مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے سینٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن میں نئی سہولیات کا افتتاح اور ایم بی اے کے پہلے آن لائن داخلہ امتحان کا انعقاد

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن (سی ڈی او ای) میں ایک تاریخی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور وسائل میں اضافے پر روشنی ڈالی گئی۔

 

تقریب میں آئی سی ٹی سے آراستہ اسٹوڈیو، نئے سرور روم اور مرکز کے پہلے ایم بی اے آن لائن داخلہ امتحان کا افتتاح کیا گیا، جو ہندوستان بھر کے طلبہ کے لیے زیادہ لچک اور رسائی فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

 

اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے تقریب کی صدارت کی، 2025-26کا پراسپیکٹس جاری کیا اور ڈاکٹر عبدالرزاقی، ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی اور ڈاکٹر محمد عاطف افضل کی تصنیفات کی رونمائی کی۔

 

انہوں نے کہا کہ ”سی ڈی او ای نہ صرف نئے تعلیمی راستے کھول رہا ہے بلکہ اے ایم یو کو تعلیمی اختراع کے میدان میں صفِ اول پر برقرار رکھ رہا ہے۔ ایس ڈبلیو اے وائی اے ایم پروگرامز اور ایم او او سی ایس جیسے اقدامات کے ذریعے، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مطابق، ہم مختلف پس منظر کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ اقدامات اے ایم یو کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع اور عالمی سطح پر موزوں تعلیمی ماحول فراہم کرے گا۔”

 

مرکز کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے اپنے خطاب میں بتایا کہ مرکز میں 21 ممالک کے 384 طلبہ مختلف پروگراموں میں داخل ہیں اور اس نے کامیابی سے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اپرنٹس شپ اسکیموں کو نافذ کیا ہے۔

 

تقریب کا اختتام پروفیسر ارمان رسول فریدی کے کلماتِ تشکر اور ڈاکٹر انم فاطمہ کی نظامت سے ہوا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی سینئر استاذ پروفیسر وِبھا شرما اساتذہ کے نیشنل ایوارڈ 2025 کیلئے منتخب

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے فخر کا موقع ہے کہ فیکلٹی آف آرٹس کے شعبہ انگریزی کی سینئر استاذ، پروفیسر وِبھا شرما کو وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پالی ٹیکنکس کے اساتذہ کے لیے قائم کردہ باوقار ”نیشنل ایوارڈ ٹو ٹیچرز 2025’“ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں عزت مآب صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے 5 /ستمبر 2025 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ تقریب میں دیا جائے گا۔ پروفیسر شرما پورے ملک سے منتخب ہونے والے صرف 21 اساتذہ میں شامل ہیں۔

 

یہ ایوارڈ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے، جس میں تعریفی سند، چاندی کا تمغہ اور پچاس ہزار روپے نقد انعام شامل ہے۔ پروفیسر شرما، جو اے ایم یو میں رابطہ عامہ کی انچارج کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، نے اپنی علمی اور انتظامی خدمات کے ذریعے یونیورسٹی کو نمایاں وقار بخشا ہے۔

 

اے ایم یو کی وائس چانسلر، پروفیسر نعیمہ خاتون نے پروفیسر شرما کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ اعزاز نہ صرف پروفیسر وبھا شرما کی علمی لگن اور محنت کا اعتراف ہے بلکہ اے ایم یو کے اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ ہم ایسے اساتذہ تیار کرتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ قومی سطح پر ان کی پہچان پوری یونیورسٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔” انہوں نے مزید پروفیسر شرما کی ایم او او سی ایس اور ایس ڈبلیو اے وائی اے ایم کورسز کی تیاری میں شراکت اور ڈرامہ و تھیٹر اسٹڈیز میں مہارت کی بھی تعریف کی۔

 

پرو وائس چانسلر، پروفیسر ایم محسن خان نے اس ایوارڈ کو ”اے ایم یو کے لیے نہایت فخر کا لمحہ اور یونیورسٹی کی مضبوط تعلیمی روایت کا ثبوت قرار دیا جو تدریس اور تحقیق میں درجہ کمال کے حصول کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔”

 

رجسٹرار، مسٹر محمد عمران، آئی پی ایس نے کہا کہ ”ایسے اعزازات اے ایم یو کے اساتذہ کو مزید کامیابیاں حاصل کرنے اور قومی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ ممکنہ طور پر پروفیسر شرما اس ایوارڈ کی حقدار بننے والی یونیورسٹی کی پہلی فیکلٹی ممبر ہیں۔”

 

ڈین فیکلٹی آف آرٹس، پروفیسر ٹی این ستیسن نے ان کے علمی کارناموں اور جدید تدریسی طریقوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”ان کی تدریس اور تحقیق نے طلبہ اور ساتھی اساتذہ کو متاثر کیا ہے، اور یہی حقیقت اس ایوارڈ کی اصل روح ہے۔ پروفیسر شرما نے مسلسل طلبہ میں تنقیدی فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے، جس سے فیکلٹی آف آرٹس کی علمی ساکھ یونیورسٹی کے اندر اور باہر بلند ہوئی ہے۔”

 

شعبہ انگریزی کی صدر، پروفیسر شاہینہ ترنم نے کہا کہ ”پروفیسر وبھا شرما کا یہ اعزاز ہمارے شعبہ کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ انہوں نے انگریزی ادب کی تدریس میں معیار پر مبنی تعلیم کو فروغ دے کر ہمارے تعلیمی ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔”

 

اے ایم یو کے افسر رابطہ عامہ مسٹر عمر پیرزادہ نے کہا کہ ”میڈیا ریلیشنز میں ان کی مہارت نے اے ایم یو کی عوامی شبیہ کو بہت بہتر بنایا ہے اور ان کی قومی سطح پر پہچان یونیورسٹی کے لیے ایک اور سنگ میل ہے۔”

 

اے ایم یو برادری نے پروفیسر وبھا شرما کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جن کی یہ کامیابی پورے ملک کے اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں جدید سرجیکل ایچ ڈی یو کا افتتاح، جراحی نگہداشت میں نیا سنگ میل

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے آج جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ سرجری میں وارڈ نمبر 9 میں جدید سہولیات سے آراستہ چھ بستروں پر مشتمل سرجیکل ہائی ڈپینڈنسی یونٹ (ایچ ڈی یو) کا افتتاح کیا جو ادارے میں اہم جراحی نگہداشت کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک انقلابی قدم ہے۔

 

یہ منصوبہ جے این ایم سی کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر واصف محمد علی کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بلند کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر سید امجد علی رضوی کی بھرپور حمایت نے اس اہم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

 

تقریب کی صدارت فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین، پرنسپل اور سی ایم ایس پروفیسر محمد حبیب رضا اور شعبہ سرجری کی سربراہ پروفیسر عطیہ ذکاء الرب نے کی، جو جے این ایم سی میں جراحی خدمات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

افتتاحی تقریب میں اساتذہ، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے شرکت کی، جن کی محنت و لگن ادارے میں مریضوں کی دیکھ بھال کی بنیاد ہے۔

 

جدید مانیٹرنگ سسٹمز اور خصوصی بعد از آپریشن نگہداشت سے لیس یہ سرجیکل ایچ ڈی یو آئی سی یو اور جنرل وارڈز کے درمیان ایک اہم کڑی کے طور پر کام کرے گا، جس سے جراحی نتائج بہتر ہوں گے اور جے این ایم سی کے اعلیٰ معیار کی طبی خدمات کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں آئی رائز یوتھ اسکلنگ پروگرام برائے زرعی ترقی مکمل

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کے شعبہ پلانٹ پروٹیکشن اور سنگینٹا فاؤنڈیشن انڈیا، پونے کے اشتراک سے منعقدہ ایک ماہ پر مبنی ”آئی رائز: یوتھ اسکلنگ پروگرام ان ایگریکلچر” آج اختتام پذیر ہوا، جس میں 50 دیہی نوجوانوں کو جدید زرعی علم و مہارت سے آراستہ کیا گیا۔

 

اس پروگرام میں کلاس روم سیشنز اور عملی تربیت شامل تھی، جس میں جدید فصل پیداوار تکنیک، پودوں کے تحفظ اور ویلیو ایڈیشن جیسے موضوعات شامل تھے۔ شرکاء نے تربیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ زندہ نیماٹوڈز، کیڑے اور خوردبینی جانداروں کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ان کے لیے نایاب تھا۔ شرکا کی نمائندگی کرتے ہوئے شوبھم سنگھ اور عامر جنید نے کہا کہ حاصل شدہ مہارتیں ان کی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کریں گی۔

 

اختتامی اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسر محمد شفیق انصاری نے مہارت سازی کی اہمیت پر زور دیا اور شرکا کو خصوصاً شہد کی مکھیوں کی پرورش (اپیکلچر) میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، پروفیسر آر یو خان نے شعبہ پلانٹ پروٹیکشن کو پروگرام کے انعقاد کے لیے سراہا اور شرکا پر زور دیا کہ پائیدار زراعت کے لیے جدید طریقے اپنائیں۔

 

کورس ڈائریکٹر پروفیسر مجیب الرحمن خان نے شرکا کو فیزاول مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ دالوں کے لیے رہیزوبیم جیسے بایو فرٹیلائزر، دیگر فصلوں کے لیے ٹرائکوڈرما، گرین مینورنگ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں جیسے باجرہ، دالیں اور تیل دار بیج کاشت کریں۔ انہوں نے ڈین، بی ایس سی کوآرڈینیٹر اور فیکلٹی سمیت کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ضیاء الحق کا شکریہ ادا کیا۔

 

سنگینٹا فاؤنڈیشن انڈیا کے ماسٹر ٹرینرز، رجنیش کمار اور دیوداس چندر نے اے ایم یو کو وسائل اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر مجیب الرحمن خان نے مہمان خصوصی، ڈین اور دیگر شعبوں کے سربراہان پروفیسر اقبال احمد (شعبہ زرعی خورد حیاتیات)، پروفیسر زیڈ آر آر آزاد (شعبہ پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ و ٹیکنالوجی) اور پروفیسر صبا خان (شعبہ ہوم سائنسز) کی موجودگی و حوصلہ افزائی پر اظہار تشکر کیا اور پروگرام کے اسپانسر کے طور پر سنگینٹا فاؤنڈیشن انڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے ایشیا پیسیفک برن کانفرنس میں نمائندگی کی

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرپرسن، ڈاکٹر ایم ایف خرم نے حال ہی میں گوا میں منعقدہ ممتاز ایشیا پیسیفک برن کانفرنس (اے پی بی سی) میں یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔

 

بطور معزز استاذ مدعو کیے گئے ڈاکٹر خرم نے بچوں اور ضعیف افراد میں جلنے سے پیدا شدہ زخموں پر ایک سیشن کی صدارت کی اور ان حساس عمر کے مریضوں میں علاج کے اپنے وسیع تجربے کو اجاگر کیا۔ وہ اس بین الاقوامی ایونٹ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے۔

 

انہوں نے ”جلنے میں تھرمل امیجنگ کا کردار: برن ڈپتھ اسیسمنٹ میں انقلابی تبدیلی” کے عنوان سے تحقیقی مقالہ پیش کیا اور انفرا ریڈ تھرموگرافی کو ایک غیر جارحانہ اور مؤثر طریقہ قرار دیا جو جلنے یا جھلسنے کے زخموں کی تشخیص اور علاج کے نتائج کو بہتر بناتا ہے۔

 

ڈاکٹر خرم نے جلنے کے علاج میں عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال کو معیارِ علاج بلند کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

 

ڈاکٹر خرم ایشیا پیسیفک برن ایسوسی ایشن اور نیشنل ایسوسی ایشن آف برنز انڈیا کے لائف ممبر ہیں اور ان کی شرکت نے برن ریسرچ اور بحالی پر عالمی سطح پر اے ایم یو کی موجودگی کو مزید مستحکم کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

شعبہ سوشیالوجی، اے ایم یو میں اینٹی ریگنگ اور انسدادِ امتیاز پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے زیر اہتمام اینٹی ریگنگ اقدار کو فروغ دینے اور عوامی و ذاتی شعبوں میں امتیاز کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے متعدد تقریبات کا اہتمام کیا۔

 

پروگرام کا آغاز انسدادِ امتیاز پر ایک لیکچر اور انٹرایکٹو سیشن سے ہوا، جس میں شعبہ کے چیئرمین پروفیسر محمد اکرم نے مختلف بنیادوں پر امتیاز کے تصور پر روشنی ڈالی اور طلبہ و اساتذہ پر زور دیا کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں مساوات کو یقینی بنائیں۔ ریسرچ اسکالر انشرا ساجد اور فوزیہ نے آئینی دفعات اور سماجی و ثقافتی پہلوؤں پر گفتگو کی۔

 

اینٹی ریگنگ مہم کے حصے کے طور پر طلبہ نے ریگنگ کے مضر اثرات اور یونیورسٹی قوانین پر مبنی مختصر ویڈیوز تیار کیں۔ سات بصیرت افروز پوسٹرز بھی طلبہ نے تیار کیے جن میں ریگنگ کے نفسیاتی و سماجی نقصانات اور حکومت و یونیورسٹی کے سخت اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

 

اینٹی ریگنگ کوئز مقابلے میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں آئینی دفعات، بنیادی حقوق، یو جی سی و وزارتِ تعلیم کے ضوابط اور مرکزی حکومت کی ہدایات پر مبنی پانچ راؤنڈز شامل تھے۔ ریسرچ اسکالرز انشرا ساجد اور فوزیہ گلزار اور بی اے ہفتم سمسٹر کی طلبہ امام فاطمہ رضوی اور ثانیہ زہرہ کی قیادت والی ٹیموں کو مشترکہ فاتح قرار دیا گیا۔

 

ان سرگرمیوں میں مختلف پروگراموں کے طلبہ نے پرجوش شرکت کی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو ہسٹری کلب کا ”تقسیمِ ہند کی یاد: سنیما اور ادب کے ذریعے” موضوع پر پروگرام

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب ”تاریخ یافتہ” کے زیر اہتمام جشن یوم آزادی ہند کی مناسبت سے ”تقسیمِ ہند کی یاد: سنیما اور ادب کے ذریعے” موضوع سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں تاریخ کے ایک اہم اور المناک باب پر غور و فکر کیا گیا۔

 

یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبہ تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر نیتا کھنڈپیکر نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے تقسیم کی سنیما میں عکاسی اور اس کے دیرپا اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فلموں نے ہجرت، تکلیف اور انسانی نقصان کی شدت کو پیش کیا ہے جبکہ ادب نے زندہ بچ جانے والوں کے نفسیاتی صدمات کو گہرائی سے بیان کیا ہے۔ ان کے خطاب کے بعد طلبہ کے ساتھ سوال و جواب پر مبنی ایک دلچسپ سیشن بھی منعقد کیا گیا۔

 

پروگرام میں 12 سے 18 اگست تک منعقدہ ”اینٹی ریگنگ” پوسٹر سازی مقابلہ بھی شامل تھا۔ ایم اے کی دِکشا گپتا اور بی اے کی طوبیٰ احمد نے بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کیں۔ کلب کوآرڈینیٹر ڈاکٹر انیسہ اقبال نے انعامات پیش کیے اور نئے ممبران کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں تحقیقی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

 

جنرل سکریٹری دانش اسلم نے آئندہ پروگراموں میں طلبہ کی شرکت کی دعوت دی جبکہ انیردھ سارسوت نے شکریہ ادا کیا اور طلبہ کی سرگرم شمولیت کو سراہا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو طالبہ نے رولر ڈربی چیمپئن شپ 2025 میں گولڈ میڈل جیتا

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) کی گیارہویں جماعت (پی سی بی اسٹریم) کی طالبہ سیدہ لائبہ علی نے رولر ڈربی چیمپئن شپ 2025 میں سونے کا تمغہ جیت کر غیر معمولی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ ان کی شاندار کامیابی نے اسکول اور پوری اے ایم یو برادری کا نام روشن کیا ہے۔

 

اس موقع پر پرنسپل نغمہ عرفان نے سیدہ لائبہ علی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کامیابیاں نہ صرف انفرادی لگن کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ دیگر طلبہ کو بھی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں کمال دکھانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جسمانی تعلیم کے اساتذہ اور اسکول کے دیگر افراد نے بھی ان کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محنت اور لگن کامیابی کی کنجی ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو ڈینٹل کالج میں پوسٹ گریجویٹ اورینٹیشن پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 26 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج میں پوسٹ گریجویٹ اورینٹیشن پروگرام 2025 کا انعقاد کیا گیا جس میں نئے داخل شدہ ایم ڈی ایس طلبہ کو ادارے کے اقدار، روایات اور تعلیمی ماحول سے روشناس کرایا گیا۔

 

شعبہ علاج بالتدبیر، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کی چیئرپرسن اور اے ایم یو کی انسداد امتیاز افسر پروفیسر آسیہ سلطانہ مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئیں۔ انہوں نے شمولیت، مساوات اور تعلیمی برتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کی ثقافتی، سماجی، علاقائی، لسانی اور فکری تنوع باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے اور طلبہ کو کثرت میں وحدت کے معاشرے میں خدمت کے لیے تیار کرتا ہے۔

 

پرنسپل پروفیسر آر کے تیواری نے نئے طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ نظم و ضبط، خدمتِ انسانیت اور تحقیقی و اخلاقی اصولوں پر مبنی علم و ہنر کو فروغ دیں۔

 

پروگرام میں تعلیمی ضوابط پر ڈاکٹر سید امان علی، ڈینٹل کونسل آف انڈیا کے رہنما اصولوں پر ڈاکٹر سبزار عبداللہ اور کالج کی فیکلٹی و تاریخ پر ڈاکٹر آمنہ نے لیکچر دیے۔ پروفیسر دِوّیا ایس شرما نے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کی روک تھام پر خصوصی لیکچر دیا۔

 

تقریب میں کالج کی قومی سطح پر بڑھتی ہوئی رینکنگ اور اے ایم یو کی بطور سرکاری ادارہ سب سے زیادہ پوسٹ گریجویٹ پروگرام فراہم کرنے کی حیثیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

 

پروگرام کا اختتام نئے ایم ڈی ایس طلبہ کے تعارف کے ساتھ ہوا۔

Comments are closed.