قابض اسرائیل کی بھوک مسلط کرنے کی مہم نے 317 فلسطینیوں کی جان لے لی، مزید 121 بچے شہید

 

بصیرت نیوز ڈیسک

غزہ میں قابض اسرائیل کی مسلط کردہ بھوک کی پالیسی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جمعرات کے روز مزید 4 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ سب اس شدید غذائی قلت کے نتیجے میں دم توڑ گئے جو قابض اسرائیل نے دانستہ طور پر غزہ کی محصور آبادی پر مسلط کر رکھی ہے۔

 

فلسطینی وزارت صحت نے اپنی یومیہ رپورٹ میں بتایا کہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک بھوک اور غذائی قلت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 317 ہو گئی ہے جن میں 121 بچے شامل ہیں۔

 

غزہ میں انسانی بحران انتہائی خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ صہیونی ریاست نے سنہ2023ء کے سات اکتوبر سے جاری اپنی نسل کشی کی جنگ میں نہ صرف بمباری اور قتل عام جاری رکھا بلکہ غزہ کے عوام پر کھانے پینے اور طبی امداد کے دروازے بھی بند کر دیے۔

 

دو مارچ سنہ2025ء سے قابض اسرائیل نے تمام سرحدی راستے مکمل طور پر بند کر دیے جس کے نتیجے میں خوراک اور ادویات کی ترسیل رک گئی۔ یہ ظالمانہ اقدام براہ راست بھوک کے پھیلاؤ اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کا سبب بنا ہے۔

 

بین الاقوامی تنظیم "انقذوا الأطفال” نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ قحط کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب کھانے کو کچھ نہ ملے تو بچے بدترین غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں، ان کے جسم اپنی ہی توانائی کو کھا جاتے ہیں، پٹھے اور اعضا گھلنے لگتے ہیں اور آخرکار وہ اذیت ناک موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے بھی فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر زور دیا ہے تاکہ انسانی امداد غزہ پہنچ سکے اور بے گناہ شہریوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

 

قابض اسرائیل امریکہ کی مکمل حمایت سے غزہ میں منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ قتل عام، بھوک، تباہی اور جبری ہجرت اس کی جارحیت کا حصہ ہیں۔ اب تک اس وحشیانہ مہم میں 62 ہزار 895 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، ایک لاکھ 58 ہزار 930 زخمی ہیں، 9 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں اور لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے گئے ہیں۔ قحط نے اب تک 317 فلسطینیوں کی جان لی ہے جن میں 121 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

Comments are closed.