کیوں غیر محفوظ ہے پہاڑوں میں رہنا
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش اور اب جموں کشمیر سے بادل پھٹنے، پہاڑ ی چٹانیں کھسکنے(لینڈ سلائیڈنگ) کی خبریں آ رہی ہیں ۔ صرف ویشنو دیوی ٹریک پر لینڈ سلائیڈ میں مرنے والوں کی تعداد ۳۱ ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے پتھر ، پیڑ اور ملبے میں دبنے سے زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ انتظامیہ کے مطابق ۲۳ سے زیادہ لوگ زخمی ہیں اور کئی لا پتہ ہیں ۔ مرنے والوں کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے ۔ اترا کاشی کے دھرالی کی آفت میں لاکھوں ٹن ملبے میں دبے درجنوں لوگوں کی تلاش ابھی جاری ہی تھی کہ چمولی میں آسمانی آفت سے بھاری تباہی ہو گئی ۔ ہماچل کے کلو منالی، کنّور اور منڈی میں بادل پھٹنے ، سیلاب سے برا حال ہے ۔ جموں کے ڈوڈا ، کشت واڑ اور کشمیر کے کٹھوا میں زبردست جانی مالی نقصان ہوا ہے ۔ اتر کھنڈ، ہماچل ، جموں کشمیر اور لداخ یعنی پورا ہمالیائی علاقہ قدرتی آفت ، بادل پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہے ۔
ماہرین کے مطابق، پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، اب اتراکھنڈ اور ہماچل کے پہاڑوں میں بادل پھٹنے کے واقعات ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر واقعات مانسون کی بارش کے دوران پیش آتے ہیں ۔ ہمالیہ زمین پر سب سے کم عمر اور ارضیاتی طور پر غیر مستحکم پہاڑی سلسلہ ہے ۔ اس کی کھڑی ڈھلواں چٹانیں ، زلزلہ کی سرگرمیاں اور گلیشیئرز کی موجودگی اسےآفات کے لئے قدرتی طور پر حساس بناتی ہے ۔ قدرت کے ساتھ انسانی چھیڑ چھاڑ سے اس میں شدت پیدا ہوئی ہے ۔ ہمالیہ پر کمپریسڈ ہوا کی گردش کا نظام اور زیادہ نمی بادل پھٹنے ، بھاری بارش اور اچانک سیلاب کا سبب بنتی ہے ۔ سائنسی مطالعات کے مطابق کیومولونمبس بادل،جو ۱۵ کلو میٹر کی اونچائی تک پہنچتے ہیں ،خلیج بنگال اور بحرہ عرب سے نمی لے جاتے ہیں اور ہمالیہ کے علاقوں میں موسلادھار بارش کرتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ، ۲۰۱۳ءکا کیدار ناتھ المیہ اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اس میں منداکنی اور الکنندا ندیوں میں آئے سیلاب میں چھ ہزار لوگوں کی جان گئی اور ہزاروں لوگ لا پتا ہو گئے تھے۔ اسی طرح ستمبر ۲۰۱۴ء میں آئے سنگین سیلاب نے سری نگر اور آس پاس کے اضلاع میں بھاری تباہی مچائی تھی ۔ شہر کے کئی حصوں میں ۱۲ فٹ تک پانی بھر گیا تھا ۔ سیلاب سے جموں کشمیر میں سو سے زیادہ لوگوں کی جان گئی تھی ۔ بادل پھٹنے سے چمولی کے دھرالی سے بھی زیادہ تباہی جموں کشمیر کے کشت واڑ میں ہوئی ہے ۔ یہاں ۶۰ لوگوں کی موت ہوئی اور سیکڑوں لا پتا ہو گئے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمالیہ کے علاقہ میں قدرتی آفات کی تعداد اور شدت کو بڑھانے میں موسمیاتی تبدیلی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں 0.75ڈگری سیلسیس کی بڑھوتری ہوئی ہے ۔ اس کی وجہ سے برفانی جھیلوں میں تیزی سے بخارات بن رہے ہیں اور گلیشیئرز کے کٹاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ عمل بادل پھٹنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرتا ہے ۔
بادل کا پھٹنا یا کلاؤڈ برسٹ اس عمل کو کہتے ہیں جب بہت کم وقت میں محدود دائرے میں اچانک شدید بارش ہو۔ بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق، اگر کسی علاقے میں 20-30 مربع کلومیٹر کے دائرے میں ایک گھنٹے میں 100 ملی میٹر بارش ہو تو اسے بادل پھٹنا کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔آئی ایم ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق جموں ۔کشمیر میں ۲۰۲۰ ء میں ۷ ، ۲۰۲۱ء میں ۱۱، ۲۰۲۲ء میں ۱۴ ، ۲۰۲۳ء میں ۱۶ء اور ۲۰۲۴ء میں بادل پھٹنے کے ۱۵ واقعات درج کیے گئے ۔ ۲۰۲۵ء میں اب تک ۱۲ ایسے واقعات ہو چکے ہیں ۔ اترا کھنڈ میں بھی گزشتہ آٹھ برسوں میں بادل پھٹنے کے۶۷ بڑے واقعات سنگین تباہی مچا چکے ہیں ۔
انٹرنیشنل جرنل آف ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن میں شائع تحقیق کے مطابق، اوپری گنگا بیسن میں شدید بارش کے باعث اچانک سیلاب، چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) اور جان و مال کا نقصان معمول بنتا جا رہا ہے۔ ہمالیائی خطے میں مانسون کے مہینوں جولائی-اگست کے دوران یہ واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 66.6 فیصد بادل پھٹنے کے واقعات سمندر کی سطح سے 1000-2000 میٹر کی بلندی والے علاقوں میں ہوتے ہیں، جو آبادی کے لحاظ سے نہایت حساس ہیں۔
پولر سائنس جریدے میں شائع حالیہ تحقیق کے مطابق، عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث ہمالیائی خطے میں نمی اور کنویکشن (یعنی حرارت سے اوپری فضا میں اٹھنے والی ہوا) کے عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ جب گرم ہوائیں سمندر سے بھاری مقدار میں نمی لے کر ہمالیہ کی ترائی تک پہنچتی ہیں تو پہاڑ ان ہواؤں کو اوپر کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ اس عمل کو اوروگرافک لفٹ کہا جاتا ہے۔
اس سے بڑے بڑے کیومولونمبس نامی بادل بنتے ہیں، جو بارش کے بڑے قطروں کو سمیٹ کر رکھتے ہیں۔ یہ بادل جب ضرورت سے زیادہ بھاری ہو جاتے ہیں اور بارش نہیں ہو پاتی، تو ایک موقع پر یہ پھٹنے لگتے ہیں۔ جب اوپر جاتی ہوئی نمی ٹھنڈی ہواؤں سے ملتی ہے تو تیز کنڈینسیشن (کنڈنزیشن) ہوتا ہے اور وہ شدید بارش کی شکل میں گرتی ہے۔
ہمالیہ میں درجۂ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ اس سے بخارات میں اضافہ ہوتا ہے، فضا میں نمی بڑھتی ہے اور شدید بارش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے بھی فضائی نمی میں اضافہ ہوتا ہے، جو مقامی سطح پر اچانک آنے والے سیلاب میں کردار ادا کرتا ہے۔ پولر سائنس کے مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیائی ماحولیاتی نظام کو غیر مستحکم کر رہی ہے، جس سے انتہائی محدود دائرے میں ہونے والی بارش کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جن کی بروقت پیش گوئی کرنا نہایت مشکل ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے علاوہ انسانی مداخلت نے بھی اس مصیبت کو دعوت دی ہے ۔ جنگلات کی کٹائی، غیر منصوبہ بند طریقہ سے تعمیرات، ندیوں کے راستے میں روکاوٹیں پیدا کرنا ، دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر،سڑکیں بنانے کے لیے اندھا دھند کھدائی اور بجلی پروجیکٹ نے بھی لینڈ سلائیڈ کے خطرات کو بڑھایا ہے ۔ اتنا ہی نہیں پہاڑوں پر سیلانیوں کی بے تحاشہ بھیڑ بھی وہاں کے ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔ ترقی اور سیاحت کے نام پر ماحول کے ساتھ کھلواڑ ہو رہی ہے ۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی ریاستوں میں اعلیٰ معیار کے موسمیاتی نگرانی کے نظام کا جال بچھانا ضروری ہے۔ حساس علاقوں میں ریئل ٹائم ریڈار سسٹم اور پیشگی انتباہی نظام کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ مانسون کے دوران انخلا کے پروٹوکول پہلے سے نافذ کیے جانے چاہئیں۔ ڈھلانوں اور ترائی والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خطرے کی صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے انتظامی منصوبہ بندی پہلے سے طے ہونی چاہیے۔
مقامی برادریوں کو آگاہ کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں پر قابو پانے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے۔ ماہرین کی یہ بھی تجویز ہے کہ کلاؤڈ برسٹ
کی واضح نشاندہی کر کے وہاں خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں ۔ جموں کشمیر کے آئی ایم ڈی ڈائرکٹر مختار احمد مطابق ڈاپلر رڈار لگائے جائیں یہ بادل پھٹنے کا الرٹ پہلے سے دے سکتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ترقی کا پائیدار مڈل اختیار کیا جائے ۔ جس سے قدرت کے فطری نظام کو کم سے کم نقصان ہو ۔ کاربن کے اخراج اور کثافت کی پیداوار پر روک لگے ۔ ندیوں اور دریاؤں کے راستوں کی روکاوٹوں کو دور کیا جائے ۔ قدرتی نظام کا تحفظ جہاں ہمارے حق میں ہے وہیں اس سے کھلواڑ کا نقصان بھی ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا ۔
Comments are closed.