اے ایم پی کا جنوبی ہند کے بااثر رہنماؤں سے 25 سالہ روڈ میپ پر مشاورتی اجلاس

 

"یہ 25 سالہ روڈ میپ صرف مسلمانوں کی ترقی کا منصوبہ نہیں، بلکہ تعلیم اور معاشی بااختیاری کے ذریعے ایک مضبوط اور جامع بھارت کی تعمیر کا عزم ہے۔”عامر ادریسی، صدر AMP

ممبئی (پریس ریلیز)

ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز (AMP)، جو کہ تعلیم اور معاشی بااختیاری کے میدان میں قومی سطح پر کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ہے، نے حال ہی میں تمل ناڈو اور کرناٹک میں ایک مؤثر مشاورتی دورے کا انعقاد کیا۔ اس کا مقصد بھارتی مسلمانوں کو درپیش تعلیمی، فنی، روزگار اور معاشی شمولیت سے متعلق نظامی چیلنجز پر مبنی اے ایم پی کے 25 سالہ روڈ میپ کو پیش کرنا اور اس پر مشاورت کرنا تھا۔

 

یہ باوقار دورہ محترمہ شیرین سلطانہ (ریاستی سربراہ – تمل ناڈو) کی قیادت میں 19 اگست 2025 کو چنئی سے شروع ہوا، جہاں بیگم آسیہ زینب اور ان کے شوہر نوابزادہ محمد ناصر علی، پرنس آف آركاٹ، نے عامر محل پیلس میں وفد کی میزبانی کی۔ اس موقع پر دانشوروں، ماہرین تعلیم، صنعتکاروں اور کمیونٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیرالدین شاہ، مولانا خالد راشد فرنگی محلی، اور اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے اہم خیالات پیش کیے۔

 

اس کے بعد وفد نے کرشناگیری، میلویشرم اور وانیامبڑی کا دورہ کیا، جہاں معززین، متولیان، ماہرین تعلیم اور تاجروں نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس دوران متعدد تعلیمی اور کمیونٹی ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو ہوئی، جن میں کرشناگیری میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی۔

 

21 اگست کو بنگلورو میں اے ایم پی وفد نے کرناٹک مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین جناب نصار صاحب (IAS) اور مولانا خالد بیگ سے ملاقات کی، جہاں 150 سے زائد رہنماؤں، صنعتکاروں، مخیر حضرات اور کارکنان نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں کرناٹک کی فلاحی اسکیموں کو بطور ماڈل پیش کیا گیا۔ دن کا اختتام اے ایم پی بنگلور چیپٹر کی میٹنگ سے ہوا، جس میں ریاست میں اے ایم پی کی توسیعی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال ہوا۔

 

مختلف اجلاسوں میں اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی نے زور دے کر کہا:

"یہ 25 سالہ روڈ میپ صرف مسلمانوں کی ترقی کا منصوبہ نہیں، بلکہ تعلیم اور معاشی بااختیاری کے ذریعے ایک مضبوط اور جامع بھارت کی تعمیر کا عزم ہے۔”

 

دیگر سرکردہ رہنماؤں، جن میں ڈاکٹر عبدالاحد، سجاد پرویز، اور مجتبیٰ خان شامل تھے، نے اے ایم پی کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں پر روشنی ڈالی، جبکہ جنوبی ریاستوں کے شرکاء نے روڈ میپ پر مقامی سطح پر عملدرآمد کے لیے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

 

جنوبی ہند کا یہ کامیاب دورہ اے ایم پی کے کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور آئندہ دو دہائیوں میں بھارت کے 100 پسماندہ مسلم اکثریتی اضلاع کو بااختیار بنانے کے مشن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

Comments are closed.