بدی کی دھول میں اڑتے معاشرے

الطاف جمیل ندوی

شاہ سوپور کشمیر

_____________

​دنیا، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور امن و محبت کے لیے جانی جاتی ہے، آج ایک گہرے بحران کا شکار ہے۔ معاشرتی برائیوں اور نشہ آور اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کو گمراہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف افراد کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے بلکہ پورے سماج کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

​نشہ آور اشیاء کا بڑھتا ہوا رجحان اس بحران کا سب سے بڑا پہلو ہے۔ ہیروئن، چرس، کوکین، اور دیگر خطرناک نشے عام ہو چکے ہیں، اور ان کا استعمال بڑے پیمانے پر نوجوانوں میں پھیل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ان کی صحت تباہ ہو رہی ہے بلکہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نشے کی لت میں مبتلا افراد اسے پورا کرنے کے لیے چوری، ڈکیتی اور دیگر غیر اخلاقی کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

​نشہ آور اشیاء کے استعمال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور حالات کی بے چینی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتی ہے، اور وہ ان برائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سماجی اور خاندانی دیکھ بھال کی کمی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ جب والدین بچوں پر توجہ نہیں دیتے یا خاندان میں اختلافات ہوتے ہیں، تو نوجوان اکثر غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔

​اس صورتحال کے نتیجے میں مختلف برائیاں بڑھ رہی ہیں۔ بے راہ روی، اخلاقی اقدار کا زوال، اور سماجی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔ ایک وقت میں، کشمیر اپنے مضبوط سماجی بندھن اور اخلاقی اصولوں کے لیے مشہور تھا، لیکن آج یہ اصول تیزی سے ختم ہو رہے جنسی جرائم، اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں بھی عام ہو رہی ہیں۔

چند غیر اخلاقی اور غیر اسلامی کام جن کی نکیر کی جانی ضروری ہے

پہلا گناہ

نشہ آور اشیاء کا بے دریغ استعمال

​اسلام میں نشہ آور اشیاء کو سختی سے حرام (ممنوع) قرار دیا گیا ہے۔ اس کی حرمت کی بنیاد قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث پر ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کرے یا انسان کے حواس پر اثر انداز ہو، اسے ناجائز اور نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

​قرآن مجید کی تعلیمات

​قرآن مجید میں نشہ آور اشیاء کا حکم تدریجی طور پر نازل ہوا، تاکہ لوگوں کو جو اس کے عادی ہو چکے تھے، اس سے باز آنے میں آسانی ہو۔

​پہلا مرحلہ: پہلے مرحلے میں قرآن نے اشارہ کیا کہ شراب میں کچھ فائدہ اور کچھ نقصان ہے، لیکن اس کا نقصان زیادہ ہے۔

​دوسرا مرحلہ: اس کے بعد نماز کے اوقات میں شراب پینے سے منع کیا گیا، تاکہ لوگ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھیں۔

​تیسرا اور آخری مرحلہ: آخری مرحلے میں سورۃ المائدہ کی آیت 90 میں واضح اور حتمی طور پر شراب اور نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا گیا۔

​سورۃ المائدہ، آیت 90: "اے ایمان والو! بلاشبہ شراب، اور جوا، اور (بتوں کے) آستانے اور (قسمت معلوم کرنے کے) تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ پس ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔”

​سورۃ المائدہ، آیت 91: "شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے۔ تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟”

​احادیث کی تعلیمات

​رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو مزید واضح کرتے ہوئے ایک جامع اصول بیان فرمایا:

​”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔” (صحیح مسلم)

​”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔” (ترمذی، ابن ماجہ)

​ان احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں صرف شراب ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز حرام ہے جو عقل کو ماؤف کرے، خواہ وہ مائع ہو یا جامد، جیسے کہ ہیروئن، چرس، بھنگ، افیون، اور دیگر منشیات۔

​نشہ آور اشیاء کی حرمت کی حکمت

​اسلام نے نشے کو حرام کیوں قرار دیا؟ اس کی کئی اخلاقی، سماجی اور طبی وجوہات ہیں:

​عقل کی حفاظت: اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک انسانی عقل کی حفاظت ہے۔ نشہ عقل کو زائل کر دیتا ہے، جس سے انسان صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر پاتا اور غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے۔

​معاشرتی فساد: نشہ معاشرے میں دشمنی، لڑائی جھگڑے، اور قتل جیسے جرائم کو جنم دیتا ہے۔ یہ انسان کو اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے سے دور کر دیتا ہے۔

​مالی اور جسمانی نقصان: نشہ آور اشیاء کا استعمال پیسے کا ضیاع ہے اور اس سے انسانی صحت کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جیسے کہ گردے، جگر اور دماغ کی بیماریاں۔

​عبادت سے دوری: نشہ انسان کو اللہ کی یاد، نماز اور دیگر عبادات سے غافل کر دیتا ہے۔

​خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں نشہ آور اشیاء کا استعمال ہر لحاظ سے حرام ہے کیونکہ یہ فرد اور معاشرے دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔

​شراب نوشی کا بڑھتا رجحان

​اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور اس کی حفاظت کے لیے احکامات دیتا ہے۔ یہ انسان کی جسمانی، روحانی اور اخلاقی صحت کا خیال رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت، اسلام نے شراب نوشی کو حرام قرار دیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔ شراب نوشی کو عربی میں خمر کہا جاتا ہے جس کا لغوی معنی "عقل پر پردہ ڈالنا” ہے۔

​قرآن اور حدیث میں شراب کی ممانعت

​قرآن مجید میں کئی مقامات پر شراب نوشی کی ممانعت کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتے ہیں:

​”اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا تم ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔” (سورہ المائدہ، آیت 90)

​اس آیت میں شراب کو واضح طور پر شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور اس سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث میں شراب کو ناپسندیدہ اور نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

​”خمر ہر برائی کی جڑ ہے۔”

​شراب نوشی کے نقصانات

​اسلام نے شراب کو بلاوجہ حرام نہیں کیا، بلکہ اس کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور انسانی فلاح ہے۔ شراب نوشی کے نقصانات کا ذکر سائنسی تحقیقات میں بھی ہوتا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:

​1. جسمانی نقصانات: شراب جگر، گردوں، اور دل کے امراض کا باعث بنتی ہے۔ یہ اعصابی نظام کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے، جس سے دماغی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔

​2. ذہنی اور نفسیاتی نقصانات: شراب نوشی سے انسان کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو اس کے لیے اور دوسروں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

​3. سماجی اور اخلاقی نقصانات: شراب معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ اس کے زیر اثر انسان جھوٹ، فریب، لڑائی جھگڑے، اور دیگر جرائم میں ملوث ہو سکتا ہے۔ شراب پینے والا اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے سے دور ہو جاتا ہے، جس سے اس کی زندگی تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے۔

​اسلامی معاشرے میں شراب کا مقام

 

دوسرا گناہ فحاشیات

​اسلام میں فحاشی (Fahisha) ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی بے حیائی، بدکاری اور اخلاقی گراوٹ کو شامل کرتا ہے۔ اسلام اس کو سخت ناپسند کرتا ہے اور معاشرے کو اس سے پاک رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ صرف جنسی برائیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ہر وہ عمل شامل ہے جو اخلاقی طور پر برا ہو اور شرم و حیا کے خلاف ہو۔

​قرآن مجید میں فحاشی کی ممانعت

​قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی جگہوں پر فحاشی اور اس کے قریب جانے سے منع کیا ہے۔

​سورۃ الأعراف، آیت 28: "اور جب وہ کسی بے حیائی (فحاشی) کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ (اے نبی!) کہہ دیجیے کہ اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔”

​سورۃ النور، آیت 19: "بے شک وہ لوگ جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی (فحاشی) پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔”

​یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ فحاشی نہ صرف گناہ ہے بلکہ اسے پھیلانا بھی ایک سنگین جرم ہے۔

​فحاشی کی اقسام

​اسلامی تعلیمات کے مطابق فحاشی کی کئی اقسام ہیں:

​جنسی فحاشی: اس میں زنا، لواطت (ہم جنس پرستی)، اور دیگر غیر اخلاقی جنسی تعلقات شامل ہیں۔

​لباس اور ظاہری فحاشی: غیر شرعی اور نامناسب لباس پہننا جو جسم کے حصے ظاہر کرے، بے پردگی اور نامحرم کے سامنے زیب و زینت کا اظہار کرنا۔

​زبانی فحاشی: گالی گلوچ، فحش کلامی، اور گندے لطیفے سننا یا سنانا۔

​میڈیا اور مواد کی فحاشی: فحش تصاویر، فلمیں، اور ایسا مواد شائع کرنا یا دیکھنا جو معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دے۔

​اسلام کی تعلیمات اور حکمت

​اسلام میں فحاشی سے بچنے کی تاکید کی چند اہم حکمتیں یہ ہیں:

​حیا اور پردہ: اسلام حیا کو ایمان کا ایک اہم حصہ قرار دیتا ہے۔ حیا اور پردہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ معاشرہ فحاشی سے محفوظ رہے۔

​خاندانی نظام کا تحفظ: فحاشی خاندانی نظام کو تباہ کرتی ہے، رشتوں میں بے اعتمادی پیدا کرتی ہے اور نسب کی حفاظت کو مشکل بناتی ہے۔

​معاشرتی امن: فحاشی معاشرے میں بے چینی، نفرت اور فساد کا باعث بنتی ہے، جبکہ اسلام امن، محبت اور سکون کا درس دیتا ہے۔

​روحانی پاکیزگی: فحاشی انسان کو روحانی طور پر کمزور کرتی ہے اور اسے اللہ کی یاد اور عبادت سے دور کر دیتی ہے۔

​خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں ہر وہ عمل حرام ہے جو فحاشی کے زمرے میں آتا ہو، کیونکہ اس کا تعلق صرف فرد سے نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اور روحانی صحت سے ہے۔

زنا

​قرآن مجید میں زنا کی ممانعت

​اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زنا سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ سورۃ الإسراء کی آیت نمبر 32 میں ارشاد ہے:

​”اور تم زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔”

​اس آیت میں صرف زنا کرنے سے ہی نہیں، بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام راستے جو زنا کی طرف لے جاتے ہیں، جیسے کہ غیر محرم سے تنہائی میں ملنا، بے پردگی، اور نامناسب باتیں کرنا، وہ بھی ممنوع ہیں۔

​زنا کی سزا

​اسلامی شریعت میں زنا کی سزا مقرر ہے۔ یہ سزائیں حالات کے مطابق مختلف ہیں۔

​اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہو: اگر زنا کرنے والے مرد اور عورت دونوں غیر شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا 100 کوڑے ہے۔

​اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہو: اگر زنا کرنے والا شادی شدہ (محصن) ہو تو اس کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے۔

​یہ سزائیں اسلامی حکومت اور عدالت کے زیرِ نگرانی ہی دی جا سکتی ہیں، اور یہ سزا کا مقصد معاشرے میں پاکیزگی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

​زنا کی ممانعت کی وجوہات

​اسلام میں زنا کو حرام قرار دینے کی کئی حکمتیں ہیں:

​خاندانی نظام کا تحفظ: زنا کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ اس سے نسب کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور بچوں کا حقیقی باپ کون ہے یہ معلوم نہیں ہو پاتا، جس سے معاشرتی اور قانونی مسائل جنم لیتے ہیں۔

​معاشرتی اخلاقیات کا تحفظ: زنا معاشرے میں بے حیائی اور اخلاقی گراوٹ کا سبب بنتا ہے۔ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ چاہتا ہے جہاں لوگوں کے درمیان احترام اور عزت ہو۔

​جذباتی اور ذہنی سکون: شادی کا ادارہ انسان کو ایک مستحکم اور پرسکون جذباتی زندگی فراہم کرتا ہے۔ زنا بے یقینی، حسد، اور بے چینی کو فروغ دیتا ہے۔

​صحت کا تحفظ: زنا کی وجہ سے بہت سی جنسی بیماریاں پھیلتی ہیں جو انسان کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

​ان تمام وجوہات کی بنا پر اسلام نے زنا کو حرام قرار دیا اور اسے ایک سخت جرم سمجھا ہے۔

چوری

​اسلام میں چوری ایک بدترین جرم ہے

​قرآن مجید کی تعلیمات

​قرآن مجید میں سورۃ المائدہ کی آیت 38 میں چوری کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے:

​”اور چور مرد اور چور عورت، ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، ان کی کمائی کا بدلہ ہے جو انہوں نے کیا ہے، اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے، اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے۔”

​یہ آیت ایک واضح حکم ہے، لیکن اس سزا کا اطلاق کچھ شرائط کے تحت کیا جاتا ہے، جن کا مقصد انصاف اور عدل کو یقینی بنانا ہے۔

​چوری کی سزا کے لیے شرائط

​اسلامی شریعت میں چوری کی سزا (ہاتھ کاٹنا) کے اطلاق کے لیے چند اہم شرائط ہیں:

​نصاب (کم از کم قیمت): چوری شدہ مال کی ایک خاص قیمت (نصاب) تک پہنچنا ضروری ہے۔ یہ نصاب مختلف فقہی مکاتب کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

​حفاظت (حرز): چوری شدہ مال کسی ایسی جگہ سے لیا گیا ہو جہاں وہ محفوظ ہو، جیسے کہ گھر، دکان، یا کسی محفوظ صندوق سے۔

​اسلام میں چوری کو حرام قرار دینے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

​مال و ملکیت کا تحفظ: اسلام لوگوں کی ذاتی ملکیت اور مال کے تحفظ کو بنیادی حق سمجھتا ہے۔ چوری اس حق کی خلاف ورزی ہے۔

​معاشرتی امن: چوری معاشرے میں بے یقینی، خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ چوری کی سزا کا مقصد لوگوں میں امن اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

​اخلاقی اصلاح: یہ سزا ایک اخلاقی درس بھی دیتی ہے کہ دوسروں کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ایک برا عمل ہے۔

​غریبوں کا حق: چوری صرف امیروں کا مال ہی نہیں بلکہ اکثر غریبوں اور کمزوروں کا بھی مال چھین لیتی ہے، جس سے ان کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

​خلاصہ یہ کہ اسلام نے چوری کو ایک سنگین جرم قرار دیا ہے اور اس کی سزا اس لیے مقرر کی تاکہ معاشرہ ہر قسم کے فساد اور بے امنی سے محفوظ رہے۔

جوئے بازی

اسلام میں جوا، جسے قمار یا میسیر کہا جاتا ہے، کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ممانعت قرآن اور احادیث دونوں میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔

​قرآن مجید کی تعلیمات

​قرآن مجید میں سورۃ المائدہ کی آیت 90 اور 91 میں اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا، بتوں اور فال نکالنے والے تیروں کو شیطانی کاموں میں شمار کیا ہے اور ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔

​آیت 90: "اے ایمان والو! بلاشبہ شراب، اور جوا، اور (بتوں کے) آستانے اور (قسمت معلوم کرنے کے) تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ پس ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔”

​آیت 91: "شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے۔ تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟”

​ان آیات میں یہ واضح ہے کہ جوا نہ صرف شیطانی عمل ہے بلکہ یہ معاشرے میں دشمنی، بغض اور نفرت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ انسان کو اللہ کی عبادت اور ذکر سے بھی دور کر دیتا ہے۔

​احادیث کی تعلیمات

​رسول اللہ ﷺ کی کئی احادیث میں بھی جوئے کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے: "جس نے (کسی سے) کہا کہ آؤ ہم جوا کھیلیں، تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ دے۔” یہ حدیث اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ جوا کھیلنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے محض خیال یا دعوت پر بھی توبہ اور صدقہ کا حکم دیا گیا ہے۔

​جوئے کی ممانعت کی وجوہات

​اسلام میں جوئے کی ممانعت کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

​غیر منصفانہ کمائی: جوئے میں ایک شخص کی دولت بغیر کسی محنت اور جائز طریقے کے دوسرے کے پاس چلی جاتی ہے۔ یہ مال کمانے کا غیر منصفانہ اور ناجائز طریقہ ہے۔

​معاشی نقصان: جوا کھیلنے والا اکثر اپنا سارا مال، وقت اور توانائی اس میں ضائع کر دیتا ہے، جس سے اس کی اپنی اور اس کے خاندان کی معاشی حالت تباہ ہو جاتی ہے۔

​اخلاقی اور سماجی برائیاں: جوا انسان میں لالچ، جھوٹ، اور دھوکہ دہی جیسی برائیاں پیدا کرتا ہے۔ یہ خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتا ہے اور معاشرتی تعلقات کو خراب کرتا ہے۔

​عبادت سے دوری: جوئے کی لت انسان کو نماز اور دیگر عبادات سے غافل کر دیتی ہے، اور اسے اللہ کی یاد سے دور لے جاتی ہے۔

​خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں جوا ہر صورت میں حرام ہے کیونکہ یہ مال، معاشرے اور اخلاقیات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

بدزبانی گالی گلوچ

​اسلام میں گالی گلوچ، بدزبانی، اور بدکلامی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اسے ایک اخلاقی برائی سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات اخلاق، احترام، اور مہذب گفتگو پر زور دیتی ہیں۔

​قرآن مجید اور احادیث میں ممانعت

​اگرچہ قرآن میں براہ راست گالی گلوچ کا لفظ استعمال نہیں ہوا، لیکن اس کے قریب ترین تصورات جیسے کہ فحش گوئی، بدکلامی، اور عیب جوئی سے منع کیا گیا ہے۔

​سورۃ الحجرات، آیت 11: "اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق اڑائے، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ ایک دوسرے کو طعنے دو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو۔”

​اس آیت میں دوسروں کا مذاق اڑانے اور برے ناموں سے پکارنے کی ممانعت کی گئی ہے، جو گالی گلوچ کی ہی ایک شکل ہے۔

​احادیث نبوی ﷺ میں اس موضوع پر بہت واضح تعلیمات ملتی ہیں:

​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔” (صحیح بخاری)

​ایک اور حدیث میں ہے: "مومن نہ تو طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ بے حیا اور نہ ہی بدکلام۔” (سنن ترمذی)

​گالی گلوچ کی حرمت کی وجوہات

​اسلام میں گالی گلوچ کی ممانعت کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

​اخلاقی برائی: گالی گلوچ انسان کے اخلاقی معیار کو گراتی ہے اور یہ مومن کی شان کے خلاف ہے۔

​معاشرتی فساد: یہ معاشرے میں نفرت، بغض اور دشمنی کو جنم دیتی ہے۔ اس سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں اور لوگوں میں احترام ختم ہو جاتا ہے۔

​زبان کا غلط استعمال: زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، اور اسلام اس کا بہترین اور مثبت استعمال سکھاتا ہے۔ گالی گلوچ اس نعمت کا غلط اور بے جا استعمال ہے۔

​بدلہ اور انتقام: گالی گلوچ اکثر دوسرے کی طرف سے بدلہ لینے یا جوابی ردعمل کا سبب بنتی ہے، جس سے لڑائی جھگڑے اور فتنہ بڑھتا ہے۔

​اسلام کی تعلیمات: اچھا اخلاق اور مہذب گفتگو

​اس کے برعکس، اسلام اچھے اخلاق، مہذب گفتگو اور نرم رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

​اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور لوگوں سے اچھی بات کرو۔” (سورۃ البقرہ، آیت 83)

​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

​خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں گالی گلوچ اور ہر قسم کی بدکلامی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے بلکہ معاشرتی امن اور انسان کی ذاتی وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

اس اخلاقی اور معاشرتی ناہمواری اور زوال شدہ وقت میں گر اہل علم و عوام یک زبان اور یک جاں ہوکر اس بدی کے طوفان کے خلاف سخت جاں ہوکر کوشش کرین گئے تو بدی کا یہ سیل رواں روکا جاسکتا ہے گر بروقت اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو یہ سیلاب ہر بلند و بالا جگہ اور سبزار کو اپنی لپیٹ میں لے کر انسانی دنیا میں دیوہیکل مرض کی صورت اختیار کرے گا نتیجہ یہ دنیا اہل جہاں کے لئے جہنم زار جیسی ہوکر رہ جائے گئی ،، اس اخلاقی اور معاشرتی ناسور کے خلاف سب سے اولین کوشش ہمیں اپنے وجود سے شروع کرکے اپنے گھر پھر اپنے محلے اور پھر جہان تک ہوسکے ، کرنی چاہئے تو ممکن ہے یہ طوفان روکا جاسکتا ہے ورنہ گر ہم نے آنا کانی کی تو ہمارے کل کا اللہ ہی حافظ ہے

Comments are closed.