کامیابی کا اصل راستہ شریعت کا قانون ہے، کل جماعت تحفظ شریعت کمیٹی سنگاریڈی کے زیرانتظام اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام منعقد تفہیم شریعت ورکشاپ میں ممتاز علماء کا خطاب
حیدرآباد (پریس ریلیز)
اسلام کے علاوہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں، ان کے ماننے والوں نے عملاً مذہب سے رشتہ توڑ لیا ہے۔ وہ صرف چند تہواروں کو ایک تہذیبی میلے کے طور پر مناتے اور کبھی کبھار مذہب کے مروجہ طریقۂ عبادت کو انجام دے لیتے ہیں۔ اس سے مستثنیٰ اگر کوئی ہے تو وہ صرف مسلمان ہیں، جو اپنے دین کو زندہ رکھتے ہیں اور اس کی روح پر کاربند رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب سے مشرق تک خدا بیزار طبقہ اسلام اور مسلمانوں پر طرح طرح کے اعتراضات کرتا رہتا ہے۔ ان اعتراضات سے بعض اوقات ہماری نوجوان نسل بھی متاثر ہو جاتی ہے اور شریعت کے قانون پر سوال اٹھانے لگتی ہے، جس سے ایمان کے زائل ہونے کا اندیشہ اہلِ غیرت کو بے چین کرتا ہے۔ یہ ایک فکری و ایمانی جنگ ہے جس کا سامنا صرف وہی کر سکتا ہے جو شریعت کی بنیادوں کو گہرائی سے سمجھتا ہو۔
انہی ذہنی و فکری آلودگیوں کو دور کرنے کی خاطر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کے طول و عرض میں مسلسل ’’تفہیم شریعت‘‘ کے عنوان سے ورکشاپ کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی وہ پروگرام بھی تھا جس کا انعقاد سنگاریڈی میں مورخہ 24 اگست بروز اتوار عمل میں آیا۔ ورکشاپ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور نعتیہ کلام پیش کیا گیا۔ اس کے بعد چھ نہایت اہم اور ہمہ گیر موضوعات پر خطابات ہوئے، جن میں یکساں سول کوڈ: نقصانات اور اندیشے، نفقہ مطلقہ، اسلام کا نظامِ وراثت، وقف کا اسلامی تصور اور موجودہ وقف ترمیمی قانون 2025، لے پالک اور اسلامی نظریہ، اور تعددِ ازدواج جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان موضوعات کا انتخاب اس بات کی علامت تھا کہ بورڈ مسلمانوں کی دینی و سماجی زندگی کو لاحق ہر پہلو پر نگاہ رکھتا ہے اور ہر مسئلے کا مدلل جواب فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پروگرام شہر کے قلب میں واقع سٹی آڈیٹوریم فنکشن ہال میں منعقد ہوا جہاں علماء، ائمہ، دانشوران اور وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ موقع کی سنجیدگی اور سامعین کی توجہ سے یہ بات عیاں تھی کہ قوم آج بھی اپنے دینی مسائل کے درست حل کی متلاشی ہے۔

اس موقع پر مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد نے دو موضوعات: وقف کا اسلامی تصور اور موجودہ وقف ترمیمی قانون 2025 اور تعدد ازدواج پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ان دونوں موضوعات پر اٹھنے والے سوالات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے فرمایا:
"کامیابی کا اصل راستہ شریعت کا قانون ہے اور نجات اسی میں ہے۔ ہر سماج میں کمیاں ہوتی ہیں مگر جو سماج اپنی کمی کی اصلاح کی فکر کرتا ہے وہ زندہ رہتا ہے، اور جو اصلاح کی فکر چھوڑ دیتا ہے وہ بدبودار پانی ہوجاتا ہے جس سے ہر کوئی پرہیز کرنے میں ہی اپنی عافیت محسوس کرتا ہے۔”
مولانا نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں ایک طرف ہماری شہریت پر سوالیہ نشان قائم کیا جاتا ہے اور دوسری طرف شرعی قانون سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تاکہ مسلمانوں کو دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ مسلمان ہر شے گوارا کرسکتا ہے لیکن شریعت پر حملہ کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وہ ایمانی حرارت ہے جس نے امت کو ہمیشہ زندہ رکھا ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی روح کب کی ختم ہو چکی ہے۔
مولانا مفتی شاہد علی قاسمی، استاذ المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد نے دو موضوعات پر خطاب فرمایا: پہلا نفقہ مطلقہ اور دوسرا اسلام کا نظامِ میراث۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شریعت میں نفقہ تین وجوہات سے واجب ہوتا ہے: قرابت، حبس اور ملکیت۔ بیوی کا نفقہ حبس کی بنیاد پر واجب ہوتا ہے ، لیکن جب بیوی کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی ختم ہو جائے تو حبس باقی نہیں رہتا ہے ، لہٰذا نفقہ شوہر پر واجب نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں والد، دادا ، بھائی اور دیگر اقارب مقررہ ضابطہ کے مطابق اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مہر کی خطیر رقم یا بچوں کی حضانت کی اجرت اس کی کفالت میں مددگار ہو سکتی ہے، اور سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ ایسی خاتون کی دوسری شادی کر دی جائے تاکہ وہ معمول کی زندگی گزار سکے۔ اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے موصوف نے نفقہ مطلقہ کے عدم وجوب پر نقلی و عقلی دلائل بھی پیش کئے ۔
اسلام کے نظامِ میراث پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام میں وارثین کے حصے مقرر ہیں ، جن میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے ، حق میراث غیر اختیاری ہے ، کسی وارث کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے ، شریعت کا کوئی حکم ماورائے عقل تو ہوسکتا ہے لیکن خلافِ عقل نہیں۔ تقسیم میراث میں ذمہ داریوں کو سامنے رکھا گیا ہے، اسی لیے بیٹا کو ڈبل اور بیٹی کو سنگل حصہ دیا گیا ہے، کیونکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جس پر جتنی ذمہ داری ہو، اسی کے مطابق اسے حصہ ملے۔ مولانا موصوف نے مزید کہا کہ تقسیم میراث میں بہ کثرت کوتاہیاں اور زیادتیاں پائی جاتی ہیں ، جن کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔

دیگر مقررین میں مولانا محمد اسعد ندوی، آرگنائزر تفہیم شریعت کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بورڈ کے قیام و مقاصد پر گفتگو کی اور یونیفارم سول کوڈ کے نقصانات پر تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کا خطاب نہ صرف تاریخی حوالوں پر مشتمل تھا بلکہ موجودہ حالات کا عمیق تجزیہ بھی اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔
مولانا مفتی اسلم سلطان قاسمی جو اس ورکشاپ کے گویا روح رواں تھے نے لے پالک اور اسلامی نقطۂ نظر پر مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لے پالک کو حقیقی بیٹا قرار دینے سے کئی شرعی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جیسے حرمتِ نکاح، وراثت، وصیت، ہبہ، حجاب اور ولایت کے قوانین پر مرتب ہونے والے اثرات۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقی محبت و تربیت بھی اکثر اس رشتے میں نہیں بن پاتی، اور بعض تحقیقات کے مطابق ایسے بچے بعد میں نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے اس معاملے میں انتہائی حکیمانہ حدود متعین کی ہیں۔
ورکشاپ کے اخیر میں حضرت مولانا طاہر حسین شاہ نوری چشتی دامت برکاتہم نے تاثراتی خطاب فرمایا۔ انہوں نے بورڈ کے اس پروگرام کو اپنی شرکت کے اعتبار سے سعادت قرار دیا اور کہا کہ تفہیم شریعت کا یہ ورکشاپ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے جو امت کے دینی شعور کو بیدار کرتا ہے۔
ورکشاپ کے اختتام کے بعد بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اجلاسِ عام بعنوان "تحفظِ شریعت” منعقد ہوا جس میں ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ خطاب کرنے والوں میں حضرت مولانا جعفر پاشا زید مجدہ (امیر ملت اسلامیہ آندھرا و تلنگانہ)، حضرت مولانا انوار احمد قادری (ناظم امتحانات جامعہ نظامیہ حیدرآباد)، حضرت مولانا حامد خان صاحب (مرکزی سکریٹری جماعت اسلامی ہند) اور مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی شامل تھے۔ ان تمام خطابات نے ایک ہی پیغام دیا کہ مسلمانوں کی بقا اور ترقی صرف شریعت کی پاسداری میں ہے۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں آل انڈیا ملی کونسل سنگا ریڈی، اہل سنت الجماعت، جمعیةالعلماءکے مقامی ذمہ داران کے ساتھ جماعت اسلامی ہند سنگاریڈی کے امیر مقامی محی الدین شاہد اور محمد ریاض الدین ذمہ دار جماعت اسلامی اوڈیسا کا اہم رول رہا۔
Comments are closed.