ورفعنا لک ذکرک

 

از: حسن مدنی ندوی (ریسرچ اسکالر)

وہ دانائے سُبل،ختم الرُّسل مولائے کل جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغِ وادئ سینا

کلام الہی میں گاہ بگاہ ذکر مصطفوی کی اہمیت یہ عیاں کراتی ہے کہ اسلام کا محور اور کائنات کا وجود آپ ﷺ کی ذات سے ہے، عرش خداوندی کے بعد وسیلہ کا مقام محمود آپ ﷺ سے وابستہ ہے، اور آپ کی شان بعد از خدا سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے اور اس شان کا ذکر کرنا بھی ثواب، اس نقش پر چلنا بھی ثواب، علم و عمل کو اسی راہ پر لانا بھی ثواب ہے، آنحضور کی سیرت مشعل راہ ہے جو کارگاہ حیات کے نشیب و فراز میں ملت اسلامیہ کے لئے اسوہ ہے، وہ راستہ دکھتا ہے کہ غم میں یا خوشی میں، جنگ میں یا تجارت میں، امن میں یا صلح میں، گھر میں یا احباب میں، دشمنوں میں یا غداروں میں، حالات اور حادثات میں کب کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے اور کیا فیصلہ لینا چاہئے، آپ علیہ السلام کی سیرت سے زیادہ کسی شخص کی Motivational کہانی ہمیں راہ حیات میں اتنی مفید ثابت نہیں ہوسکتی، ذکر مصطفی جب ہوتا ہے، محبت و الفت و انسیت و رحمت کی تمام اصطلاحات مانند پڑجاتی ہیں کہ قوم و ملت کے لئے آپ کس قدر تڑپے کس قدر روئے کس قدر قربانیاں دیں، آپ کی ذات پر تو کائنات کا وجود قائم ہے مگر آپ نے امت کے لئے کیا کچھ نہ برداشت کیا، طائف کے پہاڑ گواہ ہیں اور آپ کے لہو سے لہولہان ہیں، احد کا پہاڑ آج بھی آپ کے نشان لیکر بیٹھا ہے اور آپ کے لمس کو محسوس کرتا ہے، مدینہ کی گلیوں میں آج بھی رسول خدا کے گزرے ہوئے مقامات قابل دیدار ہیں اور ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہیں کہ بحیثیت ملت مصطفوی ہم کہاں کھڑے ہیں اور محبت کی دعویداری میں کتنے سچے ہیں! آج متبعین اور وارثین نبی علیہ السلام بحیثیت فرد و جماعت شاذ و نادر ہی آپ کی صحیح معنی میں اتباع کررہے ہیں یاں آپ کے پیغامات کی صحیح اور معتبر سیاق و سباق میں پیروی کر رہے ہیں، متبعین اور محبین نبی علیہ السلام اگر اخلاقیات سے ناواقف ہے تو وہ نبی آخر الزمان کا مخالف ہے اور اس کا اسلام کا دعویٰ جھوٹا اور مسلمان ہونا بے سود ہے، اگر وہ حسن سلوک سے، اسلام کی دعوت نشر و اشاعت سے بے غرض ہے تو اس کا دعویٰ محبت کھوکھلا ہے، اگر وہ صلح و امن سے شہادت و عبادت سے خالی ہے تو وہ مذہبی اصولوں سے کوسوں دور ہے، فلسفۂ اسلام نبی علیہ السلام پر نازل ہوئے کلام الٰہی اور آپ سے منسوب احادیث نبویہ کے کے ارد گرد ہے اور اسی میں ہماری بقا ہے، اس سے آگے نکل کر اجتماع و اجتھاد علماء و مفکرین کی اپنی آراء ہیں جس میں عباقرہ کی چہ مگویوں سے سے استدلال قوم و ملت کے لئے چند معنوں میں سود مند ضرور ہے مگر وہ اصل نہیں، لایعنی موضوعات اور اختلافات پر بحث و مباحثہ جس میں آج ملت اسلامیہ ہمہ تن جوش کے ساتھ مصروف اور منسلک ہے وہ محض اسلام میں ثانوی درجے کی چیزیں ہیں جن کا کلام الٰہی اور راہ نبوی سے واسطہ نہیں اور یہ ثانوی مکالمات اصولیات بنتے جارہے ہیں اور اصولیات رسمیات بنتے جارہے ہیں، معاملہ برعکس ہے چونکہ سیرت نبوی سے جو استفادہ ہمیں کرنا چاہئے تھا ہم اس میں ناکام ہیں، ہم اغیار کی تاریخ میں حالات کا جائزہ اور حل تلاش کرتے ہیں جب کہ وہ ہمیں قرآن و حدیث و سیرت رسول سے مل سکتا ہے، ہم تہذیب نو کے پراگندہ علمبردار ہیں جس کی کامیابی کا راز فلسفۂ اسلام تھا اور جس کی ناکامی کا سبب اور انتشار لادینیت اور گمراہی پر مبنی ہے، جو ظاہری چمک ہے مگر اس کی تہہ میں اندھیرا ہے، بحر ظلمات میں یہ تہذیب آج مسلمانوں پر اس قدر اثر انداز ہورہی ہے کہ جو اس میں غوطہ زن ہیں وہ مادی و فکری طور پر معذور ہورہے ہیں اور اس دلدل سے نکلنے کا ان کے پاس راستہ نہیں ہے، وہ اسی جاہلیت کے دور میں لوٹ رہے ہیں جو چھٹی صدی عیسوی میں تھی، جب پورا یورپ اندھیرے میں تھا اور قتل و غارت گیری ان کا مشغلہ تھا، جب روم و فارس عیاشیوں میں اور حقوق سلب کرنے میں مصروف تھا، جب عرب و ہند خاندان، نسب و حسب کے نام پر جنگ و جدال میں منہمک تھے، اسی بحر ظلمات میں نور کا طلسم ظاہر ہوا جس سے سارا جہاں روشن ہوا، اسی روشنی سے اقوام عالم نے جینے کا سلیقہ سیکھا، تہذیب و تمدن کا وجود ہوا جو شاید ہزاروں سالوں گمشدہ تھی، انسانیت اور حیوانیت میں فرق واضح ہوا، اسی نور سے کائنات میں توازن پیدا ہوا، یہ عدل اور حق کا ترازو تھا جو انسانیت کے لئے آب حیات تھا،

 

آج جب کہ روز روشن کی طرح حق و باطل کی لکیر عیاں ہے تو تذبذب کی کوئی وجہ نہیں بنتی کہ حق کا متلاشی گمراہ ہوئے، متمدن ممالک میں حق قبول کرنے والوں کی فیصد میں بھاری اضافہ ہوا ہے اور وہاں دین بیزار عوام بھی نبی علیہ السلام کے پیغامات پر عمل کرتی ہے، مگر مشرقی ممالک میں جو کہ ہمیشہ سے حق کے علمبردار رہے اور دعوت و اشاعت دین میں مصروف رہے وہاں حق سے بیزاری کے معاملات زیادہ بڑھ رہے ہیں اور مسلم دنیا نہ صرف سیاسی زوال بلکہ اسلامی نظریاتی زوال سے بھی جوجھ رہی ہے، سیاست پر فاتحہ تو خلافت عثمانیہ کے سقوط پر پڑھ دی گئی تھی، مگر اسلامی تہذیب پر فاتحہ پڑھنے کا وقت زیادہ دور نہیں رہ گیا، اسلامی تہذیب، اخوت اور وحدت امت آج وطنیت اور قومیت کے شکنجے میں پھنس کر گمراہی کی راہ پر ہے، جہالت کا عروج اس دور میں ہے جب علم تک رسائی حد سے زیادہ آسان ہے، بلا مبالغہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ انسانی تاریخ میں حصول علم کے ذرائع جتنے وافر و کافی مقدار میں آج ہیں کبھی کسی دور اور زمانہ میں نہ تھے، اس کے باوجود مشرقی مسلمان اسلام اور نبی ؐ کے نام پر نہ جانے کونسی خرافاتیں لا کھڑا ہوا ہے، جس سے اغیار کی تہذیب شاید میل کھائے اسلامی تعلیمات سے تو کوئی واسطہ نہیں، یا تو حد درجہ دین بیزاری ہے کہ ذکر مصطفی کرنا اور احکامات کی پیروی کرنا محال ہے اور دنیاوی راہ روش میں گزر بسر ہے کہ جیسے یہی مقام انتہاء ہے اور آخرت کا وجود محض فلسفہ ہے، مگر نام کے اسلام سے محظوظ ہیں اور خود کو کافر یاں دائرہ اسلام سے خارج یا گمراہ کہلانا تصور نہیں کرسکتے، وہیں اتنا غلو ہے کہ ہر طرح کا تماشا نبیؐ کے ولادت کے نام پر منایا جاتا ہے کہ بدھسٹ بھی شاید گوتم بدھ کو اتنے تماشوں کے ساتھ یاد نہ کرتے ہوں گے، یہ تماشے اور خرافات نبی کی یاد میں نہیں بلکہ رسم و رواج کے لئے منائی جاتی ہیں، جو تہذیب بت کدوں سے آئی اس تہذیب کے اثرات جو نسلی رچے بسے ہیں بس وہی واضح ہوتے ہیں، افراط و تفریط میں اعتدال کی راہ اپنانا، ذکر مصطفی کرنا اور آپ کے دیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہونا اور ان احکامات کی اشاعت کرنا ہی اصل عید میلاد ہے، اور اس عید میلاد کو منانا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ یہی ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے، اور جس کا یہ مقصد نہیں وہ مسلمان نہیں۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآن’ وہی فرقاں’ وہی یٰسیں’ وہی طٰہٰ

Comments are closed.