مردم شماری صرف گنتی نہیں بلکہ معاشرے کی شناخت اور حقوق کا مسئلہ ہے: مولانا ارشد میل کھیڑلا

 

آل انڈیا میواتی ذات پر مبنی مردم شماری بیداری مہم کا ایک اہم اجلاس

نوح، میوات (محمد صابر قاسمی) فیروز پور جھرکہ کی قدیمی و تاریخی جامع مسجد احاطے میں جمعرات کو آل انڈیا میواتی ذات پر مبنی مردم شماری بیداری مہم کمیٹی کا ایک اہم اجلاس مولانا ارشد میل کھیڑلا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میٹنگ میں ہریانہ و بشمول راجستھان میوات سے علمائے کرام، و سیاسی اور سماجی لوگوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کا بنیادی مقصد پورے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کے بارے میں مسلم کمیونٹی بالخصوص میواتی قوم میں بیداری پھیلانا تھا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا ارشد میل کھیڑلا نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری سے معاشرے کی اصل تصویر سامنے آئے گی۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ جوش و خروش سے اس مردم شماری کے عمل میں شرکت کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک درست اور مضبوط بنیاد تیار کی جاسکے۔ مولانا نے کہا کہ جب تک معاشرے کی درست گنتی محض ریکارڈ نہیں ،بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی حیثیت کا صحیح اندازہ لگانا ہے۔ اس لیے ملک بھر کے تمام مسلمانوں کو ذات پر مبنی مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلاک سطح پر خصوصی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو گھر گھر جا کر لوگوں کو اس مہم سے جوڑیں گی۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جہاں کہیں میواتی برادری کے لوگ رہتے ہیں، انہیں اس مہم سے جوڑنے کے لیے وسیع پیمانے پر بیداری چلائی جائے گی۔ اس موقع پر مفتی زاہد حسین نوح، ضلع کونسلر عمر پاڈلا اور مینیجر صفات خان میو الور نے تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف گنتی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ معاشرے کی شناخت اور حقوق سے جڑا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے بغیر معاشرے کے مسائل کا حل اور ان کی شرکت کو یقینی بنانا مشکل ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ آج جب ہر طبقہ اپنی آواز بلند کر رہا ہے، میواتیوں کو بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ میٹنگ میں پہنچنے والے سرکردہ افراد موجود تھے اور سبھی نے متحد ہو کر مہم کو کامیاب بنانے کا عزم کیا۔ مقررین نے واضح طور پر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری سے معاشرے کے کمزور طبقات کی اصل حالت سامنے آئے گی اور حکومت سے اپنے حقوق مانگنے میں آسانی ہوگی۔ اس میٹنگ کو خطہ میوات میں ذات پات پر مبنی جاری بیداری مہم کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اگلی میٹنگ پنگواں میں ہوگی۔ اس موقع پر مولانا شیر محمد امینی، مفتی سلیم، مولانا صابر قاسمی، مولانا عثمان اویسی، ابراہیم انجینئر بیسرو، عمران نواب، مبارک اٹیرنا ، مولانا قمرو الدین، حاجی ایوب، مولانا دلشاد قاسمی، حاجی ابراہیم بگھولا، ماسٹر قاسم مہوں وغیرہ موجود تھے۔

 

Comments are closed.