مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو میں ایم بی اے کے طلبہ نے پوسٹروں کے ذریعہ اینٹی ریگنگ پیغام کو عام کیا
علی گڑھ، 28 اگست: ملک گیر اینٹی ریگنگ ہفتہ کی مناسبت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ”ریگنگ کو نہ کہیں“ کے عنوان پر ایک پوسٹر سازی مقابلے کا اہتمام کیا جس میں ایم بی اے سال اوّل و سال آخرکے طلبہ نے تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریگنگ کے خلاف مضبوط موقف کو ظاہر کرنے والے پوسٹرز تیار کیے، جس میں ہاتھوں سے تیار کردہ اور ڈیجیٹل طور سے تیار دونوں طرح کے پوسٹر ز شامل تھے۔
مقابلے میں شامل پوسٹرز کا تجزیہ پروفیسر ولید احمد انصاری، پروفیسر فضا تبسم عظمیٰ، اور ڈاکٹر آصف علی سید پر مشتمل ٹیم نے کیا۔ انھوں نے موضوع سے مطابقت، تخلیقی صلاحیت، بصری کشش، پیغام کی وضاحت اور مجموعی اثرات کے پہلو سے ان کا تجزیہ کیا۔
ہاتھوں سے تیار کئے گئے پوسٹرز کے زمرہ میں تانیا سکسینہ (ایم بی اے ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن، سال آخر) اور ڈیجیٹل زمرہ میں وریشہ ظہیر (ایم بی اے، سال اوّل) کو انعام سے نوازا گیا۔ ارینا عالم (ایم بی اے ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن، سال اوّل) کو ججوں کا خصوصی انعام دیا گیا۔
یہ پروگرام شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد کی نگرانی میں منعقد ہوا، جنہوں نے طلبہ کی کوششوں کو سراہا اور سپریم کورٹ اور یو جی سی کی ہدایات کے مطابق ریگنگ سے پاک کیمپس کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ایم ایس ڈبلیو، سال اوّل کے طلبہ کے لیے اورینٹیشن پروگرام منعقد
علی گڑھ، 28 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سوشل ورک شعبہ نے ماسٹر آف سوشل ورک (ایم ایس ڈبلیو)،سیشن 2025-26 کے نئے طلبہ کے لیے 30 واں اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا، جس میں انھیں شعبہ کے تعلیمی ماحول، کورس کے ڈھانچے، فیلڈ ورک کے عناصر اور سوشل ورک کے میدان میں مستقبل کے امکانات سے روشناس کرایا گیا۔
تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر وبھا شرما، ممبر انچارج، دفتر رابطہ عامہ، اے ایم یو نے ڈیجیٹل دور میں اساتذہ کے بدلتے کردار اور نئی تعلیمی پالیسی کے اعلیٰ تعلیم پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم تعلیم تک رسائی کو آسان بناتے ہیں، لیکن یہ روایتی کلاس روم کے ہمہ جہت تعلیمی تجربے کا متبادل نہیں ہو سکتے، جو بامعنی تبادلہ خیال، ساتھیوں سے سیکھنے اور تعلیمی انہماک کو فروغ دیتے ہیں۔ پروفیسر شرما نے بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں سے تحریک لینے کی تلقین کی اور ان کی کتاب آثار الصنادید سمیت دیگر علمی کتب کے مطالعہ کی تحریک طلبہ کو دی۔
مہمان اعزازی پروفیسر نسیم احمد خان نے شہری اوردیہی علاقوں میں اے ایم یو کی سماجی خدمات پر مبنی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور معاصر سماجی مسائل کے حل میں سوشل ورک کی اہمیت پر زور دیا۔
شعبہ کی علمی وراثت پر روشنی ڈالتے ہوئے فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین اور شعبہ کے چیئرمین پروفیسر اکرام حسین نے سوشل ورک کی تعلیم میں شعبہ کی خدمات اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ کی نیٹ / جے آر ایف جیسے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی معیار برقرار رکھ کر قومی سطح پر شعبہ کے وقار میں اضافہ کریں۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر محمد عارف خان کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کو خوش آمدید کہا۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد طاہر نے شعبہ کی دستیابیوں اور جاری اقدامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ پروگرام کا اختتام ڈاکٹر سمیرہ خانم کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈینٹسٹری نے ضلع جیل میں دو روزہ صحت کیمپ منعقد کیا
علی گڑھ، 28 اگست: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈینٹسٹری کی جانب سے ضلع جیل، علی گڑھ میں دانتوں کی صحت پر مبنی دو روزہ کیمپ منعقد کیا گیا، جس کے ذریعہ قیدیوں میں دانتوں کی صفائی اور صحت سے متعلق شعور بیدار کیا گیا اور انھیں احتیاطی طبی اقدامات اور علاج ومعالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
کیمپ کے دوران 240 قیدیوں کا طبی معائنہ کیا گیاجس میں 40 قیدیوں کے لئے دانتوں کی بحالی کا عمل کیا گیا اور 25 قیدیوں کے دانت نکالے گئے جو خراب ہوگئے تھے اور وہ مسوڑھوں کے امراض اور دیگر مسائل میں مبتلا تھے۔
ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر آر کے تیواری کی نگرانی اور شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈنٹسٹری کی چیئرپرسن پروفیسر نیہا اگروال کی قیادت میں منعقدہ اس کیمپ میں فیکلٹی اراکین ڈاکٹر پرمود کمار یادو اور ڈاکٹر سید امان علی سمیت جونیئر ریزیڈنٹس ڈاکٹر شاذیہ ناہید، ڈاکٹر ہردیا، ڈاکٹر طوبیٰ امام اور ڈاکٹر اویناش ترپاٹھی نے طبی خدمات فراہم کیں۔ ٹیم میں شامل پروفیسر مشرا (شعبہ کنزرویٹو ڈنٹسٹری و اینڈوڈونٹکس)، ڈاکٹر لووکش (شعبہ اورل اینڈ میکزیلوفیشیئل سرجری)، سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر فائزہ، اور جونیئر ریزیڈنٹس ڈاکٹر عدیلہ ماجد، ڈاکٹر سامعہ کلثوم، اور ڈاکٹر سُمِت نے بھی اپنی طبی مہارت سے مریضوں کو مستفید کیا۔ ان کے ساتھ انٹرنز، تیسرے سال کے طلبہ، اور کالج کے ڈینٹل ہائجینسٹ نے بھی تشخیص، علاج اور بیداری سرگرمیوں میں بھرپور معاونت فراہم کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے وزارتِ تعلیم اور آئی آئی ٹی کانپور کے مشترکہ پروجیکٹ ’ساتھی‘ کے لئے ویڈیو لیکچرز تیار کئے
علی گڑھ، 28 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اطلاقی ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران خان نے حکومت ہند کی وزارتِ تعلیم اور آئی آئی ٹی کانپور کے مشترکہ اقدام ’ساتھی‘ (سیلف اسسمنٹ، ٹسٹ اینڈ ہیلپ فار انٹرینس اگزام) پروگرام کے ساتھ اشتراک کیا اور داخلہ امتحانات کی تیاری کے موضوع پر مبنی ویڈیو لیکچرز تیار کرنے میں معاونت کی۔
”ساتھی“ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ملک بھر کے طلبہ کو جے ای ای، نیٹ، ایس ایس سی اور سی یو ای ٹی جیسے مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے مفت تعلیمی مواد اور ویڈیو لیکچرز فراہم کرتا ہے، تاکہ معیاری تعلیم تک طلبہ کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
٭٭٭٭٭٭
جے این میڈیکل کالج میں پروفیسر لیلا آہوجا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
علی گڑھ، 28 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف میڈیسن کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کی سابق ڈائریکٹر پروفیسر لیلا آہوجا کے انتقال پر ایک تعزیتی جلسہ پروفیسر محمد حبیب رضا، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن کی صدارت میں منعقد کیا گیا جس میں فیکلٹی ممبران، عملے کے اراکین اور طلبہ نے انھیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔
شرکائے جلسہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایک تعزیتی قرارداد منظور کی، جس میں فیکلٹی آف میڈیسن کے عملے اور طلبہ کی جانب سے پروفیسر آہوجا کی خدمات کو یاد کیا گیا اور ان کی اہل خانہ سے دلی تعزیت کی گئی۔ آخر میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور روایتی انداز میں آنجہانی پروفیسر کو عقیدت کا خراج پیش کیا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے نیپال میں منعقدہ میڈیکو لیگل کانفرنس میں خطبہ دیا
علی گڑھ، 28 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارنسک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسرار الحق نے نیپال کی میڈیکو لیگل سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی میڈیکو لیگل کانفرنس 2025 میں مہمان مقرر کے طور پر شرکت کی۔
کانفرنس میں جنوبی ایشیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز تعلیمی و فارنسک ماہرین اور میڈیکو لیگل پیشہ ور شریک ہوئے اور فارنسک میڈیسن اور میڈیکل ضوابط کے شعبوں کو درپیش چیلنجوں اور نئی پیش رفت پر گفتگو کی۔
ڈاکٹر اسرار الحق نے”فارنسک میڈیسن میں لاوارث لاشیں: پروٹوکول، مسائل اور انصاف کے تقاضے“ موضوع پر لیکچر دیا، جس میں انہوں نے لاوارث متوفی افراد سے متعلق میڈیکو لیگل، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان معاملات میں وقار، شفافیت اور قانونی احتساب کو یقینی بنانے کے لیے معیاری پروٹوکول پر عمل، مختلف ایجنسیوں کے مابین ہم آہنگی اور قانونی تحفظات بے حد ضروری ہیں۔
ڈاکٹر اسرار الحق نے کانفرنس میں پوسٹر پرزنٹیشن سیشن میں فیکلٹی ایوارڈ زمرہ کے جج کے طور پر خدمات بھی انجام دیں، جس میں انہوں نے تحقیقی کاموں کا جائزہ لیا اور علمی اختراعات کی حوصلہ افزائی کی۔
٭٭٭٭٭٭
قزاخستان میں منعقدہ ایشیائی شوٹنگ چیمپیئن شپ میں اے ایم یو کی طالبہ صبیرا حارث نے دو طلائی تمغے جیت کر ملک اور ادارے کا نام روشن کر دیا
علی گڑھ، 28 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں بارہویں جماعت کی طالبہ صبیرا حارث نے قزاخستان میں منعقدہ 16ویں ایشیائی شوٹنگ چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو طلائی تمغے جیت کر ملک، علی گڑھ شہر اور اپنی مادرِعلمی کا نام روشن کیا۔ انہوں نے غیرمعمولی مہارت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے انفرادی زمرہ اور ٹیم زمرہ دونوں میں گولڈ میڈل جیتا۔
فائنل میچ میں صبیرا کی کارکردگی خاص طور سے مثالی رہی۔ 105 پوائنٹس کے ساتھ چھٹی پوزیشن سے محاذ سنبھالنے والی صبیرا نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سبھی کو حیران کر دیا اور بالآخر انھوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ان کی کامیابی کا ایک لمحہ وہ بھی تھا جب انہوں نے ہندوستان کی ہی خاتون شوٹر ادّیا کاتیال کو پیچھے چھوڑ دیا، جو 113 پوائنٹس کے ساتھ ٹورنامنٹ کی فیورٹ کھلاڑی سمجھی جا رہی تھیں۔ صبیرا نے دباؤ کے باوجود بھرپور توجہ، خود اعتمادی اور حکمت عملی کے ساتھ کارکردگی دکھا کر یادگار فتح حاصل کی۔
صبیرا کی اس کامیابی نے نہ صرف ان کی قوت ارادی اور محنت کو ظاہر کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس کھیل میں بڑھتی ہوئی مسابقت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی فتح کو اس چیمپئن شپ کے سنسنی خیز لمحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس شاندار دستیابی پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے صبیرا حارث کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ”یقیناً یونیورسٹی کے لیے یہ فخر کا لمحہ ہے کہ ہماری طالبات تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا کر بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کر رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ صبیرا مستقبل میں بھی یونیورسٹی اور ملک کا نام روشن کرتی رہیں گی“۔ یونیورسٹی گیمز کمیٹی کے سکریٹری پروفیسر سید امجد علی رضوی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”صبیرا کی فتح ان کی انتھک محنت، نظم و ضبط، اور شوٹنگ سے شغف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف اے ایم یو بلکہ پورے ملک کو فخر کا موقع فراہم کیا ہے۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک تحریک اور رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہیں“۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں یو جی سی مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر کے زیر اہتمام غیرتدریسی عملہ کے لیے آن لائن سائبر سیکورٹی کورس کا اہتمام
علی گڑھ، 28 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یو جی سی مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر (ایم ایم ٹی ٹی سی) کے زیر اہتمام غیر تدریسی عملہ کے لئے ایک ہفتے کا آن لائن کورس منعقد کیا گیا۔ یو جی سی کی خصوصی پہل کے تحت اس اقدام کا مقصد اداروں میں کام کرنے والے غیر تدریسی عملے میں ڈیجیٹل بیداری پیدا کرنا اور سائبر ہائیجین کو فروغ دینا ہے۔
کورس میں آسام، جھارکھنڈ، دہلی، کرناٹک، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں سے 110 شرکاء نے اپنا رجسٹریشن کرایا۔ ان میں سے 71 کا تعلق اے ایم یو سے تھا۔کورس کے تکنیکی سیشن میں اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہرین نے مختلف اہم موضوعات پر لیکچرز دئے۔ ڈیجیٹل شہری: مسائل، چیلنجز اور حل کے موضوع پر ڈاکٹر فراز مسعود، سائبر سیکورٹی حملے اور دفاعی طریقے پر ڈاکٹر فیصل انور، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہونے والے سائبر جرائم اور اس کے سماجی اثرات پر پروفیسر منصف عالم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، محفوظ سائبر طریقہ عمل پر ڈاکٹر پرویز محمود خان،ایم این ایف کمپیوٹر سینٹر، اے ایم یو، ترسیل کی سلامتی پر ڈاکٹر محمد ندیم، سائبر سیکورٹی اور اس کا معاشرتی اثر موضوع پر پروفیسر سہیل مستجاب اور سائبر بیداری: ضروری احتیاطی تدابیرکے موضوع پر مسٹر شارق ظہیر اور ڈاکٹر سیف الاسلام نے شرکاء کی رہنمائی کی۔ شرکاء کو لیکچرز کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ اسائنمنٹ، ایم سی کیو ٹیسٹ، اور عملی مظاہروں کے ذریعے بھی تربیت دی گئی۔
کورس کوآرڈینیٹر پروفیسر عاصم ظفر (شعبہ کمپیوٹر سائنس، اے ایم یو) نے سائبر سیکورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ”تعلیمی ادارے تیزی سے ڈیجیٹل نظام پر انحصار کر رہے ہیں، اس لئے انتظامی و معاون عملے کے لیے بنیادی سائبر ہائیجین اور سیکورٹی کی تربیت لازمی ہو چکی ہے“۔ اختتامی اجلاس میں پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر فائزہ عباسی (یو جی سی، ایم ایم ٹی ٹی سی، اے ایم یو) نے کہا کہ یہ پروگرام قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ادارہ جاتی صلاحیت سازی اور ڈیجیٹل خود مختاری کے تئیں اے ایم یو کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
شرکاء میں محترمہ نور بانو (لائبریرین، مانو سنٹر،لکھنؤ)، محترمہ ساجدہ ندیم (اسسٹنٹ، کنٹرولر آفس، اے ایم یو)، جناب نفیس احمد خان (اسسٹنٹ رجسٹرار، سینٹرل یونیورسٹی آف جھارکھنڈ)، اور جناب پرین جوشی (اسسٹنٹ رجسٹرار، نیشنل فارینسک سائنسز یونیورسٹی) نے کورس کو مفید اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کئے جانے چاہئیں۔ شرکاء نے یہ تجویز بھی دی کہ آئندہ کورسز میں حق تعلیم ایکٹ، انتظامی کارکردگی کے لیے اے آئی ٹولز، اور ڈسپلن کے معاملات میں قانونی طریقہ کار جیسے موضوعات کو بھی شامل کیا جائے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری میں اینٹی ریگنگ بیداری پروگرام منعقد
علی گڑھ، 28 اگست: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری نے طلبہ میں نظم و ضبط، وقار اور باہمی احترام کی اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے اینٹی ریگنگ بیداری پروگرام منعقد کیا۔
شعبہ کے چیئرمین پروفیسر رئیس احمد نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ریگنگ ایک قابل سزا جرم ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اے ایم یو کے محفوظ اور تعلیم دوست ماحول کی روایت کو برقرار رکھیں۔
پروفیسر شہاب الدین نے طلبہ کو ان کی اجتماعی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ہم آہنگی، شمولیت اور مینٹرشپ کو فروغ دیں۔ ڈاکٹر یاسر عظیم نے سینئر طلبہ کے رہنما کردار پر ایک پرزنٹیشن دیا اور ریگنگ سے متعلق قواعد اور اس سے متعلق جرمانے اور سزا کی تفصیل بیان کی۔ ڈاکٹر مشیر احمد نے یو جی سی اور اے ایم یو کی رہنما ہدایات پر روشنی ڈالی، تاکہ طلبہ کو ریگنگ کی روک تھام کے قانونی فریم ورک کا واضح ادراک ہوجائے۔
ڈاکٹر محمد ارسلان نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی ریگنگ بیداری تعلیمی اور ذاتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ یہ اعتماد، باہمی بھروسے اور استاد و شاگرد کے صحت مند تعلقات کو فروغ دیتی ہے۔ اختتامی سیشن میں ڈاکٹر مسرت نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔
پروگرام کا مرکزی پیغام واضح تھا کہ ریگنگ کا اے ایم یو کی تعلیمی ثقافت میں کوئی مقام نہیں۔ اس پروگرام نے طلبہ کو بھائی چارے، رہنمائی اور احترام کی اقدار پر مبنی ماحول تشکیل دینے کی ترغیب دی۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر نے یونیورسٹی آف لیڈز میں ریڑھ کی ہڈی کے درد کے علاج پر مبنی ورکشاپ میں شرکت کی
علی گڑھ، 28 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج واسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اینستھیسیا کے پروفیسر اور پین کلینک کے کنسلٹنٹ انچارج ڈاکٹر حماد عثمانی نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں ریڑھ کی ہڈی کے درد کے علاج اور انٹروینشنل پروسیجرس پر مبنی بین الاقوامی کڈاور ورکشاپ میں شرکت کی۔ اس دوران انھوں نے درد کے علاج میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹکنالوجی خاص طور پر جدید ریڈیو فریکوئنسی تکنیک، انٹرا ڈسکل پروسیجرس اور اسپائنل کورڈ اسٹیمولیشن کا عملی تجربہ حاصل کیا، جنہیں دائمی درد کے علاج میں مؤثر مانا جا تا ہے۔ اس سیشن نے شرکاء کو کڈاور نمونوں پر عملی مہارت فراہم کی، جس سے پیچیدہ بیماری کے علاج کو زیادہ درستگی سے انجام دینے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر عثمانی نے کئی جدید تکنیکوں میں مہارت حاصل کی جو دائمی درد کی مختلف حالتوں جیسے کہ دائمی کمر درد، لیمبوسیکرل اور سروائیکل ریڈیکولوپیتھی، دائمی گردن درد، ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے بعد کا درد، اور دائمی سر درد وغیرہ میں استعمال ہوتی ہیں۔
اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمانی نے کہا کہ اس طرح کے عالمی تربیتی پروگرام معالجین کو انٹروینشنل پین میڈیسن میں جدید ترین ایجادات سے باخبر رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس پروگرام میں ان کی شرکت نہ صرف ان کی مہارت میں اضافہ کے لئے مفید ہے بلکہ اے ایم یو کی بین الاقوامی میڈیکل تحقیق و تربیت میں بڑھتی ہوئی شرکت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ دنیا بھر سے تقریباً 30 مندوبین نے اس بین الاقوامی ورکشاپ میں حصہ لیا، جسے ریڑھ کی ہڈی کے درد کے علاج میں کلینیکل مہارت کو بڑھانے کے لئے عالمی سطح پر اعتبار حاصل ہے۔
٭٭٭٭٭٭
ہندوستان کا لسانی تنوع ملک میں یکجہتی کا باعث ہے: پروفیسر ایم جے وارثی
علی گڑھ، 28 اگست: معروف ماہر لسانیات اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے انگلش اینڈ فارین لینگویجز یونیورسٹی (ایفلو)، شیلانگ کیمپس میں بھارتیہ بھاشا سمیتی، وزارت تعلیم، حکومت ہند کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس بعنوان ”بھارتیہ بھاشا پریوار: لسانی اور ادبی تبادلے کے ذریعے قومی اتحاد کا استحکام“ میں لیکچر دیتے ہوئے ہندوستان کے وسیع لسانی تنوع اور قومی اتحاد میں اس کی اہمیت واضح کی۔
پروفیسر وارثی کے لیکچر کا عنوان تھا: ہندوستان کے مختلف ثقافتی مناظر کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنے میں لسانی اور ادبی روایات کا کردار، جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے لسانی اور ادبی تبادلے باہمی تفاہم کو فروغ دیتے ہیں، اتحاد کو پروان چڑھاتے ہیں اور ایک مشترکہ قومی وژن کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پروفیسر وارثی نے کہا کہ زبان مختلف برادریوں کے درمیان باہمی تفہیم کی بنیاد ہے۔ ترجمہ، تعلیم اور بین ثقافتی مکالمے کے ذریعے لسانی تبادلہ مختلف خطوں کے درمیان ایک پل کا م کرتا ہے، جس سے لوگ ایک دوسرے کی وراثت کی قدر کر پاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہندوستانی زبان صدیوں پرانی ادبیات، فلسفہ، لوک کہانیوں اور زبانی روایات کی حامل ہے۔ سنسکرت، تمل، کنڑ، بنگالی، ہندی، اردو، ملیالم، تیلگو، مراٹھی، پنجابی اور سینکڑوں قبائلی زبانیں ہندوستان کے ثقافتی خزانہ کو مالامال کرتی ہیں اور موجودہ نسلوں کو آباء اجداد کی حکمت سے مربوط کرتی ہیں۔
پروفیسر وارثی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لسانی اور ادبی تبادلے کے ذریعے قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ترقی پسند پالیسیوں کی ضرورت ہے، جن میں ”بھاشنی“ پروجیکٹ اور ایک بھارت شریشٹھ بھارت جیسے ثقافتی اقدامات کی توسیع، کثیر لسانی تدریسی نظام کا فروغ، اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق مادری زبانوں میں ابتدائی تعلیم دینا شامل ہیں۔
Comments are closed.