سوگئے قوم کو جگانے والے…. غیاث الدین بابوخان

 

!!سچ تو مگر کہنے دو

 

از:ڈاکٹرسیدفاضل حسین پرویز

 

جناب غیاث الدین بابو خان اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ یہاں رہنے والا کوئی نہیں سب ایک دوسرے کے پیچھے رخصت ہونے والے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ ہستیاں دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنے فلاحی رفاہی خدمات کے لیے ایک عرصے دراز تک یاد رہ جاتی ہے۔ جناب سید خلیل اللہ حسینیؒ بانی تعمیر ملت، اور مولوی عبد الواحد اویسیؒنے زوال حیدرآباد کے بعد حاکم سے محکوم ہونے والے مسلمانوں کو سر اٹھاکر جینے کا اپنے اپنے انداز میں حوصلہ دیا اور جناب غیاث الدین بابوخان نے غربت کے اندھیروں میں چھپے ہوئے قوم کے لعل وگوہر تلاش کیے، انہیں اس قابل بنایا کہ وہ قوم و ملت کے اثاثہ بن گئے۔

جناب غیاث الدین بابوخان سے پہلے بار 1990میں ان کے بڑے بھائی جناب بشیر الدین بابو خان نے تعارف کروایا تھاایک بلڈر کی حیثیت سے۔ان کا صرف نام سنا تھا ملنے کے بعد ایک بڑی ہستی سے ملاقات کی جو خوشی ہوتی ہے اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جناب بشیر الدین بابو خان تلگو دیشم پارٹی کے اہم ستون اور ریاستی وزیر بھی تھے۔ ایڈیٹر رہنمائے دکن جناب وقارالدین مرحوم سے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اکثر دفتر میں تشریف لاتے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کی ذمہ داری مجھے دی گئی تھی، اس لیے بشیر صاحب سے بہت زیادہ قربت ہو گئی تھی،ان کے ساتھ کئی اضلاع کے دورے کا موقع بھی ملا۔غیاث صاحب سے کسی نہ کسی محفل سلام علیک ہوتی، وہ تشہیر سے دور رہتے۔1992میں میں نے رہنمائے دکن کا مسلم بلڈرس، آرکٹیکٹس اور انجینئرس پر ایک خصوصی ایڈیشن شائع کیا تھا، جس میں پہلی بار غیاث صاحب کا انٹرویو بھی لینے کا موقع ملا۔ جس میں انہوں نے کھل کر بات کی اپنی اور اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بیان کیا۔جناب غیاث الدین بابو خان کے والد خان بہادر عبدالکریم بابو خان تھے۔گاندھی بھون حیدرآباد انہی کی ملکیت تھی۔ ان کے تین بیٹے افسر بابوخان، بشیر الدین بابو خان اور جناب غیاث الدین بابو خان، سات بیٹیاں، دامادوں میں خیر الدین صدیق آرکیٹیکٹ، شیخ امام (کاسیلا فارم)، حفیظ الدین شیخ امام، ڈاکٹر اقبال ثنائی، افضل ثنائی اور رحمن خان شامل ہیں۔رہنمائے دکن کا مسلم بلڈرس اسپیشل نمبر ایک دستاویز ثابت ہوا اور جناب غیاث صاحب نے اسے پسند کیا اور اس کے بعد سے ان سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران غیاث الدین بابو خان صاحب اپنے بڑے بھائی اور اپنے ہم خیال عزیز واحباب کے ساتھ ملی اور قومی سرگرمیوں میں پس پردہ رہتے ہوئے سرگرم ہو گئے تھے۔ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ پیش آیا۔ غیاث صاحب نے اردو اخبارات میں ایک ایک صفحے کے اشتہار شائع کروائے جس میں بابری مسجد کی شہادت کے غم میں عید الفطر کو سادگی سے منانے کی عام مسلمانوں سے اپیل کی گئی اور ساتھ ہی احتجاجی اقدام کے طور پر گورنمنٹ کی طرف سے سپلائی کی جانے والے دودھ کی خریدی کا بائکاٹ کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ اس پر حیدرآباد کے سرکردہ علماء کرام اور اکابرین نے دستخط کیے تھے، اس اپیل کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ بیشتر مسلمانوں نے عید واقعی سادگی سے منائی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ گورنمنٹ کی جانب سے سپلائی کیا جانے والا دودھ بہت کم فروخت ہوا۔بابری مسجد کی سانحہ پر غیاث الدین بابوخان صاحب کی یہ تڑپ عملی اقدام کے طور پر منظر عام پر آئی تھی۔ کچھ عرصہ بعد لاتور (مہاراشٹرا) میں خوفناک زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔جناب غیاث الدین بابوخان کی زیر نگرانی ایک ٹیم امدادی ساز وسامان اور والینٹیرس کے ساتھ لاتور پہنچ گئی اور انہوں نے بلالحاظ مذہب و قوم خدمات انجام دی۔ یہ سلسلہ رکا نہیں چند ماہ بعد 1993میں ممبئی کے بدترین فسادات نے پورے ملک کو لرزہ بر اندام کر دیا۔ مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی، غیاث صاحب نے اس وقت تک حیدرآباد زکوۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ قائم کر دیا تھا۔ جس نے ممبئی کے بے گھر مسلمانوں کی ہر طرح سے مدد کی اور ممبئی کے مقامی تنظیموں کے تعاون سے ان کی بازآبادکاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حیدرآباد زکوۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ قائم تو 1993میں ہوا مگر انفرادی طور پر اس سے بابوخان فیملی سے پہلے ہی خاموشی کے ساتھ خدمات انجام دے رہی تھی۔ انفرادی کاوشوں کو اجتماعی جدوجہد میں بدلنے کے لیے اس ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ فنڈس اکھٹا کرنے کا آغاز اپنے گھر اپنے اہل خاندان اور حلقہ احباب سے شروع کیاگیا۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے کہ ٹرسٹ کی بیشتر میٹینگس میں مجھے شرکت کی دعوت دی جاتی اور جب یہاں قوم کی فلاح بہبود کے لیے فنڈس اکھٹا کرنے کا اعلان کیا جاتا تو مجھے یاد ہے کہ سب سے پہلے ڈونیشن کا اعلان جناب بشیر الدین بابوخان کی جانب سے ہوتا۔ میں اس میٹینگ میں بھی شریک تھا جو غیاث صاحب کے بیگم پیٹ کے کوٹھی نما مکان میں منعقد ہوئی تھی جس میں انہوں نے اس کوٹھی کو ٹرسٹ کے لیے وقف کر دینے کا اعلان کیا تھا اور جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اپنے دوسرے گھر میں منتقل ہونے تک جب تک غیاث صاحب ٹرسٹ کو وقف کیے گئے مکان میں رہے اس کا کرایہ دیتے رہے۔ اکثر کہتے ”دیکھو پرویز! یہ اللہ کا کرم ہے ہم نے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا اور ایک ہی پارٹی نے اسے منھ مانگی قیمت پر لے لیا“۔ وقت کے ساتھ ساتھ حیدرآباد زکوۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ اور غیاث الدین بابو خان چیریٹیبل ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ خدمات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ غریب مستحق مگر ہونہار طلبہ کو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے بلکل اسی طرح جیسے پتھر کو تراش کر ہیرا بنایا جاتا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کے گاؤں گاؤں میں غیاث الدین بابو خان نے ہونہار بچوں کو چھوپڑیوں، جھگیوں، بارش میں ٹپکتی چھتوں کے خستہ حال گھروں میں رہنے والے بچوں کو انہوں نے اسکالرشپ دے کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا اور ان کے ماں باپ کے وہ خواب پورے کیے جو شاید انہوں نے دیکھے ہی نہیں تھے۔ ایم بی بی ایس، انجینئرنگ، ایم بی اے اور دوسرے پروفیشنل کورسیس میں داخلے کی تمنا رکھنے والے ہونہار طلبہ کی غیاث صاحب کے ٹرسٹ نے اس انداز میں مدد کی کہ یہ لڑکے اور لڑکیاں آج قوم کی اثاثہ ہیں۔ ان میں کئی ایسے بھی ہیں جو انجینئرنگ کورس کے چار برس تک اسکالرشپ لیتے رہے اور پھر اپنے خود کے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ غیاث صاحب ان بچوں کی ترقی و کامیابی پر ایسا ہی خوش ہوتے جیسا کہ یہ ان کے اپنے بچے ہوں۔ یتیموں اور بیواؤں سے ان کی ہمدردی ان کے لیے ان کی تڑپ سچے مومن ہونے کی نشانی تھی۔ یہ یتیم بچے غیاث صاحب کو اپنے درمیان دیکھ کر ایسے خوش ہوتے جیسے ان کے سرپر سے جدا ہونے والا سایہ واپس آگیا ہو۔ نوجوان بیواؤں کی شادی کی تحریک دراصل بے سہارا خواتین کی بازآباد کاری تھی وہیں معاشرے کو بے راہ روی سے محفوط رکھنے کی ایک عظیم جدوجہد۔ سادگی غیاث صاحب کی سب سے اہم خصوصیت تھی۔ کھری کھری بات کہنے کی عادت تھی، شادیوں میں اسراف کے خلاف اپنے گھر سے تحریک کا آغاز کیا اور ہر اس شخص کے قدر کرتے جو سادگی سے شادی بیاہ انجام دیتا ہو۔ ڈاکٹر علیم خان فلکی نے جہیز کے خلاف کتاب ”مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے“ لکھی تھی۔ جس میں فرسودہ رسومات، شادی کے دن دعوت طعام، جہیز، منگنی سے پہلی اولاد کی پیدائش تک لڑکی والوں پر ڈالے جانے والے بوجھ کے خلاف لکھا تھا۔ یہ کتاب ہم نے جناب غیاث الدین بابو خان صاحب کو پیش کی اس کتاب میں ایک باب لڑکی والوں سے لی ہوئی رقم کو واپس کرنے سے متعلق تھا۔ غیاث صاحب نے اسے پڑھ کر فوری اپنے بیٹے یا کسی اور کو بلایا اور اپنے جیب سے دو ہزار روپیے نکالے اور ایک لفافے میں رکھے اور اپنی اہلیہ کو دینے کے لیے کہا۔ ان کی اہلیہ نے فون پر پوچھا کہ یہ رقم کیسی ہے غیاث صاحب نے کہا کہ شادی کے وقت ان کے والد (خسر صاحب) نے انہیں دیے تھے جو وہ واپس کر رہے ہیں۔ اہلیہ کا جواب آیا ستر کی دہائی میں لیے گئے دو ہزار روپیے کی قدر قیمت آج کی تاریخ میں جو ہے وہ دی جائے۔ غیاث صاحب نے کہا کہ وہ حساب بعد میں کرتے ہیں، پہلے اصل تو لے لو۔ غیاث صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ شجاعت غیاث الدین بابو خان میں جو پائگا فیملی کے چشم و چراغ نواب اقتدارالدین خان کی صاحبزادی ہیں، غیر معمولی ذہنی ہم آہنگی رہی ہے اور وقت اور حالات کے کٹھن راہوں میں وہ ان کی ہم قدم رہیں۔ فلاحی اور رفاحی سرگرمیوں میں وہ برابر کی شریک رہتیں بلکہ ان کے تمام ارکان خاندان مل جل کر انسانیت کی خدمات انجام دیتے۔ جناب غیاث الدین بابو خان کی نگرانی میں ملک کے تقریبا ہر حصے میں مستحقین کو امداد دی۔ گجرات فسادات میں غیاث صاحب خود پوری ٹیم کے ساتھ متاثر علاقوں میں گئے اور ایک سے زائد مرتبہ فرقہ پرستوں کے حملوں سے محفوظ رہے۔

غیاث صاحب کی خدمات نے انہیں قوم و ملت کا ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔ قوم میں دولت مندوں کی کمی نہیں مگر فراخ دل اور قوم و ملت کے لیے ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہماری چشم گناہ گار نے ایسے کئی دولت مندوں کو قارون کی طرح اپنی دولت کے ساتھ پیوند خاک ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ غیاث صاحب نے اپنی خدمت اور جذبے سے ملک اور بیرون ملک میں قوم کے قابل اعتماد شخصیت کا امیج بنا لیا تھا۔ گلف ہو امریکہ اور یورپ کے ممالک غیاث صاحب اور ان کے ٹرسٹ کو مستحکم کرنے کے لیے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن پیش پیش رہتے کیونکہ وہ جو کام کرنا چاہتے ہیں غیاث صاحب انجام دے رہے تھے۔ مجھے غیاث صاحب کے ساتھ کئی اضلاع کے دورے کا موقع ملا وہاں میں نے دیکھا کہ کس طرح غیر مسلم لڑکے اور لڑکیاں بھی ان کے قائم کیے گئے اسکولس میں پڑھ رہے ہیں۔ مسلم طلبہ اور طالبات کو وہ قرآن مجید کا تحفہ پیش کرتے ایک شادی کی تقریب میں بھی انہوں نے قرآن مجید کے اگریزی اور اردو تفاسیر والے نسخے مہمانوں کو پیش کیے تھے۔ اس سے ان کے ایمانی جذبے اور تبلیغی جذبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ 2004میں جدہ میں بھی غیاث صاحب کے ساتھ ایک میٹنگ میں شرکت کا موقع ملا، جہاں غیاث صاحب نے حیدرآبادی تارکین وطن سے انتہائی درد مند لہجے میں کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کے مشن کو سنبھال لیں اب وہ تھک گئے ہیں، کیونکہ ان کی عمر 61برس ہو گئی ہے۔ یہ 21برس پہلے کی بات ہے۔ غیاث صاحب تھکے نہیں اور بھی شدت سے انہوں نے کام کیا۔ہر رمضان میں لیک ویو بنجارہ فنکشن ہال میں دعوت افطار کا اہتمام کیا جاتا، اس کے اخراجات ٹرسٹیز اپنے جیب سے ادا کرتے۔ شہر کے ہر بڑے ہستی اس دعوت میں شریک رہتی۔ حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ آف ایکسلنس قائم کیا۔ جو بلا شبہ بین الاقوامی معیار کا غیر معمولی ایجوکشنل کیمپس ہے جہاں کے کئی لڑکے ڈاکٹرس انجینئرس بن چکے ہیں۔ غیاث صاحب نے حیدرآباد زکوۃ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، اور جی بی کے ٹرسٹ اور FEEDکی جانب سے کئی اسکولس قائم کیے۔ کئی اسکولس کو امداد فراہم کی ان میں سے بیشتر اسکولس کو ریاستی حکومت نے اپنا لیا۔ انہی کے جذبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے، تلنگانہ میں مائناریٹیز ریسیڈینشیل اسکولس قائم ہوئے۔ YSRنے جناب غیاث الدین بابو خان کو Excellence in Education کے سرکاری ایوارڈسے نوازا تھا۔اس کے علاوہ 2014میں حکومت تلنگانہ نے مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا تھا۔

غیاث صاحب ایک بلڈر یعنی معمار تھے فلک بوس عمارتیں تعمیر کروائیں ساتھ ہی آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے قوم کے ہونہاروں کو بھی تیار کیا۔ وہ جنون کا دوسرا نام تھا، قوم کو جگانا چاہتے تھے اس میں وہ کامیاب بھی رہے اور 25اگست2025کو قوم کو جگانے والے نے تھک کر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ان کے فرزندان محسن بابو خان، منصور بابو خان، اور مصطفی بابو خان کے علاوہ ان کے قابل اعتماد دست راست جاوید ہود سے قوم کو امیدیں وابستہ ہیں کہ غیاث صاحب کا مشن جاری رہے گا۔ ان شا ء اللہ۔

Comments are closed.