امریکی افواج غزہ میں جنگی جرائم میں شریک ہیں:ہیومن رائٹس واچ
بصیرت نیوز ڈیسک
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج قابض اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ میں جاری جنگی جرائم میں شریک ہیں اور قانونی طور پر ان جرائم کی ذمہ دار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے نہ صرف قابض فوج کو براہ راست مدد فراہم کی بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں کہا کہ اکتوبر سنہ2023ء سے قابض اسرائیل نے غزہ میں جو اجتماعی قتل عام شروع کیا اس میں امریکہ براہ راست شریک ہے۔ یہ شمولیت محض سیاسی یا سفارتی سطح پر نہیں بلکہ عملی اور عسکری میدان میں بھی ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے لیے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا ،مشترکہ منصوبہ بندی اور حملوں میں مدد شامل ہے۔
تنظیم کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں امریکہ فریق بن چکا ہے اور اس کے فوجی اور انٹیلی جنس ادارے فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں شریک سمجھے جائیں گے۔ ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا کہ امریکی افواج اور انٹیلی جنس اہلکاروں پر فرد جرم عائد ہو سکتی ہے اور انہیں جنگی جرائم پر عالمی سطح پر کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
تنظیم کی واشنگٹن ڈائریکٹر سارہ یاگر نے کہا کہ امریکی افواج کی براہ راست شرکت بین الاقوامی قوانین کے مطابق امریکہ کو غزہ کی جنگ میں فریق ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی، انٹیلی جنس اہلکار اور ٹھیکے دار جو قابض اسرائیل کی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی درندگی اور اجتماعی نسل کشی کے مجرم ہیں اور ان پر فرد جرم عائد ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 21 نومبر سنہ2024ء کو عالمی فوجداری عدالت نے قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں منظم انداز میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور اجتماعی قتل عام کیا ہے اور امریکہ نے اس میں ہر سطح پر ساتھ دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکام خود تسلیم کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کی گئیں تاکہ فلسطینی رہنماؤں اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا سکے۔
مزید یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اپنے اقتدار سنبھالتے ہی ایسے اقدامات کیے جنہوں نے قابض اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کو سہولت فراہم کی۔ جنوری سنہ2025ء میں ٹرمپ نے غزہ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ "سب کچھ صاف کر دیں گے”، جو دراصل فلسطینی عوام کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی ناپاک سازش تھی۔ یہ اقدام جنگی جرم اور نسلی تطہیر کے زمرے میں آتا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ کی سرپرستی میں قائم ایک مشکوک تنظیم "جی ایچ ایف” جسے فلسطینی عوام ” موت کے جال” قرار دیتے ہیں، امریکی نجی کمپنیوں کے ذریعے چلائی گئی۔ اس تنظیم کی آڑ میں فلسطینی عوام کو نشانہ بنایا گیا اور قابض فوج نے بارہا ان شہریوں پر فائرنگ کی جو امداد لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہید ہوئے۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ نہ صرف ٹرمپ بلکہ موجودہ امریکی حکومت نے بھی اسرائیل کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے۔ اکتوبر سنہ2023ء سے مئی سنہ2025ء کے درمیان امریکہ نے قابض اسرائیل کو کم از کم 4.17 ارب ڈالر مالیت کے مہلک ہتھیار دیے، جو براہ راست فلسطینی عوام کے خلاف استعمال ہوئے۔
تنظیم نے زور دے کر کہا کہ امریکی اسلحے نے غزہ میں ہونے والے اجتماعی قتل عام کو ممکن بنایا اور اس طرح امریکہ ان جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر سنہ2023ء سے قابض اسرائیل نے امریکہ کی کھلی پشت پناہی کے ساتھ غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 62895 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، 158930 زخمی ہیں، 9 ہزار سے زائد لاپتا ہیں اور لاکھوں اپنے گھروں سے جبری طور پر بے دخل کر دیے گئے ہیں۔ اس دوران مسلط کردہ قحط نے 313 فلسطینیوں کی جان لے لی جن میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔
Comments are closed.