غزہ پر اسرائیلی نسل کشی کا 692واں روز، بمباری، قتل عام اور قحط کا تسلسل جاری

 

بصیرت نیوز ڈیسک

قابض اسرائیل کی فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنی نسل کشی کی جنگ کو آج 692 ویں روز بھی جاری رکھا۔ فضائی اور زمینی بمباری، توپخانے کی گولہ باری اور بھوک سے مرنے والے شہریوں کے خلاف اندھا دھند گولیاں برسانے کا یہ سلسلہ امریکی سیاسی و عسکری حمایت کے سائے میں ہو رہا ہے جبکہ عالمی برادری کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی اس وحشت کو اور بڑھا رہی ہے۔

 

نامہ نگاروں کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ رات سے آج صبح تک درجنوں فضائی حملے کیے اور کئی نئے قتل عام کا ارتکاب کیا۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دو ملین سے زیادہ فلسطینی جبری نقل مکانی، بھوک اور بے گھری کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

 

تازہ ترین صورتحال

 

طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ آج صبح مختلف علاقوں میں قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے متعدد شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

 

قابض اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے جنوبی حصے صبرہ محلے میں بنات خاندان کے گھر پر بمباری کی۔

جبالیا النزلہ میں حلیمہ السعدیہ سکول کے قریب شہریوں کے ایک گروہ کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

 

رفح کے شمال میں الشاکوش مرکز امداد کے قریب قابض فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے ابراہیم یعقوب نصر عابد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔

خان یونس کے شمال مغربی حصے میں حمد شہر کے ایک رہائشی برج کو مسمار کیا گیا۔

جبالیا البلد میں پوری عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

النصیرات کیمپ میں گذشتہ دنوں بمباری میں شدید زخمی ہونے والی کمسن بچی عائشہ احمد الشاعر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ شہداء کی قافلے میں شامل ہو گئی۔

وسطی غزہ میں نتساریم کے قریب امداد کے متلاشی شہریوں پر حملے میں نوجوان عماد ماہر الداعور شہید ہوا۔

ہسپتال العودہ نے اطلاع دی کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 5 شہداء کی میتیں موصول ہوئیں جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہیں جبکہ 17 زخمیوں میں تین بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ یہ سب اسرائیلی بمباری سے متاثر ہوئے جو امدادی مراکز پر کی گئی۔

غزہ شہر میں برج فلسطین کے قریب ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر بمباری سے کئی شہری زخمی ہوئے۔

الشاطئ کیمپ میں بے گھر فلسطینیوں کی خیمہ گاہ پر ڈرون حملے میں ایک بچہ زخمی ہوا۔

آج صبح قابض فوج نے رفح کے شمال مغربی علاقے الشاکوش میں امریکی امداد کے حصول کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر سیدھی فائرنگ کی۔

خان یونس کے شمال میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی شدید فائرنگ اور رفح کے ساحل پر بحری جنگی جہازوں کی بمباری سے خوف و ہراس کی نئی لہر دوڑ گئی۔

غزہ شہر میں برج فلسطین کے قریب رہائشی اپارٹمنٹ پر بمباری سے انور روحي الشبراوی شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔

وسطی غزہ میں نتساریم کے قریب قابض فوج کی گولیوں سے سعید الحرازین شہید ہوا۔

البریج کیمپ کے بلاک 10 میں غانم خاندان کے گھر پر بمباری سے ماں ریما غانم اور اس کا کمسن بیٹا معاذ عبیدہ غانم شہید ہو گئے۔

 

نسل کشی اور تباہی کی ہولناک قیمت

 

وزارت صحت کے مطابق اب تک قابض اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں 62 ہزار 895 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 58 ہزار 927 زخمی ہو چکے ہیں۔ دس ہزار سے زائد افراد ملبے تلے لاپتہ ہیں جبکہ بھوک اور قحط کی وجہ سے 313 فلسطینیوں کی زندگیاں ختم ہو گئیں جن میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔

 

قابض اسرائیل نے معصوم بچوں کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ شہداء میں 19 ہزار بچے شامل ہیں جن میں سے 18 ہزار وہ ہیں جو ہسپتالوں میں پہنچے۔ اسی طرح 14 ہزار 500 خواتین بھی شہید ہو چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی فوج سب سے زیادہ بچوں اور عورتوں کو قتل کر رہی ہے۔

 

18 مارچ 2025 کو جنگ بندی کے معاہدے سے مکر جانے کے بعد سے اب تک قابض اسرائیل نے 11 ہزار 50 فلسطینی شہید اور 46 ہزار 886 کو زخمی کیا۔

 

27 مئی 2025 کو امدادی مراکز کو قتل گاہوں میں تبدیل کرنے کے بعد سے اب تک 2 ہزار 158 فلسطینی شہید اور 15 ہزار 843 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران قابض اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ نام نہاد "مؤسسہ غزہ ہیومینیٹریئن” کو انسانی خدمت کے نام پر قتل اور بھوک مسلط کرنے کا ہتھیار بنایا گیا۔

 

اس درندگی میں طبی عملے کے 1 ہزار 590 ارکان، سول ڈیفنس کے 123 اہلکار، 245 صحافی اور 754 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ قابض فوج نے 15 ہزار سے زائد قتل عام کیے جن میں 14 ہزار فلسطینی خاندان متاثر اور 2 ہزار 500 خاندان مکمل طور پر مٹا دیے گئے۔

 

سرکاری اعداد و شمار اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ کی 88 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ مالی نقصانات 62 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی 77 فیصد زمین پر قبضہ جما کر اسے کھنڈر میں بدل دیا ہے۔

 

تعلیمی اور دینی ادارے بھی اس جارحیت کا شکار ہوئے۔ 149 سکول و جامعات مکمل طور پر اور 369 جزوی طور پر تباہ، 828 مساجد زمین بوس اور 167 جزوی طور پر مسمار کر دی گئیں۔ حتیٰ کہ 19 قبرستان بھی درندگی سے محفوظ نہ رہے۔

 

یہ سب کچھ امریکہ کی کھلی پشت پناہی اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے ساتھ جاری ہے تاکہ قابض اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل کے خونی منصوبے کو آگے بڑھا سکے۔

Comments are closed.