آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

مسجد سے اپنے گم شدہ جوتے کی جگہ دوسرا جوتا اُٹھا لینا

سوال: آج کل مسجدوں اور خاص کر بڑی مسجدوں میں بکثرت یہ بات پیش آتی ہے کہ کسی نمازی کا جوتا گم ہوگیا؛ البتہ کسی دوسرے شخص کا جوتا موجود ہے، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گم ہونے والا جوتا وہی شخص لے گیا ہوگا، ایسی صورت میں جس شخص کا جوتا گم ہوگیا ہے کیا اس کے لئے دوسرے شخص کا جوتا استعمال کرنا جائز ہوگا؟ حرمین شریفین میں بھی اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔(محمد فرقان، مهدی پٹنم)

جواب: کوئی چیز انسان کے لئے اسی وقت جائز ہوتی ہے جب وہ شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اس کا مالک بنا ہو، جیسے اس نے خرید کر لیاہو، یا کسی نے اس کو وہ چیز ہبہ کر دی ہو، کوئی چھوٹی ہوئی یا گری پڑی چیز مل جائے تو آدمی اس کا مالک نہیں بن جاتا؛ اس لئے محض شبہ کی وجہ سے کہ یہ جوتا اسی شخص نے چھوڑا ہوگا، جو اس کا جوتا لے گیا ہے دوسرے شخض کا چپل جوتا لے لینا اور اسے اپنے استعمال میں لے لینا جائز نہیں ہے، یہ غصب میں داخل ہے: امرأۃ رفعت ملاء امرأۃ ترکت ملائھا عوضا، ثم جاء ت المرأۃ التي أخذت ملاء ھا وأخذت ملاء المرأۃ الآخرۃ لیس لھا أن تنتفع بھا (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی: ۵؍۴۳۴،نیز دیکھئے : البحر الرائق:۵؍۱۷۱) بلکہ بہتر بات یہ ہے کہ اس کی جو چیز کسی نے لے لی ہے، وہ اس کو اسی کے لئے مباح کر دے؛ تاکہ استعمال کرنے والا گناہ سے بچ جائے، ان شاء اللہ اُس کواِس کا اجر ہوگا؛ کیوں کہ کسی مسلمان کو گناہ سے بچانا بھی باعث اجرو ثواب ہے، ہندوستان کے مشائخ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی متفق علیہ بزرگ ہیں، ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہوتے ہوئے نیت کر لیتے تھے کہ اگر کوئی شخص ان کی جوتی لے لے تو وہ اس کے لئے مباح ہے، رحمتہ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔

مسجد کے کسی نل کو اپنے لئے مخصوص کر لینا

سوال: بعض دفعہ ایک دو نَل میں پانی بہت تیز آتا ہے اور بقیہ میں بہت آہستہ، مسجد کے صدر یا کوئی ذمہ دار تیز پانی والے نل کو اپنے لئے متعین کر لیتے ہیں، اگر کوئی دوسرا شخص بیٹھ گیا تو اس کو ہٹا کر خود بیٹھ جاتے ہیں ، کیا مسجد کا صدر، امام یا کوئی اور شخص ایسا کر سکتا ہے؟(محمد سفیان، محبوب نگر)

جواب: جو چیزیں عمومی استعمال کی ہیں ،تمام لوگوں کو مساوی طور پر ان کے استعمال کرنے کا حق ہے، اور اگر وہ کئی عدد ہوں تو جس چیز کو جو شخص پہلے حاصل کر لے، وہی اس سے استفادہ کا زیادہ حقدار ہے، دوسرے شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو ہٹا کر خود استعمال کرے؛ چنانچہ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ مسجد میں نماز کے لئے کوئی خاص جگہ متعین کر لینا یا وضوء کے کسی برتن کو اپنے لئے خاص کر لینا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ اس کی ملکیت نہیں ہے: ویکرہ أن یخص لنفسہ إناء یتوضأ بہ دون غیرہ کما یکرہ أن یعین لنفسہ في المسجد مکانا (ہندیہ: ۱؍۹، والوجیز للکردی، کتاب الطہارت ،الفصل الاولیٰ فی الآلۃ، نوع فی الحیاض: ۱؍۷)

نہ فجر سے پہلے نفل ہے اور نہ فجر کے بعد

سوال: ایک واعظ صاحب نے کہا کہ فجر سے پہلے بھی نفل پڑنا مکروہ ہے، اور فجر کے بعد بھی؛ لیکن ایک دوسرے عالم صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے، فجر کے بعد تو نفل پڑھنا مکروہ ہے؛ لیکن فجر سے پہلے پڑھنا مکروہ نہیں، ان دونوںمیں سے کون سی بات درست ہے؟ (محمد صادق حسین، چرلا پلی)

جواب: صحیح یہ ہے کہ فجر کے بعد تو کوئی بھی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جائے؛ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد نماز فجر تا طلوع آفتاب نماز پڑھنے سے منع فرمایاہے (بخاری، حدیث نمبر: ۵۱۱) اور فجر سے پہلے صرف فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کوئی اور نفل پڑھنا جائز نہیں: التنفل قبل الفجر وبعدہ مکروہ سوی رکعتیھا (مجمع الانہر: ۱؍۱۵۱) کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر سے پہلے سوائے دو رکعت سنت کے کوئی اور نماز پڑھنا ثابت نہیں (بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۳)

عورت کا ذبیحہ

سوال: میرے دوست مرغ لے کر آئے اور ان کی بیوی نے اس کو ذبح کر دیا، اب ان کے گھر والے کہنے لگے کہ چوں کہ عورت نے ذبح کیا ہے؛ اس لئے یہ مرغ حلال نہیں ہوا، پھر مزید بات یہ سامنے آئی کہ ان کی بیوی اس وقت ناپاکی کی حالت میں تھی؛ چنانچہ کچھ لوگوں نے اس چکن میں سے کھایا، کچھ نے نہیں کھایا، اور برابر گھر میں یہ بحث چل رہی ہے، تو کیا یہ ذبیحہ حلال ہوگیا؟ (وجیه الدین قادری، ملك پیٹ)

جواب: ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہے، جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑ نہیں دے اور ذبح کے دوران جن رگوں کا کاٹنا ضروری ہے، وہ کٹ جائیں، ذبح کرنے والے کا مرد ہونا ضروری نہیں ہے، اور نہ اس کا پاک ہونا ضروری ہے، پاک ہونا تو نماز، تلاوت، روزہ اور طواف وغیرہ کے لئے ضروری ہے، نہ کہ جانور کو ذبح کرنے کے لئے؛ اس لئے اگر انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا اور غذاو سانس کی نالیوں اور دونوں شہ رگ میں سے کسی تین کو کاٹ دیا تو جانور حلال ہوگیا:…… وصبي وامرأۃ وأخرس وأقلف…. والأنوثۃ لا تخل بہ فیحل (تبیین الحقائق: ۵؍۲۸۷)

اگر نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول جائے

سوال: کل میں فجر کی نماز کے لئے دیر سے اُٹھا، خطرہ تھا کہ نماز چھوٹ جائے میں نے جلدی جلدی نماز اداکی اور اس عجلت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا ہی بھول گیا، رکوع میں جانے کے بعد یاد آیا، میں نے اسی طرح نماز پوری کر لی، ایسی صورت میں صحیح حکم کیا ہے؟ (اشفاق احمد، ملے پلی)

جواب: اگر کوئی شخص سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول گیااور ابھی اس نے رکوع نہیں کیاہے تو اسے چاہئے کہ سورۂ فاتحہ پڑھ لے اور سورت کو بھی لوٹا لے، اور اگر رکوع میں جانے کے بعد یہ بات یاد آئی تب بھی سورۂ فاتحہ لوٹانا ہوگا ، صورت یہ ہوگی کہ کھڑا ہو کر پہلے سورۂ فاتحہ پڑھے، پھر سورہ ملائے اور رکوع بھی دوبارہ کرے: لو نسی الفاتحۃ فی الرکعۃ الاولیٰ أو الثانیۃ وقرأ السورۃ ثم تذکر قبل الرکوع فإنہ یأتی بھا ویعید السورۃ في ظاہر المذھب؛ لأنہ اذا أتی بھا تکون فرصا کالسورۃ فصار کما لو تذکر السورۃ فی الرکوع فانہ یأتي بھا ویعید الرکوع ( البحر الرائق: ۱؍۳۵۸)

جماعت میں نکلنے کی نذر

سوال: ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ فلاں کام ہو جائے تو میں جماعت میں ایک چلہ دوں گا، اگر ان کا یہ کام پورا ہو جائے تو کیا اس شخص کے لئے جماعت میں جانا واجب ہوگا، اتفاق سے ان کا کام اس وقت پورا ہوا ہے، جب کہ وہ بیمار پڑ چکے ہیں، کیا ایسی صورت میں اس کو اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو بھیجنا واجب ہوگا؟ (محمدشاه نوازاختر، شیخ پیٹ)

جواب: تبلیغی جماعت کا کام قابل تحسین ہے، اس سے نہ صرف دوسروں کو دینی فائدہ پہنچتا ہے؛ بلکہ خود نکلنے والے کی بھی دینی اصلاح ہوتی ہے؛ لیکن یہ نماز، روزہ، حج وعمرہ ، اعتکاف ، صدقہ یا قربانی کی طرح عبادت مقصودہ نہیںہے، اور نہ دعوت وتبلیغ کے لئے خاص اسی طریقہ کو اختیار کرنا یا جماعت میں نکلنا واجب ہے؛ اس لئے اس نذر کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اگر نہ نکلے، اور خاص کر ایسی صورت میں کہ کسی عذر کی وجہ سے نکلنے میں دشواری ہو تو کوئی حرج نہیں ہے؛ البتہ اگر کبھی حالات درست ہو جائیں تو جو اُس نے ارادہ کیا تھا، اس کو پورا کر لینا بہتر ہے: ومن نذر بما ھو واجب قصد ا من جنسہ وھو عبادۃ مقصودۃ (نذراََ مطلقا) غیر معلق بشرط بقرینۃ التقابل مثل أن یقول : للہ علیّ حج أو عمرۃ أو اعتکاف، أو للہ علیّ نذر وأراد بہ شیئا بعینہ کالصدقۃ، فإن ھذہ عبادات مقصودۃ ومن جنسھا واجب، وإنما قید النذر بہ؛ لأنہ لم یلزم الناذر ما لیس من جنسہ فرض (مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر: ۱؍۵۴۷)

کیا نکاح کے وقت دئیے گئے زیورات مہر شمار ہوں گے

سوال: نکاح کے دن دولہا نے اپنی ہونے والی شریک حیات کو کچھ زیورات دیا اور جب اختلاف ہوا تو کہتا ہے کہ میں نے یہ زیورات بطور مہر کے دیے تھے، تو کیا اس کی یہ بات تسلیم کی جائے گی، اور یہ زیورات مہر شمار کئے جائیں گے؟ ( اجمل پاشا، كوكٹ پلی)

جواب: اگر نکاح کے وقت اس نے صراحت کر دی تھی کہ یہ زیور مہر میں شامل ہے تو اسے مہر شمار کیا جائے گا، اور اگر اس وقت ایسا نہیں کہا، بعد میں اس طرح کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا؛ کیوں کہ ہندوستان میں عام طور پر نکاح کے وقت جو زیورات دیے جاتے ہیں ،ان میں مہر کی نیت نہیں ہوتی: وکذا ما یعطیھا من ذالک أو من دراھم أو دنانیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمیٰ في العرف صبحۃ فإن کل ذالک تعرف في زماننا کونہ ھدیۃ لا من المھر ولا سیما المسمیٰ صبحۃ (رد المحتار: ۳؍۱۵۳)

Comments are closed.