شمالی غزہ ملبے کا ڈھیر، زندگی کا نام و نشان مٹ چکا
بصیرت نیوز ڈیسک
غزہ پر قابض اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کی جنگ کے مناظر اب پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ ایک طیارے سے گرائی جانے والی امداد کے دوران لی گئی فضائی تصاویر نے شمالی غزہ کی اصل تصویر آشکار کر دی ہے۔ ان مناظر میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ وسیع علاقے مکمل طور پر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ہیں اور زندگی کے آثار مفقود ہیں۔
بیت حانون اور بیت لاہیا جیسے علاقے جو کبھی آبادی اور رونقوں سے بھرپور تھے، اب کھنڈر میں بدل چکے ہیں۔ جبالیہ کا علاقہ فضائی تصاویر میں ایک خاکستری اور مردہ خطے کے طور پر دکھائی دیتا ہے جہاں نہ مکانات سلامت ہیں نہ ہی زندگی کے آثار باقی بچے ہیں۔
غزہ شہر کے قلب میں بھی یہی المیہ چھایا ہوا ہے۔ یہاں شدید طور پر تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان سیکڑوں خیمے نصب ہیں جہاں وہ فلسطینی پناہ گزین ہیں جنہیں صہیونی بمباری نے جبری ہجرت پر مجبور کر دیا۔
شمالی غزہ کے علاقوں میں اس وقت جبری ہجرت کی ایک نئی لہر جاری ہے۔ قابض فوج نے ان علاقوں پر بمباری تیز کر دی ہے اور فلسطینیوں کو شہر خالی کرنے کے دھمکی آمیز الٹیمیٹم دیے جا رہے ہیں۔ یہ سب اس صہیونی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ پر دوبارہ مکمل قبضہ کیا جانا ہے۔
قابض فوج کے مطابق اس کی 162ویں بٹالین جبالیہ اور غزہ شہر کے اطراف میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ بٹالین 99 زیر زمین اور زمینی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ قابض فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں انہوں نے کئی ایسے مقامات پر حملے کیے جو ان کے بقول خطرہ تھے۔
یہ سب کچھ اس منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے جسے 8 اگست کو صہیونی حکومت نے منظور کیا تھا۔ اس کے تحت غزہ پر مکمل اور بتدریج قبضے کا آغاز غزہ شہر سے کیا جانا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق قابض اسرائیل کی وحشیانہ جنگ نے سنہ2023ء سے اب تک غزہ میں 1 لاکھ 60 ہزار گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار گھروں کو شدید یا جزوی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ کے 92 فیصد مکانات برباد ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ قابض اسرائیل غزہ میں کھلے عام نسل کشی کر رہا ہے۔ قتل عام، بھوک مسلط کرنا، جبری ہجرت، گھروں کی تباہی اور انسانی زندگی کا مکمل خاتمہ اس نسل کشی کا حصہ ہیں۔ اس ظلم کی آگ اب تک 62895 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے، 158930 کو زخمی کیا جا چکا ہے، 9 ہزار سے زیادہ فلسطینی لاپتا ہیں اور لاکھوں اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ مسلط کردہ قحط نے مزید 313 فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔
Comments are closed.