عراقی ایر بیس سے امریکی فوجی انخلاء کی تیاری، مشرق وسطی میں طاقت کے توازن کا بدلتا منظر نامہ

 

کاشف حسن

لیکچرار جامعہ اسلامیہ کیرلا

امریکی فوج ستمبر 2025 کے آخر تک عراق سے مکمل طور پر نکل جائے گی۔ یہ فیصلہ بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نافذ ہو رہا ہے، مگر اس کی بنیاد 2024 میں بائیڈن حکومت کے دوران رکھی گئی تھی۔ فی الحال عراق میں تقریباً 2500 سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں ۔ جو بغداد کے وکٹری بیس اور انبار صوبے کے عین الاسد ایئر بیس پر تعینات ہیں۔ ان اڈوں کو ستمبر 2025 تک خالی کر دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایک دن میں سامنے نہیں آیا۔ اس کا پس منظر 2020 میں اُس وقت بنا جب ٹرمپ حکومت نے ایرانی جنرل کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں شہید کردیا تھا ۔ اس کے بعد ایران نے اپنے پراکسی کے زریعے عراقی ایئر بیس پر میزائل سے حملہ کیا تھا ۔ اور عراقی پارلیمنٹ نے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کر دیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر اب تک عراق میں امریکی فوجی موجودگی مستقل حملوں اور دباؤ کا شکار رہی ہے۔

غزہ جنگ کے بعد اکتوبر 2023 سے فروری 2024 کے درمیان ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے عراق میں امریکی اڈوں پر 160 سے زائد حملے کیے۔ جنوری 2024 میں امریکی ایئر بیس پر ایک بڑا میزائل حملہ بھی ہوا جس میں امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ یہ حملے ڈرون، اور راکٹ کے ذریعے کیے جاتے رہے، جس نے امریکی افواج کے لیے حالات کو مزید مشکل بنا دیا۔

پھر حالیہ اسرائیل ایران جنگ دوران ایران نے عراقی ایئر بیس پر موجود امریکی ریڈار سسٹم کو میزائل حملے میں تباہ کر دیا۔ یہ سسٹم دو ہزار میل کی دوری تک میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ریڈار ڈوم کو پہنچنے والا نقصان واضح طور پر نظر آیا، جو امریکی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

عراق میں "پاپولر موبلائزیشن یونٹس” (PMU) کا کردار بھی اہم ہے۔ یہ شیعہ، سنی اور کرد گروہوں پر مشتمل ہتھیار بند جماعت ہے جنہیں داعش کے خلاف لڑائی میں مرکزی قوت کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں ان یونٹس کو عراقی ریاستی فوج کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب یہی گروہ امریکی فوجی موجودگی کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔ کچھ دن پہلے عراق کی پارلیامنٹ نے ایک بل منظور کیا جس رو سے یہ جماعت اب پرائمنسٹر آفس کے تحت کام کرے گی ۔

اور امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ بل پاس ہو، امریکہ اپنے حمایت یافتہ جماعت کے ساتھ ہی عراقی گورمنٹ کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔

اس کے ساتھ عراقی حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کی مزید ضرورت نہیں ہے ۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ داعش کا خطرہ ختم ہو چکا ہے اور ملک کی خودمختاری کے لیے غیر ملکی فوجی موجودگی ختم ہونا ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں نجباء موومنٹ نے بھی ٹرمپ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ "2025 کے آخر تک امریکی فوج نکل جائے۔”

دوسری طرف امریکی حکام اصرار کر رہے ہیں کہ یہ مکمل انخلا نہیں ہے بلکہ "سکیورٹی پارٹنرشپ کی نئی شکل” ہے۔ پینٹاگون کے مطابق امریکہ عراق کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا لیکن فوجی موجودگی کی نوعیت مختلف ہوگی۔ تاہم امریکی کانگریس اور عوامی رائے میں مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے اور یہ عنصر بھی انخلا کے فیصلے میں اثر انداز ہو رہا ہے۔

2003 میں عراق پر حملے کے بعد عراق میں 1,70,000 امریکی فوجی تعینات تھے۔ اس تعداد میں بتدریج کمی ہوتی گئی اور اب صرف ڈھائی ہزار باقی ہیں۔

اس فوجی انخلاء کے اثرات صرف عراق تک محدود نہیں ہونگے بلکہ پورے خطے پر اس کا اثر انداز ہوگا۔ ایران کا اثر و رسوخ عراق میں نمایاں طور پر بڑھے گا، جو لبنان اور یمن کے بعد مشرق وسطیٰ میں اس کے قدم مزید مضبوط کرے گا۔ خلیجی ممالک اس صورتحال سے فکرمند ہیں جبکہ چین اور روس اس تبدیلی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے یہ پیش رفت سب سے زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ ایران کا بڑھتا ہوا اثر اس کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد اسرائیل خود کو مزید غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

22 سال کے بعد امریکی فوج عراق چھوڑنے جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکہ کی یکطرفہ برتری کم ہو رہی ہے، ایران کی حکمت عملی کامیاب دکھائی دے رہی ہے، اور اسرائیل کے لیے خطرے کی گھنٹیاں تیزی سے بج رہی ہیں.

Comments are closed.