی تاریخ گم گشتہ بھی نہیں ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم چیزوں کو مثبت طریقے سے دیکھنے کےعادی ہوجائیں۔ ہاں! البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے من حیث القوم اگراتنی سست روی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا اور ہماری ملی قیادت اور قومی حمیت نے اگر صرف حکومتی مراعات پر تکیہ کرنے کے بجائے خود بھی کچھ سنجیدہ اقدام کیے ہوتے تو آج صورتحال اور بہتر ہوسکتی تھی اور ہم ملک کی معیشت کے لیے بڑا سرمایہ اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم شراکت دار ہوگئے ہوتے اور پھر کوئی ہمیں تعلیمی اور معاشی بدحالی کے طعنے نہ دے رہا ہوتا۔

 

لیکن پھرآزادی کے بعد کانگریس پارٹی اپنے نظریاتی موقف سے منحرف ہوتی چلی گئی اور اس کے پچاس سالہ دور حکومت میں وقتا ًفوقتاً کانگریس کے بعض حکمرانوں سے ایسی فاش غلطیاں سرزد ہوئیں جس سے مسلمانوں کا کانگریس سے اعتماد اٹھنے لگا۔فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لا متناہی سلسلہ ، بابری مسجد کی شہادت کا دل سوز واقعہ اور دہشت گردی کے فرضی معاملا ت میں مسلم نوجوانوں کو ٹاڈا ور پوٹا جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں کے پے درپے واقعات نے مسلمانوں کو کانگریس سے بد ظن کردیا اور مسلمان دیگر علاقائی سیاسی جماعتوں کا متبادل تلاش کرنے لگے۔ جس کےنتیجے میں کانگریس کا ایک بڑا اور ایک مشت ووٹ دیگر علاقائی جماعتوں میں شفٹ ہوتا چلا گیا اور کانگریس کئی بڑے صوبوں سے اقتدار سے بے دخل ہوگئی۔لیکن ایسانہیں ہے کہ ووٹوں کی سیاست کا شکار صرف مسلمان ہوئے ہوں اور یہ نا انصافیاں صرف ہمارے حصے میں ہی آئی ہوں۔آزادی کے ۷۵ سالوں بعد بھِی دلتوں، آدی واسیوں اور ملک کے دبے کچلے محروم طبقات کو آج بھی معاشرےمیں وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جو اُن کا آئینی اوربنیادی انسانی حق ہے۔ سکھوں کے مقدس ترین مقام پر فوجی آپریشن اور پھر ۱۹۸۴ کے سکھ مخالف فسادات نے سکھوں کو جھنجھور کر رکھ دیا ۔ ا ن کےاسلاف نے کبھی خواب و خیال میں بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ آزاد ہندستان میں کبھی ریاستی سرپرستی میں ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوگا۔ لیکن سکھوں نے حالات کا مقابلہ کیا اور مستقبل کی جانب قدم بڑھایا۔جمہوری سیاست کی جہاں بہت ساری خوبیاں ہیں وہیں اس کی اپنی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں جس کا خمیازہ ووٹوں کے جوڑ گھٹاؤ اور بعض ناعاقبت اندیش سیاستدانوں کی نا اہلی اور بدنیتی کے نتیجے میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کو اُٹھانا پڑتا ہے ۔ لیکن نہ تو یہ حکمت اور تدبر کا تقاضہ اور نہ ہی ایک زندہ قوم کا یہ شیوہ ہ ہونا چاہیئے کے ہم ماضی کے ملبوں پر ماتم کرتے رہیں اور اپنے لیے مستقبل کے تما م دروازے بند کرلیں۔

 

اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ جب کانگریس اپنی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے اپنے ماضی کی طر ف لوٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نئے ولولے کےساتھ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کررہی ہے تو ہمیں بھی ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر مستقبل کی جانب نئے حوصلے اور ولولے کے ساتھ قدم بڑھانا چاہیے۔ سیاست کا مزاج بدل چکا ہے ۔ ہمیں بھی اپنی روائیتی روش کو چھوڑ کر ایک نئے انداز فکر کے ساتھ مستقبل کے سیاسی اور سماجی ماحول کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں کسی بھی سیکولر سیاسی جماعت سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ہمارے تمام مسائل پر ہماری خوشنودی اور حمایت حاصل کرنے کے لیے ہمارے حق میں کوئی رسمی بیان جاری کرے۔ ہمیں اس بات پر بھی اصرار نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے نمائندے ایسی جماعتوں کے صف اول میں دکھائی دیں۔ اور نہ ہمیں اس بات پر دل برداشتہ ہونا چاہیے کہ ہمارے نمائندوں کو آبادی کےتناسب سے پارلیامنٹ اور اسمبلی میں نمائندگی نہیں مل پائی ۔ بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے اُمنگوں اور ارمانوں کی قربانیاں دینی پڑتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس وقت سب سے اہم مسلہ آئین کے تحفظ اور اور اس کے جمہوری اور سیکولر نظام کے بقا کا ہے جس کے بغیر ہمارا اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ہمارا فی الوقت ملک میں سیاسی رول یا من حیث القوم کوئی پالیٹیکل ایجنڈا اگر کوئی ہو تو بس یہی ہونا چاہیے۔اس وقت ہماری نئی نسل کو ایک ایسے پرسکون اور تشدد اور تعصب سے پاک ماحول کی ضرورت ہے جس میں وہ بلا خوف ایک پراعتماد فضا میں برابر کے شہری کی حیثیت سے اپنا مستقبل تعمیر کرسکیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو جن خطرات کا سامنا ہے اگر ہم اسے بچانے میں کامیاب ہوگئے تو باقی نقصانات اور کمیوں کا ازالہ بعد میں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ملک کے موجودہ نظام کو خدا نخواستہ اگر کسی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی ہمیں ہی اٹھانا ہوگا۔ کیونکہ ملک کی دیگر اقوام رفتہ رفتہ نئے ماحول اور نظام سے ہم آہنگ ہوکر اپنے لیے نئے راستوں کی تلاش کرلینگی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی نئی سیاسی زمین مل جائے گی لیکن مسلمانو ں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکے گا وہ اپنی تاریخ، تہذیب اور زبان و عقائد سے کوئی سمجھوتہ کر پائیں ۔ نتیجتاً پوری قوم بے سمتی اور بے راہ روی کا شکار ہوکر تاریخ کے دھندلکوں میں کھو جانے کےاندیشے سے دوچار ہوگی۔

 

(مضمون نگار کالم نویس، سیاسی تجزیہ نگار اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی کی بیرون ملک شاخ کے کنوینر ہیں۔)

Comments are closed.