یہ وقت سیکولر پارٹیوں کی برائیاں کرنے کا ہے ہی نہیں

 

تحریر : مظاہر حسین عماد قاسمی

( یہ مضمون سوا سال قبل 2024 کے پارلیمانی الیکشن سے قبل لکھا گیا تھا ، اس میں کہیں پر کچھ الفاظ تو کہیں پر کچھ جملوں کا اضافہ کرکے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ، امید ہے کہ اس مضمون سے سیاسی بصیرت میں اضافہ ہوگا ، 25/8/2025)

ہمارے ایک فاضل ندوی اور پی ایچ ڈی ہولڈر دوست ڈاکٹر مولانا مفتی مصطفی عبد القدوس ندوی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں تمام سیکولر پارٹیوں کی خاص طور سے امیر الہند مولانا ابو الکلام آزاد رح اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رح کی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے، اور مسلمانوں کو بہت سارے مشورے دیے ہیں اور اس میں سر سید مرحوم اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کے حوالے سے انڈین نیشنل کانگریس سے دور رہنے کا اشارہ دیا گیا ہے، اور مسلمانوں کو اپنی سیاسی پارٹی بنانے کی گذارش کی گئی ہے،

مین نے اس مضمون کے جواب میں یہ مختصر تحریر لکھی ہے،

 

سرسید مرحوم کی وفات ایک سو پچیس سال قبل اٹھارہ سو اٹھانوے میں ہوگئی تھی، اور اس وقت انڈین نیشنل کانگریس صرف سوا بارہ سال کی ایک نوزائدہ تنظیم تھی، جس کا مقصد پر امن طریقے سے انگریزوں سے ہندوستانیوں کے حقوق کا مطالبہ تھا ، ہندوستان کے ہندو خاص طور سے بنگالی ہندؤوں نے سترہ سو ستاون (1757) عیسوی سے ہی انگریزوں سے نہ ٹکرا کر اور ان سے دوستی کرکے اور انگریزی تعلیم حاصل کرکے دنیاوی اعتبار سے کافی ترقی کرلی تھی، ہر جگہ نوکریوں میں ان کا تناسب بڑھ گیا تھا اور مسلسل بڑھ رہا تھا اور ان کی ریاستیں اور جائدادیں محفوظ تھین،اس لیے سرسید اپنے بچپن اور نوجوانی کے زمانے سے ہی انگریزوں سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے،

 

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزدی میں جب کہ سارے علماء اور تمام ہندوستانی بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ مان کر انگریزوں سے لڑ رہے تھے، سر سید مرحوم انگریز افسروں کو بچا رہے تھے،

وہ بیس سال کی عمر میں اٹھارہ سو چھتیس میں عدالت میں مسل خواں اور پھر منصف بن گئے تھے، اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ان کو اپنی رائے میں مزید پختگی محسوس ہوئی، کانگر یس کی بنیاد سے دس سال قبل اٹھارہ سو پچھتر میں علی گڑھ میں انہوں نے عصری اور انگریزی تعلیمی ادارے مدرسۃ العلوم کی بنیاد ڈالی تھی جو ان کی وفات کے بائیس سال بعد انیس سو بیس (1920 ) عیسوی میں یونیورسٹی کی حیثیت سے ترقی کر گیا،اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے معروف و مشہور ہوا ۔

سر سید زندگی بھر مسلمانوں کو صرف اور صرف تعلیم پر توجہ دینے اور انگریزوں سے نہ ٹکرانے کے دو اصولوں پر عمل کرانا چاہتے تھے، اس لیے سوا سو سال پرانا سرسید کا سیاسی مشورہ موجودہ حالات میں قابل قبول کیسے ہو سکتا ہے، ؟؟

 

حکیم الامت حضرت تھانوی رح تقسیم ہند اور مسلم لیگ کے مؤید تھے، اور ان کی وفات کو بھی تراسی سال ہوگئے ، ان کی پہچان ایک سیاسی رہنما کی نہیں ہے، وہ سیاست میں حکیم الامت نہیں ہیں، وہ تفسیر و فقہ، اور تصوف و تزکیہ میں حکیم الامت ہیں،

 

ہندوستانی سیاست میں مسلمانون کے امام سرسید مرحوم اور حکیم الامت حضرت تھانوی رح نہیں ہیں، بلکہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رح ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدمدنی رح ، امیر الہند حضرت مولانا ابو الکلام ازاد رح ، بانی امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ و بانی جمعیۃ علمائے ہند حضرت مولانا ابو المحاسن سجاد رح اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رح وغیرہم ہیں ،

 

اس وقت ( آزادی سے قبل )مسلمان کانگریس یا کسی اور ہندو قیادت والی سیکولر پارٹی میں نہ رہتے تب بھی جدا گانہ اصول کے تحت ہر صوبے میں ان کی آبادی کے تناسب سے ان کو نشستیں مل جاتی تھیں ، اس لیےکہ ہر اسمبلی میں ان کی آبادی کے تناسب سے ان کے لیے نشستیں مخصوص تھیں،

 

مثلا بہار اسمبلی کے لیے کل ایک سو باون نشستیں تھیں جن میں سے چالیس نشستیں مسلمانوں کے لیے خاص تھیں اور انہیں نشستوں میں سے سولہ نشستوں پر بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاسن سجاد رح ( 1880-23/ نومبر 1940)کی پارٹی ” آزاد پارٹی ” نے کامیابی حاصل کرکے بہار کی دوسری بڑی پارٹی بننے کا شرف حاصل کیا تھا ، اس وقت مسلم لیگ کے علاوہ مسلمانوں کی تین پارٹیاں اور تھیں ،ان میں سے متحدہ پارٹی نے تین ، مجلس احرار اور پسماندہ طبقات لیگ نے تین تین سیٹیں حاصل کی تھیں ، آٹھ سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔ جن میں سے چار آزاد امیدوار ،آزاد پارٹی کے حمایت یافتہ تھے ، اس طرح آزاد پارٹی کے کل بیس امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔

کانگریس نے کل بانوے نشستیں حاصل کی تھیں ، جن میں سے صرف چار نشستیں مسلمانوں والی تھیں یعنی کانگریس کے کل بانوے ارکان اسمبلی میں سے صرف چار مسلمان تھے، در حقیقت یہ تین ہی تھے ، بیرسٹر سید محمود مرحوم دو جگہ سے کامیاب ہوئے تھے ، کانگریس کے ان تینوں امیدواروں کی مسلم آزاد پارٹی نے حمایت کی تھی ،

مسلم آزاد پارٹی سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے بہار کے مشہور عالم اور درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا اختر امام عادل قاسمی صاحب کی کتاب ” بہار مسلم انڈی پیڈینٹ پارٹی” کا مطالعہ کریں ۔

 

کانگریس نے اپنی پارٹی میں سے بہار کے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں ڈھائی ماہ کی دیر لگائی، اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ بہار کانگریس کے صدر بیرسٹر سید محمود تھے ، اور کانگریس کے ہندو لیڈران ان کو بہار کا وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتے تھے اور کانگریس کے منتخب ممبران اسمبلی میں کوئی ان کے سیاسی قد کا نہیں تھا ۔ اس لیے مرکزی اسمبلی کے ممبران شری کرشن سنہا ( 21/ اکتوبر 1887 – 31/ جنوری 1961) اور انوگرہ نارائن سنہا ( 18/ جون 1887- 5/ جولائی 1957 ) کو دہلی سے پٹنہ لایا گیا ، شری کرشن کو وزیر اعظم اور انوگرہ سنہا کو نائب وزیر اعظم بنایا گیا ، یہ دونوں 20/ جولائی 1937 تا 31/ اکتوبر 1939 وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم رہے ۔

بیرسٹر سید محمود ( 1989-1971) کو تیسرا درجہ دیا گیا ، اور انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا ، مولانا آزاد نے کانگریسیوں کی اس تنگ دلی پر ناراضگی ظاہر کی ہے ، ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہار میں راجیندر پرساد کی سیاست اور بمبئی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سیاست سے کافی دکھی ہیں ۔ راجیندر پرساد نے بہار کا پہلا وزیر اعظم سید محمود کو نہیں بننے دیا اور پٹیل نے ایک پارسی کو بمبئی ریاست کا وزیر اعظم بننے نہیں دیا . بمبئی ریاست بہت بڑی تھی ، اس میں کرناٹک کا تقریبا چوتھائی حصہ ، مہاراشٹر اور گجرات کا آدھے سے زیادہ حصہ شامل تھا ۔

مزید تفصیل کے لیے مولانا آزاد کی کتاب ” انڈیا ونس فریڈم ” کا مطالعہ فرمائیں ۔

اس اثناء میں آزاد پارٹی نےدو ماہ اٹھارہ دن یکم اپریل تا 19/ جولائی 1937 حکومت کی اور بیرسٹر محمد یونس ( 4/ مئی 1884- 13/مئی 1952) بہار کے وزیر اعظم بنے، آزادی سے قبل تک ہر صوبے کے وزیر اعلی کو وزیر اعظم کہا جاتا تھا،

اور آزاد پارٹی کی اس دو ماہ اٹھارہ دن کی حکومت کا اثر آج بھی بہار میں دکھائی دیتا ہے،

 

*بہار میں پھر کوئی دوسرا سجاد پیدا نہ ہوسکا*

بہار میں بی جے پی کو نتیش کمار کے بیساکھی کی ضرورت اس لیے ہے کہ مولانا ابو المحاسن سجاد رح کی بنائی پارٹی کے اثر سے بہار میں فرقہ واریت کو اس طرح پنپنے کا موقع نہیں ملا جس طرح اتر پردیش میں ملا، مگر افسوس یہ ہے کہ مولانا سجاد رح کی وفات کے بعد امارت شرعیہ بہار میں پھر کوئی دوسرا سجاد پیدا نہ ہوسکا اور انیس سو چھیالیس میں آزاد پارٹی ختم ہوگئی ،

 

*1946 میں کی گئی ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی غلطی*

انیس سو چھیالیس میں بہار و اتر پردیش سمیت آج کے تمام ہندوستانی صوبوں میں مسلمانوں کی مخصوص نشستوں کی پچھتر سے نوے فیصد نشستیں مسلم لیگ کو ملیں،

انیس سو چھیالیس میں بہار اسمبلی کی کل ایک سو باون نشستوں میں چونتیس نشستیں مسلم لیگ کو ملی تھیں ، یعنی مسلمانوں کے لیے مخصوص چالیس نشستوں میں سے چونتیس نشستیں اس مسلم لیگ نے جیت لی تھیں جسے نو سال قبل 1937 میں ایک سیٹ بھی نہیں ملی تھی ، بلکہ اس نے بہار اسمبلی انتخابات 1937 میں اپنے امیدوار اتارنے کی ہمت بھی نہیں کی تھی ، اس کا ایک بھی امیدوار اس الیکشن میں نہیں تھا ۔

یہ اس وقت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے مسلم لیگ کو ووٹ دیا کہ ہمارا علاقہ پاکستان میں شامل ہونے والا نہیں ہے، اور مسلم لیگی ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمینٹ کی نوے فیصد تعداد آزادی اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان کو ہجرت کرگئی،

اگر انیس سو چھیالیس میں انڈین نیشنل کانگریس میں مسلم ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمینٹ کی تعداد زیادہ ہوتی تو ہندوستانی دستور کو مسلمانوں کے لیے اور بھی زیادہ مفید بنایا جاسکتا تھا، اور مولانا ابو الکلام آزاد رح کو زیادہ تقویت ملتی،

 

مسلمانوں کی آل انڈیا پارٹیاں کئی ہیں،

چار نام یہان درج کیے جاتے ہیں

 

انڈین یونین مسلم لیگ

ال اندیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین

ایس ڈی پی آئی

 

*آج کی ضرورت*

آج کی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو یتایا جائے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کیسے ہرایا جائے اور کس صوبے میں کس پارٹی کو ووٹ دیا جائے،

 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ بتایا جائے کی کانگریس نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو کون کون سے حقوق دیے تھے اور ان میں سے کن کن حقوق کو گذشتہ دس سال کی بی جے پی سرکار نے ان سے چھین لیا ہے،

یہ بتایا جائے کہ کیا طلاق بل، تین سو ستر بل، اور سی اے اے بل کے خلاف کانگریس نے کچھ کیا یا نہیں، ؟؟ اور میرا مشاہدہ ہے یہ کہ کانگریس نے اپنی طاقت کے بقدر مسلمانوں کے خلاف لائے گئے ان تینوں بلوں کے خلاف پر زور آواز اٹھائی ہے،

 

انیس سو سڑسٹھ سے مسلمان انڈین نیشنل کانگریس کا بدل ڈھونڈ رہے ہیں، مگر آج تک کوئی پارٹی بھی اس سے بہتر نہیں مل سکی ہے،

ہزاروں خامیوں کے باوجود ہندوستان کی دیگر سیکولر پارٹیوں کے مقابلے میں انڈین نیشنل کانگریس سب سے بہتر ہے، اور وہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرسکتی ہے، اور وہ صرف مسلمانوں کے پندرہ فیصد ووٹ سے کامیاب نہیں ہوسکتی اسے اقتدار تک پہونچنے کے لیے کم ازکم مزید بیس فیصد ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے،

 

مسلم پارٹیاں ان ہی حلقوں پر کامیاب ہوسکتی ہیں جہاں مسلم ساٹھ فیصد سے زیادہ ہوں، یا چالیس فیصد ہوں مگر مقابلہ تکونہ ہوں،

کیرل اور تمل ناڈو میں مسلم لیگ، حیدر آباد میں مجلس اتحاد المسلمین اور آسام میں ال انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ پارلیمنٹ کی صرف ایک تا تین یا چار سیٹوں پر ہی کامیاب ہوسکتی ہیں،

ڈاکٹر صاحب کو شکایت ہے کہ کانگریس نے اپنے اتحاد میں مسلم پارٹیوں مجلس اتحاد المسلمین اور آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو اتحاد میں شامل نہیں کیا ہے، مگر مولانا نے یہ نہیں بتایا یا شاید انہیں معلوم نہیں کہ کانگریس کی قیادت والے اتحاد میں چار مسلم پارٹیاں ہیں

ان میں سے دو پارٹیاں کشمیر سے ہیں،

فاروق عبد اللہ صاحب کی پارٹی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی انڈیا اتحاد میں شامل ہیں،

کیرل اور تمل ناڈ میں اپنا اثر رکھنے والی مسلم لیگ بھی اس اتحاد میں شامل ہے، سات فروری دو ہزار نو کو قائم ہونے والی تمل ناڈو کی مسلم پارٹی مانیتھینیا مکل ککچھی بھی انڈیا اتحاد میں شامل ہے،

اور ان چاروں کے پاس مجلس اتحاد المسلمین اور آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ سے زیادہ ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمینٹ ہیں،

مجلس کا بھی کانگریس کے ساتھ بہت سالوں تک اتحاد رہ چکا ہے اور آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کا بھی اتحاد کانگریس کے ساتھ دو ہزار اکیس کے آسام اسمبلی الیکشن میں ہوا تھا.

Comments are closed.