جموں و کشمیرمیں سیلاب کے بحران کے درمیان ’ جیو‘ بنا لائف لائن، دیگر مواصلاتی کمپنیوں کے نیٹ ورک رہے ٹھپ
جموں؍سری نگر۔ 28 اگست (پریس ریلیز) جموں و کشمیر میں حالیہ طوفانی سیلاب نے نظام زندگی درہم برہم کردی۔ سڑکیں بہہ گئیں، بجلی کی تاریں منقطع ہو گئیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا۔ ایئرٹیل، ووڈافون۔آئیڈیا اور بی ایس این ایل جیسی زیادہ تر ٹیلی کام خدمات گھنٹوں بند رہیں، جس کی وجہ سے لوگ اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر سکے۔
اس تباہی کے درمیان، ریلائنس جیو کا نیٹ ورک فعال رہا، جس نے تباہی سے متاثرہ جموں و کشمیر اور باہر پھنسے ہوئے ہزاروں خاندانوں کو جڑے رہنے میں مدد فراہم کی۔ اس سے لوگوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور انخلاء کے منصوبوں اور حفاظتی اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے میں مدد ملی۔
سری نگر کی ایک رہائشی عائشہ نے کہا کہ ریلائنس جیونیٹ ورک کی وجہ سے میں بارش کے دوران اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی خیریت جان سکی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بغیر ہم کیسے چل سکتے تھے۔”
ماہرین کے مطابق، جیو کا بنیادی نیٹ ورک سٹریٹجک ٹرانسمیشن کوریڈورز پر مبنی ہے، جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ جب کہ دوسرے آپریٹرز نے دریا کے کنارے اور سڑکوں کے قریب بچھائی گئی فائبر لائنوں پر زیادہ انحصار کیا۔ جیو نے اسے مختلف راستوں سے جوڑ کر شہریوں کی مواصلاتی لائف لائن کوو زیادہ محفوظ رکھا۔ اس کی وجہ سے سیلاب سے بجلی اور سڑکیں متاثر ہونے کے باوجود جیو کا زیادہ تر نیٹ ورک چلتا رہا۔ آفت کی اس گھڑی میں دوسرے آپریٹرز کے ہزاروں صارفین بھی انٹرا سرکل رومنگ سسٹم کے تحت جیو نیٹ ورک سے جڑے رہے اور اپنے اہل خانہ سے رابطہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ جیو نے پہلے ہی اضافی انتظامات، مضبوط انفراسٹرکچر اور مستقل بیک بون کوریڈور پر کام کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بحران کے وقت اس کا نیٹ ورک معمول کے مطابق چلتا رہا اور ہزاروں خاندانوں کے لیے زندگی کا ذریعہ بن گیا۔
ریاست میں جیو ٹیم کے عہدیداروں کو اس کامیابی کا سہرا دیا جارہا ہے۔ ان کی دور اندیشی، تکنیکی منصوبہ بندی اور فعال قیادت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بحران کے دوران خدمات میں خلل نہ پڑے۔ تباہی کی اس گھڑی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ دور اندیشی اور مضبوط تکنیکی انفراسٹرکچر نہ صرف سہولت بلکہ بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
Comments are closed.