کالی کٹ میں منعقد ایس ڈی پی آئی کی نیشنل ورکنگ کمیٹی اجلاس میں چار اہم قرارداد منظور
کالی کٹ (پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کی نیشنل ورکنگ کمیٹی (NWC) نے 27 اگست 2025 کو قومی نائب صدر محمد شفیع کی صدارت میں کالی کٹ میں اپنی میٹنگ بلائی۔ کمیٹی نے اجلاس میں ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے اور آنے والے بہار اسaمبلی انتخابات پر غور و خوض کیا۔میٹنگ نے ہندوستان کی جمہوریت، وفاقیت، تکثیریت اور آئینی اقدار کو بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مندرجہ ذیل چار قرارداد منظور کیا۔
1)۔انتخابی سا لمیت کا خاتمہ
الیکشن کمیشن آف انڈیا جمہوریت کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے کمزور کر رہا ہے۔ بہار میں کرائے گئے اسپیشل انٹینسیو ریویو (SIR) کو بدنیتی پر مبنی پایا گیا، جس سے شہریوں کے ایک بڑے حصے کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا۔ SIR کا اطلاق قانون کے مطابق عمل کیے بغیر عجلت میں کیا گیا ہے اور یہ حکومت کے سیاسی مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لیے سیاسی طور پر محرک تھا۔ نیز، مہادیو پورہ حلقہ، بنگلور میں ایک لاکھ سے زیادہ جعلی ووٹروں کا چونکا دینے والا انکشاف، ای سی آئی کے کام کاج میں سنگین خامیوں کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔
2۔وفاق مخالف آئینی ترمیم
ورکنگ کمیٹی اجلاس میں حال ہی میں متعارف کرائی گئی آئینی ترمیم، جس میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کو مسلسل 30 دن تک حراست میں رہنے کی صورت میں خود بخود ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، کی شدید مذمت کی گئی۔ نیشنل ورکنگ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اس طرح کا انتظام مرکزی حکومت کو ای ڈی اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کے ذریعے منتخب لیڈروں کو عدالتی سزا کے بغیر من مانی طور پر بے دخل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ نہ صرف یونین میں طاقت کو مرکزیت دیتا ہے بلکہ ریاستی حکومتوں کی خود مختاری کو بھی کمزور کرتا ہے، خاص طور پر وہ ریاستیں جہاں اپوزیشن پارٹیاں زیر اقتدار ہیں۔
3۔مرکزی ایجنسیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا
ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی اور این آئی اے کا غلط استعمال خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ ایجنسیاں منظم طریقے سے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے اختلاف رائے کو خاموش کرنے، اپوزیشن لیڈروں کو ہراساں کرنے اور عوام مخالف اور آمرانہ پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے کارکنوں کو دھمکانے کے لیے تعینات کی ہیں۔نیشنل ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ایس ڈی پی آئی مرکزی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کو شکست دینے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور تمام سیکولر اور جمہوری قوتوں سے ملک کی جمہوری، وفاقی اور سیکولر بنیادوں کے دفاع اور مضبوطی کے لیے اکٹھے ہونے کی اپیل کی ہے۔
4۔بہار اسمبلی الیکشن
ایس ڈی پی آئی نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ بہار اسمبلی الیکشن لڑے گی۔ پارٹی نے پہلے ہی ریاست بھر میں کیڈر کنونشن اور بوتھ مینجمنٹ ورکشاپس کے ذریعے اپنی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے۔ امیدواروں کی فہرست جلد ہی پٹنہ میں جاری کی جائے گی۔
نیشنل ورکنگ کمیٹی اجلاس میں پارٹی نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین احمد،بی ایم۔ کامبلے جنرل سیکرٹریان الیاس محمد تمبے، عبدالمجید فیضی، یاسمین فاروقی، سیتارام کھوئیوال، اور محمد اشرف؛ دیگر سینئر عہدیداران اور نیشنل ورکنگ کمیٹی کے ممبران شریک رہے۔
Comments are closed.