غزہ کے فلسطینی بمباری سے اور بھوک سے قتل ہو رہے ہیں :لازارینی

 

بصیرت نیوز ڈیسک

فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کی زندگی اب دو ہی انجاموں کے درمیان معلق ہے، یا تو قابض اسرائیلی فوج کی بمباری سے قتل ہونا یا قابض کی طرف سے مسلط کردہ بھوک اور قحط سے جان دینا ہے۔

 

لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک بیان میں لکھا کہ "غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں۔” انہوں نے کہا کہ تقریباً سات سو دن گزرنے کے باوجود اسرائیلی درندگی اور حملے بدستور جاری ہیں اور ہر روز لوگ قتل و زخمی ہو رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہسپتال، سکول، پناہ گاہیں اور گھروں پر روزانہ بمباری کی جا رہی ہے۔ صحت کے کارکن، صحافی اور انسانی ہمدردی کے میدان میں کام کرنے والے افراد ایک ایسے پیمانے پر مارے جا رہے ہیں جس کی مثال جدید تاریخ کے کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔

 

لازارینی نے کہا کہ "گویا یہ سب کچھ کافی نہ تھا، اب بھوک ہر فلسطینی کو ایک خاموش اور سست موت کی طرف دھکیل رہی ہے یا پھر لوگ خوراک کی تلاش میں نکل کر موت کا شکار ہو رہے ہیں”۔

 

ان کا کہنا تھا کہ 2 مارچ کے بعد سے قابض اسرائیل نے غزہ کی تمام گذرگاہیں بند کر رکھی ہیں اور محض چند ایک قلیل تعداد کی ٹرکوں کو امداد لے جانے کی اجازت دیتا ہے جس نے غزہ کو ایک ہلاکت خیز قحط میں دھکیل دیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل کو مکمل استثنا اور چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ "تازہ ترین مظالم کو محض افسوسناک حادثات قرار دیا جا رہا ہے اور قحط کی حقیقت سے انکار کیا جا رہا ہے، گویا تل ابیب کی ذمہ داری کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔”

 

لازارینی نے زور دے کر کہا کہ "فلسطینیوں کی زندگی اور ان کی شناخت پر اتنے سنگین حملوں کو کسی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا عملی اقدام کرے، سیاسی جرات دکھائے اور اس زمینی جہنم کو ختم کرے۔” انہوں نے اپنے بیان کا اختتام فوری فائر بندی اور ان مجرموں کو عالمی عدالت میں جوابدہ بنانے کے مطالبے سے کیا جو یہ جرائم کر رہے ہیں۔

 

دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ترجمان اولگا چیریفکو نے بھی خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے جاری محاصرے اور منظم بھوک سے غزہ میں قحط تیزی سے پھیل رہا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے "آئی پی سی” کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ شہر میں قحط موجود ہے اور خدشہ ہے کہ ستمبر کے آخر تک یہ دائرہ دیر البلح اور خان یونس تک پھیل جائے گا۔

 

ترجمان نے کہا کہ یہ نتائج ہمارے لیے حیران کن نہیں کیونکہ ہم مہینوں سے متنبہ کر رہے تھے۔ اگر حالات نہ بدلے تو صورتحال مزید ہولناک ہو جائے گی۔

 

انہوں نے زور دیا کہ قحط کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر امدادی سامان غزہ کے شہریوں تک پہنچایا جائے، اس کے لیے تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں اور ایک محفوظ اور باقاعدہ راستہ فراہم کیا جائے تاکہ امداد لوگوں تک پہنچ سکے۔

 

یاد رہے کہ قابض اسرائیل امریکہ کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ 7 اکتوبر سنہ2023ء سے غزہ پر نسل کشی کی جنگ مسلط کیے ہوئے ہے۔ اس میں قتل، تباہی، قحط اور جبری ہجرت شامل ہیں اور قابض اسرائیل نے تمام عالمی مطالبات اور حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو بھی روند ڈالا ہے۔ اب تک اس جنگ میں 62895 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، 158930 زخمی ہیں، 9 ہزار سے زائد لاپتا ہیں، لاکھوں اپنے گھروں سے نکالے جا چکے ہیں اور قحط کے نتیجے میں 313 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔

Comments are closed.